آج کا کالم

گائے کی فریاد: گائے گائے ہائے ہائے

ڈاکٹر سلیم خان

انتخاب کے قریب آنے پر ارون جیٹلی جیسے سنگدل  سیاستداں کا دماغ بھی ٹھکانے آجاتا  ہے۔وہ جی ایس ٹی کی شرح  پر نظر ثانی کرنے لگتے ہیں تاکہ  جنتا جناردھن  کو کچھ  راحت ملے اور وہ ووٹ دیں ۔ایسے میں  بھلا ہو یوگی جی کا کہ انہوں نے عین الیکشن سے قبل ایک نیا ٹیکس لگا  کر مودی جی پر احسان عظیم کردیا۔  عام طور پر ٹیکس عوام کی فلاح و بہبود کے نام پر لگایا جاتا ہے یہ اور بات ہے کہ اس کا بڑا حصہ سرکاری ملازمین اور سیاستدانوں کی جیب میں چلا جاتا ہے لیکن یہ نیا جزیہ آوارہ گائے کی فلاح بہبود کے لیے  لگایا گیاہے۔  ہمارے ملک میں گائے کو ماتا مان لینے سے کئی مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ گائے اگر ماتا ہے تو آوارہ کیوں ہے؟  اس کے سوپوتر(اولاد) اپنی ماں کی پرورش کیوں نہیں کرتے ؟ انہیں ابے یارو مددگارکیوں چھوڑ دیتے ہیں؟  اس نہاد ماتا کی پرورش  کے لیے گئو بھکت سرکار کواپنے خزانے میں رقم کیوں نہیں ملتی جو اضافی ٹیکس لگانے کی نوبت آ جاتی ہے ۔ قومی خزانے میں وزراء کے غیر ملکی دوروں کے دولت ہے۔ بڑے بڑے مجسموں کی تعمیر کے لیے  وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ کمبھ میلے کے لیے سرکاری خزانہ کھلا ہوا ہے مگر  گئوماتا کی دیکھ ریکھ کے لیے روپیہ نہیں ہے اس لیے نیا ٹیکس  لگا نا پڑتا  ہے۔

ہمارے ملک میں  ٹیکس کا نظام چندحدود و قیود کا پابند ہےیعنی اگر آپ  کوئی خاص سرکاری سہولت  سے استفادہ کریں یا آپ کی آمدنی ایک خاص حد سے زیادہ ہوتو ٹیکس کی ادائیگی لازم ہوتی ہے لیکن یہ عمومی ٹیکس ہے جو سب  پر عائد ہوگیا اور اس کے سبب آنے والی مہنگائی کے کڑوے کسیلے پھل ہر کوئی   چکھے گا ۔  ہندوستان کے بڑے حصے میں مسلمان اور عیسائی تو دور ہندو بھی گائے کو ماتا نہیں مانتے ۔ گوا ، جنوبی ہند اور شمال مشرقی  صوبوں میں بی جے پی اقتدار کے باوجود ٹیکس تو دور گئو کشی پر پابندی تک نہیں لگاتی۔   اتر پردیش کے سبھی باشندے   گائے کو ماتا نہیں مانتے مثلاًسابق جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے نے صاف  کہا ہے کہ گائے کو معبود ماننے والے احمق ہیں۔ وہ گائے کوگدھا اور کتا کی مانند ایک جانور مانتے ہیں  ۔ایسے میں کاٹجو جیسے  لوگوں سے گائے سیس وصول کرنے کی کیا تُک  ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی خوشحال اور خوددار آدمی اپنی ماں کی دیکھ ریکھ  کے لیے عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈالتا ہے؟

اتر پردیش  میں مویشیات پروری کے وزیرایس پی سنگھ بگھیل نے آوارہ جانوروں کا مسئلہ کا حل کرنےکے لئے گائے کلیان سیس لگانے اعلان کیا۔ اتر پردیش ایکسپریس انڈسٹریل ڈیولپمنٹ  اتھارٹی (یوپی ای آئی ڈی اے) اور دیگر افسروں کے ذریعہ ٹول ٹیکس کے ساتھ اضافی ۵ء۰ فیصد گائے کلیان سیس وصول کیا جائے‌گا۔ منڈی ٹیکس کی  موجودہ شرح ایک  فیصد  سے بڑھاکر ۲فیصد کردی جائے‌گی اور سرکاری و تعمیراتی ایجنسیوں کے  منافع کا ۵ء۰ فیصد  بھی گئوشالاؤں پر خرچ  کیا جائے‌گا۔بگھیل کے مطابق  زراعت میںبیلوں کے بجائے مشینوں کے استعمال کی وجہ سے آوارہ جانوروں کا مسئلہ بڑھ رہا ہے۔ وہ  فصلوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور سڑک حادثوں میں اضافہ ہو رہاہے۔ بگھیل جی سے کسی نے یہ نہیں پوچھا  کہ   اگر یہ بیلوں کا مسئلہ ہے تو  ٹیکس کا نام بیل  ٹیکس کے بجائے  گائے کلیان سیس کیوں رکھا گیا؟ نیز گائے تو کبھی بھی کھیتوں میں ہل چلانے کا کام نہیں کرتی  تھی تو آخر اب  وہ وبال جان  کیوں بنی ہوئی  ہے؟ اس سے پہلے یہ مسئلہ کیوں پیدا نہیں ہوا؟ یا کیسے حل ہوجا یا کرتا تھا ؟

ایس پی سنگھ بگھیل  تسلیم کریں یا نہ کریں   لیکن گائے کی آوارگی   شمالی ہند اور خاص طور اتر پردیش کا  سنگین مسئلہ  بن گیاہے۔ سرکار  ٹیکس نافذ کرنے کے علاوہ ایسے کسانوں پر بھی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو اپنے  مویشیوں کو عوامی مقامات یا دوسرے کی ملکیت میں چرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کسانوں پر پولس، ضلع انتظامیہ یا شہری بلدیہ کی جانب سے جرمانہ لگایا جائے گا۔ایک طرف  مویشیوں کے کھیتوں میں گھسنے اورفصلوں کی تباہی کے سبب پریشان کسان کو ویسے ہی  اپنی پیداوار کی صحیح قیمت نہیں مل رہی ہے اس پر اب  جرمانہ اور ٹیکس  کی مصیبت   نازل ہوگئی ۔اس کے بعد اب اس کے پاس ووٹ کے سوا کیا رہ جائے گا ؟  بی جے پی اس خوش فہمی میں ہے کسان پھر بھی برضا و رغبت  اپنا ووٹ اسی کی جھولی میں ڈال  دیں گے۔

صوبائی  حکومت  فی الحال  علی گڈھ اور متھرا کے اندر رونما ہونے والے واقعات سے  بیدار ہوئی ہے لیکن  گزشتہ ڈیڑھ سال  سے یہ حیران کن  واقعات منظر عام پر آرہے ہیں۔ ستمبر ۲۰۱۷ میں لکھیم پور کھیریسے  یہ خبر آئی  تھی کہ لاوارث  مویشیوں کی بہتات نے دیہی عوام کا جینا حرام کردیا ہے، کھڑی فصلیں تباہ ہورہی ہیں ۔ کسان اپنی فصل کو بچانے کی خاطر رات دن چوکیداری کے سبب نیند بھی نہیں لے پارہے ہیں ۔ سڑکوں پر مویشیوں کا غول گھوم رہے ہیں ان سے پریشان ہوکر لوگوں نے مجبوراً ۲۰۰ گایوں کو ایک اسکول کے اندر بند کردیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر تعلیم گاہوں کو مویشیوں کی جیل بنادیا جائے  توبچے کہاں پڑھیں گے؟  اس سال ضلع علی گڑھ کے گوارئی علاقے میں کسانوں  نے فصل کو نقصان پہنچانے سےبچانے کے لیے ۷۰۰ آوارہ گائیں  سرکاری ہیلتھ سینٹر میں باندھ دیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوگیا کہ  اسپتال میں گائے براجمان ہں  گی مریضوں کا علاج کہاں  ہوگا؟

یہ صورتحال علیگڑھ کے اطراف واکناف  میں ہی نہیں بلکہ میرٹھ، بلیّا،گورکھپور،فتح پور،وارانسی اورباندہ سمیت کئی اضلاع میں نظر آتی ہے۔ آوارہ گھوم رہی گایوں ودیگرجانوروں سے فصلوں کوبچانے کے لیے کسان انتظامیہ سے شکایت کرتے ہیں، لیکن ان کی کوئی سنوائی نہیں ہوتی۔حکومت نے ریاست کے مختلف حصوں میں گئوشالا بنوانے کے لئے کارپوریشن کو۱۶۰کروڑروپے جاری کیے لیکن اس میں مجرمانہ تاخیرہوئی۔ گئوشالا اگر وقت پر بنوادی گئی ہوتیں تو کسان اس قدر پریشان نہ ہوتے۔ اترپردیش میں  گائے  کو ایک مقام سے دوسری جگہ لے جانا بھی  جان جوکھم کا کام ہے اس لیے کہ گئوركشك اب انتظامیہ کوبھی نہیں بخشتے اور گائے کی عقیدت میں ہر کس ناکس  پر پل پڑتے ہیں ۔

۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ ؁  کوعلی گڑھ میں گئوركشكوں نےانتظامیہ پرحملہ کردیا۔ ایس ایسپی کے مطابق انتظامیہ کی اراکین کچھ گایوں کوگئوشالالے کرجارہےتھے۔ اس دوران کسی نے واٹس اپ پریہ افواہ پھیلادی کہ مذبح خانہ لے جایاجارہاہے۔اس خبر کے پھیلتے ہی مشتعل بھیڑ  نےحملہ کرکے انتظامیہ کی گاڑیوں میں توڑپھوڑشروع کردی۔ اس معاملے میں دو گرفتاریاں بھی ہوئیں۔  اس طرح کا ایک سانحہ  متھرا میں بھی  پیش آیا  جہاں پر بھیڑ نے گایوں کو چھوڑنے کیلئے گئو شالہ لے جارہے ٹرک ڈرائیور اور اس کے کلینر کی جم کر پٹائی کیحالانکہ  بسئی گاوں کی آوارہ گایوں کو برسانا میں واقع رمیش بابا کی گئو شالہ میں لے جایا جارہا تھا لیکن تھانہ شیر گڑھ علاقہ  میں مقامی لوگوں کا اطلاع ملی کہ ایک ٹرک میں بھر کر گائیں ذبح کے لئے لے جائی جارہیہیں  ۔پھر کیا تھا  گاوں والے مشتعل ہوگئے اور ٹرک ڈرائیور اور کلینرکی  پٹائی شروع کردی ۔ مشتعل بھیڑ کو پولیس کا بھی کوئی خوف نہیں تھا وہ  کسی بھی قیمت پر انہیں  چھوڑنے کیلئے تیار نہیں تھے ۔

اس سے ہٹ کر علی گڑھ ضلع سے پولس کے ذریعہ  گایوں کو زندہ دفن کیے جانے کی خبربھی آئی۔ اس کے پھیلتے ہی  سینکڑوں لوگ سڑک پر اتر کر احتجاجاً بی جے پی مخالف نعرے لگانے لگے ۔ وہ  آوارہ گایوں کی دیکھ ریکھ نہ کیے جانے پر ناراضگی کا اظہار کررہے تھے ۔ اس مقام کی کھدائی میں۱۲ گائیں برآمد ہوئیں۔  ایک کسان کا کہنا  تھا کہ پولس کی موجودگی میں گایوں کو گڈھے میں دفن کیا گیا ۔ مقامی لوگوں کے مطابق مشین سے کھدائیکرکے جن  پانچ گایوں کو نکالا گیا تو ان میں سے ایک زندہ تھی جو کچھ ہی دیر بعد مر گئی۔پوسٹ مارٹم کے مطابق  ویسے توسبھی  گایوں کی موت دَم گھٹنے کی وجہ سے ہوئیلیکن تیز ٹھنڈ کی وجہ سے بھی ایسا ہوتا ہے اسلیے یہ کہنا مناسب نہیں کہ ان کو زندہ درگور  کیا گیا ۔علی گڑھ کے ڈی ایم سی بی سنگھ نے وضاحت کی  کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ  ان گایوں کی موت ۲۴ تا ۳۶ گھنٹے پہلے ہو چکی تھی ا   ور انہیں مردہ حالت میں دفن کیا گیا تھا ۔ ان الزامات و  تردید  سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کس قدر عدم اعتماد کا ماحول ہےاور زمینی حالات کتنے دگرگوں  ہیں۔

اترپردیش میںگائے کے نام پر بدعنوانی کا بھی بازار گرم ہے ۔ پچھلے ہفتہ مراد آباد میں  ایک چونکانے والا واقعہ رونما ہوا۔  پولس نے ایک آدمی کو ۵ کلو گوشت  کے ساتھ  اس شک میں پکڑ لیا کہ یہ گائے کا ہے۔ اس شخص نے رسید دکھا کر لاکھ سمجھایا کہ بھینس کا گوشت ہے جس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ لیکن  پولس نہیں مانی اور اسے جانوروں کے ڈاکٹر کے پاس لے گئی ۔ ڈیوٹی پر سمن نام کی ڈاکٹر موجود تھی جس نے  ۳۰ ہزار رشوت کا مطالبہ کیا  اور دھمکی دی کہ اگر رقم نہیں دی گئی تو وہ گائے کا گوشت لکھ دے گی۔  سمن نے کہا جلدی سے روپیہ لاو ورنہ گھر پہنچانے پڑیں گے ۔وہ غریب ڈر گیا  اورپاس  پڑوس سے قرض لے کر حاضر ہوگیا ۔ سمن نے روپئے لے کر اپنے پرس میں رکھے اور ان لوگوں نے شکریہ ادا کیا لیکن ساتھ اس پورے معاملے کی ویڈیو بنالی۔  یہ ثبوت جب مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیاگیا تو انہوں نے  تفتیش  کے احکامات جاری کردیئے لیکن گئوبھکتن سمن نے ڈھٹائی سے کہا کہ وہ رشوت نہیں بلکہ قرض تھا جو اس نے واپس لیا ہے۔ یہ واقعہ گواہ  ہے کہ یوگی راج میں گائے کے نام پر کیسی لوٹ مار مچی ہوئی ہے؟

معاشی استحصال کے ساتھ گائے کے نام پر جبر و تشدد کا بازار بھی گرم ہے۔ بلند شہر میں  وردی کے اندر سبودھ کمار اس کا شکار ہوئے ۔ مقامی ذرائع کے مطابق نیل گائے کے گوشت کو گائے کا گوشت بتاکر فرقہ وارانہ فساد برپا کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ اس بابت ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں سوال پوچھا جاتا ہے کہ کس نے کاٹا تو جواب ملتا ہے کندن نے ۔ اس کے بعد سبودھ کمار کا قتل ہوجاتا ہے۔ پہلے جیتندر ملک عرف جیتو نامی  فوجی کو جموں کشمیر سے گرفتار ہوتا ہے  اور پھر کلہاڑی چلانے والا  کلوا نامی ملزم پکڑا جاتا ہے۔ اس کی نشاندہی پر گولی چلانے والے پرشانت نٹ  کو گرفتار کیا جاتا ہے اور بالآخر ایک ماہ بعد اس سازش کے ماسٹر مائنڈ وی ایچ پی لیڈر برجیش کمار کو بھی پولس دھر دبوچتی ہے۔ اس طرح سارے اہم قاتل فی الحال پولس کی حراست میں ہیں اب دیکھنا یہ ہے سبودھ کمار کے وارثین کو انصاف ملتا ہے یا گئو تنکوادیوں کو دنگا فساد کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے۔

سنگھ پریوار کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ گئوکشی پر تشدد کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ یہ مودی سرکار کے پہلے سے جاری ہے۔ اس   حقیقت کے خلاف بات  ہے۔  انڈیااسپینڈ نامی انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے کی رپورٹ کے مطابق۲۰۱۰ ؁  سے گائے ذبیحہ کے شک میں ابتک ہجومی تشددکے ۸۷  واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ان میں جملہ ۳۴  لوگوں کی موت ہوئی اور۱۵۸  لوگ شدیدطور پر زخمی ہوئے۔ ان اعداد و شمار کی تفصیل یہ ہے کہ ۲۰۱۴ ؁  سے پہلے گائے کے قتل کے نام پر تشدد کے  صرف دو واقعات ہوئے  یعنی پہلے چار سالوں میں دو  اورمودی جی کے دور اقتدار میں  ۸۵  ، کیا یہ معمولی فرق ہے کہ جسے نظر انداز کردیا جائے؟ یہ حیرت انگیز حقیقت ہے کہ ۲۰۱۴ ؁ سے قبل جنونی   ہجوم کے ہاتھوں  کسی نےجان نہیں گنوائی۔وطن عزیز میں گائے کے نام پر شروع ہونے والاہجومی تشدد جو اب بات بات پر ہونے لگا ہے مودی جی دین ہے ۔ اس کے لیے وہ ہمیشہ یاد کیے جائیں گے ۔

اس تناظر میں معرو ف اداکار نصیر الدین شاہ نے مودیسرکار کو ایسا آئینہ دکھایا کہ سارا سنگھ پریوار جل بھن کر رہ گیا ۔ شاہ نے  ۱۷ دسمبر کوکاروان محبت کے عنوان سےایک ویڈیویوٹیوب پر اپلوڈ  کی جس نے ہنگامہ مچادیا۔ انہوں نےکہا  ملک کا ماحول کافی زہریلا ہوچکا ہے ۔یہاں انسان سے زیادہ گائے کو اہمیت دی جارہی ہے۔ نصیر الدین شاہ نے  ملک کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے بلند شہر میں بھیڑ کے ذریعہبندوق کی گولی سے مارے گئے انسپکٹر سبودھ سنگھ کا حوالہ دے کر گئوتنکوادی  گرفتاریوں پر طنز کیا ۔ وہ بولےاس  جن کو واپس بوتل میں بند کرنا مشکل ہوگیا ہے کیونکہ  لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے ۔ ایسے ماحول میں مجھے اپنی اولاد کے بارے میں کافی فکر ہورہی ہے۔

نصیرالدین شاہ اور ان جیسے لوگوں  کی فکرمندی سےقطع نظر  سرکار گائے کو رشٹر ماتا بنانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔ ہماچل سرکار نے حال میں گائے کو راشٹر ماتا کا درجہ  دینے  کا فیصلہ کیا ہے  بعید نہیں کہ کل یہ تجویز اتر پردیش میں بھی منظور ہوجائے۔ اس سے پہلے اتراکھنڈ میں جب  بی جے پی نے  یہ کیا تو اسمبلی میںحزب اختلاف کے کانگریسی رہنما اندرا ہردیش نے کہا تھا ہم سبھی گائے کا احترام کرتے ہیں لیکنیہ بات سمجھ سے بالا ہے کہ بی جے پی گائے کو راشٹرماتا قراردےکر کیا ثابت کرنا چاہتی ہے۔ ہردیش کی سمجھ میں  جو بات نہیں آئی وہ ہماچل  پردیش میں  کانگریسی لیڈر انیرودھ کی عقل میں آگئی  اور انہوں نےگائے کو راشٹر ماتا بنانے کی  تجویز ازخودپیش کردی ۔برسراقتدار بی جے پی کے سبھی اراکین اسمبلی نے اس کی  حمایت کی۔ مرکزاگر اس تجویز سے اتفاق کرلے تو گاندھی جی کو راشٹر پتا  کے لقب سے محروم  کرنا پڑے گا ورنہ مضحکہ خیز صورتحال بن جائے گی۔

اتر پردیش میں تو خیر انتخاب سے قبل  اُتمّ پردیش کا نعرہ لگایا گیا تھا اور قبرستان کے ساتھ ساتھ شمسان گھاٹ کو بجلی دینے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر  ۲۰۱۳ ؁ میں راجستھان کی  بی جے پی نے انتخابات سے پہلے اپنے منشور میں ’وزارت برائے گائے‘ تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا اور اقتدار سنبھالنے کے بعد اس عہد کو پورا بھیکیا۔ وسندھرا سرکار نے یہ قلمدان  اوٹا رام دیواسی کو سونپااس طرح  ملک میں  پہلی بار گائے کے لیے باضابطہ وزارت تشکیل دی گئی۔ گائے کی  وزارت  سنبھالنےکے بعد دیواسی نے جوش میں آ کر ہر نئی ملکیت خریدنے کے عوض ۲۰ فیصد گائے ٹیکس وصول کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس ٹیکسکی غرض و غایت  گایوں کے لیے  بہتر زندگی بتائی گئی   لیکن حقیقتمیں اس کے اچھے دن نہیں آئے اور حالت بدتر ہوتی چلی گئی۔ عوام نےبی جے پی کی  اس دھوکہ دھڑی  کے جواب  میںسروہی حلقۂ انتخاب سے اوٹارام دیواسی کو ہرا  کر دیا۔سنیم نامی ایک آزاد امیدوارنے اس کو ۱۰ ہزار سے بھی زائد ووٹوں سے شکست دے دی۔ اوٹا کے انجام میں   یوگی سرکار کے لیے نشانِ عبرت ہے۔

اس دنیا میں انسان اپنی فطرت سے لڑ تو سکتا ہے مگر جیت نہیں سکتا ۔  اس دنگل میں مشیت اسے اٹھا اٹھا کر کیسے پٹختی ہے اس کے مظاہر گئو کشی پر پابندی کے نتیجے میں سامنے آرہے ہیں ۔ اس کا بہترین علاج تو یہ کہ اس غیر فطری پابندی کو اٹھا دیا جائے۔ بازار ِسیاست میں  اگر یہ  سودہ مہنگا پڑ سکتا ہے تو انہیں کسی ایسے صوبے میں روانہ کردیا جائے جہاں یہ پابندی نہیں ہے ۔ یہ بھی اگر مشکل ہے تو  دیگر فضول خرچی میں کٹوتی کرکے سرکاری خزانے سے کچھ رقم گئوماتا کی فلاح و بہبود پر صرف کی جائے۔ اس میں  بھی مشکلات ہوں تو آوارہ گایوں اور عوام کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے کہ  وہ خود اس مسئلہ کا کوئی  معقول  حل نکال لیں یعنی  ایسی نااہل سرکار سے چھٹکارہ حاصل کرلیں ۔ ایسا لگتا ہے یوگی جی اسی آخری  چارۂ کار کی جانب رائے دہندگان کو ڈھکیل رہے ہیں۔ بعید نہیں کہ کسی جوگی نے ان سے کہہ دیا ہو کہ اگر مودی جی انتخاب ہار جائیں تو پردھان سیوک کا تاج ان کے سر پر سجے گا۔ اس  نامعقول بھوشیا وانی  (پیشن گوئی)کی قیمت فی الحال اتر پردیش کے باشندے یوگی سرکار کی جانب سے لگائے جانے والے نئے گئو سیوا ٹیکس کی شکل میں چکا رہے ہیں  اور گائے گائے ہائے ہائے کا جاپ کررہے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close