گوری لنکیش..!

ڈاکٹر سلیم خان

 ہوگئی دنیا ہماری اور بھی بے آسرا

 اور بھی ہم بے کسوں کا خون سستا ہوگیا

گوری لنکیش نے اپنے فیس بک  کی دیوار پرلکھا  ’’ بیشتر وقت غیرحاضر والد لیکن زندگی کے ایک بہترین  معلم ۰۰۰۰میرے اپاّ!! یوم اساتذہ مبارک‘‘۔ جری والد کے روایت کی پاسدار دلیرگوری نہیں جانتی تھی کہ وہ اپنے والد معروف شاعر و صحافی پی لنکیش  کو آخری خراج عقیدت پیش کررہی ہیں۔ گوری کو یہ تو نہیں پتہ تھا کہ اس منحوس شام ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے لیکن وہ  اس بالکل بے خبر بھی نہیں تھیں۔   انہوں نے 2008 میں بی جے پی کے رکن پارلیمان پرہلاد جوشی اور امیش دوشی کے خلاف ایک مضمون لکھا تو ان دونوں نے عدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ کردیا۔ اس مقدمہ کا فیصلہ نومبر 2016 میں آیا اور گوری کو  جرمانہ کے ساتھ 6 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔  ویسے تو انہیں اسی روز ضمانت مل گئی مگر نیوز لانڈری نامی پورٹل سے بات کرتے گوری نے کہا ’’ میں جب  اپنے خلاف ہونے والے تبصروں اور ٹویٹ کو دیکھتی ہوں تو  چوکناّ ہوجاتی ہوں۔  وہ مجھےاپنی نجی نہیں بلکہ ملک کے چوتھے اسٹیٹ(صحافت) میں  اظہار رائے کی آزادی  سے خوفزدہ کرتے ہیں‘‘۔ گوری کے اندیشے درست نکلے۔  ایک  بیباک صحافی جس نے حبیب جالب کی  مانندساری  زندگی علمِ بغاوت رکھا اور یہ کہتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئی؎

میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے

میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے

کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے

ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو

میں نہیں مانتا ، میں نہیں مانتا

زعفرانی دہشت گردوں کےڈرانے دھمکانے کے سارے حربے جب ناکام ہوگئے تو بزدلوں نے رات کی تاریکی میں چھپ کرصحافت کے اس روشن چراغ کو بجھانے آخری کوشش کرڈالی۔  گوری کے گھر میں لگے کیمروں کی تصاویر  ابھی تفتیش کے مرحلے سے نہیں گزریں۔ قاتلوں کی شناخت ہونا باقی ہےتو گرفتاری کا کیا سوال مگر  طریقۂ کار گواہی دے رہا ہے  کہ یہ کس شاکھا کے پروردہ ہیں؟ کرناٹک کے اندرساہتیہ اکادمی انعام یافتہ   پروفیسرایم ایم کالبرگی کو ان کے دروازے پر اسی طرح قتل کردیا گیا  تھاجیسا کہ  گوری  لنکیش کا ہوا۔  پروفیسرکالبرگی کا قتل 65ء7 ایم ایم کی اسی  دیسی پستول سے ہوا تھا جسے کولہاپور میں گووند پانسرے کے قتل میں استعمال کیا گیا۔ یہ دونوں سانحات تو  2015 میں ہوئے لیکن 2013 کے اندر پونہ میں نریندر دابھولکر کو قتل کرنے کے لیے بھی  اسی بندوق کو استعمال میں لایا گیا۔

ان سارے واقعات میں قاتلوں کی تعداد دو تھی اور وہ موٹر سائیکل پر آئے تھے۔  ہمارا انتظامیہ آج تک ان قاتلوں کو سزا نہیں دے سکا اسی لیے ان کے حوصلے بلند ہیں اور یہ سلسلہ جاری و ساری ہے لیکن گوری کی  قریبی سہیلی کے ایس وملا کہتی ہیں  ’’وہ اسے قتل کرسکتے ہیں لیکن اس کے نظریات کو تہہ تیغ  نہیں کرسکتے‘‘۔ ساحر نے درست کہا ہے ’خون تو خون ہے گرتا ہے تو جم جاتا ہے‘۔ خون کے نشان نہیں مٹتے۔  ناحق خونریزی کرنے والے تو مٹ جاتے ہیں لیکن ان کی پیشانی سے ظلم کا کلنک نہیں مٹتا۔ گوری لنکیش کے بہیمانہ قتل پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئےمشہور مورخ رامچندر گوہا نے یہی کہا کہ ’’جس طرح  دابھولکر، کالبرگی اور پانسرے کاقتل  کیا گیا تھا اسی انداز میں یہ قتل بھی کیا گیا۔ اس قتل کی ذمہ داری موجودہ حکومت کے تیارکردہ نفرت و عدم رواداری کا  ماحول  پرہے جوزرخرید ذرائع ابلاغ  اور بےلگام غنڈوں کی مدد سے فروغ دیا جارہا ہے۔ یہ ان تمام لوگوں کو خاموش کرنے کی کوشش ہے جو جمہوریت اور شرافت میں یقین رکھتے ہیں لیکن عدل و انصاف کی خاطر اٹھنے والی آوازوں کو دبایا نہیں جاسکتا. اس لیے کہ بقول شاعر؎

اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا 

  رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا

معروف ماہر تعلیم گنیش دیووی نے بھی اسے دابھولکر، پانسرے اور کالبرگی کے قتل سے جوڑ کرکہا کہ فسطائیت کا عفریت ہم سب کے سرپر منڈلا رہا ہے۔ وہ ایک بہادر صحافی ہی نہیں بلکہ سماجی کارکن بھی تھیں۔ وویک شانباغ کے مطابق  موجودہ نظام کے خلاف  صحافی کا قتل ’زبان بندی‘ کا واضح پیغام دیتا ہے۔ سماج میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی وہ ناقد تھیں پسماندہ طبقات کے خلاف ہونے والے مظالم کی مخالف تھیں۔ ارندھاتی ناگ کا کہنا ہے کہ وہ ایک مضبوط سیاسی اور سماجی آواز تھیں  اور ایسے ہی لوگوں کی آج ضرورت ہے جو اپنے ضمیر کی آواز بلند کرسکیں۔   اس طرح کا برتاو نظام کے مخالفین سے نہیں کیا جاتا۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کے پروفیسر چندن گوڑا  کہتے ہیں  وہ ہندوتوا  کے فروغ سے فکرمند تھیں اور اس پر سخت تنقید کرتی تھیں اس لیے انہیں دھمکیا ں دی جاتی تھیں۔ اس طرح کی دھونس اور دھمکی گوری لنکیش جیسے جانباز جیالوں کے قدم متزلزل نہیں کرسکتی اس لیے کہ ؎

لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا 

 ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا

  ملیالم شاعر سچدانند نے اسے جمہوریت کا قتل قرار دیا۔  اب ہر بہادراورمخالفت کرنے والا  فسطائیوں کا ہدف ہوسکتا ہے۔  ہمیں اس طرح کی  سفاکانہ حرکت کے خلاف کوئی مداہنت و کمزوری کا مظاہرہ  نہیں کرنا چاہیے اور اب وقت آگیا ہے کہ آزادی اور جمہوریت کے سارے علمبردار متحد ہوجائیں۔ تمل شاعر پیرومل موروگن نے کہا گوری کے قتل سے یہ ثابت ہوگیا کہ نفرت وعدم رواداری زندہ  و تابندہ ہے۔ ہمیں بیداری اور مستقل مزاجی کے ساتھ  اس حملے کا جواب دینا ہوگا۔  ذات پات کے خلاف نکلنے والے مجلہ  نویانہ کے ناشر ایس آنند نے یاد کیا کس طرح گوری لنکیش ڈی این جھا کے مقدس گائے کے خلاف لکھے گئے مضمون کو شائع کرنے کے لیے بے چین تھیں۔   یہ ایک سزاےت موت  ہے۔  گولیکوئی اور چلا رہا ہے۔ انہوں نے اس کو  (گوری) بڑی آسانی سے قتل کردیا۔  افسوس کہ گائے کو ماں بنانے کا پاکھنڈ کرنے والوں نے قوم کی ایک دلیر بیٹی کو موت کی نیند سلا دیا۔ گوری نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے یہ پیغام دیا ہے کہ ؎

وہی ہوئے ہیں سرفراز دہر میں اے دوست 

  کٹا گئے ہیں رہِ عشق میں جو اپنے سر



⋆ سلیم خان

سلیم خان
ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے