گلوبل بزنس کی تاریخ ہے سومناتھ کا مندر

رويش کمار

1026 میں سومناتھ مندر پر محمود غزنی حملہ کرتا ہے. اس واقعہ کو لے کر آج تک نئی نئی تشریحات ہوتی رہی ہیں اور اس پر خیالات کی تہیں چڑھائی جاتی رہتی ہیں. اس وقت بھی اور اس کے بعد کی صدیوں میں سومناتھ مندر کو لے کر مختلف تحریروں کو نصوص میں درج کیا جاتا ہے. فارسی، عربی، سنسکرت، جین، راجپوت دربارو کی ویر-گاتھاییں، برطانوی حکمران اور مؤرخ، تحریک آزادی کے دور کے قوم پرست رہنما. یہ سب سومناتھ کو لے کر یادیں گڑھ رہے تھے. مؤرخ روملا تھاپر نے ان مختلف نصوص، دستاویزات اور تاریخ لکھنے میں سومناتھ مندر کی موجودگی کو کس طرح درج کیا گیا ہے، اس کا مطالعہ کیا ہے. وہ پہلے ہی صاف کر دیتی ہیں کہ یہ صورت حال کیوں پیدا ہوئی، کس مقصد سے ہوئی، اس کی پڑتال نہیں کر رہی ہیں بلکہ اس کے بعد وہ کس طرح یادوں اور تاریخ دانی میں درج ہوتی ہے، اسے سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں.

سومناتھ مندر کو لے کر جو خیالات بنتے ہیں یا بنائے جاتی ہیں یا جو دعوے کئے جاتے ہیں، انہی سب کو ہم نیریٹو یا اس سے بھی سادہ بحث کہتے ہیں. روملا تھاپر کہتی ہیں کہ میں یہ دیکھنا چاہتی ہوں کہ یہ واقعہ کس طرح یادوں میں داخل ہوتا ہے، وہاں اس کی صورت حال کب کب اور کس کس طرح بدلتی ہے اور یہ سفر مورخوں کے ذریعہ کس طرح طے کرتی ہے. کیوں لوگوں کی یادوں کا سومناتھ، تاریخ میں درج سومناتھ سے مختلف ہے. اسے سمجھنے کی ضرورت ہے. آپ دیکھ ہی رہے ہیں، آپ کے وقت میں بھی تاریخ کو لے کر یہی ہوتا رہا ہے. ہم نے ماضی میں ہی خیالات کو تاریخ کی طرح نہیں گڑھا ہے بلکہ اب تو ہم ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر تاریخ کی نئے نئے خیالوں کو گڑھ رہے ہیں. رانی پدماوتي کے بارے میں کہہ رہا ہوں. روملا تھاپر کی یہ کتاب 2004 میں آئی تھی. SOMNATH- The Many Voices of a History، پینگون انڈیا سے شائع یہ کتاب تب 375 روپے کی تھی.

اگر مندر کئی بار ٹوٹا اور بنا تو توڑنے والے کون تھے اور متاثر ہونے والے کون تھے. دونوں کے درمیان کیا تعلقات تھے اور کیا انہدام یا تعمیر نو کے بعد دونوں کے روابط تبدیل ہوتے ہیں؟ کیا صرف اس میں دو ہی گروہ تھے جسے ہم عام طور پر مسلم اور ہندو سمجھتے ہیں یا دو سے زیادہ گروہ تھے؟ ترک-فارسی دستاویزات میں جو اس وقت کی غزني سیاست کو درج کر رہے تھے اس واقعہ کو اس وقت اور اس کے بعد کے وقت میں مختلف طریقے سے اہمیت دی گئی ہے. شروع میں سومناتھ مندر میں کوئی بت تھا اس پر زور نہیں ہے، کتنا پیسہ تھا، اس پر زور ہے. بعد میں اس واقعہ کو ہندوستان میں اسلامی حکومت کی بنیاد ڈالنے کے طور پر درج کیا جاتا ہے. وہ دور مغرب اور وسطی ایشیا میں بدامنی کا تھا، بغداد میں خلفا کو چیلنج دیا جا رہا تھا، اسلامی دنیا میں بہت کچھ ہو رہا تھا. ترک وہاں سے نکل کر اپنی توسیع کر رہے تھے.

واقعہ کے 400 سال بعد کے ثقافتی دستاویزات میں اس بات کا ذکر ہے کہ سومناتھ مندر صرف مندر نہیں تھا، اس وقت اپنے علاقے کا سیاسی ایڈمنسٹریٹر تھا جو فارسی تاجروں کو کاروبار کرنے کا پرمٹ بھی جاری کرتا تھا. فارسی تاجروں سے تعلقات بہت مدھر تھے. 1951 میں وہاں کھدائی ہوتی ہے جس پر کئی بار روک لگتی ہے. ٹوٹنے کے بعد جو تعمیر ہوئی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ مندر کئی بار نہیں بلکہ تین بار ٹوٹا یا توڑا گیا. جبکہ خیالات میں مندر کا انہدام کئی بار ہوتا ہے. کھدائی سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ نصوص میں جس طرح سے مندر کو بھاری بھرکم طور پر دکھایا کیا گیا ہے، حقیقی طور پر اس سے کافی مختلف ہے. جین تاجروں اور درباری مصنفین کے دستاویزات میں بھی مندر کو لے کر مختلف باتیں ملتی ہیں. 19 ویں صدی کے شروع میں محمود غزنی کو لے کر جو زبانی کہانیاں ہیں ان کو جمع کیا جاتا ہے، ان قصوں سے الگ ہی تاریخ کا پتہ چلتا ہے. آپ کو یہی سمجھنا ہے ہر قصہ تاریخ نہیں ہوتا مگر وہ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے. تاریخ وہیں تک ہے جہاں تک ثبوت ہیں. باقی قصوں کی تاریخ ہے مگر ایک وہ ایک حقیقی تاریخ نہیں ہے. کیونکہ بہت سے قصوں میں پیر، فقیر، سادھو اور گرو محمود کی تعریف بھی کرتے ہیں. روملا تھاپر ان مختلف قصوں کو آمنے سامنے رکھ  کر سومناتھ مندر کے انہدام اور تعمیر نو کی تاریخ کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں. کیا اس واقعہ کو بھارت کے مختلف کمیونٹیز نے الگ الگ نگاہوں سے دیکھا، کیا حملہ صرف مذہبی دشمنی کی وجہ سے ہوا، کیا سیاسی وجوہات سے اس ایونٹ کو بڑھا چڑھا کر درج کیا جاتا رہا ہے؟

ان سب سوالوں کی پڑتال کرتے ہوئے روملا تھاپر انتہائی سرل اور ترل انگریزی میں آپ کے لئے یہ کتاب لکھتی ہیں. گزشتہ سو سالوں میں سومناتھ اور محمود غزنوی کو لے کر کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں. روملا حیرانی ظاہر کرتی ہیں کہ اتنے سارے مضامین لکھنے کے بعد بھی سنسکرت نصوص میں سومناتھ کا واقعہ کس طرح درج ہے، اس پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے.

19 ویں صدی میں برٹش ہاؤس آف كامنس میں سومناتھ مندر کو لے کر خوب بحث ہوتی ہے، یہیں سے وہ نیرٹو مضبوط ہوکر نکلتا ہے کہ محمود غزنی کے ہاتھوں ہندوؤں نے کافی تشدد جھیلا ہے. یہ نقطہ تاریخ کے باقی حقائق پر حاوی ہو جاتا ہے. روملا تھاپر لکھتی ہیں کہ زیادہ تر لکھنے میں مسلم دستاویزات کو ہی اہمیت دی جاتی ہے. گجرات میں چالكيہ راج کے مؤرخ اے کے مجومدار کہتے ہیں کہ ہندو دستاویزات میں مندر کے انہدام کے واقعہ کو اہمیت ہی نہیں دیی گیی ہے. جو بھی لکھا گیا ہے وہ مسلم دستاویزات کی بنیاد پر. بیسویں صدی میں آزادی کے بعد اور خاص کر بابری مسجد شہادت کے آس پاس سے سومناتھ مندر کو لے کر دوبارہ انہدام کے نیریٹو کا غلبہ ہو جاتا ہے. 1951 میں سومناتھ مندر کی تعمیر نو ہوتی ہے. اس کے پیچھے کے ایم منشی کی بہت بڑی کوشش تھی. ان کی سومناتھ پر کتاب بھی ہے.

سومناتھ بھی تروینی کے سنگم پر ہے. اس جگہ کو پربھاس (prabhasa) بھی کہتے ہیں. یہاں پر چندر گپت موریہ کے ایرانی گورنر نے آب پاشی کے لئے ڈیم تعمیر کیا تھا، جو بھارت میں آب پاشی کے لئے ڈیم بنانے کے ابتدائی مثالوں میں سے ایک ہے. اس ایرانی گورنر کے ایران سے بھی اچھے تعلقات تھے. اشوک کے شلالیکھ بھی یہاں گرنار میں ملتے ہیں. ساتویں صدی میں هینک سانگ كٹھيواڑ کے دورے کے دوران لکھتا ہے کہ یہاں بدھ خانقاہوں کی تعداد کم ہونے لگی ہے، شیو اور ویشنوں کی تعداد بڑھنے لگی ہے. هین سانگ پربھاس میں کسی مندر کا ذکر نہیں کرتا. 19 ویں صدی کے اوائل میں تاریخی مقامات کا سروے کرتے ہوئے w.postan نے لکھا تھا کہ سومناتھ کا مندر بدھ مت فریم ورک پر بنا تھا. جس کی کبھی پڑتا نہیں ہوئی ہے۔ روملا تھاپر کہتی ہیں کہ اس کی پڑتال کی جا سکتی تھی. آٹھویں صدی میں سوراشٹر کے ولابھي میں اربوں کا حملہ ہوتا ہے، وہاں کے حکمران اس حملے کا مقابلہ کرتے ہیں اور روک دیتے ہیں. بعد میں عرب حملا آور تاجر کے طور پر بسنے لگتے ہیں اور فتح کی خواہش کو قربان کر دیتے ہیں. گجرات کے جنوب میں راشٹريكت کے گرانٹ یعنی امداد سے پتہ چلتا ہے کہ بدھ مت، جین متاولنبيوں کے ساتھ ساتھ عربوں کو بھی گرانٹ ملتا ہے.

وی کے جین نے اپنی کتاب Trade and Traders in Western India میں لکھا ہے کہ یہ عرب مقامی ثقافت میں رچ-بس گئے اور مقامی لوگوں سے ازدواجی تعلقات بھی بنایے. ان میں عمان، بصرہ، بغداد اور یمن سے تجارتی لنک بنا رها۔ سنسكرت دستاویزات میں اربوں کا ذکر ‘تاجک’ کے طور پر ہے، جنہیں مقامی ایڈمنسٹریٹر کے طور پر بھی درج کیا گیا ہے. یہ لوگ اس علاقے کے حکمران راشٹريكت کے گورنر بھی بنائے جاتے ہیں. ایک ذکر یہ بھی ملتا ہے کہ راشٹريكت بادشاہ نے ایک تاجک گورنر کو ممبئی کے شمال واقع آج کے سجن کا انچارج بنا دیا تھا، اس گورنر نے ایک گاؤں کو مندر بنانے کے لئے گرانٹ بھی دیا تھا.

سومناتھ مندر جہاں ہیں وہاں سمندر کی وجہ سے کئی طرح کی سرگرمیاں ہو رہی تھیں. یہ ایک بہت بڑا علاقہ تھا. سوراشٹر میں کبھی کوئی بڑا خاندان نہیں رہا. چھوٹے اور درمیانے درجے کے بادشاہ حکومت کر رہے ہیں. نویں صدی کا سیدھو سامنت (سمجھنے کے لئے چھوٹا بادشاہ بھی کہہ سکتے ہیں) سومیشور کے ایک برہمن کو زمین عطیہ کرتا ہے. گرانٹ کے طور پر یہ درج ہے. اسی میں ذکر ہے کہ پرتهار بادشاہ ناگبھٹ دوم سوراشٹر میں تیرتھ کے لئے آتا ہے، سومیشور بھی جاتا ہے. مگر ان سب میں کسی میں سومناتھ کے مندر کا ذکر نہیں ہے. بہت بعد کے دستاویزات میں ہیم چندر نے لکھا ہے کہ جونا گڑھ کے بادشاہ نے تیرتھ یاتریوں کو پربھاس جانے سے روک دیا ہے. اس نے برہمنوں کا قتل کیا ہے، مقدس مقامات کو تحلیل کر دیا ہے اور گوشت کھا لیا ہے. روملا کہتی ہیں کہ دشمنوں کے بارے میں کئی بار اس طرح کی باتیں بنا دی جاتی تھیں.

روملا تھاپر اپنی کتاب میں جو بھی کہہ رہی ہیں، اسی صفحے کے نیچے اس کا ثبوت بھی دیتی ہیں کہ کہاں سے انہیں یہ بات پتہ چلی ہے. ہم یہاں صاف کر دیں کہ روملا تھاپر کی کوئی فوج نہیں ہیں. آپ کو ان کی کتاب میں لکھی گئی باتوں کو نہ ماننا چاہیں تو بالکل ڈرنے کی ضرورت نہیں ہیں. وہ کچھ نہیں کریں گی. میں نے انہیں کا لکھا ہوا ہندی میں پیش کر رہا ہوں. روملا لکھتی ہیں کہ ایک جگہ یہ لکھا ہوا ہے کن بھگوان سوم نے نے چالكيہ بادشاہ ملا راجا سے کہا کہ وہ جونا گڑھ کے بادشاہ گرهارپ کو شکست کرے اور پربھاس کو اس کے قید سے آزاد کرے. ملاراجا نے یہی کیا اور سومیشور جاکر پوجا کی. 10 ویں سے 13 ویں صدی تک گجرات میں چالكيہ ہی بڑے حکمران تھے، جنہیں آج کا سولنکی کہا جاتا ہے. کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ملاراجا نے ہی سومناتھ مندر کی تعمیر کرائی. ملاراجا 997 میں مر گئے تھے. مندر سے ملاراجا کے سلسلے ہونے کے بہت ٹھوس ثبوت نہیں ملتے ہیں، ہو سکتا ہے انہوں نے کسی چھوٹے مندر کی تعمیر نو کرایی ہو. اگر ملاراجا نے پربھاس میں سوم کا مندر بنایا بھی ہوگا تو وہ چھوٹا ہی ہوگا کیونکہ دوسری جگہوں پر ان کے بنایے مندر چھوٹے ہی ہیں.

دسویں صدی سے سومناتھ مندر کے ہونے کے واضح ثبوت ملنے لگتے ہیں. البروني اپنے سسمروں میں ذکر کرتا ہے، شاہی اسفار میں ذکر آنے لگتا ہے. مندر کے کھدائی سے بھی یہی وقت ثابت ہوتا ہے. دسویں صدی سے پہلے سومناتھ کے شیو مندر کا ذکر نہیں ملتا. اس وقت کے جاگیرداروں، زمینداروں جیسے وگھیلا، چداسما، چوری، چاوڑا وغیرہ کے کردار مندر کے تییں بہت مثبت نہیں نظر آتی ہے. وہ مندر انتظامیہ اور تیرتھ یاتریوں کو تنگ کرتے ہیں. كٹھياواڑ کے حکمرانوں کی چالكيہ بادشاہوں سے کافی دشمنی رہتی تھی. روملا تھاپر گجرات اسٹیٹ گجیٹ کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ رنكادیوي کی شادی چالكيہ بادشاہ سے ہونی تھی مگر کسی معمولی بادشاہ سے شادی ہو جاتی ہے. چالكيہ بادشاہ جيسمها نوگھانا پر حملہ کر دیتا ہے اور رنكادیوي کو اپنے قبضے میں لے لیتا ہے. راستے میں رنكادیوي ستی ہو جاتی ہیں. H.C.RAY DYNASTIC HISTORIES OF NORTH INDIA میں لکھتے ہیں کہ ابھیرا بادشاہوں کو لوٹ مار کی وجہ سے ملیچھ کہا جاتا تھا.

1000 سے 1300 کے درمیان تجارت کی وجہ سے گجرات میں کافی خوشحالی آتی ہے. خوشحالی کا یہ دور گجرات کو گلوبل بنا دیتا ہے. یہ وہی وقت ہے جب محمود غزنوی کا حملہ ہو چکا تھا. البیروني کہتا ہے کہ اس حملے کے بعد وہاں کی معیشت تباہ ہو گئی مگر روملا تھاپر کہتی ہیں کہ ایسا نہیں ہوا. چالكيہ بادشاہوں کے علاوہ گجرات میں تاجروں نے بھی آب پاشی کے خوب وسائل بنوائے. اس کی وجہ سوكھاگرست سوراشٹر علاقے میں کاشت میں بھی کافی طرقی ہوئی. چالكيہ بادشاہ سومناتھ پاٹن پر چھوٹے چھوٹے بادشاہوں کے حملے سے پریشان رہتے تھے. وہ تیرتھ یاتریوں سے ٹیکس بھی لیتے تھے اور انہیں لوٹتے بھی تھے. سمندری سفر کے دوران لوٹ مار کے واقعے عام تھے. اس کے بعد بھی ہر طرح سے سومناتھ تجارت کا ایک بڑا مرکز تھا. 9 ویں سے 15 ویں صدی کا وقت اس علاقے کی بے پناہ خوشحالی کا وقت تھا. وہاں پر مختلف مذاہب اور جگہوں سے لوگ آکر بس رہے تھے، کاروبار کر رہے تھے اور ہر طرح کا رشتہ بنا رہے تھے.

روملا تھاپر بھی لکھتی ہیں کہ 12 ویں صدی میں محمود غؤری حملہ کرتا ہے تو ایک ہندو تاجر واسا چوری کی جائیداد ضبط نہیں کر پاتا کیونکہ اس کا غزنی میں بھی کافی بڑا کاروبار تھا. غزنی ایک علاقے کا نام ہے. 14 ویں صدی میں ایک جین تاجر جگاد نے اپنے تاجر حصہ دار کے لئے مسجد کی تعمیر کرایی تھی. یہ سب بے مطلب نہیں تھا. تجارتی وجوہات رہے ہوں گے مگر ایک دوسرے کی ثقافتوں اور عقائد کو جگہ دینے کے احساس کافی مضبوط تھے. مارکو پولو نے بھی لکھا ہے کہ سومناتھ کے لوگ تجارت پر منحصر ہیں. هرمذ سے قیمتی گھوڑے کا کاروبار خوب ہوتا تھا. بھارت کے گھوڑے بہترین نسل کے نہیں ہوتے تھے. مغربی اور وسطی ایشیا سے کاروبار بڑھنے کی وجہ سے اس وقت کے ہندوستان کو کافی فائدہ ہوا تھا. اس کی وجہ سے هرمز اور غزنی جیسے شہروں میں بھارتی تاجروں کے ایجنٹ بھی جاکر بسے. ان کی تاریخ کو تلاش کیا جائے تو کتنا دلچسپ قصہ نکلے گا. اس دور میں جین تاجر بہت خوش حال ہوئے اور خوب سارے جین مندروں کی تعمیر کروایی.

15 ویں صدی سے سومناتھ سے کاروبار کا مرکز تبدیل کرنے لگا. شمال مغرب درو سے کاروبار ہونے لگا، عرب کے تاجر براہ راست ان راستوں سے آکر کاروبار کرنے لگے. انہیں اب بچولیوں کی ضرورت نہیں تھی. کاروبار کے گھٹنے کا اثر مندروں پر نظر آنے لگا جنہیں کافی فائدہ پہنچا تھا. کہا جاتا ہے کہ انہی حملوں کی وجہ سے کاروبار گھٹ گیا. حملے ضرور ہوئے مگر حملوں کی وجہ سے کاروبار نہیں گھٹا. امیر مندروں پر حملے کبھی کبھار ہی ہوئے. فارسی دستاویزات میں بار بار بتایا جاتا ہے کہ سومناتھ کو مسجد میں تبدیل کر دیا گیا ہے لیکن روملا تھاپر کہتی ہیں کہ ان حملوں کے بعد بھی کبھی وہاں ہونے والی عبادت میں رکاوٹ نہیں آئی. وہ نہیں مانتی کہ سومناتھ کو مسجد میں تبدیل کر دیا گیا تھا. اس وقت گجرات میں بسنے والے زیادہ تر اسماعیلی مسلم تھے، جن کی اپنی مسجدیں ہوتی تھیں. سنی مسلمانوں کا اسماعیلی مسلمانوں کی کافی مخالفت کی تھی. خواجہ مسلم اسماعیلیوں کے قریب تھے۔  بوہرا مسلم ویشنوی روایت کے قریب لگتے تھے. وہ اوتار کی روایت کو مانتے ہیں اور ہندو وصييتو پر عمل کرتے تھے. دونوں سلطنتوں کا سیاست میں کافی تسلط بڑھ گیا تھا.

آپ نے دیکھا کہ شروع میں ترک حملہ آور بن کر آئے، بعد میں کاروباری ہو گئے. جلد ہی ان کا ارادہ بدل گیا اور وہ اس علاقے کی تجارتی خوشحالی کی حصہ دار بنے. خوجہ، بوہرا اور اسماعیلی، ترک مسلمانوں سے بالکل مختلف تھے. یکطرفہ تجارتی رشتہ نہیں تھا. جین تاجروں نے بھی اسی طرح خلیج کے ممالک میں اپنا دبدبہ بڑھایا. روملا تھاپر لکھتی ہیں کہ خلیج کے ممالک میں جانے والے ہندوستانیوں نے کچھ لکھا ہوا نہیں چھوڑا کہ انہوں نے وہاں کیا دیکھا، اگر ہوتا تو کتنی دلچسپ چیزیں پتہ چلتی کہ ان کے یہاں سے لوگ بھارت آکر دیکھ رہے ہیں اور بھارت کے لوگ عرب جاکر کیا دیکھ رہے ہیں. کاش، لکھا ہوتا. کتنی غلط فہمیاں دور ہو جاتیں.

مترجم: محمد اسعد فلاحی



⋆ رویش کمار

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

جی ہاں، مجھے معلوم ہے گجرات انتخابات کا نتیجہ!

مجھے گجرات انتخابات کا رزلٹ معلوم ہے لیکن میں 18 کو رزلٹ آنے کے بعد بتاؤں گا. میں چاہتا ہوں کہ پہلے دیکھ لوں کہ الیکشن کمیشن کا رزلٹ صحیح ہے کہ نہیں. میرے رزلٹ سے ملتا جلتا ہے کہ نہیں! اس وقت تک مجھ سے رذلٹ کے بارے میں نہ پوچھیں. کچھ صحافی ٹویٹر پر ڈول گئے ہیں. بیلنس کرنے یا دونوں ہی پوزیشن میں کسی ایک سائیڈ سے مستفید ہونے کے چکر میں اپنا پوسٹ تبدیل کر رہے ہیں، بیچ بیچ کا لکھ رہے ہیں.انتخابی سیاست بکواس ہو چکی ہے. صحافیوں نے مجموعی طور پر دس پانچ زاویہ ہی دکھائے، جبکہ انتخابات کے کئی زاویہ ہوتے ہیں جو صحافیوں کی نظر سے دور ہوتے ہیں. جن کی نظر میں ہوتے ہیں وہ لکھتے نہیں کیونکہ وہ بھی اس میں شامل ہوتے ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے