آج کا کالم

گلوبل الیکشن کمشنر مارک زوكربرگ کا شکریہ

رويش کمار

گلوبل چیف الیکشن کمشنر مارک زوكربرگ نے احسان جتاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس بات کی کوشش کریں گے کہ بھارت اور پاکستان میں آزاد اور غیر جانبدارانہ انتخابات ہوں. اس کے لئے وہ سب کچھ کریں گے. مارک زوكربرگ نے امریکی سنیٹ میں ممبران پارلیمنٹ کے سوالات کے جواب میں یہ یقین دہانی کرائی ہے. انہوں نے کہا کہ انگریزی کے علاوہ دوسری زبانوں میں نفرت پھیلانے والی مواد کو ٹریک کرنا مشکل ہے. اسی لیے ہندوستان کے سوشل میڈیا میں ٹرول اور نامناسب کنٹینٹ کی بھر مار رہتی ہے. مارک زوكربرگ کو امید ہے کہ پانچ سے دس سال میں وہ ایسا طریقہ تلاش لیں گے جس سے دوسری زبانوں کے الفاظ کی منشا کو پکڑا جا سکے گا.

بھارت کے الیکشن کمشنر کو گلوبل چیف الیکشن کمشنر مارک زوكربرگ کو ایک تھینكيو نوٹ جلدی بھیج دینا چاہئے، کیونکہ فیس بک تو اس کا پارٹنر ہے. جہاں دنیا بھر کے ادارے انتخابات میں فیس بک کے سازشی کردار کو لے کر محتاط ہیں، وہیں ہندوستان کا الیکشن کمیشن فیس بک سے معاہدہ کر چکا ہے. بہت کم لوگوں کو پتہ ہوگا کہ 2016 اور 2017 میں کمیشن نے فیس بک سے معاہدہ کیا تھا کہ وہ 18 سال کے ہو رہے یوزرس کو  یاد دلائے گا کہ ووٹر كارڈ بنوانا ہے. ظاہر ہے کہ فیس بک نے اس کے لئے اعداد و شمار بھی جمع کئے ہوں گے. امریکہ ہوتا تو کم از کم وہاں کے میڈیا میں جانکار سوال اٹھا رہے ہوتے، لیکن بھارت میں نہ میڈیا کا پتہ ہے اور نہ ماہرین کا. ہوں گے بھی تو میڈیا انہیں کچھ سمجھتا نہیں.

آپ انٹرنیٹ پر اس بابت کئی رپورٹ پڑھ سکتے ہیں. فیس بک بھارت کے الیکشن کمیشن کے لئے وہ 13 زبانوں میں کام کرے گا. جبکہ امریکی پارلیمنٹ میں فیس بک کے مارک زوكربرگ نے بتایا کہ ان کے پاس انگریزی کے علاوہ دیگر زبانوں کے مواد کو پکڑنے کا کوئی آلہ نہیں ہیں. دھندہ کرنا ہوتا ہے تو زبان دقت نہیں ہے، نفرت کے مواد پکڑنا  ہے تو زبان دقت ہے.

ہمارے یہاں كرینبج اینالٹكا کو لے کر تین نمبر کی سیاست ہوئی. آدھی ادھوری معلومات والے اینکرز اور کچھ نہیں جاننے والے بكلول ترجمان کو بٹھا کر نمٹا دیا گیا. امریکی کانگریس میں مارک زوكربرگ کو بلا کر سوال تو پوچھا یہ اور بات ہے کہ زیادہ تر سوال بچكانے تھے. وہاں لوگ لکھ رہے تھے کہ ممبران پارلیمنٹ نے مارک زوكربرگ سے دودھ-بھات والے سوالات پوچھے. اس سے ہم نے سیکھا کہ امریکہ میں نظام تو ہے مگر کوئی اپنے گلوبل کارپوریشن کو نقصان پہنچانے والا سوال نہیں کرنا چاہتا تھا. تو اس نظام کی بھی ایک حد کے بعد کچھ خاص مطلب نہیں رہ جاتا ہے. گارڈین میں جان گریس کی رپورٹ پڑھ سکتے ہیں کہ کس طرح ممبران پارلیمنٹ نے سوال پوچھنے کے نام پر خانہ پوری ہے.

يوروپيين کمیشن کے ریگولیشن کی بہت بحث ہو رہی ہے. EU اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ سوشل میڈیا سے نفرت پھیلانے والی باتوں کو کس طرح ختم کیا جائے. سخت قانون تو ایک طریقہ ہے، لیکن کیا کوئی دوسرا طریقہ بھی ہو سکتا ہے. EU کے یوزرس اور انصاف کے معاملوں کی کمشنر Věra Jourová نے کہا ہے کہ وہ فیس بک کے چیف آپریٹنگ آفیسر سے بھی پوچھ گچھ کرنے والی ہیں کیونکہ گزشتہ ہفتے کمپنی نے ماضی کی غلطیوں اور مستقبل کے منصوبوں کو لے کر کچھ سوالات کے جواب دیے تھے.  ہیٹ اسپیچ یعنی اشتعال انگیز اور نفرت پھیلانے والی چیزوں کے لئے ضابطہ اخلاق بنانے کی ضرورت ہے. ” مارک زوكربرگ نے امریکی سنیٹ میں کہا ہے کہ فیس بک 2018 کے آخر تک 20،000 لوگوں کی ٹیم بنائے گا جو ایسے مواد کا جائزہ لیں گے.

میانمار اور سری لنکا میں نفرت پھیلانے والے پیغامات کو لے کر فیس بک پر کافی سوال اٹھ رہے ہیں. مارک زوكربرگ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ميانمار میں جو ہو رہا ہے وہ افسوسناک ہے. ہم برمی زبان کے ماہرین کو نوکری پر رکھیں گے تاکہ ایسے مواد پر نظر رکھی جا سکے. جرمنی میں تو قانون بن گیا ہے کہ اگر آپ ہیٹ اسپیچ نہیں هٹائیں گے تو کمپنی کو لاکھوں ڈالر کا فائن دینا ہوگا. مگر EU اس کے حق میں نہیں ہے. اس کمشنر Jourová کا کہنا ہے کہ اشتعال انگیز باتوں کو ہٹانے اور سینسرشپ میں بہت کم فرق ہے، لہذا جرمن قانون کو لے کر وہ بہت حوصلہ افزا نہیں ہیں. انہوں نے کہا کہ فیس بک پر نفرت بھری باتیں بھر گئی ہیں، اس کی وجہ انہوں نے اپنا فیس بک اکاؤنٹ بند کر دیا ہے.

بھارت کے آئی ٹی کے وزیر روی شنکر پرساد تو ‘گبر سنگھ میں آ رہا ہوں’ ٹائپ کا بیان دے کر فارغ ہو گئے. فیس بک نے ایک خط بھیج دیا اور خوش ہو گئے سب. کیا ہندوستان کو بھی زوكربرگ کو بلا کر سوال نہیں کرنا چاہئے تھا. اس سے لوگوں میں بھی سمجھ بنتی اور ہیٹ اسپیچ کو لے کر بحث ہوتی. دقت یہ ہے کہ اقتدار کو معلوم ہے کہ ہیٹ اسپیچ پھیلانے والے کون ہیں. ذریعے کے طور پر فیس بک کا بھلے استعمال ہو رہا ہو مگر یہ نہیں بھی ہوتا تو ہاتھ میں تلوار، جنگی کلہاڑی لے کر دوسرے فرقے کو دھمکانے اور نعرے لگانے سے کون روک سکتا ہے. وہ تو آج بھی فیس بک کے باہر جاری ہے.

انڈین ایکسپریس کے پرنب مُکُل کی رپورٹ آپ پڑھیں لیجیے گا. بھارت میں پیسے چکانے والے کئی ایپ ہیں. PAYTM، TEZ، UPI PIN، PHONEPE، AMAZON PAY جیسے کئی ایپ ہیں جن کی شرائط کو آپ پڑھے اور سمجھے بغیر مان لیتے ہیں. یہ لوگ آپ کا ڈیٹا جیسے بینک اکاؤنٹ، کریڈٹ کارڈ، بیلنس، لین دین کا ریکارڈ، ذاتی ڈیٹا، لوکیشن سمیت پاس ورڈ تک تیسری پارٹی کے پاس پہنچا دیتے ہیں. امریکی ممبر پارلیمنٹ نے پوچھا کہ کیا عام لوگ آپ  کی شرائط کو سمجھ پاتے ہیں تب فیس بک کے زوكربرگ  نے کہا کہ عام لوگ نہیں سمجھ پاتے ہیں. اس کا یہی طریقہ ہے کہ کسی بھی ایپ کو پرسنل ڈیٹا جمع کرنے یا کسی کے ساتھ اشتراک کرنے کی اجازت ہی نہ ہو. بات ختم.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close