ہمیں گواہ بنایا ہے وقت نے اپنا  کہ آؤ سچ بولیں

 ڈاکٹر سلیم خان

سرزمینِ ہندوپاک پرعدلیہ اور مقننہ کے درمیان سرد جنگ جاری ہے۔ پاکستان کے بارے میں یہ عام خیال پایا جاتا ہے کہ وہ ایک ناکام ریاست ہے۔ اس کے اندر جمہوری اقدار پائیدار نہیں ہیں اس لیے کئی بار فوجی سربراہوں نے سیاسی رہنماوں کو گھر ٹھکانے لگادیا جبکہ ہندوستان میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کا انکار ممکن نہیں ہے لیکن  سیاسی استحکام کو جانچنے کی ایک کسوٹی قانون کی بالادستی بھی ہے۔ اس لحاظ  سے دیکھیں تو پاکستان کے اندر عدالتوں کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس نے پرویز مشرف جیسے فوجی آمر کو  اقتدار سے بے دخل کرکے ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ فی زمانہ دونوں مقامات پر سیاسی حکومتیں ہیں اور عدالتیں ان سے برسرِ پیکار ہیں اس لیے حالات کا موازنہ  ضروری معلوم ہوتاہے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جولائی میں  وزیر اعظم پاکستان کو نا اہل قرار دے دیا ہے۔ پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ صادر فرمایا  کہ میاں نواز شریف فوری طور پر وزیر اعظم نہیں رہے ہیں ۔ عدالت نے قومی احتسا ب  بیورو کو نواز شریف کے علاوہ وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار، مریم نواز، حسن نواز، حسین نواز اور کیپٹن صفدر کو شاملِ تفتیش کرنے اور ان کے خلاف ریفرنس بھیجنے کا حکم دیا۔ عدالت عظمیٰ نے احتساب عدالتوں  کو پابند کیا کہ وہ ان مقدمات کا  فیصلہ چھ ماہ کے اندر کریں ۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے قومی احتساب بیورو کی ان معاملات میں  نگرانی  کی خاطر ایک جج بھی متعین کردیا۔ میاں نواز شریف نے اس فیصلے کے خلاف اندرا گاندھی کی مانند ایمرجنسی نافذ نہیں کی  بلکہ اس کو بسروچشم تسلیم  کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا  لیکن احتساب عدالت میں حاضری سے کتراتے رہے  اس کے جواب میں عدالت نے 26 اکتوبر کو ان کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کردیا  اور  تین نومبر کی پیشی طے کر دی۔ جس وقت یہ فیصلہ ہوا نواز شریف  لندن میں اپنی  اہلیہ کلثوم نواز کے کینسر کا علاج کرا رہے تھے۔ اس کے باوجودوہ عدالت میں حاضر ہونے کے لیے   2 نومبر کو وطن واپس  آگئے۔  کیا ہندوستان میں بھی عدلیہ کا  اس قدراحترام ممکن ہے؟اس سوال پر غور ہونا چاہیے۔

وطن عزیز میں سپریم کورٹ نے  مرکزی حکومت سے ان ارکان پارلیمان اور اسمبلی کی تفصیلات طلب کی  ہیں جن کی دولت میں بہت کم مدت کے دوران تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ان راتوں رات  امیر بن جانے والے ایم پی اور ایم ایل اے  کے خلاف سنٹرل بورڈ اور ڈائریکٹ ٹیکسس (سی بی ڈی ٹی) کی جانچ جاری ہے۔ عدالت حکومت سے یہ جاننا چاہتی ہے  کہ آخر سیاسی رہنماوں کے اثاثہ میں اضا فہ کی  جانچ کہاں تک پہنچی اور اس معاملےمیں کیا کارروائی کی گئی؟ یہ ایک حقیقت ہے  کہ متعدد ارکان پارلیمان اور اسمبلی انتخابی کامیابی سے قبل معمولی ملازمت کرتے تھے۔ ان میں سے کئی بے روزگار والد کی پنشن پر گذر اوقات کرتے یا بازاروں میں گھوم پھر کرنیتا گیری  کرنے والے لوگ تھے۔ایسے میں اچانک اچھے دنوں کی لہر چلی اور گزشتہ  حکومت کے خلاف  ملک گیر پیمانے پر شدید ناراضگی کا فائدہ اٹھاکر ان لوگوں نے انتخاب جیت لیا اور قانون ساز اداروں میں پہنچ گئے۔

ان نئے ارکان پارلیمان کا کا حال یہ ہے کہ راجیہ سبھا اور صدارتی  ووٹنگ کا سلیقہ تک ان کو نہیں معلوم  اور اس میں غلطیاں کرتے ہیں لیکن مال و دولت کا انبار لگاجارہا ہے۔ وزیراعظم جسے چائے بیچنے پر ناز تھا دس لاکھ کا کوٹ زیب تن کرنے لگاہے۔ چونکہ  بدعنوان مفلس عوامی نمائندے دیکھتے ہی دیکھتے  بڑے بڑے کاروبار، کمپنیوں ، قطع اراضی، فارم ہاوس، کھیت کھلیان و مویشیوں کے مالک بن گئے۔ عدالت نے کچھ ممبران پارلیمنٹ اورارکان اسمبلی کی جائیداد میں 500گنا تک کے اضافہ پرسوال اٹھاتے ہوئےکہا کہ  اگر یہرہنما یہ بتا بھی دیں کہ ان کی آمدنی میں اتنی تیزی سے اضافہ تجارت  سے ہوا ہے، تب بھی  سوال پیدا ہوتا ہے کہ  اس طرح کا رہنمااور تاجر کیسے قانون سازبن سکتاہے؟ (یعنی اسے اپنے فرائض منصبی کو ادا کرتے ہوئے اس کو تجارت  کرنے کی فرصت کیسے مل گئی؟)۔ فی الحال 289 ایسے قانون ساز وں کی جانچ کی جارہی ہے جن کے پاس  معلوم آمدن سے زائد دولت ہے۔ سپریم کورٹ  نے ان کے خلاف تیزی سے جانچ کرنے کی ہدایت کی  ہےلیکن اگریہ  سب بدعنوان متحد ہوجائیں تو حکومت گرا سکتے ہیں ۔

 سپریم کورٹ نے ان رہنماؤں کے خلاف  تفتیش کو موثر بنانے کے لیے فاسٹ ٹریک کورٹ کی سفارش کی اور مرکزی حکومت سےبرسوں پرانی این این  وورا  کمیٹی کی رپورٹ کے متعلق جواب طلب کیا اور  ناراضگی کا اظہار کرتے ہوےکہا  کہ اس پر کوئی اقدام نہیں  کیا گیا۔ عدالت عظمیٰ  ماہ  ستمبر میں یہ کہہ چکی ہے کہ عوام کو رہنماؤں کی آمدنی کے بارے میں جاننے کا حق ہے۔ اسے کیوں  پوشیدہ رکھا جاتا ہے ؟ ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے داخل کردہ  مقدمہ  کی سماعت کے دوران  سپریم کورٹ نے پندو نصائح تو خوب کیے مگر سنٹرل بورڈ اور ڈائریکٹ ٹیکسس (سی بی ڈی ٹی) کے اس مہر بند لفافے کوکھول کر اس کی تفصیل عوام کے سامنے لانے کی جرأت نہ کرسکی  جس میں سات لوک سبھاارکان اور ۹۸ممبران اسمبلی کی طرف سے انتخابی حلف نامے میں فراہم کردہ  معلومات اور  انکم ٹیکس ریٹرن میں درج اعدادوشمار مختلف پائے گئے تھے۔ مذکورہ معلومات کو دیکھنے  کے بعد عدالت نے ملزمین کے  ناموں کا اعلان کرنے کے بجائے انہیں دوبارہ مہر بند کرنے کا حکم دے دیا۔  ویسے  یہ ذمہ داری  اب سپریم کورٹ  نے اپنے سرلے لی ہے کہ وہ  پرچہ نامزدگی داخل کرتے وقت امیدوار اور اہل خانہ  کی آمدنی کے ذرائع ظاہرکروائے گا۔

عدالت عظمیٰ  کو تو یہ فکرستاتی  ہے کہ  غریب  عوام کے نمائندے اچانک امیر کیسے بن جاتے ہیں اور ان پر کیونکرلگام کسی جائے لیکن سیاسی پارٹیاں انہیں کو بار بار ٹکٹ سےنوازتی ہیں ۔ بہارجیسی  غریب ریاست  کے صوبائی انتخاب (پہلے راونڈ) میں بی جے پی کے دوتہائی امیدوار  کروڈ پتی تھے اور جے ڈی یو نے اس سے بھی دو قدم آگےجاکر 24 میں سے 19 کروڈ پتی لوگوں کو ٹکٹ دیا۔ آرجے ڈی  بھی پیچھے نہیں تھی اس کے بھی 17 میں سے 11 کروڈ پتی تھے  اور کانگریس نے تو گویا سارے کروڈ پتی امیدواروں کو ٹکٹ دے دیا تھا یعنی 8 میں سے 6 کے پاس کروڈ سے زیادہ سفید دولت تھی ایسے میں  کالے دھن کا کیا شمار ؟ اس صورتحال میں جبکہ سیاسی جماعتوں نے انتخاب کو امیر کبیر لوگوں کا کھیل بنادیا بیچاری عدالت کیا کرسکتی ہے؟

یہ  تو خیر بدعنوانی کے معاملات ہیں  لیکن ان سے بھی زیادہ سنگین جرائم کو لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اشونی اپادھیائے نے عدالت عظمیٰ میں ایک  عرضی داخل کرکےدرخواست کی  ہے کہ مجرم قراردیئے  جانے والے ارکان پارلیمان اور  اسمبلی پر تاحیات پابندی لگا ئی جائے۔ویسے الیکشن کمیشن کی وکیل میناکشی اروڑہ نے بھی اشونی کمار کی تائید کی ہے مگرمرکزی حکومت کی پیروی کرنے والےایڈیشنل  سولیسٹر جنرل  آتما  رام ناڈکرنی نے عدالت کو بتایا کہ سرکار سیاست کو جرائم سے پاک تو کرنا چاہتی ہے لیکن تاحیات پابندی کی  بابت ابھی تک کوئی موقف نہیں  اختیار کیا  گیاہے۔ ناڈکرنی کے یہ کہنے پر کہ تیز رفتار عدالت کا قیام صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے جسٹس گوگوئی نے سخت الفاظ میں پھٹکار سنائی۔ جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ جس میں جسٹس نوین سنہا بھی شامل ہیں نے کہا ایک طرف آپ کو خصوصی عدالت کے قیام پر اعتراض نہیں  ہے گویا آپ ان کے قیام کا عہد کرتے ہواور دوسری جانب اس کو صوبائی حکومت  کی ذمہ  دار ٹھہرا کر اپنا پلہّ جھاڑ لیتے ہو۔ ناڈکرنی نے خصوصی عدالت کی منصوبہ بندی کے لیے 6 ہفتوں کی مہلت طلب کی  اس لیے آئندہ سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔

 عدالت نے دوران سماعت اس سرکاری رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں قانون ساز ارکان کے خلاف 1581 مجرمانہ  مقدمات  کا اعتراف خود ان کے کاغذاتِ نامزدگی میں کیا گیا۔ اس طرح اوسطاً ایک کے خلاف تقریباً 3 سنگین جرائم بنتے ہیں ۔ عدالت عظمیٰ نے 10 مارچ 2014 کے اپنے فیصلے میں ایک سال کے اندر انہیں نمٹانے کی تلقین کی تھی۔ اس کے بعد چونکہ  ساڑھے تین سال کا وقفہ گزر چکا ہے اس لیے عدالت جاننا چاہتی ہے کہ ان میں کتنے مقدمات فیصل ہوئے؟  کتنے لوگ بری ہوئے اور کتنوں کو سزا ملی؟ عدالت تو یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ ان رہنماوں کے خلاف 2014 کے بعد کتنے نئے مقدمات قائم ہوئے؟  اور ان کی کیا صورتحال ہے؟  جسٹس گوگوئی نے خصوصی عدالت کے قیام  پر زور دیتے ہوئےیہ دلیل پیش کی  کہ  کسی بھی عدالت میں بہ یک وقت  4200 سے زائد مقدمات زیر سماعت ہوتے ہیں ایسے میں اگر عام عدالتوں سے کہا جائے کہ وہ ان رہنماوں کے تنازعات کو ایک سال کے اندر ترجیحی طور پر نمٹائیں تو وہ کوئی اور مقدمہ کا فیصلہ  نہیں کرسکیں گی۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ ہر معاملہ  میں ترجیح حاصل کرنے لیے سرگرمی دکھانے والے سیاسی نمائندے اس معاملے سردمہری کا شکار  ہوجاتےہیں ۔

یہاں بھی سیاسی جماعتیں قصوروار نظر آتی ہیں ۔ 2014 کے قومی انتخاب میں 17 فیصد امیدواروں نے اپنے خلاف جرائم کے مقدمات کا اعتراف کیا  تھاجن میں 11 فیصد پر تو سنگین الزامات تھے۔ جملہ 8163 امیدواروں میں سے 889 کے خلاف قتل، فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کا الزام تھا۔ 58 پر خواتین پر دست درازی اور 6 کوعصمت دری کا ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔ اقدار کی مالاجپنے والی عام آدمی پارٹی کے 15 فیصد امیدواروں کا دامن بھی داغدار تھا۔ سیاسی جماعتوں کے بعد عوام کے پاس موقع تھا کہ وہ ان ملزمین کو ناکام کردیتے لیکن وہاں پر صورت حال  مزید خراب ہوگئی۔ کامیاب ہونے والوں میں ملزمین کا تناسب امیدواروں کی بہ نسبت دوگنا یعنی ۳۴ فیصد ہوگیا۔ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ رائے دہندگان کو اس کی مطلق پرواہ نہیں ہے کہ ان کے امیدوار کا اخلاق و کردار کیسا ہے؟ وہ جرائم پیشہ ہے یا شریف آدمی ہے بلکہ وہ تو بدمعاش کو ترجیح دیتے ہیں ۔

 سیاسی جماعتوں کا جائزہ لیا جائے تو سب سے کم  16 فیصد اے آئی ڈی ایم کے ارکان پارلیمان پر جرائم کے الزامات تھے اس کے بعد کانگریس18 فیصداورترنمول کانگریس 21 فیصد پر تھی لیکن بی جے پی کا تناسب اوسط سے بھی ایک فیصد زیادہ یعنی 35 فیصدتھا۔ اس کو مات دینے کا شرف ایک ہندوتووادی تنظیم شیوسینا کو حاصل ہوا جس کے 18 میں سے 15 یعنی 83 فیصد کامیاب ارکان پارلیمان  سنگین الزامات  میں ملوث تھے۔ بہار کے بعد یوپی میں بھی بی جے پی نے سب سے زیادہ ملزمین کو ٹکٹ دیا۔ اترپردیش کے پہلے مرحلے میں بی جے پی کے 40 فیصد امیدواروں پر سنگین الزامات تھے جو اس کی بڑی  کامیابی کا ایک اہم راز  ہے اور پھر ان لوگوں نے ایک ایسے شخص کو وزیراعلیٰ کی کرسی تھما دی  جس پر الہ آباد ہائی کورٹ میں مقدمہ زیر سماعت ہے۔ یہ حسنِ اتفاق ہے کہ جس وقت یہ مضمون قلمبند کیا جارہا ہے یوگی ادیتیہ ناتھ کے مقدمہ پر الہ باد ہائی کورٹ میں بحث جاری ہے لیکن اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ نواز شریف جیسا کوئی فیصلہ سنایا جائے گا۔ ایسے  میں سیاست کو جرائم سے پاک کرنے کا خواب کیسے شرمندۂ تعبیر ہوسکتا ہے؟

عدالت عظمیٰ کے بعد دہلی کی ہائی کورٹ نے بھی مرکزی حکومت کو لتاڑ سنائی ہے۔ حال میں راجدھانی کے اندر ایک 11 ماہ کی بچی کی عصمت دری کا شرمناک  واقعہ سامنے آیا۔ اس سنگین جرم کی سماعت کے دوران  دہلی عدالتِ عالیہ کے جج رویندر بھٹ اور سنجیو سچدیوا نے کہا  مرکزی حکومت پولس بھرتی کے معاملے میں سانپ سیڑھی کھیل  رہی ہے۔ دہلی  کا غیر محفوظ ہونا اظہر من الشمس ہے اس کے باوجود 4227 توثیق شدہ اسامیوں  میں سے نصف کی بھی بھرتی نہیں ہوئی ہے۔ عدالت نے کہا ہم لوگ ایک دائرے کے اندر گھوم رہے ہیں ۔ عدلیہ کو ایک ہی حکم بار بار دینا پڑتا۔ دہلی غیر محفوظ ہے معصوم بچیوں کی آبرو ریزی ہورہی ہے ایسے میں ہم عوام کو بے یارومددگار چھوڑ کر خاموش  تماشائی نہیں بنے رہ سکتے۔ جولائی 2015 میں وزارتِ داخلہ نے 1400 نئے پولس والے بھرتی کرنے کی سفارش کی تھی مگر وزیر خزانہ نے اس کی توثیق نہیں کی۔ عدالت نے سرکاری وکیل سے پوچھا کہ اس انتظامی بکھیڑے سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے یا نہیں ؟ اور 16 نومبر تک یہ بتانے کی تاکید کہ  وزیرداخلہ اور اور خزانہ اس معاملے کو کیسے سلجھائیں گے؟

عدالت عظمیٰ نے یہ بھی  دریافت کیا کہ دہلی کے جن 192 پولس تھانوں میں کیمرے لگانے کا حکم دیا گیا تھا  اس پر کس قدرعملدرآمد ہوا ؟ اور 2003 کے بعد ان کی کارکردگی  کیسی رہی؟  عدالت کے خیال میں پولس تھانوں کو محفوظ بنانے کے لیے کیمروں کی تنصیب  ضروری ہے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر پولس تھانہ تک کیمرے کے بغیر عدم تحفظ کا شکار ہوجاتا ہے تو  شہر کا کیا حال ہوگا جہاں ہر جگہ کیمرہ نصب کرنا ناممکن ہے۔ مسئلہ صرف مقننہ اور انتظامیہ نہیں بلکہ عدلیہ میں بھی ہے۔ ہریانہ کی ایک نچلی عدالت میں حافظ جنید کا مقدمہ فی الحال زیر سماعت ہے۔ اس دوران ایڈیشنل جج وائی ایس راٹھور نے دیکھا کہ  ہریانہ حکومت کا سرکاری وکیل نوین کوشک ملزمین  کی مدد کررہا ہے اور گواہوں کے لیے  سوالات  سجھا رہا ہے۔ کوشک کی اس حرکت کا جج صاحب نے سخت نوٹس لیا  اور اسے پیشہ وارانہ بداخلاقی قرار دیا۔

ہریانہ کی حکومت نے ایک تو کوشک جیسے زعفرانی وکیل کو جنید کے گھرکا  بھیدی بناکر لنکا ڈھانے کی شرمناک  کوشش کی اور جب اس میں منہ کی کھانی پڑی تو  ایک اور اوچھا حربہ استعمال کیا۔ اس نے عدالت میں دعویٰ کردیا کہ جنید کے اہل خانہ دو کروڈ روپئے اور تین ایکڑ زمین  خون بہا لے کر مصالحت کے لیے آمادہ  ہیں ۔  اس بابت جب مرحوم حافظ جنید کے والد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں واضح الفاظ  تردید کردی اور بولے 2 کروڈ تو دور اگر سو  کروڈ روپئے  کی پیشکش کی جائے  تب بھی وہ  ہرگزمصالحت نہیں  کریں گے۔ ان کا مطالبہ  صرف یہ ہے کہ حافظ جنید کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا ملے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے صوبائی حکومت  پر الزام لگایا کہ وہ دباو بنانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے۔ یہ ہے ایمانی قوت ہے جس سے باطل طاقتیں تھرتھر کانپتی ہیں ۔

  کوشک کو برطرف کرنے کا حکم دیتے ہوئے جسٹس راٹھور نے کہا کہ اس کے ایسا کرنے سے مظلومین پر منفی اثرات پڑیں گے اور آزادانہ و منصفانہ عدالتی کارروائی مقصد فوت ہوجائیگا۔ اس کے بعد نوین کوشک کو سرکاری وکلاء کے پینل سے نکال باہر کیا گیا۔  اویناش جیسے لوگ عدالت کے اندر یہ حوصلہ اسی لیے دکھاپاتے ہیں کہ انہیں سیاسی آقاوں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان میں نواز شریف کے خلاف فیصلے کے بعد حزب اختلاف کے رہنما عمران خان کا کہا تھا جب تک طاقتور کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جائے گا اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے موجودہ وزیرِ اعظم کے خلاف فیصلہ دے کر  ثابت کردیا کے طاقتور کو بھی قانون کے تحت لایا جا سکتا ہے۔ کیا راہل گاندھی بھی کبھی اس طرح کی بات کہہ سکیں گے؟ عمران خان کی بات درست ہے کہ ’’ قومیں بمباری، جنگوں اور آفتوں سے تباہ نہیں ہوتیں ، بلکہ اس کے انصاف کے اداروں کے تباہ ہونے سے برباد ہوجاتی ہیں ‘‘۔ اس فقرے اطلاق پاکستان کی  طرح دنیا کے ہر ملک پر ہوتا ہے اس لیے ہر کسی کو اپنے گریبان میں جھانک کردیکھنا چاہیے بقول شاعر؎

آپ ہی اپنے ذرا جورو ستم کو دیکھیں

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی



⋆ سلیم خان

سلیم خان
ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے