آج کا کالم

گجرات انتخاب: وہ منزلوں پہ نہ پایا جو رہ گزر سے ملا

ڈاکٹر سلیم خان

عام طور پر جماعت اور رہنما ایک ساتھ فتح و شکست سے دوچار ہوتے ہیں ۔ ایسا  بھی ہوتا ہے کہ پارٹی  ہار جاتی  ہے مگر لیڈرجیت  جاتاہے  مثلاگزشتہ قومی انتخاب میں ملائم سنگھ اپنے سارے خاندان سمیت کامیاب ہوگئے جبکہ سماجوادی پارٹی کا صفایہ ہوگیا۔ لیکن  یہ بہت کم ہوتا ہے کہ پارٹی کی کامیابی کے باوجود رہنما ہار جائے۔ اب کی  بار گجرات میں وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ یہی ہوا ہے۔ 151 سیٹ پر کامیابی   کی جیت کا دعویٰ کرنے والوں کے لیے 100 تک کو چھونا مشکل ہوگیا۔ کانگریس مکت بھارت  بنانے  والے  گجرات کو کانگریس سے  مکت کرنے میں ناکام رہے۔  جہاں تک راہل گاندھی کا سوال ہے  ان کی پارٹی  تو انتخاب نہیں جیت سکی  مگر انہوں نے مودی جی کوضرور چاروں شانے چت کر دیا۔ اب یہ سوال کوئی نہیں پوچھے گا کہ مودی کا متبادل کہاں  ہے؟  2019 میں نریندر مودی کو کون ہرا سکتا ہے۔ وہ علاقائی رہنما جو وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہے تھے ان میں ممتا بنرجی  اور لالو یادو نے تو انتخابی مہم کے دوران ہی راہل گاندھی کو قومی  لیڈر تسلیم کرلیا  تھا۔ جہاں تک اکھلیش اور مایا وتی کا سوال ان لوگوں نے  دعویٰ ہی نہیں کیا  اور سب سے بڑے مونگیری لال نتیش کمار نے خود کومودی  کے قدموں میں ڈال دیاہے۔ اس لحاظ سے اب حزب اختلاف کے راہل گاندھی کی قیادت میں متحد ہوکر  انتخاب لڑنے کا وقت آگیا ہے۔

گجرات میں ؁۱۹۶۲ کے اندر پہلا اسمبلی الیکشن ہوا جس میں کانگریس نے ۱۵۴  میں سے ۱۱۳ حلقہ ہائے انتخاب میں کامیابی حاصل کی یعنی ۷۳ فیصد سے زیادہ جبکہ ؁۲۰۰۲  میں خوفناک فساد کے بعد بھی  مودی جی ۷۰ فیصد تک نہیں پہنچ سکے۔ تمام تر بلند دعوں کے باوجود  اس کامیابی کے لیے بی جے پی آج بھی ترس رہی ہے جو کانگریس کو پہلے انتخاب میں مل گئی تھی۔  ؁۱۹۸۵ میں کانگریسکے مادھو سنگھ سولنکی کو ۱۸۲ میں سے ۱۴۹ نشستوں پر کامیابی ملی اور غالباً ان سے آگے نکل جانے کے لیے امیت شاہ نے اس بار ۱۵۱ سے زیادہ سیٹ پر کامیابی کا ہدف رکھا۔ اس کی وجہ یہ  بھی تھی کہ  ؁۲۰۱۴  کے پارلیمانی انتخاب میں  بی جے پی نے جملہ  ۲۶ تشستوں کو جیت لیا تھا۔ اس کامیابی کو اسمبلی حلقوں میں تقسیم کیا جائے تو ۱۶۴ نشستوں پر  اسے برتری حاصل تھی۔ اس لیے امیت شاہ کا خواب بالکل بے بنیاد بھی نہیں تھا۔

اس موقع پر امیت شاہ سے چند  غلطیاں ہوئیں ۔ ایک تو 2014 سے قبل ہندوستان اور گجرات کے لوگ مودی جی کے بارے میں جس بھرم کا شکار تھے وہ اب کھل چکا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ کہ مودی جی نے گجرات میں ۳  اسمبلی انتخابات ضرور جیتے ہیں  لیکن 2002  میں جن ۱۲۷ نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی وہ 2007 کے اندر ۱۱۷ پر آگئی یعنی مودی جی کا گراف اوپر جانے کے بجائے نیچے آیا۔ 2012 میں مزید دو نشستوں کا خسارہ ہوا۔ ان حقائق کو پیش نظر رکھا جائے تو صاف ظاہر ہے کہ  مودی جی کی  دیوار ڈھلک رہی ہے ۔ امید ہے 2019 کے آتے آتے اس میں مزید دراڑیں پڑ جائیں گی۔ عوام کو  پاکستان کے نام پربار بار بیوقوف  نہیں بناسکتے۔

 کانگریس نےاس بار کے انتخاب میں اپنے آپ کو سنبھالا ہے۔ اس  کابتدریج نیچے اترتا ہوا گراف اوپر کی جانب گامزن ہوا ہے۔ شام 4 بجے تک کے رحجانات کی بناء پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کو  2012 کی بہ نسبت 22 پر اور 2014 کے مقابلے 66 زائد  نشستیں حاصل ہورہی ہیں ۔ انتخابی کمیشن کی جانب سے اعلان شدہ نشستوں کو دیکھیں تو کانگریس اور بی جے پی کے درمیان صرف 6 کا فرق ہے۔ 16 کا فرق رحجانات میں ہے۔ ماہرین کے مطابق  2014 کی بہ نسبت بی جے پی کے ووٹ کا تناسب  کم ازکم 10 فیصد گھٹا ہے۔ یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں ہے اس لیے ایسے میں 2019 کے اندر کے بی جے پی تمام 26 تو کجا 16 نشستوں پر کامیابی کا خواب نہیں دیکھ سکتی۔ گجرات کے ساتھ ہماچل پردیش میں بھی انتخاب ہوا جہاں بی جے پی نے کانگریس کو ہرا دیا لیکن وہ مقابلہ مقامی رہنماوں کے درمیان تھا۔ مودی جی اور راہل گاندھی نے اس میں بہت معمولی کردار ادا کیا لیکن گجرات میں ایسا نہیں تھا۔ یہاں تو کانگریس نے وزیراعلیٰ کے امیدوار کا اعلان ہی نہیں کیا اور بی جے پی کے  وجئے روپانی  تو دور امیت شاہ تک ثانوی درجہ میں ڈال دیئے گئے۔ یہ انتخاب سیدھے سیدھے راہل اور مودی کے درمیان تھا اور اسمیں شک نہیں کہ راہل نے اپنے حریف کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔

جان اسٹائن بیک نے لکھا ہے کہ دنیا میں ہرایک کے لیے کہیں نہ کہیں شکست  ہوتی ہے۔ کچھ لوگ شکست سے تباہ ہوجاتے ہیں  اور کچھ فتح کے بعد چھوٹے اور ہلکے ہوجاتے ہیں ۔ راہل  کو شکست نے تباہ تو نہیں کیا مگر اس مری پڑی کامیابی نے مودی جی کی ہوا نکال دی۔ اس لیے راہل گاندھی پر جان اسٹین بیک کا اگلا جملہ صادق آتا ہے کہ عظیم وہ ہے فتح و شکست دونوں میں کامیاب و کامران ہو۔ گجرات کے الیکشن کو اگر قومی تناظر میں دیکھا جائے تو مودی کے مقابلے راہل کا عروج اور مودی کا زوال جگ ظاہر ہے۔ گجرات میں مودی جی کے پاس یہ کہنے کا موقع تھا کہ میں آپ کا بیٹا ہوں ۔ میں گجراتی ہوں ۔ یہ لوگ ایک گجراتی کو وزیراعظم دیکھنا نہیں چاہتے لیکن ایسی گریہ و زاری وہ دیگر صوبوں میں نہیں کرسکتے۔ اس قدر ہاتھ پیر جوڑنے کے باوجودنیچے وہ کرسی بچانے میں تو کامیاب ہوگئے لیکن وقار ملیامیٹ کردیا۔ یہ سب کرنے پر بھی  اگر ۱۵۰ نشستیں مل جاتیں تو جواز بن جاتا لیکن اب تو یہ حالت ہے نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم  اور صنم کے نام پر جو ملا ہے وہ محبوب کا دھندلا عکس بھی نہیں ہے۔

  آئندہ سال جن صوبوں میں انتخابات ہونے والے ہیں وہ  گجرات   سے اس لیے مختلف ہیں کہ وہاں پر کانگریس کے پاس مقامی رہنما اور تنظیمی ڈھانچہ ہے۔ گجرات میں ان دونوں چیزوں کا فقدان تھا اس لیے راہل گاندھی پرسارا انحصار تھا۔ کرناٹک میں کانگریس کی حکومت ہے۔ مدھیہ پردیش میں دگ وجئے سنگھ معروف رہنما ہیں اور گزشتہ دوماہ سے سابرمتی یاترا کرکے عوام سے رابطہ کررہے ہیں ۔ گجرات میں کانگریس کے نگراں اشوک گہلوت کا تعلق راجستھان سے ہے اس کے علاوہ راجیش پائلٹ کے بیٹے  سچن پائلٹ بھی خاصے مقبول ہیں ۔ ایسے میں بی جے پی کو گجرات کی کامیابی دوہرانا آسان نہیں ہوگا۔ پنجاب کے بلدیاتی انتخاب میں زبردست کامیابی درج کرواکر کانگریس اپنا لوہا منوا رہی  ہے۔ ایسے میں راہل  گاندھی کو عمران خان کی نصیحت یاد رکھنی چاہیے’’شکست آپ کو  بربادنہیں کرتی بلکہ پست ہمتی تباہ کن ہوتی ہے‘‘۔

مودی جی کی  حماقت نے کانگریس میں نئی جان ڈال دی اور راہل گاندھی کو مضبوط حریف بنادیا۔ اس کے لیے کانگریسی ان کے شکرگذار ہوں گے۔ ایل کے اڈوانی کے  سابق معاون سدھیندر کلکرنی نے راہل گاندھی کی صلاحیتوں کاعتراف کرتے ہوئے برملا کہا کہ ملک کو فی الحال  راہل گاندھی جیسے رہنما کی ضرورت ہے اور وہ آگے چل کر وزیراعظم بنیں گے۔ الیکشن کمیشن نے ۱۳دسمبر کوراہل  کے خلاف جاری کردہ نوٹس کو واپس لےکر تسلیم کرلیا ہے کہ اب راہل گاندھی پپو نہیں رہے۔ اس بٹہّ سے نجات حاصل کرنا گجرات انتخاب کی کی ایک ایسیکامیابی  ہے  جسے نتائج سے قبل  مہم کے دوران حاصل کرلیا  گیا۔ بقول  حفیظ میرٹھی ؎

ہرانقلاب کی تاریخ یہ بتاتی ہے 

وہ منزلوں پہ نہ پایا جورہگزر سے ملا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close