آج کا کالم

ہمارے بھارت کے یہ 2464 بكلول لوگ

رويش کمار

2464 لوگ، وہ لوگ ہیں جو پنجاب یونیورسٹی ریسرچ میں شامل ہوئے ہیں. یہی بھارت ہیں. بھارت کی روح دیہات میں نہیں، سروے کے نمونوں میں رہتی ہے. سروے بھونت سكھن : سروے بھونت مودي ميا. مقبولیت بھی ایک قسم کا بخار ہے. بہت سے لوگ تھرمامیٹر لئے دن رات ناپتے رہتے ہیں. جسے دیکھو تھرمامیٹر لئے آگے بڑھ رہے ہیں. اکتوبر کے مہینے میں کئی مضامین چھپے کہ مودی کی مقبولیت کم ہوئی ہے۔ نومبر میں مضامین چھپ رہے ہیں کہ مودی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے. گھٹتی تو صرف کام اور کمائی ہے. کسانوں کے پاس دام ہیں نہ ادویات ہیں. پھر بھی مودی مقبول ہیں. اس میں کوئی شک نہیں ہے. سروے نے جو بتایا اس سے پہلے  بھارت کے سربراہ جانتے ہیں. مگر یہ 2464 لوگ کون ہیں جو ہم بھارت کے لوگ ہیں.

2464 لوگوں کا مت ہے کہ مودی جی 10 بھارتی میں سے 9 میں مقبول ہیں. ہمارے ایک صحافی دوست ظفر نے فیس بک پر لکھا کہ وہ دسواں کون ہے؟ کیا وہ غدار ہے؟ کیوں نہ ہم سب اس دسویں کو ملک کے مفاد میں سمجھائیں کہ بھائی آپ بھی 9 کے ساتھ مل لو. اکیلے رہ کر کچھ تو ہو گا نہیں تم سے. اس 9 میں تو مخالف ٹیم لیڈر بھی آ گئے ہیں، ہمارا یقین کرو، ساری پارٹی کے سپورٹر بھی آگئے ہیں. پتہ نہیں تم کس بات سے كھنس کھا گئے مودی جی سے، ورنہ آج 10 میں 10 کا اسکور ہوتا. ابھی میری بات مان لو ورنہ من کی بات میں مودی جی آپ دسویں کی بات کرنے لگیں گے. کہنے لگیں گے کہ بھائیوں، یہ دسواں کب مانے گا. اسے کیا پرابلم ہے. اس کے لئے میں نے دین دیال دشانش یوجنا بھی چلا دیتا ہوں. امت شاہ تو مشن نہ لانچ کر دیں. مشن ٹینتھ. جب تک ٹینتھ ہمارے سپورٹ میں نہیں آئے گا تب تک ہمیں اور مودی جی کو ٹینشن رہے گا.

2646 کے سیمپل ہو یا 20000، کا سیمپل ہو، جھلک اور جھانکی تو ملتی ہے. سروے غلط بھی ہوتے ہیں، صحیح بھی ہوتے ہیں. لہذا اس پر بحث نہیں. مودی جی مقبول لیڈر ہیں اسے کسی سروے سے جاننے کی ضرورت بھی نہیں ہے، اگر ہے تو برا بھی نہیں ہے. مگر مسئلہ کہیں اور ہے. پنجاب یونیورسٹی ریسرچ نے 40 سے زیادہ سوالات کے جواب مانگے ہیں. ان جوابوں سے ان 2464 لوگوں کی جو تصویر ابھرتی ہے، اس پر بات ہونی چاہئے. یہ لوگ مودی جی کے مسئلے کو چھوڑ کر باقی بہت چیزوں پر كنفيوژ لگتے ہیں. مطلب یہ کہتے ہیں کہ قانون بنے تو اس میں منتخب کردہ نمائندے ووٹ نہ کریں. ہم شہری براہ راست ووٹ کر دیں. پھر یہی لوگ کہتے ہیں کہ وہ جمہوریت میں یقین بھی رکھتے ہیں. بھائی، جب قانون بھی تم ہی کو ٹریفک جام میں ٹویٹ کر بنانا ہے تو یہ ایم پی، ایم ایل اے کیوں منتخب کرنے جاتے ہوں. ناخن پر سیاہی کے نشانات کے ساتھ سیلفی لینے؟

آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہوائی جہاز سے لے کر ٹرین تک ایکسپرٹ ہی چلا رہے ہیں. کیا آپ نے دیکھا ہے کہ ایم پی ایئر انڈیا کا طیارہ اڑا رہا ہے؟ چیف انجینئر کام انجینئر ہی تو کر رہا تھا، فوج کا صدر اس میں زندگی گزارنے والا ایکسپرٹ ہی تو بنتا ہے، پھر یہ کون سے ایکسپرٹ بچ گئے ہیں تو ڈیموکریسی میں منتخب کردہ نمائندے سے ضروری ہو گئے ہیں؟ ہم بھارت کے باقی سوا ارب لوگوں اپنے ان 2464 لوگوں کو سمجھاو ورنہ یہ پورے انڈیا کو بورا دیں گے. یہ تو تب ہے جب یہ ڈھائی ہزار بھی پورے نہیں ہیں.

ان میں سے 55 فیصد یعنی اکثریت مانتی ہے کہ بھارت میں فیصلہ لینے کے لئے مضبوط لیڈر ہو، جو پارلیمنٹ اور کورٹ کی دخل اندازی کے بغیر فیصلہ لے. پارلیمنٹ اور کورٹ کی بات جو نہیں مانے گا، آج کے فیشن کے مطابق انہیں تو غدار کہنا چاہیئے، مگر لوگ ایسے چركٹو کی رائے کا جشن منا رہے ہیں. اتنے انتخابات میں جیت دے کر لوگوں نے مودی جی کی مقبولیت ثابت کرنے میں کوئی کمی چھوڑی ہے کیا، جو ایسے لوگوں کی رائے پر خبریں بن رہی ہیں.

بی جے پی کے رہنما اور سمرتھک کس طرح لوگوں کی رائے کا جشن منا رہے ہیں. میری رائے میں انہیں بھی ان 2464 لوگوں کو سمجھانا چاہئے کہ بھائی، پارلیمنٹ، کورٹ کو بائی پاس کرنا ہمارے مودی جی کے مفاد میں ہی نہیں ہے. یہ سب سے پہلے ہو چکا ہوتا تو آج مودی جی وزیر اعظم ہی نہیں بن پاتے. ویسے بھی پارلیمنٹ کا سیشن ہم انتخابات کے حساب سے مینج کر لیتے ہیں تو اسے بائی پاس کرنے کی بات کیوں کرتے ہو. پارلیمنٹ ہونا چاہئے. غنیمت ہے کہ ان 10 ہندوستانیوں نے یہ نہیں کہا کہ کورٹ کی ضرورت نہیں ہے. صرف مضبوط لیڈر کے لئے بائی پاس کرنے کی بات کہی. مگر یہ 2464 قانون بنانے کا براہ راست حق اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں، پارلیمنٹ کے ارکان کو نہیں دینا چاہتے. پنجاب یونیورسٹی کو بتانا چاہئے کہ ہم نے ایسے لوگوں کو چنا ہے جنہیں نہ جمہوریت کی سمجھ ہے اور نہ فوجی کا پتہ ہے. انہیں لے جا کر کسی ملٹری گراؤنڈ میں دس راؤنڈ لگانا چاہئے تب پتہ چلے گا کہ فوجی کیسا ہوتا ہے. یہی نہیں دونوں ہاتھ اوپر کر بندوق لے کر ریسر سے ایک ہی راؤنڈ میں پتہ چل جائے گا.

نہ جاننے کی وجہ سے ہی ان 2464 میں سے 53 فیصد کا کہنا ہے کہ بھارت میں فوج کی حکمرانی ہونا چاہئے. اس حساب تو آج وزیر اعظم کی کرسی پر جنرل وی کے سنگھ ہوتے، نریندر مودی نہیں ہوتے. جب 10 میں سے آٹھ بھارتی اس بات سے خوش ہیں کہ جس طرح سے جمہوریت چل رہی ہے وہ ٹھیک ہے تو اسی 10 میں سے یہ زیادہ سے زیادہ 5 بھارتی کون ہیں جو فوج کی حکمرانی بہتر مانتے ہیں. یہ جو 10 بھارتی ہیں وہ کمال کے ہیں. خدا بچائے ان 10 ہندوستانیوں سے.

یہ سيرييس ہے کہ ان کے اندر اندر فوجی حکومت کی خفیہ خواہش خفیہ بیماری کی طرح بجبجا رہی ہے. ان سے بات کرنا ہی ہوگا. ان چركٹو کو سمجھانا ہی ہوگا کہ جمہوریت نہیں ہوتی تو ان کے مقبول مودی جی انہیں نہیں ملتے. فوجی حکومت ہوگی تو کسی رات پولیس کے لوگ آئیں گے اور اٹھا کر جیل میں دس سال تک بند کر دیں گے. مار دیں گے. جس کا نہ ثبوت ہوگا، نہ گواہی نہ انصاف. کیا وہ ایسا نظام چاہتے ہیں؟ فوجی حکومت کے بعد اگر یہ سوال پوچھا گیا ہوتا تو ان 2464 کی حالت خراب ہو جاتی. کیا پروبلم ہے ان کی لائف میں؟ بابا رام دیو اور شری شری روی شنکر کا انہیں کورس کرانا چاہئے.

ان 2464 لوگوں کی بدولت بھارت اس سروے میں دنیا کے چار ملکوں میں آ سکا ہے جس کے پچاس فیصد سے زیادہ لوگ مانتے ہیں کہ فوجی حکومت ہونا چاہئے. یہ سیمپل بتاتا ہے کہ بھلے ہی پورا بھارت جمہوریت کو لے کر كنفيوژ نہ ہو مگر یہ 2464 پکا بكلول ہیں. انہیں جمہوریت کا مطلب معلوم نہیں ہے. کورٹ کا کام معلوم نہیں ہے. پارلیمنٹ کی ضرور نہیں جانتے. ایک نیتا کو جانتے ہیں جن پر ان کو خوب یقین ہے. اس یقین کا عالم یہ ہے کہ ان میں سے نصف کا فوجی حکومت میں بھی یقین ہے.

اب ایک بات سنجیدگی سے. سروے کو مسترد نہ کریں. مگر اس کے سوالات کے پیٹرن پر غور کیجئے. پنجاب یونیورسٹی ریسرچ کے سوال حکومت کرنے کے لئے پارلیمنٹ، عدالت اور منتخب نمائندوں کی حیثیت کو کم کرتے ہیں. ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا میں اقتصادی کھائی چوڑی ہوتی جا رہی ہے. ایک فیصد لوگوں کے پاس ساری دنیا کی دولت ہے. یہی تناسب امریکہ میں بھی ہے اور بھارت میں بھی. لیڈروں کو خطرہ ہے کہ کہیں 90 فیصد محروم عوام ان پر حملہ نہ کر دے. انہیں اقتدار سے بے دخل نہ کر دے. لہذا ایسے سوال پوچھے جاتے ہیں جس سے لگے کہ دنیا میں جمہوری ادارے فیل ہو گئے ہیں اور اب فوجی حکومت ضروری ہے. فوجی حکومت اس لئے ضروری ہے کہ اس کے ذریعہ آپ کسی بھی عوامی مخالفت کو بہتر طریقے سے کچلتے ہیں. دباتے ہیں. ان سوالات اور جوابوں کے ذریعہ آپ میڈیا اور لوگوں میں ایک مصنوعی رنگ بھرتے ہیں کہ فوجی حکومت ہی سے تمام مسلۓ حل ہوں گے. فوجی حکومت کا تصور عام شہریوں کے حقوق کے قتل کا تصور کرنے مترادف ہے. کیا یہ لوگ عام لوگوں کو مروانا چاہتے ہیں.

مضبوط لیڈر ایک متھک ہے. مضبوط لیڈر کے نام پر اس لیڈر کے اندر اندر اتنی عدم تحفظ بھری ہوتی ہے دن بھر پرجوش مسائل کی تلاش میں رہتا ہے. جذباتیت میں ہی دس بیس سال ملک کے نکال دیتا ہے اور ایک دن بھربھرا کر گر پڑتا ہے. آپ گاندھی، امبیڈکر، لنکن، منڈیلا کو کیا مضبوط لیڈر نہیں مانیں گے جنہوں نے لاکھوں کی زندگی تبدیل کر دیں. ایک ملک کی شناخت کو تبدیل کر دیا. لوگوں کو آواز دے کر جان بھر دی. جہاں جہاں واحد حکومت والے مضبوط لیڈر ہوئے ہیں وہاں وہاں عام لوگوں کا حق چھن گیا ہے. چاہے وہ کمیونسٹ روس ہو یا پوتن کا روس ہو. آپ چین سے لے کر امریکہ تک بہت مثالوں سے اسے دیکھ سکتے ہیں.

مگر ہم سب ایک دن بھارت کی جمہوریت کو فیل کر دیں گے اگر ہم ان 2464 لوگوں کی باتوں کو سنجیدگی سے لیں گے. ایک ہی بات ٹھیک ہے ان کہ نریندر مودی مقبول لیڈر ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ جمہوریت ٹھیک چل رہی ہے. اس پر اختلاف ظاہر کیا جا سکتا ہے مگر یہ خطرناک خیال نہیں ہیں. خطرناک اور بھیانک خیالات ہیں جمہوریت پر فوجی حکومت کے خیال.اس لیے اے بھارت کے لوگو! ان 464 2 کی رائے سے دور بھاگو.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close