آج کا کالم

گرومیت کا تارِ عنکبوت

ڈاکٹر سلیم خان

وہ بلک بلک کر رورہا تھا اس لیے کہ عدالت میں  اسے زنابالجبر کے الزام میں 20 سال کی سزا سنادی  گئی تھی۔ وہ رحم کی درخواست کررہا تھا کہ تھوڑی  تو رعایت کی جائے۔ جب اس کی ایک نہیں سنی گئی تو اس نے پکار کر کہا کوئی مجھے بچالو۔ جب کوئی مدد کے لیے نہیں آیا تو اس نے عدالت چھوڑنے سے انکار کردیا۔ اس سے کہا گیا تعاون کرو ورنہ زبردستی کی جائیگی تو  اس نے نیا ڈرامہ شروع کردیا۔ اس نے کہا میرے سینے میں شدید درد ہورہا ہے اگر مجھے کچھ ہوجائے تو ریاست ذمہ دار ہوگی۔ ایمبولینس  بلائی گئی۔ ڈاکٹر نے جانچنے کے بعد کہا یہ جھوٹ ہے اس کو کسی طبی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔  پھر اسے  جیل کا قیدیوں والا لباس تھما دیا گیا۔ اس طرح ایک خودساختہ  بھگوان بے نقاب ہوگیا اور اس کے جعلی تقدس کا چولا تار تار ہوگیا۔  گرومیت رام رحیم کے بھکتوں سے اللہ کی کتاب  پکار پکار کر کہہ رہی ہے’’اور اسےچھوڑ کر تم جنہیں پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنے ہی کام آسکتے ہیں‘‘۔

یہ وہی  طاقتور بابا ہے جس کے حرم سرا سےسزا کے بعد 29 لڑکیاں بر آمد ہوئیں۔ اس نے نہ جانے کتنی خواتین کی آبروریزی کی۔ ان میں سے 2 نے جب اٹل جی کے نام   گمنام خط لکھا تو ایک کے بھائی کو قتل کردیا گیا۔ جس صحافی نے اس خط کو شائع کیا اس پر گولیاںبرسائی گئیں۔  دو ہفتہ اسپتال میں ایڑیاں رگڑنے کے بعد وہ پرلوک سدھار گیالیکن  کسی نےاس کا بیان لینے کی جرأت نہیں کی۔  جب گرومیت کو سزا سنائی گئی تو اس  مظلوم صحافی کا بیٹا بولا میری ماں کا سہاگ اجاڑنے والا آج خود اجڑ گیا۔ اس ظالم اور متکبر کے دربار میں سبھی سیاسی جماعتوں نے ماتھا ٹیکا۔ موجودہ وزیراعظم نے اس کی تعریف و توصیف بیان کی۔ صوبائی کابینہ   نے اس کی خدمت میں اظہار تشکر کے لیے  حاضری  دی۔ وزیراعلیٰ نے اس کے ساتھ جھاڑو لگایا اوروزیرصحت نے51 لاکھ گرودکشنا  پیش کی۔

داود اور حافظ سعید  کو پاکستان سے لانے  کا دعویٰ کرنے والے اس کوسرسا سے گرفتار کرکے عدالت میں حاضر نہیں کرسکے جبکہ جج صاحب سوال کرتے رہ گئے کیا ہریانہ ہندوستان کا حصہ نہیں ہے؟  اس سے ہاتھ جوڑ کر پرارتھنا کی گئی تو وہ شاہی آن بان اور شان کے ساتھ  دو سو گاڑیوں کا قافلہ لے کر عدالت میں حاضر ہوا۔ فیصلہ سنانے تک اس مجرم کے آرام آسائش کے لیے سرکاری گیسٹ ہاوس کو عارضی جیل بنایا گیااوروہاں تک پہنچانے کی خاطر ہیلی کاپٹر کا اہتمام کیا گیا۔ جس کا بیگ اٹھانے کے الزام میں سرکاری وکیل کو ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ حکم امتناعی کے باوجود جس کے بھکتوں کو جمع ہونے روکنے کی ہمت نہیں دکھائی گئی۔ جس کے خوف سے انٹر نیٹ بند کردیا گیا  اورٹرینیں  رد کردی گئیں۔  ایک رکن پارلیمان نے اس کی گرفتاری کو ہندو دھرم اور سادھو سنتوں کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے اس کو بھگوان ماننے والے کروڈوں  بھکتوں میں خود کو بھی شامل کردیا اوراس کی سزا سے رونما ہونے والے حالات کی ذمہ داری  عدالت  پر ڈال دی۔ایسے لوگوں سے قرآن سوال کرتا  ہے ’’کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ اُن کو خدا کا شریک ٹھیراتے ہیں جو کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں‘‘۔

گرومیت کی عدالت میں حاضری پراس کے لاکھوں پریمی بپھر کر سڑکوں پر آگئے اور  تشدد کا  وہ طوفان بپا کیا کہ تاحال  45 لوگوں نے اپنی جان گنوادی  اور 250 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ پانچ صوبوں پر محیط آگ زنی اور توڑ پھوڑمیں  کروڈوں کی سرکاری املاک کا نقصان ہوا۔ سرکاری رویہ پر عدالت کو یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑا کہ  ’’قومی یکجہتی ، قانون  اور نظم و نسق  سب سے بالاتر ہے۔  ہم ایک قوم ہیں نہ  کہ یک جماعتی قوم۔   سیاستدانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ قوم ایک ہے۔ یہ ہندوستان کا وزیرعظم ہے نہ کہ  بی جے پی کا۔ یہ صوبے کا وزیراعلیٰ ہے نہ کہ بی جے پی کا اور آپ (ستیہ پال جین ) ہندوستان کےسولیسیٹر جنرل  ہیں نہ کہ کسی جماعت کے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایسا لگتا ہے حکومت نے اپنے سیاسی مفاد کے پیش نظرڈیرہ  سچا سودہ کے آگے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔  ووٹ بنک کی خاطر یہ سیاسی سپر ڈالی گئی۔ ایک عدالت کا جج جب یہ کہتا ہے کہ ’’آپ نے ہمیں گمراہ کیا ہے۔ سیاسی اور انتظامی فیصلوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ انتظامی امور کو سیاسی مفاد کی خاطر مفلوج کردیا گیا ہے‘‘ تو وزیراعلیٰ کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے اور اگر وہ ڈھیٹ ہے تو اس کو برخواست کرکے صدر راج نافذ کردیا جانا چاہیے لیکن بھگوا دھاریوں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی۔

گرومیت کے خلاف تو ابھی صرف ایک مقدمہ کا فیصلہ ہوا ہے جس میں 10 اور 10  یعنی جملہ 20 سال کی سزا  سنائی گئی ہے اس کے علاوہ 30 لاکھ جرمانہ  ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں سے 28 لاکھ روپئے دونوں متاثرہ خواتین کو بطور ہرجانہ ا داکیا جائے  گا۔ گرومیت کے وکیل نے جب اس کے فلاحی کاموں کی دہائی دے کر نرمی کی درخواست دی تو جج نے کہا  وہ کسی نرمی کا مستحق نہیں ہے۔ اس  درندے کے بھولے بھالے  پیروکاروں نے اسے خدائی کے درجے پر فائز کردیا مگر  اس نے انہیں بھی نہیں بخشا۔ اسی کے ساتھ  جھوٹی خدائی کا دعویٰ کرنے والے ایک پاکھنڈی بابا  کا گھناونا  کردار کھل کردنیا کے سامنے آ گیا۔ اپنی طاقت کے زعم اورحامیوں کی  قوت  کے گھمنڈ میں مبتلا ان باغیوں اور طاغیوں کا  سر مشیت  اس طرح کچلتی ہے کہ وہ تازیانۂ عبرت بنادیئے جاتے ہیں۔ ان کو اس آیت زندہ تفسیر بنا دیا جاتا ہے ’’جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دُوسرے سرپرست بنا لیے ہیں اُن کی مثال مکڑی جیسی ہے جو اپنا ایک گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے کاش یہ لوگ علم رکھتے‘‘۔

یہ تو بس ابتدا ہے آگے چل کرگرومیت  کے خلاف دو قتل  اور اپنے 40 بھکتوں کو خصی بنانے کے قضیہ کافیصلہ آناہے۔ جب ان مظالم کی سزا سنادی جائیگی تو ایک  زندہ بت  ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جائیگا لیکن اس  بات کی توقع کم ہے کہ اس کے پیروکار بت پرستی سے تائب ہوجائیں۔ قوی امکان ہے کہ وہ ایک کے چنگل سے نکل کرکسی اور پاکھنڈی کے فریب میں گرفتارہوجائیں گے۔ ایسے  میں اہل اسلام کایہ فرض منصبی ہے کہ وہ انہیں قرآن مجید کی  سہل اور دلنشین مثالوں کے ذریعہ دین حق کا پیغام پہنچائیں۔ ارشاد خداوندی ہے  ’’لوگو، ایک مثال دی جاتی ہے، غور سے سنو جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مِل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ اِن لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ پہچانی جیسا کہ اس کے پہچاننے کا حق ہے واقعہ یہ ہے کہ قوت اور عزت والا تو اللہ ہی ہے‘‘۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close