آج کا کالم

گلوبل بزنس کی تاریخ ہے سومناتھ کا مندر(2)

رویش کمار

البیروني نے لکھا ہے کہ سومناتھ میں مندر محمود غزنی کے حملے سے سو سال پہلے بن چکا تھا. ایک قلعے کے اندر تھا جو تین طرف سے سمندر سے گھرا تھا. سمندر کی لہریں لنگ تک پہنچتی تھیں، جس کی تاجر اور ناوک عبادت کرتے تھے. محمود نے اسے توڑا اور کافی لوٹ پاٹ کی. اس دوران سندھ اور کَچھ میں بہت سے لنگ مندر تھے مگر سومناتھ سب سے اہم تھا. البیروني محمود کا کوئی درباری نہیں تھا، اس نے لکھا ہے کہ حملے کے بعد سومناتھ کے آس پاس کی معیشت تباہ ہو گئی.

روملا تھاپر اسے قبول نہیں کرتی ہیں. کہتی ہیں کہ اس کے کوئی ثبوت نہیں ہیں بلکہ بعد کے کئی سو سال تک یہ علاقہ اہم تجارتی مرکز رہا اور خلیج کے ممالک سے تجارتی ناطہ بنا رہا. اپنی کتاب کے پہلے چیپٹر میں اسے تفصیل سے بتایا بھی ہے.

بہت سے بھارتی تھے جو محمود کی مہم کی مدد بھی کر رہے تھے. اس کے لئے سپہ سالار بن کر لڑ رہے تھے. روملا تھاپر اپنی اس بات کی حمایت میں فٹ نوٹسس میں اس کتاب کا نام بھی دیا ہے جہاں سے انہیں یہ بات پتہ چلی ہے. A K S Lambton- Continuity and change in Medieval Pesia،، aspects of administrative، economic and social history.

ہم اکثر ان رشتوں کو مذہبی اور تجارتی مفادات سے سمجھتے ہیں مگر حقیقت اتنی پیچیدہ ہے کہ بہت سے رشتوں کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے. محمود کے مقاصد کو سمجھنا ہوگا. وہ ہندوستان ہی نہیں بلکہ افغانستان اور وسطی ایشیا میں بھی اپنی طاقت کی توسیع کر رہا تھا. روملا کہتی ہیں کہ وہ بھارت میں کیوں حملے کر رہا تھا اسے سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم یہ بھی دیکھیں  کہ سرحد کے اس پار کیا ہو رہا تھا اور محمود کیا کر رہا تھا. بے شک محمود مورتیوں کو مٹا رہا تھا، یہ اس مہم کا اہم حصہ بھی تھا مگر دوسرے وجوہات بھی اتنے ہی اہم تھے.

ترک چرواہے تھے، لوٹ پاٹ ان کے لئے عام بات تھی. پہلے وہ مویشیوں کو لوٹا کرتے تھے، اب شہروں میں جمع پراپرٹی لوٹنے لگے. جیسے ہی گھڑ سواری کی تکنیک بدلتی ہے، حملہ کرنے کے رجحان میں تبدیلی واقع ہو جاتی  ہے. اس بارے میں اشوک یونیورسٹی کے پریتن ناتھ کا بہت اچھا کام ہے جو بتاتے ہیں کہ کس طرح اكالجي کی وجہ کاٹھی اور ساز کی وجہ گھڑ سواری بدل جاتی ہے. یہی بدلاو ترکوں میں بہتر فوجی مہارت لاتا ہے. وہ گھوڑے پر سوار ہو کر  بہتر طریقے سے دشمنوں پر حملہ کر سکتے تھے. یاد رہے کہ وہاں کے ماحول میں کچھ ایسا ہوا تھا جس کی وجہ سے گھوڑے کی سواری کی تکنیک بدلی تھی نہ کہ مذہبی یا فوجی توسیع کی وجہ سے یہ تبدیلی آئی تھی.

ترکوں سے پہلے بھارت اور ایران تک کے درمیان کئی نسلوں کے لوگوں کی نقل و حرکت تھی. یونانی، اكیمینڈ، سییل يوسڈ، شک، پارتھين، ہون، كشاڑ آجا رہے تھے. کشمیر کے للتادتيہ نے تخارا پر فتح حاصل کر لی تھی. تخارا ترکوں سے متعلق تھا. بعد کے کشمیری بادشاہوں نے یہیں سے اپنے لئے ترک فوجی بھرتی کئے تھے. گھڑ سواری  کی صلاحیت کی وجہ سے ان کی خاصی توجہ تھی. کشمیر کا گندھار اور توخارستان تک کا رشتہ تھا. یہاں کے لوگ بھاڑے پر کسی کی فوج کے لئے کام کرتے تھے. ان کا کوئی مذہبی مقصد نہیں تھا. ہندوستان کی تاریخ میں اس کی کئی مثالیں ملیں گی.

اسی میں ایک گروپ ابھرا جس نے اپنی بہادری کو مذہبی اہمیت دینا شروع کر دیا. ہلاک ہونے والوں کی شهاد کو یادگار بنانے کے لئے غازی کہا جانے لگا. مرنے سے پہلے یہ فری لانس فوجی کی طرح کسی کے لئے لوٹ پاٹ کرنے کے لئے تیار رہتے تھے. بہت سے غازی محمود کی فوج میں بھرتی ہوئے کیونکہ ہندوستان پر حملے سے کافی آمدنی ہونے لگی تھی. یہ غازی بھارت کے ساتھ گھوڑے کی تجارت بھی کرتے تھے. مندروں کو لوٹ کر غزنی اپنی سلطنت کی اقتصادی طاقت برقرار رکھتا تھا. روملا تھاپر کہتی ہیں کہ بہت تو نہیں، اس کی فوج میں بھارتی فوجی بھی تھے.

بھارتی سپاہیوں کو Suvendhray کہا جاتا تھا. یہ محمود کے تئیں وفادار تھے. بھارتی سپاہیوں کا اپنا کمانڈر ہوتا تھا جنہیں سپہ سالارهندواں کہا جاتا تھا. ان کا الگ بیرک ہوتا تھا جہاں وہ اپنے مذہب پر عمل کرتے تھے. ایک بار ایک ترک سپہ سالار نے بغاوت کر دی تو اس کی جگہ ہندو کو سپہ سالار بنا دیا. محمود کے تئیں وفادار ہونے کی وجہ سے اس کی تعریف ہوتی تھی. ایک بار محمود سے شکایت کی گئی کہ سيستان میں محمود کی جانب سے لڑتے ہوئے ہندو سپہ سالار نے مسلمانوں اور عیسائی کو بھی مار دیا. شاید وہ شیعہ مسلم تھے.

غزنوي سلطنت کا اپنا سکا بھی تھا. شمال مغربی ہندوستان کے لئے غزنوي نے سکا جاری کیا تھا جس پر عربی اور شاردا اسکرپٹ میں لکھا ہوتا تھا. محمود کے سکوں پر نندی بیل، شری سامنت دیو کی تصویر بنی ہوتی تھی. لاہور کے پاس ملے ایک درہم یعنی سکے پر سنسکرت میں کلمہ لکھا تھا. لوٹ پاٹ سے غزنی میں کافی خوشحالی آئی.

روملا کہتی ہیں کہ سومناتھ پر محمود غزنی کا حملہ ایک حقیقت ہے لیکن یہ دیکھا جانا چاہیے کہ اس نے حملہ کیوں کیا. کیا کسی مذہبی نفرت سے یا پھر لوٹ پاٹ کے ارادے سے کیونکہ وہ دیگر علاقوں میں بھی اسی طرح حملے کر رہا تھا اور شیعوں کو مار رہا تھا. پھر سومناتھ کی موجودگی کو مختلف صدی میں مختلف نصوص میں کیوں مختلف طریقے سے دکھائی گئی ہے، ان میں کیوں انتا فرق اور فالتوپن لگتا ہے. ہو سکتا ہے کہ حکمت عملی کے حساب سے یہ قصے  گھڑے گئے ہوں. ان قصوں کو حقیقی واقعہ کی تفصیلات نہیں کہہ سکتے ہیں.

البیروني کے وقت کے آس پاس کے محمود کو لے کر جو لکھا گیا ہے ان میں کسی میں سومناتھ حملے کا ذکر نہیں ہے. ہے بھی تو انتہائی معمولی ایونٹ کے طور پر ذکر ہے. شیو لنگ کے ہونے کو لے کر کیوں تمام رپورٹس میں فرق آتا ہے. روملا تھاپر کو دو نصوص میں اس کا کچھ ذکر ملتا ہے. محمود کے درباری شاعر فاروقي سِستاني کے مطابق سومناتھ کا نام سو-منت سے بنا ہے. اسلام کے عروج سے پہلے عرب معاشرے میں  سو- منت دیوی کے طور پر پوجي جاتی تھی. بعد میں بت پرستی کی جب منع ہو گئی تو کسی نے منت کو چھپا لیا اور كاٹھيا واڑ لے آیا جہاں بت پرستی عام بات تھی. منت کو لے کر کئی طرح کی تفصیلات ملتی ہیں. ایک تفصیل کے مطابق منت کی مورتی بھی منہدم کر دی گئی تھی. آج کی مورتی جیسی نہیں ہوتی تھی تب، قدرتی پتھروں کو ہی دیوی سمجھ کر پوجا کی جاتی تھی.

روملا متنبہ کرتی ہیں کہ تمام تفصیلات خاص مقصد سے لکھی گئی ہیں، سب کو پڑھنا چاہیے مگر کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے انہیں شبدش لینے کی چوک نہیں کرنی چاہئے. تقابلی طور پر دیکھنا چاہئے. روملا کہتی ہیں کہ کسی بھی سورس میں سومناتھ میں لنگم کی خبر نہیں ملتی ہے. مندر کی تفصیلات ملتی ہیں. کبھی انسانی شکل کی تفصیلات ملتی ہیں تو کہیں دیوی کی تو کہیں کچھ اور کی. اس کے ثبوت میں وہ اپنے چیپٹر میں بہت سی دلچسپ مثالیں رکھتی ہیں.

محمود غزنی کا سومناتھ پر حملہ بہت بڑا تھا اور کثیر مقدار میں مال لوٹ کر لے گیا. محمود مال کے ارادے سے ہی آیا تھا اور لوٹ کر سندھ کے راستے سے بھاگ نکلا. راستے میں اس کا مقابلہ منسرا کے اسماعیلی مسلمان حکمرانوں سے ہو گیا. اسماعیلی سنی مسلمان سے مختلف تھے. محمود غزنی سنی تھا. اس نے ملتان کے اسماعیلی حکمرانوں پر بھی حملہ کیا تھا. ان کی مسجد پر قبضہ کر لیا، مگر استعمال نہیں کیا. مختلف مسجدیں بنوائیں. اسماعیلی نے بھی ملتان کے مندر کو قبضے میں لے کر مسجد بنائی تھی جسے محمود نے توڑ دیا. محمود کی ستائش بھی اسی طرح ہونے لگی کہ وہ اسلام کی توسیع کر رہا ہے. ہندوؤں کی مورتیاں توڑ رہا ہے اور اسلام کے کافروں کو بھی مار رہا ہے. کافر کا مطلب ہندو نہیں بلکہ اسماعیلی اور شیعہ مسلمان جیسے بھی ہیں. محمود نے خود بھی اپنی جیت کو خلیفہ کو وقف کیا تھا. خود کو عظیم بتانے کے لئے سومناتھ کے حملے کو بڑھا چڑھا کر بتایا تھا. محمود ان حملوں کے تفصیلات سے اسلامی دنیا میں اپنی دھاک جمانا چاہتا تھا.

روملا کہتی ہیں کہ سومناتھ کا مندر تھا تو انتہائی امیر لیکن بعد کی صدیوں میں لوٹ کی تفصیلات بدلتی جاتی ہیں۔ رپورٹس میں بہت سارے تضادات نظر آنے لگتے ہیں. ایک گرنتھ سے دوسرے گرنتھ میں مورتی کی ظاہری صورت کو لے کر بھی فرق آنے لگتا ہے. فاروقي کا کہنا ہے کہ ‘منت’ انسانی شکل کی تھی، سومناتھ کی مورتی کی بھی وہی شکل تھی. ابن خلیل خانا لکھتا ہے کہ اس کے چاروں طرف 30 چھلے تھے. ہر چھلے کا مطلب تھا ایک ہزار سال. لہذا مورتی کی عمر تیس ہزار سال ہوتی ہے. منت کو عرب دنیا میں قسمت کی دیوی کے طور پر پوجا جاتا تھا. روملا کہتی ہیں کہ کیا اس وجہ سے ان رپورٹس میں طرح طرح کے خیالات دیئے جاتے ہیں.

لنگ کو لے کر بھی مختلف تفصیلات ہیں. ان کی بنیاد پر کسی نتیجے پر پہنچنا مشکل ہے. شیخ فرید امام الدین نے لکھا ہے کہ برہمنوں نے محمود غزنی سے کہا کہ تمام سونا چاندی لے لیں مگر اس مورتی کو چھوڑ دیں. ایک تفصیل ایسی بھی ملتی ہے کہ محمود نے برہمنوں سے وعدہ کیا تھا کہ بت لوٹا دے گا. کسی نے کہا ہے کہ لنگ لوہے کا بنا تھا جس کے اوپر مقناطیس تھا تاکہ لنگ ہوا میں لٹکتا رہے. اسے دیکھ کر لوگ حیران رہ جاتے تھے.

روملا تھاپر قسموں میں آئے ان تفریقات کو قاری کے سامنے رکھتی ہیں تاکہ آپ تاریخ کو مناسب طریقے سے دیکھ سکیں. وہ حملے اور لوٹ کی موجودگی سے انکار نہیں کرتیں بلکہ اس کے پیچھے کی وجوہات سے اور اس واقعہ کو کس طرح سے یاد کیا جاتا ہے، اسے دیکھتی ہیں. دسویں صدی کا واقعہ پندرہویں صدی تک آتے آتے تمام تفصیلات میں تبدیلی ہونے لگتی ہے، مندر کا سائز سے لے کر لوٹ کے کی تفصیلات بڑھنے لگتی ہیں.

چودھویں صدی سے ترک-فارسی نصوص میں محمود کی تصویر بدلنے لگتی ہے. پہلے کی نصوص میں وہ ایک لٹیرا ہے جو لوٹ پاٹ سے اپنی سلطنت چلاتا ہے. بعد کے نصوص میں اسے ہندوستان میں اسلامک اقتدار کے بانی کے طور پر یاد کیا جانے لگتا ہے. اب دیکھئے وقت کے ساتھ تاریخ کو لے کر یادیں کس طرح مختلف ہوتی ہیں لہذا یادوں کو تاریخ سمجھنے کی غلطی نہ کریں. روملا تھاپر کہتی ہیں کہ تاریخی طور پر محمود کو اسلامی اقتدار کا بانی کہنا غلط ہوگا. آٹھویں صدی میں ہی عرب نے سندھ پر قبضہ کر لیا تھا، وہ ابتدائی اسلامی حکمران تھے. مغربی بھارت میں کہیں زیادہ گہرے طور پر قائم ہو چکے تھے.

روملا تھاپر دکھا رہی ہیں کہ کس طرح ان نصوص میں محمود کے علاوہ بھی کئی سلطانوں کے سومناتھ مندر پر حملے کا ذکر آتا ہے. ہر حملے کے بعد کہا جاتا ہے کہ مسجد میں تبدیل کر دیا گیا. روملا کہتی ہیں کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ حملہ کے وقت مندر ہو جائے اور حملے کے بعد مسجد ہو جائے. ایک بار تو ہو سکتا ہے مگر کیا بار بار ہو سکتا ہے. ظاہر ہے سومناتھ ایک علامت بن چکا تھا جسے لے کر اپنی بہادری کو بڑھا چڑھا کر دکھانے کے لئے من گھڑت کہانیاں گھڑی جانے لگی تھیں. روملا کہتی ہیں کہ ترک-فارسی رپورٹوں میں سومناتھ مندر کو لے کر سنک سی دکھتی ہیں.

یہاں پر روملا تھاپر سنسکرت نصوص کے حوالے سے بتاتی ہیں کہ کس طرح چودھویں صدی کے نصوص میں سومناتھ کو زمین کا دوسرا کیلاش بتایا جاتا ہے. اسے مندر کی طرح بتایا جاتا ہے. اگر ترک-فارسی نصوص کے مطابق جس وقت وہاں مسجد بن گئی تھی تو پھر اسی وقت کے سنسکرت گرنتھ میں مندر کا ذکر کس طرح آتا ہے. روملا کہتی ہیں کہ اپنی بہادری کے بیان کے لئے سومناتھ مندر پر حملے کا ذکر آنے لگتا ہے، شوريہ گان کا حصہ بن جاتا ہے، اس سے فرق نہیں پڑتا کہ سومناتھ مندر پر واقعی اتنے حملے ہوئے بھی تھے یا نہیں. مقامی علامات بتاتی ہیں کہ سات بار حملے ہوئے مگر کسی بھی گرنتھ سے سات بار کے حملے کا ثبوت نہیں ملتا ہے.

سولہویں صدی سے ہو سکتا ہے کہ سومناتھ مندر کی اقتصادی حالت خراب ہو گئی ہو کیونکہ اس علاقے کی تجارتی اہمیت بدل چکی تھی. تجارت تباہ ہونے سے مقامی حکمرانوں میں بھی وہ صلاحیت نہیں رہی کہ وہ زمین کے دوسرے کیلاش کا رکھ رکھاو مناسب طریقے سے کر سکیں. اس کے بعد بھی سولہویں صدی تک یہ مندر چلتا رہا. اکبر نے سومناتھ مندر میں لنگ عبادت کی اجازت دی اور اس کے لئے دیسائی کے طور پر ایڈمنسٹریٹر مقرر كيا۔ اوب الفضل نے محمود غزنی کے بارے میں جو لکھا ہے اس سے آپ بھی پڑھ لیجئے. میں روملا کی کتاب سے اٹھا کر یہاں لکھ رہا ہوں.

… fanatical bigots representing India as a country of unbelievers at war with islam، incited his unsuspecting nature to the wreck of honour and the shedding of blood and the plunder of the virtuous.

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ابو الفضل محمود غزنی کی مذمت کرتا ہے بلکہ وہ محمود کو بھارت میں اسلامی حکومت کا بانی بھی نہیں کہتا ہے. شاید مغلوں کو اس کی ضرورت نہیں تھی. سترہویں صدی کے وسط میں اورنگ زیب سومناتھ مندر کو منہدم کرنے کا حکم دیتا ہے. مگر اس کے حکم پر عمل نہیں ہوا کیونکہ وہ بعد میں بھی توڑنے کا حکم جاری کرتا ہے. 1706 میں مرنے سے پہلے حکم دیتا ہے کہ مسجد میں تبدیل کر دیا جائے. کچھ تبدیلیاں تو ہوئیں کیونکہ مندر کے اوشیشوں میں گنبد اور مينارے ملے ہیں.

یہ مندر تھا یا مسجد تھی، مگر یہ صاف ہے کہ اس وقت تک بہت کم لوگ یہاں عبادت کے لئے جانے لگے. مقامی بادشاہوں میں نہ تو صلاحیت تھی اور نہ ہی ان کی خواہش رہی. اٹھارویں صدی کے آخر میں اهليہ باي هولكر نے احاطے میں ایک چھوٹے مندر کی تعمیر کرائی تھی. شاید وہ بھی بڑا مندر بنانے کے لئے مالی مدد دینے کی پوزیشن میں نہیں تھیں. روملا تھاپر کہتی ہیں کہ مراٹھا اور مغلوں کی لڑائی میں سومناتھ مندر ایک مرکزی موضوع تھا، مگر مراٹھا حکمرانوں نے بھی سومناتھ مندر کو آزاد نہیں کیا. اس وقت تک مغل بھی کمزور ہو چکے تھے اور مراٹھا حکمرانوں کے لئے ایسا کرنا آسان بھی تھا.

میں نے اس چیپٹر کی ساری باتیں ہندی میں نہیں لکھی ہیں. اس کے لئے آپ کو بھی تھوڑی محنت کرنی چاہئے. پینگوئن انڈیا سے شائع ہوئی روملا تھاپر کی کتاب Somanatha – The Many Voices of a History خرید کر پڑھ سکتے ہیں. تاریخ میں صحیح بھی ہوتا ہے اور غلط بھی ہوتا ہے۔ بس اس کا حساب نہیں ہو سکتا. ٹی وی پر چلنے والی تاریخ کی بحثوں سے بچئیے. آپ جانور بن جائیں گے. اگلے چیپٹر میں لکھوں گا کہ روملا تھاپر نے سنسکرت نصوص کے حوالے سے سومناتھ مندر کے انہدام کو کس طرح سے لکھا ہے. ان کا کہنا تھا کہ سومناتھ کی تاریخ بیانی میں سنسکرت نصوص کو نظر انداز کیا گیا ہے. سب کچھ ترک اور فارسی دستاویزات پر ہی مبنی ہے. یعنی حملا آور کے درباری یا خود کو عظیم بتانے کے لئے ابتدائی اسلامی حکمرانوں نے اسے کس طرح دیکھا ہے. سنسکرت نصوص کی نظر سے بھی دیکھتے ہیں. آپ دیکھ رہے ہیں کہ روملا سومناتھ مندر پر حملے سے آنکھ نہیں چراتي ہیں بلکہ اس حملے کو لے کر من گھڑت گئے قصوں سے آپ کو ملوانا چاہتی ہیں.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close