آج کا کالم

گاندھی سے گوڈسے تک

ڈاکٹر سلیم خان

مودی جی اور یوگی جی نے گاندھی جی کے قاتلوں کا حوصلہ اس قدر بلند کردیا کہ  ہندو مہاسبھا نے مہاتما گاندھی کے یوم وفات ۳۰  جنوری کو ان  کا پتلا بنا کر اس پر یکے بعد دیگرے تین گولیاں داغیں۔ علی  گڈھ میں یہ کام علی الاعلان کیا گیا۔ اس تقریب میں شرکت کے لیے ذرائع ابلاغ کو دعوت دی گئی۔ ناتھو رام گوڈسے کو مہاتما قرار دے کر زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔  پتلا جلانے کے بعد گاندھی جی کے موت کا جشن مناتے ہوئے شیرینی تقسیم کی گئی۔ ہندو مہا سبھا پہلے بھی   خفیہ انداز میں  گاندھی جی کے یوم وفات کو شوریہ دوس کے طور پر مناتی رہی ہے لیکن اس بار انہوں نے ویڈیو بناکر وائرل کرنے کی جرأت کرڈالی۔ اس تنظیم کے ترجمان اشوک  پانڈے  نےیہ جواز پیش کیا کہ ہمارے ملک میں راون کا دہن ہوتا ہے اس لیے گاندھی کا کیوں نہیں؟ اس طرح  انہوں گاندھی جی کو راون کا ہم پلہ قرار دے دیا۔ اسی کے ساتھ ہندو مہا سبھا کی رہنما  وں نے گاندھی جی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو مہاتما کے درجہ پر فائز کرنے کے بعد اس  کا موازنہ  کرشن سے کردیا۔

مذکورہ تقریب کی تیاری کا کام گزشتہ سال  اکتوبر سے ببانگ دہل چل رہا تھا۔ ناتھو رام گوڈسے کی یاد میں پچھلے سال(۲۰۱۸) جنوری میں  مندر بنوا نے کی کوشش میں ناکامی کے بعد ہندو مہاسبھا نے  گوڈسے کی پھانسی  کے دن کو  ’بلیدان دیوس‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔  بی جے پی والوں کو افضل گرو کی یاد میں جے این یو کے اندر ہونے والی تقریب تو بہت کھٹکتی ہے لیکن گاندھی جی قاتل گوڈسے کی پذیرائی کرنے والا جشن نظر نہیں آتا۔  آل انڈیا ہندو مہاسبھا کے صدر چندرپرکاش کوشک نے ملک بھر میں پھیلی اپنی تمام ۱۲۰ شاخوں کو ضلع سطح پر ’بلیدان دیوس‘ منانے کی ہدایت کی تھی ۔ ۱۵  نومبر یعنی ناتھو رام  گوڈسے کو پھانسی دئیے جانے والے دن  اس کے بھائی گوپال گوڈسے کی  کتاب تقسیم کی گئی۔ اس موقع پر گوڈسے کی زندگی پر مبنی ایک ڈرامہ بھی کھیلا گیا  اور مقدمے کے دوران اس قاتل کی  عدالت میں کی گئی تقریر کوپڑھ کر سنایا گیا۔ کوشک  کا ارادہ تو یہ تھا کہ ایک گوڈسے رتھ میں ساور کر اور بھگت سنگھ وغیرہ کی تصاویر لگاکر اسے  ملک بھر میں گھمایا جائے۔ ہندو مہا سبھا ساورکر کے ساتھ جو چاہےکرے لیکن کم ازکم بھگت سنگھ پر تو چھاپہ نہ مارے اس لیے کہ ان کا اس زعفرانی تنظیم سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ خیر کوشک کا یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا بقول غالب؎

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے    

بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

ہندو سبھا کے ارمانوں کا اندازہ اس کے رہنما  پنڈت اشوک شرما کے خیالات سے لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ایک  متنازعہ بیان میں کہا تھا کہ ”مہاتما گاندھی نے ملک کے تقسیم میں اہم کردار ادا کیا ہے اور گاندھی ہزاروں افراد کے قاتل بھی ہیں”۔ناتھورام گوڈسے نے گاندھی کو قتل کرکے بہت ہی عمدہ مثال پیش کی ہے”۔ہندو مہاسبھا کے ضلع صدر ابھیشک اگروال نے ای ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا  تھا کہ ناتھورام گوڈسے نے گاندھی کو قتل کرکے انتہائی اہم کارنامہ انجام دیا ہے۔ مہاتما گاندھی ۱۰ سر والے راون سے بھی برے آدمی تھے۔اگروال نے  ہندوؤں کو ہتھیار اٹھانے کی ترغیب دینے کے بعد  ریاستی حکومت سے گزارش کی کہ وہ ہندوؤں کو زیادہ سے زیادہ اسلحہ فراہم کرے۔ اس طرح کی  احمقانہ درخواست یوگی جی کے علاوہ کسی اور سے تو کی ہی نہیں جاسکتی۔ اگروال کو اس بات کا افسوس تھا کہ ہندوستانی عدالتیں رام مندر جیسے معاملوں کو چھوڑ کر تین طلاق، می ٹو، ہم جنسوں کے مابین شادی جیسے غیر ضروری مسائل پر دھیان دے رہی ہے، اس لیے وقت آ گیا ہے تمام ہندو ہتھیار اٹھالیں لیکن سوال یہ ہے کہ ہتھیار اٹھا کر کیا کریں؟  کہیں اگروال جی یہ تو نہیں کہنا چاہتے کہ گوڈسے  کی طرح وہ عدلیہ کا ودھ کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوں ؟

مذکورہ پریس کانفرنس کے ایک ماہ بعد جب گوڈسے کی یاد میں بلیدان دیوس منایا جارہا تھا تو ہندو مہا سبھا نے ایک نہایت دلچسپ مطالبہ اپنے چہیتے وزیراعلیٰ سے کردیا۔ یوگی جی پہلے ہی مغل سرائے، الہ باد اور فیض آباد کا نام   بدل چکے ہیں اس سے حوصلہ پاکر  اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا نے یوگی سے میرٹھ کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ وہ میرٹھ کا نام تبدیل کر کے ’گوڈسے نگر‘ رکھوانا  چاہتے ہیں ۔ مہاسبھا کے خیال میں یہ ناتھو رام گوڈسے کے لئے اعزاز کی بات ہوگی۔ ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گوڈسے کا میرٹھ سے کیا تعلق ؟ وہ تو پونہ کا رہنے والا برہمن تھا۔ فی الحال مہاراشٹر میں ایک برہمن وزیراعلیٰ ہے اس کے باوجود کوئی پونے شہر تو درکنار اس کے محلے کا نام تبدیل کروانے کی بھی جرأت نہیں کرتا لیکن اترپردیش میں یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس لیے کہ وہاں  یوگی راج  ہے۔ ان کا کیا ہے وہ صدیوں پرانے باری مسجد تنازع کو ۲۴ گھنٹے میں حل کرنے کا دم خم جو رکھتے ہیں۔ یندو مہاسبھا نے دہلی سے ملحقہ غازی آباد کا نام ’دگ وجے سنگھ نگر‘ اور ہاپوڑ کا نام ’اویدیہ ناتھ نگر‘ کرنے کا بھی مطالبہ کیاہے۔

زعفرانی ٹولہ جس طرح سے تاریخی حقائق کے توڑ مروڈ رہا ہے اس سے بعید نہیں کہ آنے والی نسلیں گاندھی جی کے قتل کی بابت شکوک و شبہات کا شکار  ہوجائیں۔ اس لیے ان تفصیلات کی یاددہانی  ضروری معلوم ہوتی ہے۔ گاندھی جی خاصے سخت جان تھے ان پر جملہ  پانچ مرتبہ  قاتلانہ حملہ  ہوا اور آخرالذکر میں وہ فوت ہوگئے۔  انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کبھی  نہیں کی۔ اپنے  انتقال سے دودن قبل انہوں نے کہا تھا ’’ اگر مجھے کسی پاگل شخص کی گولی کی وجہ سے جان دینا ہی ہو، تو مجھے یہ مسکراہٹ کے ساتھ منظور کرنا چاہیے۔ مجھ میں کوئی غصے کا شائبہ نہیں ہونا چاہیے۔ میرے قلب اورزبان پر خدا جلوہ گر ہونا چاہیے اور آپ لوگوں کو اس پر ایک قطرہ بھی آنسو نہیں بہانہ چاہیے‘‘۔ گاندھی جی پر پہلا جان لیوا حملہ گوڈسے کے شہر پونے میں ہوا۔ یہ ۱۹۳۴؁ کی بات ہے جب  وہ اپنی اہلیہ کستوربا گاندھی کے ساتھ  کارپوریشن کے آڈیٹوریم میں تقریر کے لیے جارہے تھے۔ ان کا قافلہ  دو کاروں میں تھا۔ اتفاق سے  جس  گاڑی  میں گاندھی  جی اور ان کی اہلیہ سوار تھیں تاخیر  سے پہنچی۔ حملہ آوروں نے  پہلی کار پر بم پھینک دیا۔ اس سے پونے بلدیہ کے اعلٰی افسر، دو پولیس اہلکار اور سات دیگر افراد شدید زخمی ہوئے۔ یہ بزدلانہ  حملہ منصوبہ بندی کی خامی اور باہمی تال  کی  کمی کے سبب ناکام ہوا۔ اس تفتیش ہوتی  توممکن گوڈسے یا اس کے گرو ساورکر پر شکنجہ کسا جاتا لیکن انگریز اپنے ہمنواوں کو ناراض کیسے کرسکتے تھے؟

گاندھی  جی پر دوسرا حملہ۱۹۴۴ ؁ میں ہوا جب  انہیں ملیریا کے سبب پونہ جیل سے پنچ گنی بھیج دیا گیا۔  ناتھورام گوڈسے کی قیادت میں نوجوانوں کا ایک جتھا ان سے ملنے آیااور دوران گفتگو  گاندھی کی جانب گوڈسےخنجر لے  بڑھا مگر درمیان میں روک دیا گیا۔ گاندھی جی نے    ۱۹۴۴ ؁ قائد اعظم محمد علی جناح سے کانپور میں ۱۴ دنوں تک تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات کے لیے روانہ ہونے سے قبل سیواگرام آشرم ممبئی روانگی ہندو کا رکنوں  نےخنجر بردار گوڈسے کی قیادت میں یہ کوشش کی کیونکہ وہ  مذاکرات  کے خلاف تھے۔ ۲۰ جنوری ۱۹۴۸ ؁ کو مدن لال پاہوا، شنکر کِسٹیا، ڈِگمبر باڈگے، وشنو کرکرے، گوپال گوڈسے، ناتھورام گوڈسے اورناراین آپٹے اس مقصد سےدہلی کے بِرلا بھون میں آئے۔ پاہوا نے بم پھینکا جو ددیوار سے لگا اور گاندھی جی بال بال بچ گئے۔ اس ناکامی کے بعد گوڈسے نے ۳۰ جنوری ۱۹۴۸ ؁  کو برلا بھون میں ا گاندھی  جی کے سینے گولیاں چلا کر خود  کو  قانون کے حوالے کر دیا۔ اس موقع پر نذیر بنارسی نے کہا تھا ؎

اسی کو مار ڈالا جس نے سر اونچا کیا سب کا

  نہ کیوں غیرت سے سر نیچا کریں ہندوستاں والے

گوڈسے کے ساتھ  سازش میں دِگمبر باڈگے، گوپال گوڈسے، نارائن آپٹے، وشنو کرکرے اور مدن لال پاہوا  کے علاوہ ونایک دامودر ساورکر کو  بھی گرفتار کیا گیا مگر وہ  تکنیکی بنیادوں پر چھوٹ گئے  حالانکہ قتل سے پہلےقاتلوں کو مل کر انہوں اپنا آشیرواد   دینے  کے پکے ثبوت موجود تھے۔  جسٹس آتما رام نے ۱۰ فروری ۱۹۴۹؁  کو آٹھ لوگوں   کے خلاف قتل کی سازش کا فیصلہ سنایا۔ ان میں سے ناتھورام گوڈسے اور ناراین آپٹے کو پھانسی دی گئی۔ایک سرکاری گواہ بن گیا۔ ایک کو ہائی کورٹ نے بری کیا  باقی لوگوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی جن میں ناتھورام کا بھائی گوپال گوڈسے شامل   تھا۔ عدالت میں اپنی آخری پیشی کے دوران گوڈسے نے کہاتھا’’ گاندھیائی اہنسا کی تعلیم میری یا میرے گروہ کی جانب سے مخالفت کا سبب نہیں ہے۔ بلکہ گاندھی جی اپنے خیالات کے اظہار کے وقت مسلمانوں کے لیے جھکاؤ دکھاتے ہیں۔وہ ہندو قوم اور ان کے مفادات سے امتیاز برتتے ہیں اوریہ اس کی عین ضد ہے۔ میں نے تفصیل سے اپنا نقطہ نظر بیان کر رکھا ہے اور کئی واقعات کا حوالہ بھی دیا ہے جو بلا شک و شبہ  یہ ثابت کرتے ہیں کہ گاندھی جی کس طرح ہندو قوم  کے لیے  کئی آفتوں کے ذمہ دار تھے۔

ناتھو رام گوڈسے کا یہ بیان اس کے قلب و ذہن کا عکاس ہے۔ وہ بنیادی طور پر مسلمانوں سے نفرت کرتا  تھا لیکن جب اس نے محسوس کیا کہ گاندھی جی کو  مسلمانوں سے نفرت نہیں ہے تو وہ ان سے نفرت کرنے لگا  اس طرح نفرت کا دائرہ وسیع ہوگیا اور بالآخر وہ خود اس کی آگ میں جل کر راکھ ہوگیا۔  ساورکر اور گوڈسے کی آگ اب بھی دہک رہی ہے۔ ان سے محبت کرنے والے آج بھی گاندھی جی اور مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں۔ ہندو مہاسبھا اکھنڈ بھارت(متحدہ ہندوستان)  میں وشواس (یقین ) رکھتی ہے  لیکن ہندوستان اور اس کے بعد پاکستان کا منقسم ہوجانا ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے جس کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ گاندھی جی کےچند ماہ بعد ہی پاکستان میں  قائداعظم  جناح کا کراچی میں انتقال ہوگیا۔ ان سے بھی بہت سارے لوگوں کو اختلاف تھا لیکن وہاں پر کوئی شخص  یا تنظیم اس طرح کے تضحیک آمیز سلوک کا تصور  بھی نہیں  کرسکتی۔ بنگلا دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمٰن کو اگست ۱۹۷۵؁ کے دن فوجیوں نے قتل کردیا۔ وہاں بھی کوئی بنگلا بندھو کے ساتھ  کوئی ایسی جرأت نہیں سکتا لیکن اپنے ملک کے یہ واقعات  کس طرح کی نفسیات کا اظہار ہیں؟   یوگی حکومت   کو آخر  ہندوتوا وادیوں کی گرفتاری پر  کیوںمجبور ہونا  پڑا؟ یہ اس بات کا اشارہ  تو نہیں  کہ ملک گاندھی سے گوڈسے کی طرف جارہا ہے؟

ابتداء میں تو علی گڑھ ضلع انتظامیہ نے اسے معاملہ کو نظر انداز کیا مگر بعد میں  ۱۳لوگوں کے خلاف مقدمہ  درج کرکے ہندو مہاسبھا کے منوج سینی اور ابھیشیک کو جیل بھیج دیا ْ۔ وکیل  گجیندر کمار کو ضمانت مل گئی۔ ان تینوں کے علاوہ ہری شنکر، راجیو کماراور جئے ویر شرما کو بھی حراست میں لیا گیا تاکہ عدالت میں پیش کیا جاسکے۔پوجا اور ان کے شوہر اشوک پانڈے فرار ہیں۔  یہ مقدمات  آئی پی سی کی دفعہ ۱۵۳اے، ۲۹۵ اے اور ۱۴۷  کے تحت  ہیں۔ نفرت پھیلانے کا الزام عدالت میں شاذو نادر ہی ثابت ہوپاتا ہے۔ اس کے علاوہ بغیر اجازت تقریب کا اہتمام یا ویڈیو وائرل کرنے پر قدغن لگائی گئی ہے۔لیکن  کیا ان الزامات پر کسی کو کڑی سزا ملے گی۔ بلند شہر میں گائے ذبح کرنے کے بے بنیاد الزام پر تو این ایس اے لگ جاتا ہے لیکن وہیں انسپکٹر  سبودھ کمارکے قتل پر یہ یوپی کوکا بھی  نہیں لگتا اور علی گڈھ میں بھی یہی حال ہے۔

 ہندو مہاسبھا کے قومی جنرل  سکریٹری  مکل مشرا نے کہا ہے کہ  پوجا کے اس اقدام سے گاندھی جی کی عدم تشدد اور اور راشٹر بھکتی کی قلعی کھولنے والا ناتھو رام گوڈسے کے پیغام  کوعام کرنے  کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ ہندومہا سبھا کے قومی  ترجمان اشوک پانڈے  اس اعتراض پر ناراضگی جتاتے ہوئے  پوچھتےہیں کہ ملک میں اظہار رائے کی آزادی کا حق کیا صرف دہشت گردوں کے پاس ہے جو بھارت کو ڈائن کہتے ہیں ؟ انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ کیا مہاتما گاندھی آئین سے اونچے ہیں۔کیا ہر فرد کے لیے ان کی پوجا کرنا لازمی ہے؟  مشرا کے مطابق ہندو مہا سبھا نے گاندھی کے قتل کو اسٹیج کرکے کوئی بڑا گناہ نہیں کیا۔  ان لوگوں کی ڈھٹائی اس لیے ہے کہ ان  کے خلاف لگنے والے ہلکے پھلکے الزامات سے ان کا بال بیکا نہیں ہوگا۔    سچ تو یہ ہے کہ حکومت اور انتظامیہ کے تحفظ نے انہیں اس قدر دلیر بنا دیا ہے۔افسوس کہ یہ سانحہ اس علی گڈھ میں رونما ہوا ہے جہاں گاندھی کے قتل پر مجاز نے کہا تھا؎

خوش ہے بدی جو دام یہ نیکی پہ ڈال کے

 رکھ دیں گے ہم بدی کا کلیجہ نکال کے

گوڈسے  کی حمایت میں یہ چمتکار اچانک رونما  نہیں ہوگیا  بلکہ ایک طویل سلسلے کا حصہ  ہے۔ ناتھو رام گوڈسے کے مربیّ ونایک  دامودر ساورکر گاندھی جی کے قتل  میں پوری طرح ملوث تھے لیکن جب مقدمہ چلا تو انہیں  شواہد کی عدم موجودگی کے سبب  بری کردیا گیا۔ اس کے بعد ان کے نام پر ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا۔ آگے چل کر ایوان پارلیمان میں   ساورکر کا مجسمہ نصب کیا گیا۔ ابھی حال میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بیان میں کہا کہ  ویر ساورکر نے جس جیل میں اپنی زندگی گزاری ہے، ہر بھارتی کو جاکراور اس کی زیارت کرنی چاہئے۔ مودی جی اور ان کے بھکت پڑھے لکھے ہوتے تو  یہ بھی معلوم کرتے کہ جس شخص کو ویر کہا جارہا ہے وہ کن شرائط پر جیل سے رہا ہوا تھا۔ اس نے رہائی کی خاطر کیسی کیسی منتیں کی  تھیں اور کیسے تاعمر انگریزوں کی وفاداری کا عہد کرکے لوٹا تھا۔ جن لوگوں نے جنگ آزادی میں سوائے مخبری کے کوئی  اہم کردار نہ ادا کیا ہو ان سے بھلا کس بات کی توقع کی جاسکتی ہے؟ بابائے قوم کی یہ درگت  دیکھ گئو ماتا سوچ رہی ہوگی کہ جولوگ راشٹر پتا کے ساتھ یہ سلوک کررہے ہیں وہ راشٹر ماتا کی کیا حالت کریں گے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close