آج کا کالم

گجرات: الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

عمیر کوٹی ندوی

یہ قیاس لگایا جارہا تھا کہ ہماچل پردیش اور گجرات اسمبلی الیکشن کی تاریخوں کا ایک ساتھ اعلان ہوگا . لیکن گزشتہ دنوں الیکشن کمیشن کی طرف سے صرف ہماچل پردیش کے الیکشن کی تاریخوں کے اعلان کی وجہ سے بی جے پی اپوزیشن جماعتوں کے نشانہ پر آگئی تھی۔ خود الیکشن کمیشن کے اس اقدام نے اس کی غیرجانبداری اور شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیا تھا۔ اپوزیشن پارٹیوں خاص طور پر کانگریس نے اس سلسلہ میں بی جے پی پر نہ صرف تیز وتند حملے کئے بلکہ  اس کی طرف سے کہی گئی  دیگرباتوں میں یہ بات بھی شامل تھی کہ الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم کو یہ اختیار دیدیا ہے کہ وہ اپنے آخری انتخابی اجلاس میں تاریخوں کا اعلان کردیں ۔خود سابق چیف الیکشن کمشنر نے بھی اس پر سوالات قائم کئے تھے۔

اس سلسلہ میں بڑھتی ہوئی نکتہ چینی اور تیز وتند حملوں نے بی جے پی کے لئے پریشانی پیدا کردی تھی۔ یہاں تک کہ ملک کے وزیر اعظم کو اپنی پارٹی  پر جاری تنقید کے جواب میں باتیں کہنی پڑیں ، گوکہ انداز وہی پرانا دوسروں کا مزاق اڑانے والا ہی تھا۔ لیکن انہیں سامنے آنا پڑا۔ ویسے اس بات سے کس کو انکار ہوسکتا ہے کہ گزشتہ پارلیمانی انتخابات سے اب تک  مرکز سے لے کر گرام سماج تک اور وزارت عظمیٰ کے انتخابات سے لے کر پردھانی کے الیکشن تک انتخابی مہم میں سامنے تو صرف وہی ہیں اور صرف ان ہی کا چہرا  تو ہے جو ہر جگہ سامنے لایا جاتا ہے۔ کامیابی کی صورت میں ان ہی کو کریڈٹ دیا جاتا ہے  لیکن  ناکامی کی صورت میں اس کا ٹھیکرا کسی اور کے سرپھوڑ دیا جاتا ہے۔

گجرات تو وزیر اعظم کا گڑھ ہے اس لئے اسمبلی انتخابات کی پوری مہم کا ذمہ عملا ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ان ہی کے سرہے۔ شاید یہ ملک کے پہلے وزیر اعظم ہوں گے جو وزارت عظمیٰ کی انتخابی مہم،  اس میں کامیابی اور پھر وزیر اعظم بننے کے بعد سےتسلسل کے ساتھ یکے بعد دیگرے اب تک انتخابی مہم کی ہی حالت میں ہوں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا جائے گا۔ گجرات میں ان کے تعلق سے تن، من، دھن سے لگنے کی اصطلاح پورے طور پر صحیح ثابت ہورہی ہے۔ اس وجہ سے کہ ایک عرصہ سے اس پر ان کی پوری توجہ مرکوز ہے۔ لیکن تمام تر توجہ اور پوری کوشش کے باوجود  جس طرح کی خبریں آرہی ہیں انہیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس بار انتخابی حالات بی جے پی کے لئے سازگار نہیں ہیں ۔ اس کا اندازہ  اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ دنوں ایک خبر یہ آئی تھی کہ اس پارٹی نے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ کو،  جو اپنی زبان اور بیان کی وجہ سے ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں ، ان کی پارٹی ‘اگریسیو ہندتو’ کو ہوا دینے اور اس سے کم از کم حالیہ اسمبلی انتخابات میں فائدہ اٹھانے  اور آئندہ پارلیمانی انتخابات  کے لئے بھی ماحول تیار کرنے کے لئے استعمال کرے گی۔ عملا کوشش بھی کی گئی۔ ان سے گجرات روڈ شو بھی کرایا گیا لیکن سڑکوں کی ویرانی، عوام کی بے توجہی اور کمیونل ماحول تیار کرنے میں ان کی ناکامی نے پورے منصوبے پر پانی پھیر دیا۔ تمام کوششوں کے باوجود ان کا گجرات دورہ ناکام ثابت ہوا۔

ان سب باتوں سے پریشان  بی جے پی نے جوڑ توڑ کی سیاست کی طرف قدم بڑھایا تو یہاں پر بھی اسے ناکامی ہی ہاتھ لگ رہی ہے بلکہ یہاں الٹے اس کے ہاتھ جل گئے ہیں ۔ اس لئے کہ جوڑ توڑ کی سیاست کرنےکے الزامات سے آگے اس پر خریدوفروخت کے الزامات عائد ہورہے ہیں ۔ گجرات میں پٹیل سماج کا باہمی اتحاد اور ہاردک پٹیل کے ارد گرد ان کا جمع ہونااس وقت گجرات کی سیاست میں تمام پارٹیوں کی توجہ  کامرکز بنا ہوا ہے۔ ان کےاسی  باہمی اتحاد اور اپنے لیڈر کے ساتھ ان کے کھڑے ہونے نے بی جے پی کو خرید وفرخت کے اس الزام تک پہنچا دیا ہے جس نے اس کی تسلسل کے ساتھ بڑھتی ہوئی پریشانیوں کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ اس سے تنقید کا نشانہ بننے والی بی جے پی کی پریشانیاں بڑھتی جارہی ہیں ۔ یہ بات الگ ہے کہ  میڈیا میں چونکہ بی جے پی کے نفوذ کے سب ہی معترف ہیں اور یہ کھلی آنکھوں دکھ بھی رہا ہے۔ یہاں پر وہ اپنی بات اپنے طریقہ سے رکھ لے گی اور  سچ اور صحیح بات کہنے والوں کو نہ میڈیا اپنی بات رکھنے دیگا اور نہ ہی بی جے پی کے ‘اسپوکس پرسن’ کسی کو بولنے کا موقع دیں گے، وہ تو ہر بار کی طرح اس بار بھی یہ کوشش کریں گے کہ سچ ان کے شور وہنگامہ میں کہیں دب کر رہ جائے لیکن گجرات کے عوام کو کیا اس ترکیب سے گمراہ کرپائیں گے.

  اس وقت کی جو صورت حال ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔ اس لئے کہ بی جے پی کی ساری انتخابی تدبیریں الٹی پڑ رہی ہیں ، پھر وہاں کے عوام بھی طویل ترین تلخ تجربوں کی وجہ سے بیان بازیوں کے شکار ہوتے ہوئے نہیں دکھ رہے ہیں ۔ یوگی کا بے رونق  روڈ شو اس کا واضح ثبوت ہے کہ اس پارٹی میں شاید اب کوئی ایسا نہیں بچاجو لوگوں کو دھوکہ دے کر الیکشن جتا لینے  کے یوگیہ(لائق)  ہو۔ یہی وجہ ہےکہ اس بار گجرات میں اسمبلی الیکشن کے لئے ہونے کووہ سب ہورہا ہے جو بس میں ہے،  سوائے الیکشن کی تاریخوں کے اعلان کے اس لئے کہ اس کے بعد ہاتھ بندھ جائیں گے اور انتخابی سیاست بہت کچھ نہیں کرپائے گی۔اس صورت حال کو دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ:

الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close