آج کا کالم

ہجری کیلنڈر: ایک اہم درس

ابراہیم جمال بٹ

 نئے ہجری سال کی کرنیں نمودار ہوئیں ۔ سالِ ماضی جس میں ہم نے بہت سے اُتار چڑھائو دیکھے۔ کہیں پر امن دیکھا تو کہیں بارود کی بو محسوس کی، کہیں خوشیاں دیکھیں تو کہیں غم کے بادل ہی بادل نظر آئے۔ غرض سالِ ماضی بھی بدستور اپنی فطرت پر قائم رہ کر ہر چیز کو سامنے رکھئے ہوئے انسان کو ماضی سے مستقبل کی طرف دھکیل کر آخر کار رخصت ہوا مگر اپنے پیچھے ایک تاریخ رقم کر کے انسان کے لیے نصیحت وعبرت کے نشان چھوڑ گیا۔

 عالمی حالات پر ایک سرسری جائزہ لیا جائے تو یہی کچھ معلوم ہوتا ہے کہ سالِ ماضی بنی نوع انسان کے لیے ایک پیغام چھوڑ گیا،اور وہ پیغام کسی خاص ذات کے لیے نہیں بلکہ عام انسانیت کے نام ہے۔ پیغامات جب بھی بھیجے جاتے ہیں تو ایک عام انسان کے ساتھ ساتھ خاص لوگ بھی اسے دلچسپی کے ساتھ پڑھتے اور سنتے ہیں ، بلکہ جس قدر پیغام دینے والا اہم ہو اس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس پر سوچ سمجھ کرکسی حد تک غور بھی کیا جاتا ہے۔ انسانیت کے نام سالِ ماضی کا پیغام شاید اس سے زیادہ کچھ نہ تھا کہ ’’آئے تھے ہم اِک خوشی کا سامان لے کر اور گئے تو دیکھا غم کی بارش میں ہیں ڈوبے ہوئے‘‘ چنانچہ سال ماضی ایک عبرت بھرا پیغام ہے انسانیت کے نام… انسان جس نے اپنی فطرت کے خلاف بدستور جنگ چھیڑرکھی ہے… اس کی طرف سے مسلسل اپنی اس غیر فطری جنگ میں شدت ہی لائی جا رہی ہے… پوری دنیا جسے خالق کائنات نے امن کا گہوارہ بنا دیا تھا، جس کی فطرت عدل وقسط پر مبنی تھی، اس دنیا میں جب انسان کو بھیجا گیا تو اس کے بارے میں کہا گیا ’’ کہ انسان کی پیدائش فطرت پر ہوئی ہے‘‘… فطرت امن ہے نہ کہ بد امنی… جب بھی دنیا میں بدامنی یا فساد کا بازار گرم ہوا تو وہ انسان ہی کے ہاتھوں کی کمائی تھی… ’’ظہر الفساد فی البر والبھر بما کسبت ایدی الناس‘‘۔

 ’’عقل کا فلسفہ، پیغام اور درس ہے کہ خوش رہو، آباد رہو …’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘ عیش وعشرت اور نازونعم سے زندگی گزارو۔ بس یہی دنیا ہے ،موت کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے۔ ‘‘ بس یہی وہ چیز ہے جس نے انسان کو عیش کوش بنا ڈالا جس سے اس کی پوری زندگی میں فساد رونما ہوا کیوں کہ اس کی فطرت میں عیش کوشی نہیں تھی بلکہ اس میں عشق کا پیغام تھا کہ شعور کی بیداری کے ساتھ آئو ، خالق کائنات کی بندگی کا راستہ اور طریقہ اختیار کرو اور تمام ان چیزوں سے نہ صرف پرہیز بلکہ مقابلہ بھی کرو جو فطرت کے خلاف ہوں ۔آزادی جس کے ساتھ تمہیں پیدا کیا گیا ہے ،آزاد رہ کر زندگی گزارو۔ اصل خوشی اور آزادی یہی ہے کہ تم فطرت پر قائم رہو۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:

  ’’انسان فطرت میں آزاد تھا لیکن اب نسل در نسل غلام… غلامی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے… انسان کو جس آزادی سے پیدا کیا گیا تھا اس کا تصور بھی اس کے لیے حرام۔ پیٹ کے بندے اور پیٹ کے غلام۔ ان کو چاہیے صرف اور صرف روٹی کپڑا اور مکان۔ بہر حال یہ آرزو ہے خام… بلند اور ارفع فطری آزادی کا پیغام… زندگی کا مقدس مقام، فطری آزادی کی زندگی کا ایک لمحہ اور غلامی کی زندگی کا دوام۔ غلام انسان کو اس کی ہے بہت کم پہچان…جس کی وجہ سے پوری دنیا میں ہو رہا ہے بدامنی میں ہمارا بڑا مقام۔‘‘

 بہر حال سالِ ماضی نے درس عبرت دے کر پھر سے ایک یاد تازہ کرا دی کہ ’’اے انسان! تو ہو جا بیدار! اپنی فطرت کا خیال کر! اور فطرت پے قائم ہو کر دنیا میں حاصل کر وہ مقام جس کی بابت تجھے پیدا کیا خالق کائنات نے۔ شر وفساد کے پھیلائو کو روکنے، ظلم واستحصال کے خلاف اُٹھنے، بدیوں کے مقابلے میں اچھائیوں کو پھیلانے کا کام ہاتھ میں لے کر اُٹھ اور اپنی فطرت کاوہ تاریخ ساز نمونہ دکھا جس سے پوری بنی نوع انسان باخبر ہو جائے کہ اصل فطرت اور اصل آزادی کا تصور کیا ہے۔‘‘

 ہر نیا سال انسان کے لیے ایک نیا میقات لے کر آتا ہے اس سال کا میقات سالِ ماضی کو دیکھ کر عبرت و نصیحت حاصل کرنی ہے…کیا کھویا اور کیا پایا… ؟اس پر غور کرنا ہے… کہاں جکے، کہاں بکے…؟ کہاں مرے ، کہا جئے… ؟ کیا کیا اور کیا کرنا تھا…؟ ان سب باتوں پر غور کرنا ہو گا، سوچ سمجھ کر ،صحیح راستہ اختیار کر کے اس نئے سال میں نئی شروعات کرنی ہے،یہی سالِ نو کا پیغام ہے اور یہی انسانی فلاح وکامیابی کا زینہ ہے۔

 اگر اس نئے میقات میں انسان نے وہی کچھ کیا جو سال ماضی میں کرتے رہے،تو نہ جانے آگے جاکر ہمارا کیا حال ہو گا…؟ خالق کائنات نے اس بارے میں صاف کر دیا ہے کہ انسان نے اگر ظلم کی روش پر اپنی زندگی گزاری تو عنقریب وہ وقت آئے گا جب :

 ’’اور ذرا اُس وقت کا خیال کرو جب اللہ کے یہ دشمن (ظلم کرنے والے) دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے، اُن کے اگلوں کو پچھلوں کے آنے تک روک رکھا جائے گا۔ پھر جب سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں ۔وہ اپنے جسم کی کھالوں سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟وہ جواب دیں گی :ہمیں اُسی خدا نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کر دیا ہے، اُسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور اب اُسی کی طرف تم واپس لائے جا رہے ہو۔ تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھپتے تھے تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی بلکہ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو بھی خبر نہیں ہے۔ تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا تھا، تمہیں لے ڈوبا اور اسی کی بدولت تم خسارے میں پڑ گئے۔ اس حالت میں وہ صبر کریں (یا نہ کریں ) آگ ہی ان کا ٹھکانا ہو گی، اور اگر رجوع کا موقع چاہیں گے تو کوئی موقع انہیں نہ دیا جائے گا۔ ہم نے ان پر ایسے ساتھی مسلط کر دیے تھے جو انہیں آگے اور پیچھے ہر چیز خوشنما بنا کر دکھاتے تھے، آخر کار اُن پر بھی وہی فیصلہ عذاب چسپاں ہو کر رہا جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنوں اور انسانوں کے گروہوں پر چسپاں ہو چکا تھا، یقیناً وہ خسارے میں رہ جانے والے تھے۔‘‘(حٰمٓ السجدہ)

 بنی نوع انسان کو سال نو کی آمد مبارک ہو مگر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ سالِ ماضی ہمارے لیے کیا چھوڑ کر رخصت ہو گیا ہے…؟ ’’ بنی نوع انسان کو پیام اور پیغام دیا جاچکا ہے اور آج کے دور اور ابتدائے آفرینش سے جب انسان اس اِلٰہی اور ابدی ہدایت کے راستے سے منحرف ہوا ہے وہ اپنے لئے بھی اور پوری انسانیت کے لئے بھی تباہی اور بربادی کا سبب بنا ہے۔… انسان کا اصل کام اور مقام یہ ہے کہ وہ آنکھیں کھول کر حق کو دیکھے، یہی اُس کی بندگی کا تقاضا اور مطالبہ ہے۔ اپنے آپ کو پہچاننا اور کسی چیز کو اس پہچان میں حائل نہ ہونے دینا، اصل زندگی ہے۔ جب آج کا بندہ زندگی کے حقائق کو پہچانتا اور بندگی کے فرائض انجام دیکر اس کو زینت بخشتا ہے تو خود باری تعالیٰ اس بندے پر رحمت برساتا اور اُس کو اپنی عنایات اور نوازشات سے نوازتا ہے۔

آج پھر سے ایک بار اپنے آپ کو محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے، نئے سال کی آمد کے ساتھ ہی ہمیں اس بات کی فکر دامن گیر ہونی چاہیے کہ سالِ ماضی میں ہم نے ایسے کیا کام کئے ہیں جن کی وجہ سے مجموعی طور امت کی بقاء کا سامان پیدا ہوا اور کن لاحاصل کاموں میں پڑ کر ہم امت کو نقصان پہنچانے کی وجہ بن گئے۔ امت بکھری ہوئی ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ روز بروز اس امت کا ایک ایک انگ کاٹے جا رہا ہے اور امت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں ، ان وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کے جس کونے میں بھی اس ملت سے وابستہ کوئی ایک فرد اگر رہتا ہے تو وہ انفرادی اور اجتماعی طور کس چیز کا علمبردار بنتا جا رہا ہے، اگر امت کے ساتھ اپنی والہانہ محبت رکھ کر اسی امت کی بقاء وقیام کا متمنی ہو کر اسی راہ میں جدوجہد میں مصروف عمل ہے تو صد مبارک اور اگر اپنی ہی ٹانگوں پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف کام کر رہا ہے تو احتساب کی اشد ضرورت ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close