آج کا کالم

گوسوامی کے منھ سے تعریف سننا میرے لئے زیادہ بڑی ذلت

برکھا دت

اس کے لئے کیا کچھ نہیں کہا گیا تھا – میڈیا کا جھگڑا، کہاسنی، اختلاف، دو ہستیوں کے بیچ کھینچا تانی، بہت کچھ، لیکن بنیادی طور پر یہ آزادی کی لڑائی ہے، اس دھونس جمانے والے شخص کی دھمکیوں اور اس کی صحافت کی شرمناک تباہی کے دعوے کو نکارنے کی لڑائی ہے.

اس ہفتے، میں نے ایک فیس بک پوسٹ لکھا تھا جس میں میں نے کہا تھا کہ مجھے شرم آتی ہے کہ میں اسی پیشے سے وابستہ ہوں، جس سے سابق این ڈی ٹی وی ساتھی اور اب حریف چینل ٹائمز ناؤ کے بڑے ہی کامیاب ایڈیٹر ارنب گوسوامی جڑے ہوئے ہیں. کئی ہزار لوگوں نے میرے لکھے ہوئے پوسٹ کو پڑھا اور اس پر بحث بھی کی. کچھ نے حیرت کا اظہار کیا کہ آخر میری طرف سے اس طرح کا رد عمل کیوں آیا؟ میڈیا برادری کے بہت سے لوگوں نے آگے بڑھ کر سچ کو سچ کہنے کی ہمت دکھائی، وہیں کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے چپی سادھے رکھنا بہتر سمجھا. لیکن بدترین ردعمل تو ان کا تھا جنہوں نے اسے باہمی رنجش بتاتے ہوئے کسی کی ‘طرفداری’ نہیں کرنے کی بات کہی. طرفداری کرنا؟ یہ کوئی طلاق کا معاملہ نہیں ہے جہاں آپ کے دوست، دونوں میں سے کسی کی بھی طرفداری کرنے سے بچتے ہیں تاکہ کسی سے بھی رشتے خراب نہ ہوں.

یہ معاملہ تو آزاد اور ایماندار رپورٹنگ کے ہمارے بنیادی حق کا ہے، جہاں کوئی بھی ہمیں بغیر کسی بنیاد کے دہشت گردی کا حامی یا ہندوستانی فوج کا دشمن قرار نہ دے سکے. دراصل یہ ہندوستانی میڈیا تاریخ کے اس بے نظیر پل کے بارے میں ہے جب ایک بڑے صحافی نے حکومت سے کہا کہ کشمیر پر کی جانے والی کثیر جہتی اور باریکی سے کی گئی صحافت کرنے والے صحافیوں کی ‘خبر’ لی جائے.

ہاں آپ نے صحیح سنا. ‘میں کہتا ہوں، ان کی خبر لی جائے’ نیوز آور پروگرام میں اپنے معروف انداز میں گوسوامی جی نے گرجتے ہوئے یہی کہا تھا. خود کو اخلاقی طور پر بہترین سمجھنے والے گوسوامی جی نے کہا، ‘ان کا جواب طلب نہیں کئے جانے سے میرے ملک کے ساتھ سمجھوتہ ہو گا اور اگر ان میں سے کچھ لوگ میڈیا سے تعلق رکھتے ہیں تو مجھے پرواہ نہیں ہے. ان کا بھی ٹرائل کیا جائے. ‘ ان کے اس بات کے لئے صرف دو ہی الفاظ ہیں – نیتاگری اور میكارتھزم.

یہ اس لئے بھی افسوسناک ہے کیونکہ یہ تو دراصل آمر رہنماؤوں کے علامات ہیں اور میڈیا کا کام اس کو چیلنج کرنے کا ہوتا ہے. مجھے کوئی ایک مثال یاد نہیں آ رہا جہاں ایڈیٹر کی ذریعہ حکومت سے میڈیا کے چند حصوں کو بند کرنے اور اس سے وابستہ لوگوں کے ساتھ خطرناک مجرموں کی طرح برتاؤ کرنے کے لئے کہا گیا ہو. اس لئے وہ لوگ جو طرفداری سے بچ رہے ہیں، میں ان سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ – پریس کی آزادی پر لگام کسنے کے اس معاملے کا دوسرا پہلو آخر ہے کیا؟ اس بار آپ کی خاموشی کا مطلب ہے آپ بھی اس جرم میں شامل ہیں.

‘پاکستان کے شانتی دوت’ عنوان والے اس پروگرام میں گوسوامی نے نہ صرف صحافیوں پر سنسر شپ اور مجرمانہ معاملے درج کرنے کی بات کہی، بلکہ انہوں نے جھوٹ اور نفاق کا بھی مظاہرہ کیا. ان کی کہی غلط باتیں مثلا – انہوں نے ہم سب کو، جنہوں نے کشمیر کے موجودہ حالات کی رپورٹنگ کی (وہاں جا کر کی، نہ کہ ان کی طرح ممبئی اسٹوڈیو کے آرام دہ ماحول میں بیٹھ کر)، دہشت گرد برہان وانی کا حامی بتایا، بغیر یہ سمجھائے کہ اس کی بنیاد کیا ہے. اسی طرح انہوں نے ہمیں کچھ اس طرح دکھایا گویا ہم فوج کے خلاف کوئی جنگ لڑ رہے ہیں – جو جھوٹی اور کھوکھلی بات ہے.

تو بات ایسی ہے کہ کشمیر کی سڑکوں پر ہوا تشدد (محض ایک واقعہ کو چھوڑ کر) مظاہرین اور پولیس نیز پیراملیٹري فورس کے بیچ کی ٹکر  ہے، جس میں فوج شامل نہیں ہے، تو پھر اس بحث میں فوج کو درمیان میں گھسیٹنے کا کیا مطلب ہے؟ دوسری بات، سچ کو اس کے ہر پہلو کے ساتھ دکھانا ایک صحافی کا فرض ہے – جس میں ایک کہانی کے ہر پہلو کو سامنے لایا جاتا ہے، ان پہلوؤں پر بات کی جاتی ہے، نہ کہ ان پر ملمع سازی کی جاتی ہے جس کے سامنے لانے سے صورت حال خراب یا عجیب ہو جاتی ہے. یہ تو بزدلی ہوئی، رپورٹنگ نہیں.

تو ہاں، میں ان صحافیوں میں سے ایک ہوں، جنہوں نے وادی میں پنپ رہے دہشت گردی کے اس نئے مرحلے کو تفصیل سے بتایا – اسکولوں میں بازی مارنے والے پڑھے لکھے نوجوان جو اس تعداد میں بندوق اٹھا رہے ہیں، ان کی تعداد گزشتہ سال کے غیر ملکی دہشت گردوں کو پیچھے چھوڑ رہی ہے. میں نے کرفیو لگے سرینگر کے اسپتالوں سے رپورٹنگ کی جہاں پیلیٹ گن کے شکار ہوئے تقریبا 100 کشمیری نوجوان جزوی طور پر یا ہمیشہ کے لئے اندھے ہو گئے ہیں. ان میں سے کئی تو 18 سال کے بھی نہیں ہیں. میں نے کئی اراکین پارلیمنٹ کی طرح، جس میں سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم بھی شامل ہیں – یہ بھی کہا کہ اتنی تعداد میں لوگوں کی آنکھوں کی بینائی کا جانا بھارت کی اخلاقیات پر سوال کھڑے کرتا ہے. اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی تسلیم کیا کہ سکیورٹی فورسز کو بھیڑ پر قابو پانے کے لئے کچھ اور طریقے اپنانے ہوں گے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے متبادل تلاش کرنے کے لئے کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے.

صرف یہی نہیں، میں نے شہر کے آرمی بیس اسپتال سے بھی رپورٹنگ کی جہاں زخمی سی آر پی ایف اور پولیس کے جوانوں نے بتایا کہ کس طرح مسلسل بڑھ رہی مشتعل بھیڑ کے نئے نئے پینتروں کا سامنا کرنے میں انہیں دشواریاں پیش آ رہی ہیں، پھر وہ کیمپ پر سنگ باری ہو، ہتھیار چھیننا ہو، خواتین کو ڈھال کی طرح استعمال کرنا ہو، یا پھر کچھ جگہوں پر پورے کے پورے پولیس اسٹیشن اور سیب کے باغات کو آگ کے حوالے کر دینا ہو. بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ کشمیر کو کور کرنے کے دوران سب سے زیادہ حساس بیان وادی میں تعینات جوانوں کی جانب سے آئے ہیں- سابق آرمی چیف جنرل ملک نے کہا کہ اس مسئلے کو سماجی و سیاسی نظریہ سے دیکھنا ہوگا جس کا کوئی فوجی  حل نہیں ہے. وادی کے سابق کمانڈر جنرل عطا حسنین نے کہا کہ کشمیر کی چراغ پا اور ہاں … مشتعل نئی نسل سے زیادہ بات چیت کی ضرورت ہے. فوج کے موجودہ کمانڈر جنرل ستیش دوا نے مجھ سے ایک انٹرویو کے دوران کہا، ‘یہ دیکھ کر میرا دل ڈوب جاتا ہے کہ محض دو تین ماہ پہلے بنیاد پرستی میں شامل ہوئے لڑکے تصادم میں مارے جاتے ہیں. یہ ہمارے لڑکے ہیں. ‘ اور سری نگر کے بیس اسپتال میں بھرتی ایک زخمی سی آر پی ایف جوان کا بیان غور کرنے کے قابل تھا، ‘ہم انہیں شوٹ نہیں کر سکتے، آخر وہ ہمارے لوگ ہیں.’

لیکن اگر گوسوامی جی کی رات میں لگنے والی عدالت کی مانی جائے تو یہ تینوں جوان تو پاکستان کے حامی ہوں گے. یہی نہیں، یہ ‘وطن مخالف’ بھی ہوں گے – ہاں بزدلی سے لیس یہ ایک نیا ہتھیار ہے جو ہر طرح کی عصبیت، اشتعال انگیز بیان اور بنیاد پرستی پر پردہ ڈالنے کا کام کرتا ہے.

بے شک پاکستان کشمیر میں آگ لگانے کا کام کر رہا ہے، لیکن یہ تو کہانی کا صرف ایک ہی پہلو ہے. جہاں 40 سے زیادہ شہری مارے گئے ہیں، ایسے میں ہمیں خود سے بھی سوال کرنے ہوں گے کہ کہاں ہے ہمارا تصور، ہماری حساسیت، سیاسی بات چیت اور معاملے کی سنجیدگی کو سمجھنے کا ہمارا نظریہ؟ کیا برہان وانی کی موت کے بعد امنڈتی عوام کے غصے کے پیچھے سچ سامنے لانا بطور رپورٹر ہمارا فرض نہیں ہے؟ جب ایک ٹی وی اینکر، ان کے ساتھیوں کو بدنام کرنے کے لئے جھوٹی کہانیاں بننے لگتا ہے تو وہ صحافت نہیں ہے – وہ دیش بھکتی بھی نہیں ہے – یہ براہ راست عقلی بے ایمانی ہے.

اب آتے ہیں نفاق پر. گوسوامی جی نے اپنے پروگرام میں جو نہیں کہا وہ بھی توجہ دینے کے قابل ہے. ٹائمز ناؤ کے ذریعہ دیش بھکتی کے لئے طے کئے گئے اصولوں کے تحت پاکستان کے خلاف غصہ میں آگ بگولہ نہیں ہونا اگر دیش دروہ ہے تو پھر جموں و کشمیر میں بی جے پی- پی ڈی پی اتحاد اور اس سے متعلق تضاد کو پروگرام میں جگہ کیوں نہیں دی گئی؟ بی جے پی کے رام مادھو اور پی ڈی پی کے حسیب دربو کے ذریعہ تیار کئے گئے اتحاد کے قرارنامے میں تمام فریقوں کے ساتھ بات چیت کی بات کہی گئی ہے، جس میں علیحدگی پسند حریت کانفرنس بھی شامل ہے. ستم ظریفی یہ ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ریاستی حکومت نے آزادی کا مطالبہ کرنے والے علیحدگی پسندوں کو وادی میں امن کی اپیل کرنے کے لئے بلوا بھیجا. اس معاہدے میں دفعہ 370 کے جمود پر اتفاق ہے اور یہ پاکستان سے مسلسل بات چیت کے لئے التزام کی بات بھی کرتا ہے. ذاتی طور پر مجھے ان میں سے کسی پر بھی اعتراض نہیں ہے.

لیکن ہم جانتے ہیں کہ گوسوامی جی کو اس سے اعتراض ہے تو پھر وہ ان تضادات کی گہرائی میں کیوں نہیں گئے؟

اس لحاظ سے تو وزیر اعظم مودی پاکستان کے لئے ‘شانتی دوت’ سے کہیں زیادہ ہیں – یاد کیجئے کھٹمنڈو میں ان کی نواز شریف سے خفیہ بات چیت، پھر کرسمس پر پاکستانی وزیر اعظم کو سالگرہ کی مبارک باد دینے کے لئے بن بتائے پاکستان پہنچ جانا. میں تو ان کے اس اقدام کو سیاسی اثراندازی مانوں گی. لیکن کیونکہ یہاں ٹائمز ناؤ کے ایڈیٹر کے خیالات کی بات ہو رہی ہے تو پھر انہوں نے اس وقت وزیر اعظم پر تنقید کیوں نہیں کی؟ جب میں یہ لکھ رہی ہوں، اس وقت ایک زندہ پاکستانی دہشت گرد کے قبول نامے کی ویڈیو ہمارے پاس ہے، لشکر تنظیم کا حافظ سعید کھلے عام برہان وانی کو اپنا بتا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اس کے کچھ آدمیوں نے کشمیر میں احتجاج اور مظاہرے کی قیادت کی ہے، لیکن ان سب کے درمیان وزیر داخلہ سارک کانفرنس میں حصہ لینے پاکستان جا رہے ہیں کیونکہ یہ دو نہیں کثیر جہتی اجلاس ہے (اور مجھے لگتا ہے کہ انہیں جانا چاہئے)، لیکن ٹائمز ناؤ کے ‘راشٹر بھکت’ ٹیسٹ کے مطابق تو، اگر آپ کراچی میں کوئی ادبی تقریب میں حصہ لینے بھی پہنچ گئے، تو اسے بھی راشٹروادی اصولوں کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا.

تو ایسے میں کیوں نہ یہی اصول حکومت پر بھی لاگو کیا جائے؟ یا پھر آپ میں حکومت کی مذمت یا تنقید کرنے کی ہمت ہی نہیں ہے اور آپ کے لئے صاحب اقتدار سے یہ کہنا زیادہ آسان ہے کہ میڈیا کی لگام کسی جائے؟ (افسوس کی ٹائمز ناؤ پروگرام میں اسی لفظ کا استعمال کیا جا رہا تھا)، اگر حکومت ‘میڈیا کے ایک دھڑے پر لگام کس رہی ہے’ – حالاں کہ ظاہر تو ایسا ہوتا ہے کہ گوسوامی جی نے ہی وزارت اطلاعات ونشریات کو ایسا کرنے کے لئے اکسایا ہے- تو کیا یہ ٹائمز ناؤ کے ایڈیٹر کا فرض نہیں ہے کہ وہ اس کے خلاف کھڑے ہوں، نہ کہ اس کی خوشی منائیں؟ یا پھر سارا غصہ، لمبی چوڑی باتیں صرف صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کے لئے ہیں، کیونکہ کم از کم یہ کام برسر اقتدار بی جے پی سے سوال کرنے سے تو آسان ہی ہے؟

ویسے جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی کے اس بیان کا کیا، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر سکیورٹی فورسز کو برہان وانی کی موجودگی کا پتہ ہوتا تو حالات کچھ اور ہوتے؟ یا پھر پی ڈی پی رہنما کا کھلے عام برہان وانی والے تصادم کو ‘سپریم کورٹ کے قانون کی خلاف ورزی’ کہنا؟ کیا آپ میں سے کسی نے بھی گوسوامی جی کو پی ڈی پی یا اس کی اتحادی پارٹی بی جے پی کے ‘شانتی دوتوں’ سے سوال کرتے دیکھا ہے؟

کتنی دفعہ گوسوامی دوسرے چینلوں کو ملنے والے خصوصی انٹرویو کے لئے کہتے پائے گئے ہیں کہ انھیں (گوسوامی کو) یہ اس لئے نہیں ملا، کیونکہ وہ سخت سوال پوچھتے ہیں، ہم نہیں. تو پاکستان اور کشمیر معاملے پر حکومت کے لئے کہاں ہیں آپ کے ‘سخت’ سوال؟ سوال جو میرے حساب سے بے مطلب کے ہوتے ہیں، کیونکہ سفارت کاری (اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ) اتنے چھوٹے مسائل نہیں ہے کہ کسی پرائم ٹائم کی اگنی پریکشا سے ہو کر گزر سکیں، لیکن چونکہ گوسوامی جی نے ہم سب کے لئے حب الوطنی کے اصول طے کر رکھے ہیں، تو پھر یہی معیار وہ حکومت کے لئے کیوں نہیں طے کر پا رہے ہیں؟ کیا ہوا ان کے حکمراں مخالف  معروف نظریہ کا؟

گزشتہ سال نربھیا اجتماعی عصمت دری پر مبنی لیزلی اڈون کی دستاویزی فلم پر پابندی کی گوسوامی نے کھلے عام حمایت کی تھی، جسے این ڈی ٹی وی پر دکھایا جانا تھا. یہی نہیں، انہوں نے اسے قابل اعتراض قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف سخت کارروائی کئے جانے کا مطالبہ بھی کیا. پھر اسی سال ‘آزادی’ نعروں کو لے کر جے این یو میں ہوئے تنازع کے بعد – جب تمام صحافیوں نے پٹیالہ ہاؤس میں رپورٹروں پر ہوئے حملوں کو لے کر احتجاجی مظاہرہ کیا، تب بھی گوسوامی اور ان کی سینئر ادارتی ٹیم کے اراکین نے اس مظاہرہ سے دوری بنا کر رکھی. ایک بار پھر انہوں نے ان تمام صحافیوں کو دیش دروہی قرار دے دیا، جنہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا حکومت کا رد عمل ناجائز تھا؟ ان کے اس جنون کی حالیہ قسط دیکھ کر صاف ہوتا ہے کہ میڈیا کے باقی حصے پر حملہ کرنے کا ان کا پہلے سے چلا آ رہا ایک طریقہ ہے، تو اگر یہ جمہوریت کے لئے خطرہ نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟

ایک آخری بات، جب جنون کو مناسب ثابت کرنے کے لئے ان کے پاس کچھ بچتا نہیں ہے، تو وہ حافظ سعید کے اس ویڈیو کی پناہ لیتے ہیں، جس میں کشمیر میں پروپیگنڈہ پھیلانے کے لئے میرا اور کانگریس پارٹی کے نام کا استعمال کیا گیا ہے. میں تو پہلے ہی اس دہشت گرد (جس کو معافی اور آزادی دیا جانا پاکستان کے لئے شرم کی بات ہے) کے ذریعہ اپنے ایجنڈے کو ثابت کرنے کے لئے میرے نام کا استعمال کئے جانے پر ناراضگی جتا چکی ہوں، لیکن ٹویٹر پر گوسوامی جی کے ساتھی اس دہشت گرد کی بکواس کی توثیق کرتے پھر رہے ہیں. اس سے ان کی سوچ کے بارے میں کافی کچھ پتہ چلتا ہے.

ویسے ہمارے لئے تشویش کی بات یہ ہونی چاہئے کہ ہندوستانی میڈیا کا ایک بڑا نام سنسر شپ پر یقین رکھتا ہے، اظہار رائے کی آزادی پر لگام چاہتا ہے، سچائی کو توڑنا مروڑنا چاہتا ہے اور تمام صحافیوں کو جیل بھیجنا چاہتا ہے. جیسا کہ میں نے کہا اور میں اس بات پر ابھی بھی مصر ہوں – شکریہ گوسوامی جی … میری صحافت کو نیچا دکھانے کے لئے، کیونکہ آپ کے منہ سے تعریف سننا میرے لئے زیادہ بڑی ذلت ہوتی۔

(کلپنا شرما کے ہندی ترجمہ پر مبنی)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

برکھا دت

برکھا دت صحافتی میدان میں متعدد ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں اور این ڈی ٹی وی کی كنسلٹنگ ایڈیٹر ہیں۔

متعلقہ

Close