آج کا کالم

ہریانہ: کل یگ کا کوروکشیتر

ڈاکٹر سلیم خان

مہابھارت  کی جنگ کوروکشیتر کے میدان میں ہوئی تھی  جو ہریانہ میں اپنی روایتی آن بان کے ساتھ  واقع ہے۔ ہریانہ میں فی الحال  رام راجیہ کا خواب دیکھنے والوں کی سرکار ہے۔ بی جےپی  کو اپنااقتدار قائم رکھنےکے لیے ہر سال ایک مہابھارت  برپا کرنی پڑتی ہے۔ پہلے سال رام پال بابا دوسرے سال جاٹ آندولن اور اس سال باباگرومیت رام رحیم۔ ان تینوں جنگوں میں صوبے کا وزیراعلیٰ اندھے دھرتراشٹر کی طرح میدان جنگ  کا خاموش تماشائی بنارہتا ہے اور ہاتھ جوڑ کر امن و سلامتی کی درخواست کرتا ہے جس کو عوام جوتے کی نوک پر اڑا دیتے ہیں ۔ دھرتراشٹر کی بات  نہ ست یگ میں سنی گئی تھی اور نہ کل یگ میں مانی جاتی ہے۔ دنیا بدل گئی مگر ہریانہ نہیں بدلا۔ ہمارے ملک کی وزیرخارجہ سشما سوراج اسی ریاست سے آتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ  مہابھارت کی گیتا کو قومی کتاب  کا درجہ  دیا جائے۔ وہ تو اچھا ہوا کہ کوروکشیتر کے اپدیش قومی صحیفہ نہیں بنا ورنہ سارے بھارت میں مہابھارتبپا ہوتی۔

دروپدی بھی مہابھارت کا اہم ترین کردار ہے۔ اس خاتون کو ارجن نے سوئمبر میں گھومتی  مچھلی کی آنکھ کے اندر تیر چلا کر جیتا لیکن وہ بیچاری جب اپنے سسرال پہنچی تو نابینا ساس کنتی نے اسے پانچ بھائیوں میں تقسیم کردیا۔ سنگھ پریوار ایک طرف تو تعدد ازدواج کی مخالفت کرتا ہے جبکہ رام لکشمن کے والد راجہ دشرتھ کی تین بیویاں  تومشہور تھیں مگروالمیکی کی رامائن میں 250 بیویوں کا ذکر ملتا ہے اور کامبھا رامائن میں تو ۶۰ ہزار بیویاں مذکور ہیں ۔ خیر رام چندر جی کے پتاشری کوتو کئی بیویوں کی خدمات حاصل تھیں مگر دروپدی بیچاری بیک وقت پانچ شوہروں کی خدمت پر مامور تھی۔ ہریانہ کے کچھ دیہاتوں میں یہ رسم آج بھی زندہ ہے۔ دروپدی کے ساتھ  جو سلوک کورو نے کیا اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ اپنی بھابی  کو بھرے دربار میں برہنہ کرنے کی کوشش کی اور اس کے پانچوں شوہر خاموشی کے ساتھ یہ تماشائی بنے رہنا بھی حیرت انگیز ہے۔ کرشنا کا چمتکار  نہ ہوتاتو  دروپدی کے ساتھ بنت حوا بدنام ہوجاتی۔ آج بھی ہریانہ میں  کورو کے وارث (بی جے پی صدر کا بیٹا ) وکاس برالہ قدیم روایت کو زندہ کرتے ہوئے ویرنیکا کنڈو کے وستر ہرن کی سعی کرتا ہے اور اس کا بال بیکا نہیں ہوتا۔ فرق یہ ہےکہ اب  اسے جوا کھیل  کرجیت حاصل کرنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کرنی پڑتی۔

رام راحیم کی سزا کے خلاف ہونے والے احتجاج سے یہ معمہ  حل ہوگیاکہ ہندوستان کے اندربیشتر اجتماعی عصمت دری کے واقعات میں ہندو سماج کے لوگ کیوں ملوث ہوتے ہیں؟ اول تو آسارام باپو سے لے رام رحیم تک سارے دھرم گرو عملی  مثال قائم کرکےاس کی  ترغیب دیتے  ہیں ۔ ان کو انتظامیہ کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ آسارام باپو کے خلاف کھڑے ہونے والے کئی گواہ قتل کیے جاچکے ہیں یا لاپتہ ہوگئے ہیں ۔ انتظامیہ ان کو تحفظ نہیں دیتی۔ رام رحیم نے بھی عصمت دری کے بعد متاثرہ کے بھائی کو قتل کروادیا۔ اس راز کو فاش کرنے والے صحافی پر گولی چلوائی مگر چوٹالہ سرکار نے  بستر مرگ پر پڑےصحافی کا 15 دن تک بیان  نہیں لیا  یہاں تک کہ اس نے دم توڑ دیا۔ اس کے بعد سی بی آئی تفتیش کی مخالفت کی۔ کانگریس نے ڈیرہ سچا سودہ سے سیاسی سودے بازی کرکے اس معاملے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا۔ مودی جی بھی جانتے بوجھتے آبروریزی اور قتل کے ملزم  کی شرن میں چلے گئے۔ عامرخان کو پاکستان بھیجنے والے وجئے ورگیہ ہریانہ کے سارے وزراء سمیت رام رحیم کے قدموں میں جاگرے۔ وزیراعلی ٰکھٹر کو سوّچھتا ابھیان میں تصویر کھنچوانے کے لیے کوئی اور نہیں ملا۔ گائے کو قومی جانور بنانے کا مطالبہ کرنے والے وِج نے بابا کے قدموں میں عوامی  خزانے سے 51 لاکھ  کی گرودکشنا پیش کی۔ یوگا انٹرنیشنل کےناعاقبت اندیشوں نےاس سال  مئی میں رام رحیم کےلیے گرودرونا چاریہ ایوارڈ کی سفارش  بھی کرڈالی۔

اے بی وی پی والوں کو جے این یو میں آزادی کے نعروں سے بہت تکلیف ہوتی ہے  لیکن جب  گرومیت کے فیصلے کی تاریخ قریب آگئی تو اس کے حامی سڑک پر آنےلگے۔ عدالت نے  بی جے پی کی صوبائی حکومت پھٹکار لگائی اور(مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ بتانے والی) سرکار سے سوال کیا  ہریانہ کیا ہندوستان کا حصہ نہیں ہے؟  اس  پر بحالتِ مجبوری  دفع 144 نافذ کی گئی مگر یہ نہیں لکھا کہ 5 سے زیادہ لوگ جمع نہیں ہوسکتے۔ لاکھوں لوگوں کے اکٹھا ہونےپرعدالت نے پوچھا تو جواب تھا ٹائپنگ کی غلطی ہوگئی۔ اس  غلطی کایہ خمیازہ  بھگتنا پڑا کہ 30 جانیں گئیں 250 سے زیادہ زخمی ہوئے  اور کروڈوں کی سرکاری ونجی املاک کا نقصان ہوا۔ پانچ صوبوں میں تشدد پھیل گیا۔ عدالت کہتی ہے یہ خسارہ  ڈیرہ سے وصول کرو حکومت کہتی ہے ہم دیں گے۔ کیا جی ایس ٹی کے نام ٹیکس اسی کام کے لیے جمع لیا جارہا ہے کہ زانیوں ، قاتلوں  اور ان کے ہمنواوں کے تشدد کا ہرجانہ ادا کیا جائے۔

چنڈی گڑھ ہریانہ اور پنجاب کا دارالخلافہ ہے۔ نصف پنجاب پاکستان میں ہے جسے ناکام ریاست کہا جاتا ہے۔ اس پاکستان میں منتخب وزیراعظم پر آبروریزی یا قتل کا نہیں بلکہ بدعنوانی کا الزام لگا۔ جس صوبے میں مقدمہ چلا وہاں وزیراعظم کا بھائی برسرِ اقتدار تھا اس کے باوجود عدالت کے خلاف کوئی مظاہرہ نہیں ہوا۔اس لیے کہ وہاں جمہوریت کمزور ہے۔ عدالتی  فیصلہ آجانے پر نواز شریف نے اندرا گاندھی کی مانند ایمرجنسی نافذ نہیں کی بلکہ شرافت سے استعفیٰ دے کر قانون کی بالا دستی کو قبول کرلی  لیکن ہندوستان کی  کامیاب جمہوریت  میں ایک زانی اور قاتل دوسو گاڑیوں کا قافلہ لے کر عدالت میں حاضر ہوا اور ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر جیل کے بجائے سرکاری  مہمان خانے میں پہنچا۔ رام رحیم کی گرفتاری پر برپا ہونےوالے تشدد کی وزیراعظم نے مذمت کی مگر ساکشی مہاراج نے کہا اس کے لیے عدالت ذمہ دار ہے اس لیے ایک شخص اس پر زنا  بالجبرکا الزام لگا رہا ہے اور کروڈوں اس کو بھگوان مانتے ہیں ۔ کوئی مانے یا نہ مانے  ڈیرہ سچا سودہ کے پریمیوں کے نزدیک ساکشی مہاراج احسانمند ہےاورمودی جی احسان فراموش  ہیں ۔

مہا بھارت کی جنگ کورو اور پانڈو کے درمیان ہوئی تھی جو ام زاد بھائی تھے۔ وہ صدیوں پرانی جنگ  آج بھی جاری ہے۔ ہندوسماج کا ایک بھائی دوسرے کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور اقتدار پر قبضہ کرنے کی خاطر وہ باہم برسرِ پیکار ہیں ۔ اس بیماری کا علاج تو یہ ہے کہ ان کے اندر محبت و اخوت کا رشتہ قائم کیا جائے کانگریس نے اس کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔ آرایس ایس ہندو نفسیات سے زیادہ واقف ہے۔ اس مشق پر اپنا وقت اور توانائی صرف  کرنے کے بجائے سنگھ نے مسلم دشمنی کی بنیاد پر ہندو سماج کو متحد کرنے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے حصول کے لیے کبھی یوگا، کبھی گھر واپسی،کبھی لوجہاد، کبھی وندے ماترم  تو کبھی گئو ماتا جیسے شوشے چھوڑتے رہے۔ جس سے وقتی کامیابی بھی ملی لیکن یہ بنیاد اتنی کمزور ہے کہ اسے گرومیت جیسا کوئی پاکھنڈی  دھرم گرو یا کوئی نسل پرستی کی تحریک (جاٹ آندولن ) بڑی آسانی سے مسمار کردیتی  ہے اور سارے کیے کرائے پر پانی پھر جاتا ہے۔ سنگھ پریوار آج کل ملک کی تاریخ بدلنے پر تلا ہوا ہے۔

راجستھان کی درسی کتاب میں لکھا ہے رانا پرتاپ نے اکبر کو شکست دے دی تھی اب بچے پریشان ہیں کہ رانا پرتاپ نے جنگ جیتنے کے باوجود دہلی کا تخت کیوں نہیں سنبھالا خیرکل کو یہ لکھ دیں گے کہ اکبر واپس افغانستان چلا گیا اور فتح پور سیکری رانا پرتاپ نے بسایا  لیکن اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ملک سے عصمت دری اور جبرو تشدد ختم کرنے کے لیے اب سنگھ کو لکھنا چاہیے کہ نہ   تو کوروکشیترمیں مہابھارت کی جنگ ہوئی  تھی اور نہ دروپدی کا وسترہرن ہوا تھا  ورنہ گیتا پر آستھا  رکھنے والے اس کو دوہراتے رہیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

7 تبصرے

  1. السلام عليكم رحمتیں اللہ و برکاتہ ۔۔
    لا جواب تحریر ہے۔۔۔ماشاء اللہ ۔۔اس تحریر کو مختلف زبانوں میں شائع کرنا چاہتے تاکہ سب ہندوستانی حقیقت سے آگاہ ہو جائے ۔۔۔اور صحافی کا مقصد تحریر پورا ہو۔۔

  2. السلام علیکم و رحمۃ اللہ
    میں ڈاکڑ عبد الرؤف صاحب کی اس رائے سے متفق ہوں کہ اس کالم کا ترجمہ اور زبانوں میں ہونا چاہیے۔ یا کم ازکم انگریزی زبان میں۔

  3. bahot khub ,ma sha Allah….aap is mazmoon ko English aur Hindi me zaroor likhen,..hamare digar bhai behno ko samajhne me aasani hogi.itni qeemti malumat sabhi tak pahonchna zaroori hai.

Close