آج کا کالم

گؤ تنکواد کا پونر جنم

ڈاکٹر سلیم خان

 دہلی میں  بی جے پی کی زبردست کامیابی اور  بھوپال سے پرگیہ ٹھاکر کی کامیاب ہونے کا  جشن مدھیہ پردیش کے سیونی میں  منایا گیا۔ وہاں  پر سنگھی دہشت گردوں   نے  گئورکشکوں  کا نقاب اوڑھ کر  مسلم خاتون سمیت تین لوگوں  کی بےرحمی سے پٹائی کی جس میں  ایک ہندو بھی شامل تھا۔ تشدد کا شکار کرنے کی خاطر ان پر بھی گائے کے گوشت کی اسمگلنگ کا الزام لگایا گیا۔ مدھیہ پردیش میں  فی الحال   کمل مرجھایا ہوا  ہےمگر کمل ناتھ کا راج ہے۔ اس پر پرگیہ ٹھاکرے  نیم چڑھا کریلا بنی ہوئی ہے۔ اس لیے پہلے تو حسب سابق مظلومین کو حراست میں  لے کر جیل بھیج دیا اور ظالم بھاگ کھڑے ہوئے۔ خوش قسمتی تشدد کی ویڈیو وائرل ہوگئی جس سے مجرمین کی شناخت ممکن ہوسکی اس لیے آگے چل کرجرم  کا ارتکاب کرنے والے  شبھم بگھیل، یوگیش اوئیکے، دیپیش نامدیو، روہت یادو اور شیام دیہریا کو پولس نے گرفتار کیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کیا واقعی ان کو قرار واقعی سزا ملتی ہے یا یہ سب بھی شواہد کی عدم موجودگی کی آڑ میں   باعزت بری کردیئے جاتے ہیں۔ آئندہ اس طرح کے واقعات پر لگام لگانے کے لیے مجرمین کو سخت سزا دینا لازم ہے۔

گئوتنکواد کو عموماً گائے سے عقیدت یا غنڈہ گردی کا نام دیا جاتا ہے لیکن  جسٹس برج گوپال ہرکشن  لویا کی موت کاپردہ فاش کرنے والے  کاروان میگزین کے جرأتمند صحافی نرنجن   ٹاکلے نے دہلی کے کانسٹی ٹیوشنل کلب میں    خطاب کرتے ہوئے  گجرات کے اندر سرگرمِ عمل  گئو مافیا  کو بے نقاب کردیا۔ انہوں  نے بتایا تھا کہ اس کاروبار  کی سب سے اہم  سرمایہ کاری خوف ہے۔ اسی لیے ماب  لنچنگ ہوتی  ہے اور دھڑلے سے  اس کی  تشہیر  کی جاتی ہے۔ خوف کا ماحول  بناکر اس کے پسِ پردہ    خوب دھوم دھام سے گائے کی اسمگلنگ  ہوتی ہے اور گئو ماتا کے  نام نہاد رکشک  ہفتہ   وصول کرتے ہیں ۔  ان حقائق کو مشتہر کرنے کی خاطر نرنجن نے  تین ماہ تک رفیق قریشی کے نام سے  ٹرک  ڈرائیور کا بھیس بدل کر گئورکشکوں  سے بات چیت کی۔ حقیقت حال سے واقفیت حاصل کرنے کے بعد بلا خوف و خطر  عوام کو اس سے روشناس کردیا۔ اس سے قبل این ڈی ٹی وی کے سری نواسن جین میں  بھی مہاراشٹر میں  ایسی نقاب کشائی کی تھی۔

نرنجن  کی ویڈیو یو ٹیوب پر موجود ہے جن میں  وہ  بتا تے ہیں   کہ گائے سے لدے ایک ٹرک کو بحفاظت گزارنے کے لیے  گئورکشک ۱۵ ہزار اور بھینسوں   کے ٹرک کی خاطر ساڑھے چھے ہزار روپئے  وصول کرتے ہیں۔ اس  مہم کے دوران پالن پور میں   نرنجن کی ملاقات بجرنگ دل کے لیڈر چودھری سے ہوئی جو مویشیوں  کی کھال واپس لے کر انہیں   برآمد کرتا ہے یعنی آم کے آم گٹھلیوں  کے دام وصول کرتا ہے۔ چودھری کے مطابق امیر گڑھ چیک پوسٹ پر روزآنہ ڈیڑھ کروڈ روپئےجمع  ہوتے ہیں۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں  ہے کہ اس خطیر رقم کا  کتنا حصہ ان گئو بھکتوں  کی سرپرستی کرنے والے سیاسی رہنماوں   کی جیب میں  چلا جاتا ہوگا۔ نرنجن نے جب چودھری سے سوال کیا کہ آپ کے مذہب میں  اس کی ممانعت ہےپھر آپ یہ کیوں  کرتے ہیں ؟ تو چودھری   لکشمی کے فریم  کی جانب اشارہ کرکے بولا میں  اُس دیوتا کی پرستش کروں  یا اِس کھال کی؟  گجرات جیسے صوبے میں  جہاں  گئوکشی کے  لیے عمر قید کی سزا تجویز کی گئی ہے جن لوگوں   کے لیے  ٹاکلے کے انکشافات پر یقین کرناقابلِ یقین نہ ہو ان کا مسئلہ  بڑودہ  پولس نے حل کردیا۔

 بڑودہ وہ شہر ہے جہاں  سے  ۲۰۱۴ ؁ میں  وزیراعظم نریندر مودی نے انتخاب لڑا تھا اور زبردست کا میابی حاصل کی تھی۔ اس سے گمان ہوتا ہے  کہ یہ کاروبار زعفرانی چھتر چھایا میں  ہوتا ہوگا۔ بڑودہ پولس کو مویشیوں  کی فلاح و بہبود کے بورڈ میں  کام کرنے والے افسر   جتن دیسائی نے اطلاع دی کہ گائے اور بچھڑوں  سے بھرا ہوا ٹرک گولڈن چوراہے سے گذر رہا ہے۔ اس گاڑی میں  ۱۲ مویشیوں  کو ٹھونسا گیا تھا اور ان کے چارہ پانی کا بندو بست بھی نہیں  تھا۔ پولس نے جب اس کو پکڑ کر تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ یہ مویشی مذبح خانے میں  بھیجے جارہے ہیں ۔ ان مویشیوں  کے اجازت نامہ پر گئورکشا تنظیم کے قومی صدر بابو دیسائی کے دستخط تھے۔ بابو بھائی نے  اجازت نامہ پر لکھا تھا کہ ان مویشیوں  کو شری ناتھ جی گئوشالہ پانجرا پول مہاراشٹر میں  بھجوایا جارہا ہے۔ اس نےکرشنا نگر  پولس تھانے اور آر ٹی او کو  اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے لکھا کہ وہ ۷ گائیں  ہدیہ کررہا ہے۔ بابوکرسن بھائی  دیسائی  مبینہ طور پرمختلف میونسپلٹی سے بے سہارا  گایوں  کو جمع کرتا ہے۔ ان کے چارے کے لیے اور ٹرانسپورٹ کا خرچ بھی وصول لتا ہے  اور انہیں  مذبح خانے کو بیچ دیتا ہے۔ اس مقدس کام کے لیے وہ گئو بھکتوں  سے بھی چندہ جمع کرتا ہے۔

بڑودہ پولس نے  اس معاملہ میں  ٹرک کے  ڈرائیور ابراہیم  سندھی  اور کلینر نارائن ہرجی کو گرفتار کیا۔ اتفاق سے یہ دونوں  وزیراعظم مودی کے آبائی ضلع ویس نگر کے باشندے  ہیں۔ تفتیش  کے بعد معلوم ہوا کہ ان مویشیوں  کو بھڑوچ ضلع میں  واقع  مذبح خانے لے جایا جارہا تھا جو اتفاق سے کانگریسی رہنما احمد پٹیل کا آبائی وطن ہے۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں  ہے کہ گجرات کے اندر گئورکشا کے نام پر ایک طرف تو سیاست کی جاتی ہے دوسری جانب لوگ اپنی تجوری بھرتے ہیں۔ اونا میں   مردہ گائے کی کھال نکالنے والوں  کی کھال ادھیڑ دی دی جاتی ہے اور کہیں  زندہ گایوں  کو دھرم کی آڑ میں  ذبح کرنے کی  سہولت فراہم کی  جاتی  ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ با بو دیسائی نے گجرات کے فساد میں  ملوث بابو بجرنگی کی یاد تازہ کردی جس نے بڑے فخر سے اپنی سفاکی کے کارنامے رعنا ایوب کو سنائے  تھے۔ بابو بجرنگی کو تو اپنے دشمنوں  کی خواتین اور بچوں   کے قتل پر ناز تھا لیکن بابو دیسائی گئو بھکت کا چولا پہن کر  اپنی ماتا کی جان کے درپہ ہوگیا اور اوپر سے اس کی اجرت بھی وصول کی۔ یہ ہے زعفرانیوں  کا چال چرتر اور چہرا۔

بابو بجرنگی کو بے نقاب کرنے کا عظیم کارنامہ  معروف صحافیہ رعنا ایوب نے انجام دیا  تھا۔ انہیں  بھی   اپنی شناخت  کو چھپا کرمیتھلی تیاگی بننا پڑا تھا۔ یعنی جہاں  ٹاکلے نے مسلمان کا بھیس بدلا وہیں  رعنا کو مسلمان کا روپ دھارنا پڑا۔ ان دونوں  نے اپنی جان کو جوکھم میں  ڈال کر صحافت اور خبر رسانی کا حق ادا کیا۔ اس کام کو کرنے  کے لیےرعنا نے ایک فرانسیسی طالب علم کی مدد حاصل کی  اور اپنے آپ کو امریکہ کے  فلمی ادارے کی  آزاد فلم ساز کے طور پر پیش کیا۔ رعنا ایوب نے اس مہم پر ۸ ماہ کا طویل عرصہ صرف کیا اور نہ صرف بابو بجرنگی جیسے لوگوں  کی اصل حقیقت اپنے کیمرے میں  قید کرلی بلکہ انہیں  کی ایک خبر نے   موجودہ بی جے پی صدرامت شاہ کو گرفتار کرایا تھا۔ زمانہ بدل گیا  اب توگجرات کے سابق وزیر داخلہ  کو مستقبل کے وزیرداخلہ بنانے کی تیاری چل رہی  ہے۔ بابو  بجرنگی عمر قید  کے باوجود ضمانت پر ہے اب دیکھنا ہے کہ گئوماتا کا سوداگر  بابو دیسائی کس انجام کو پہنچتا ہے؟  ان کا جو بھی انجام ہو لیکن رعنا ایوب اور نرنجن ٹاکلے نے جان ہتھیلی پر لے   ان درندوں  کو بے نقاب  کیا اور اس  کے لیے وہ  مبارکباد کے مستحق ہیں۔    ا یک ایسے دورِ فتن میں  جب بڑے بڑے  صحافی حضرات  سیاستدانوں  کے آگے دم ہلانے کو اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتے ہیں  ان دلیر صحافیوں  پر علامہ   اقبال  کا یہ شعر صادق آتا ہے؎

آئین جواں  مرداں  حق گوئی و بیباکی

 اللہ کے شیروں  کو آتی نہیں  روباہی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close