آج کا کالمنقطہ نظرہندوستان

ہندستانی مسلمان کیا کریں؟

محمد شاہد خان

 ہندستانی مسلمانوں کی آزمائش کا دور تقریباً اسی دن شروع ہوگیا جس دن مغلیہ سلطنت کا سورج ڈھلنے لگا اور شہنشاہ شاہ عالم کی سلطنت سمٹ کر از دہلی تا پالم رہ گئی ۔آخری مغل فرماں روا بہادر شاہ ظفرکی حکومت صرف لال قلعہ کی چہار دیواریوں تک محدود ہوکر رہ گئی تھی۔ اوربالآخر 1857 کے انقلاب کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے جب انھیں  قید کرکے رنگون بھیج دیا تو پھر ہندوستانی مسلمانوں کی عظمت کی آخری علامت کا خاتمہ بھی ہمیشہ کے لئے ہوگیا۔

چونکہ سلطنت مسلمانوں سے چھینی گئی تھی اسلئے مسلمانوں کو اس کا رنج وغم زیادہ تھا چنانچہ سب سے پہلے انھوں نے ہی انگریزوں سے ملک کو آزاد کرانے کی ٹھانی اوراسکے لئے  باقاعدہ جدوجہد کا آغاز کیا۔ آزادی کی راہ میں اپنی قیمتی جان ومال کا نذرانہ پیش کیا ، تحریک شہیدین ، تحریک ریشمی رومال سے لے کر تحریک خلافت اور اس کے بعد تک مسلمان پیش پیش رہے ،آزادی سے قبل مسلم قیادت صرف اس بات کیلئے فکر مند تھی کہ کسی طرح ملک انگریزی استعمار کے چنگل سے آزاد ہو اوراس کے بعد ملک میں ایک سیکولر حکومت کا قیام عمل میں آئے اسلئے کہ  گزشتہ صدیوں کا تجربہ بتارہا تھاکہ ہندستان جیسے کثیر مذہبی ملک میں سیکولرزم سے بہتر نظام حکومت کا تصور ممکن نہیں ہو سکے گا۔ تاریخی طور پر اشوک ، بابر اور اکبر جیسے عظیم الشان حکمراں پہلے ہی اسکا عملی نمونہ پیش کرچکے تھے

تحریک آزادی کی قیادت جن افراد کے ہاتھوں میں تھی وہ ایک سیکولر قیادت تھی اوراس بات کا ثبوت ہندؤں اور مسلمانوں کی مشترکہ قیادت فراہم کررہی تھی، کیونکہ مذکورہ قیادت اگر فرقہ واریت سے زہرآلود ہوتی  تو تحریک آزادی وہیں اپنا دم توڑ دیتی ، مجاہدین آزادی ایک ایسے ہندستان کا خواب دیکھ رہے تھے جہاں ہر فرد کو زندگی کے یکساں مواقع فراہم ہوں گے اور حکومت میں ہر طبقہ کی برابر کی حصہ داری ہوگی ، تحریک آزادی کا پرچم مسلمان اپنے ہاتھوں میں مسلسل اٹھائے رہے یہاں تک کہ بیسویں صدی کی دوسری دہائی کے آغاز کے بعد برادران وطن  بھی اس جدوجہد میں تندہی کے ساتھ شامل ہونے لگے۔ساتھ ہی ہندو لیڈران نے اپنے ہم مذہب لوگوں کی تعلیمی ترقی کو اپنی محنت کا خاص میدان بنایا۔ البتہ مسلم قیادت سے اجتہادی غلطی یہ ہوئی کہ مغرب کی طرف سے آنے والے علوم و فنون کے ساتھ معاندانہ رویہ روا رکھا گیا۔ یہیں سے علم دین اور دنیا کے خانوں میں بٹ گیا اور تا ہنوز علم کی ثنویت کا مسئلہ جاری ہے۔ اس کے بر عکس دیگر غیر مسلم برادران وطن چونکہ اس حقیقت کو بھانپ چکے تھے کہ ایک نیا عہد نئے علوم اور نئی طرز فکر کے ساتھ آیا ہے لہذا انہوں نے کسل مندی یا بے اعتنائی  کے بجائے تندہی کا مظاہرہ کیا۔ لہذا اس بات کے اعتراف میں کوئی باک نہیں کہ تعلیمی ،سیاسی وسماجی سطح پر ان کےاندر مسلمانوں سے زیادہ بیداری آچکی تھی یہی وجہ ہے کہ وہ تحریک خلافت میں مسلمانوں کے شانہ بشانہ کھڑے تھے لیکن جب تحریک خلافت کا خاتمہ ہوگیا تو انگریزوں کے خلاف غم وغصہ کی پوری لہر تحریک آزادی کا ایندھن بن گئی اور اس کا پورافائدہ انڈین نیشنل کانگریس کو ہوا جس کی قیادت گاندھی جی کررہے تھے۔

ہندستان کا نیا منظرنامہ جو نئے جمہوری نظام کی طرف اشارہ کررہا تھا اس تناظر میں مسلمانوں نے گاندھی جی کی قیادت کو بسر و چشم  قبول کیا لیکن استعمار کی  سازشوں کے چلتے سانحہ عظیم یہ ہوا کہ 1946 میں دو قومی نظریہ کا جنّ پوری قوت کے ساتھ باہرآیا اور اس نظریہ کے  تحت مسلم قیادت دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی۔ ایک طبقہ نے علیحدہ ریاست کا مطالبہ کیا (جس کے کچھ تاریخی اسباب  ہیں اوراس کی مکمل ذمہ داری مسلمانوں پر عائد نہیں کی جاسکتی )اور ملک تقسیم ہوگیا۔ مسلمانوں کا دانشور طبقہ ہندستان سے پاکستان ہجرت کرگیا۔ جو لوگ یہاں رہ گئے  وہ کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں  بلکہ سچی حب الوطنی ان کے پاؤں کی زنجیر بن گئی۔ لیکن تقسیم کے المیہ نے مسلمانوں کی حیثیت کو نہایت کمزور کردیا ، طرفہ تماشا یہ ہوا کہ ملک کے بٹوارے کا الزام بھی مسلمانوں کے سر منڈھ دیا گیا، اور ہندستان ایک جمہوری ملک قرار پانے کے باوجود مسلمانوں کی حیثیت ایک کمزور اقلیت سے زیادہ تسلیم نہیں کی جا سکی۔

آزادی کے بعد اگرچہ اس ملک کی بنیاد سیکولرزم پر رکھی گئی جس کا مطلب تھا کہ لوگ ذاتی طور سے اپنے مذہبی معاملات میں آزاد ہوں گے اور ریاست کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہوگا لیکن ہندؤں میں اسی وقت سے ایک مذہبی شدت پسند طبقہ وجود میں آچکا تھا جو ہندتوا کا علمبردار تھا اوروہ ہندو راشٹر کا خواب دیکھ رہا تھا، ہندو مہا سبھا ، آر ایس ایس ، وشو ہندو پریشد ، بجرنگ دل نامی تنظیموں کاجنم  اسی نظریہ کے تحت ہوا، جنگ آزادی میں ان تنظیموں کا کوئی رول نہیں تھا اور کثیر مذہبی اور ثقافتی تعدد پر مبنی جدید نظریہ ہندوستان کے وہ اس حد تک مخالف تھے کہ انھوں نے مہاتما گاندھی جیسے لیڈر کا قتل کرکے اپنی شدت پسندی کا ثبوت کافی پہلے پیش کر دیا تھا۔ان دنوں  سماج میں ان لوگوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا لیکن محنت رنگ لاتی ہے چنانچہ ابتداء ہی سے یہ تنظیمیں اپنے مقصد کے حصول کیلئے انتہائی سرگرم عمل رہیں اورتعلیم ، سیاست ، ثقافت اور انسٹی ٹیوشنس  ہر جگہ اپنا تانابانا بنتی رہیں اور تنظیمی سطح پر کافی مضبوط ہوگئیں ،یہ بات کسی شخص  پر مخفی نہیں کہ  ان کے تصورات کا ہندستان اس ہندستان سے قطعا مختلف ہے کہ جس کا عملی تصور اشوک ، بابر اور اکبر نےگزشتہ صدیوں میں پیش کیاتھا اوربیسویں صدی میں مہاتما گاندھی ، پنڈت جواہر لال نہرو ،ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اور مولانا آزاد مولانا محمد علی جوہر مولانا حسین احمد مدنی وغیرہ نے پیش کیاتھا۔ نئے ہندستان میں دستوری حقوق کی ضمانت کے باوجود عملا مسلمانوں کو حاشیہ پر رکھ دیا گیا اوررفتہ رفتہ انھیں پسماندگی کی دلدل میں ڈھکیل دیا گیا۔ آج ہندستانی مسلمان اتنے زخم خوردہ ہیں اور اتنی طرح کے مسائل سے دوچار ہیں کہ ‘ درد بیچارہ پریشاں ہے کہاں سے اٹھے۔ معاشی مسائل ، تعلیمی مسائل ، سماجی مسائل ،ذرائع ابلاغ کے مسائل ،ملی تنظیموں کے مسائل ،مسلم پرسنل لاء کے مسائل ، ،سیاسی مسائل وغیرہ مسلمانوں کے اہم مسائل حیات ہیں ، لیکن عام طورپر سیاسی مسائل نے ہماری زندگی میں بڑی اہمیت حاصل کرلی ہے اگر ہم کبھی اخبارات یا ٹیلیویزن کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ساری قوت صرف سیاسی خبروں کے سننے پڑھنے اور تجزیہ پر صرف ہوجاتی ہے۔ زندگی کے دوسرے اہم مسائل  سےہم پہلو تہی کرجاتے ہیں گویا کہ سیاسی مسائل اور ان کا حل ہی ہماری زندگی کے جملہ مسائل ہیں حالانکہ معاملہ ایسا نہیں ہے۔ مسلمانوں کی اس حالت زار کیلئے جہاں حکومت ذمہ دار ہے وہیں مسلمان کا اپنا رویہ بھی بڑی حد تک ذمہ دار ہے ،ذیل کی سطروں سے اس کی وضاحت ہو جائےگی کہ کتنے ناگفتہ حالات سے ہندوستانی مسلمان دوچار ہیں ۔

مسلمانوں کی تعلیمی صورتحال اور اس کا حل

کہا جاتا ہے کہ کسی بھی قوم کو اسکی پریشانیوں سے اگر کوئی چیز نجات دلاسکتی ہے تو وہ تعلیم ہے۔ یہودی دنیا کی آبادی کا صرف دوفیصد ہیں لیکن تعلیم کے بل بوتے آج وہ قوم پوری دنیا پر حکمرانی کررہی ہے۔ زندگی کے ہر میدان میں نہ صرف یہ کہ وہ خود کفیل ہیں بلکہ دنیا بھر کی قوموں پر اپنی برتری کا سکہ جمائے ہوئے ہیں ، بڑے سے بڑے تعلیمی ادارے ، تجارتی مراکز ، صنعت وحرفت ، عالمی معیشت ، بینکنگ نظام  اور انڈسٹریز پر ان کی پالیسیوں کا قبضہ ہے ، جرمنی میں نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کی بربادی اور دوسری عالمی جنگ میں امریکہ کے ہاتھوں جاپانی قوم کی تباہی کی داستان تاریخ کے سینے میں محفوظ ہے  لیکن ان دونوں قوموں نے صرف تعلیم کو ہتھیار بنایا اور اسوقت پوری دنیا میں یہ دونوں قومیں راج کررہی ہیں ، مسلمان قوم جس کے نبی پر سب سے پہلی وحی لفظ ‘ إقرأ ‘ ( یعنی پڑھو) نازل ہوئی تھی وہ قوم جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹک رہی ہے  ہندستانی مسلمانوں کی تعلیمی صورتحال انتہائی افسوسناک ہے۔ ذیل کے اعداد و شمار سے کسی حد تک اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صورت حال کتنی تکلیف دہ ہے۔ تفصیلی تشریح پیش کئے بغیر صرف اعداد و شمار کے ذکر پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

ہندوستانی مسلمانوں کی آبادی میں تقریباً 42.7% لوگ ان پڑھ ہیں جبکہ 17.48% صرف برائے نام پڑھے لکھے ہیں ۔ 21.18% مسلم بچے صرف پرائمری تک تعلیم حاصل کرپاتے ہیں ۔ صرف %7.44 مسلم بچے ہی سکنڈری کی تعلیم تک پہونچ پاتے ہیں ۔ ٹیکنیکل اور غیر ٹیکنیکل ڈپلومہ میں مسلم بچوں کا تناسب محض 0.19% ہے۔ اعلی تعلیم ( ہائر اسٹڈیز ) میں مسلمانوں کا تناسب صرف 1.728 % ہے۔ 100 میں سے صرف 10 مسلم بچے ہائی اسکول یا اس سے اوپر کی تعلیم تک پہونچ پاتے ہیں ۔ 25% مسلمان بچے جن کی عمر چھ سے چودہ کے درمیان ہے یا تو وہ کبھی اسکول ہی نہیں جا پاتے یا اسکول درمیان میں ہی چھوڑ دیتے ہیں ۔ جبکہ مسلمانوں کے مقابلے میں برادران وطن کی شرح خواندگی کہیں بہتر ہے جین JAIN برادری کی شرح خواندگی 86.4 % ہے.جن میں 25% گریجویٹ ہیں اور اسمیں خواتین کا تناسب 44% ہے. عیسائیوں کی شرح خواندگی 74.3 % ہے. بدھ مذہب کے ماننے والوں کی شرح خواندگی 71.8%ہے.سکھ مت کے ماننے والوں کی شرح خواندگی 67.5 % ہے اور ہندستان کی سب سے بڑی آبادی یعنی ہندؤں کی شرح خواندگی 63.6% ہے. جبکہ مسلمانوں کی شرح خواندگی سب سے نیچے یعنی 57.3 % ہے۔

ظاہر ہے کہ جب تعلیمی میدان میں مسلم قوم کا یہ حال ہوگا تو لازمی طور پر تعلیم کے ذریعہ ہونے والی ترقیات میں مسلمانوں کا حال اوربھی  برا ہوگا۔ آیئے ذیل میں تعلیم سے جڑے میدانوں میں مسلمانوں کی نمائندگی اور ترقیات کا ایک جائزہ اعداد و شمار کی روشنی میں لیتے ہیں ۔ ہندوستان کے اندر مختلف نوکریوں میں مسلمانوں کی نمائندگی کا خاکہ کچھ ایسا تیار ہوتا ہے۔

انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروسز IAS 3%.انڈین فارن سروسز IFS 1.8%. انڈین پولس سروسز میں IPS 4%. انڈین ریلوے میں مسلمانوں کی نمائندگی صرف% 4.5 فیصد  ہے اسمیں سے بھی 98.7% نچلی سطح low level  کی نوکریاں کرتے ہیں ۔ جب کہ پولس کانسٹبل کی نوکریوں میں مسلمان صرف 6% ہیں ۔ صحت سے متعلق نوکریوں میں صرف 4.6 % ہیں ۔ ٹرانسپورٹ میں مسلم نوکریوں کا تناسب صرف 6.5 ہے. اسلامی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے  مسلم بچوں کا تناسب کل آبادی کا صرف 4% ہے

یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ہندستان میں تعلیم قومی خدمت سے زیادہ تجارت بن چکی ہے زیادہ تر سرکاری اسکولوں کی تعلیمی سطح بہت گر چکی ہے ایسے میں پرائیویٹ سیکٹر نے تعلیم کو تجارت commercial بنا دیا ہے اب موٹی رقم دئے بغیر نہ صحت مل سکتی ہے اور نہ ہی تعلیم ، ان سب کے باوجود اقتصادی طور پر کمزور طبقات کی حالت بھی مسلمانوں سے بہتر ہے ، تعلیم کے تئیں مسلمانوں کی غفلت مجرمانہ ہے ،انھوں نے آنے والے تعلیمی انقلاب کا ٹھیک سےاندازہ نہیں کیا بلکہ تعلیم کا مطلب شاید معمولی سرکاری نوکری سمجھا جو ایک زمانے میں تنخواہوں کے اعتبار سے ناقابل اعتنا سمجھی جاتی تھی اوریہ بات بھلادی  کہ اب مغلیہ نظام کا خاتمہ ہوچکا ہے اور آنے والے نئے سیاسی نظام میں کوئی ایک شخص نہیں بلکہ ایک جماعت حکومت کرے گی اور اعلی تعلیم یافتہ طبقہ ہی ملک کی پالیسیوں کو طے کرے گااور وہی ملک کو چلائےگا اور یہ کہ آنے والا زمانہ صنعتی انقلاب اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا زمانہ ہوگا جو مادی وسائل کی دنیا میں بھی انقلاب برپا کردے گا۔ طویل مدت تک مسلمانوں کے عصری تعلیم گاہوں کا رخ نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سارے دیندار مسلمان یہ سمجھتے رہے کہ کالج اور یونیورسٹیز میں الحاد اور بے دینی کی تعلیم دی جاتی ہے جہاں جاکر ہماری نسلیں  گمراہ ہوجائیں گی اسلئے اپنی نسلوں کو وہاں نہیں بھیجنا چاہئے۔ اسکی ذمہ دار ی بہت حد تک علماء کرام پر بھی عائد ہوتی ہے جنھوں نے علم کی تقسیم کردی اور علم دین کو اصل علم اور علماء دین کو قرآن کی آیت ‘ انما يخشی الله من عباده العلماء’ کا مصداق ٹھہرایا جس کے نتیجے میں ایک بڑی تعدا د عصری تعلیم گاہوں سے دور ہوگئی۔

دوسری طرف مسلمانوں نے اسکول ، کالجز اور یونیورسٹیز کھولنے کے بجائے کثرت سے مدارس کھولے ،  تقریبا دس ہزار سے زائد نوجوان ہرسال مدرسوں سے فارغ ہوتے ہیں ۔ اگر مدرسوں کی تعلیمی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہاں بھی مایوسیوں کا ڈیرہ ہے ، مدرسے دین کے قلعے سمجھے جاتے ہیں جن کا مقصد دین کی حفاظت کرنا ہے اور قیادت کی سطح پر نائب الرسول اور آئیڈیل لیڈر شپ تیار کرنا ہے، جو دین کے گہرے فہم کے ساتھ ساتھ عصری تقاضوں کو بھی پوری کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں ۔ اس مقدمہ کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو مدرسے اپنے مقصد میں بڑی حد تک ناکام نظر آتے ہیں ، مدرسوں سے فارغ التحصیل طلباء کے اندر نہ ہی داعیانہ اوصاف و صلاحیت  پیدا ہوپاتی ہے اور نہ ہی وہ  ‘ وقت کی زبان ‘ میں گفتگوکرپاتے ہیں بلکہ ان کی صلاحیت مسجد اور مدرسوں کے تقاضوں کی تکمیل کے لئے بھی ناکافی ہوتی ہے۔ جو تھوڑے اولوالعزم ہوتے ہیں ان کی کھپت خلیجی ممالک میں ہوجاتی ہے۔ ان کے علاوہ جو طلباء مدرسوں سے نکل کر یونیورسٹیز کا رخ کرتے ہیں وہ محنت کرکے مترجم (Translator) بن جاتے ہیں اور ان کی کھپت ملٹی نیشنل کمپنیز اور میڈیکل ٹورزم کے میدان میں بطور ٹرانسلیٹر کے ہوجاتی ہے اورایک انتہائی مختصر تعداد ہی لکچرر شپ تک پہونچ پاتی  ہے کیونکہ اسکی اسامیاں بہت محدود ہوتی ہیں ، ایسا کیوں ہے ایئے ان خرابیوں کےاسباب کا جائزہ لیتے ہیں

1- مدرسوں کا نصاب کئی سو سال پرانا ہے جب کہ موجودہ زمانہ میں عصری تعلیم گاہوں کا نصاب تعلیم میں ہر سال تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

2- عصری مضامین کو برائے نام پڑھایا جاتا ہے ۔

3۔موضوع کے بجائے کتابوں کو پڑھایا جاتا ہے.

4-ٹیچر ٹریننگ کا نظام مفقود ہے ۔

5۔ مدارس کی ڈگریاں حکومتی اداروں سے غیر منظور شدہ ہیں

6۔ مدارس کا سر رشتہ سرکاری نوکریوں سے کٹا ہوا ہے ۔

7۔ مختلف عصری موضوعات کیلئے اختصاص کے شعبے نہ کے برابر ہیں ۔

8۔ مدرسوں کی طرز تعلیم انتہائی فرسودہ ہے جہاں ایک طالبعلم کو آٹھ ، دس سالوں تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی عربی زبان پرقدرت حاصل نہیں ہوپاتی ہے جبکہ کانونٹ میں پڑھنے والا بچہ محض دو چار برسوں کے اندرانگریزی زبان پر کنٹرول حاصل کرلیتا ہے ۔

اسلئے اب ضرورت ہے کہ

1-مدارس کے بجائے زیادہ سے زیادہ اسکول ، کالجز اور یونیورسٹیز قائم کی جائیں کیونکہ جہاں تک دینی تعلیم کی ضرورت پوری کرنے کا سوال ہے تو پورے ہندستان میں مکاتب کا جال بچھا ہواہے لیکن ہائر ایجوکیشن کیلئے مسلمانوں کے پاس اتنے بڑے ملک میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے علاوہ کوئی بھی ادارہ نہیں ہے جو انتہائی قابل افسوس ہے،

2۔ اسوقت سول سروسز، IT اور دوسرے اہم تعلیمی شعبوں اور ضلع و تحصیل کی سطح پرمختلف کلرکیل clerical  نوکریوں کیلئے کوچنگ سنٹرس کھولنے کی اشد ضرورت ہے ۔

3۔ مدارس کو یونیورسٹیز سے الحاق کرانے کی ضرورت ہے تاکہ مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ آسانی سے داخلہ پاسکیں ۔

4 ۔ مدارس میں عصری موضوعات کو بطور مضمون پڑھانے کی ضرورت ہے ، مدارس کے ذمہ داران کو اس بات کاادراک ہونا چاہئے کہ مدرسہ کا ہر طالبعلم داعی نہیں بن سکتا اسلئےخواہشمند طلبہ کیلئے ‘ دعاۃ ‘ کاعلیحدہ کورس ہونا چاہئےاور یونیوسٹی جانے کیلئے خواہشمند طلبہ کی حوصلہ شکنی کے بجائے حوصلہ افزائی ہونی چاہئے ۔

5- مدرسوں کی اسناد کو حکومت سے منظور کرانا چاہئے تاکہ سرکاری نوکریوں کے حصول میں آسانی ہو

6 ۔ موجودہ زمانہ میں مدرسوں میں انگریزی اور ذرائع ابلاغ ( میڈیا )کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

8۔ پروفیشنل کورسز کی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے ،کیونکہ زیادہ تر مسلمان بچے لکچرر شپ ، یا میڈیکل یا انجینرنگ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جب کہ اس زمانے میں بے شمار پروفیشنل کورسز ہیں جہاں مختصر مدت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد خود کفیل ہوا جاسکتا ہے

9  ۔ لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی تعلیم جو صرف امورخانہ داری تک منحصر نہ ہو پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے بلکہ لڑکیوں کے مدرسوں کی طرح گرلس کالجز قائم کرنے کی شدید ضرورت ہے تبھی آنے والی نسلوں کی صحیح پرورش وپرداخت ممکن ہو سکتی ہے۔

اگر اسوقت مسلمان ان امور پر توجہ دیں تو انشاءاللہ چند سالوں میں کایا پلٹ ہو سکتی ہے کیونکہ تعلیم یافتہ فرد اورجماعت  کی ضرورت ہر سماج کو ہوتی ہے اور ایسی قوم کو کبھی مٹایا نہیں جاسکتا ۔

مسلمانوں کی سیاسی صورتحال اور اسکا حل

سیاست ، ریاست اور حکومت کے معاملات سے بحث کرتی ہے،عوام کے حقوق ، حکومت کے فرائض ،معاشی ومعاشرتی مسائل اس کا موضوع ہے ، ہندستان ایک جمہوری ملک ہے اور سیکولرزم اسکی بنیاد ہے ،دستور ہند میں جہاں عام شہریوں کے حقوق بیان کئے گئے ہیں وہیں اقلیتوں کے حقوق کےتحفظ کی ضمانت بھی دی گئی ہے، ہندستان کے تناظر میں سیکولرزم کا مفہوم یہ ہے کہ اسٹیٹ کی بنیاد مذہب پر نہیں ہوگی اور لوگ اپنے مذہبی معاملات میں آزاد ہوں گے، ہندستان ایک کثیر مذہبی اور کثیر طبقاتی نظام والا ملک ہے، ہندو دھرم میں طبقاتی نظام ہندو سماج کی شیرازہ بندی کیلئے انتہائی ضروری خیال کیا جاتا ہے ، ہندو سماج میں برہمن طبقہ کو سب سے اونچا مقام حاصل ہے اور وہی طبقہ خود کو ریاست و حکومت کا اہل سمجھتا ہے چنانچہ آزادی کے بعد انھوں نے اپنی سیادت قائم کرنے کی پوری کوشش کی اور آج بھی ان کی بالادستی قائم ہے  لیکن آزادی سے قبل ہی صدیوں سے محروم طبقات کے اندر اپنےحقوق کی بازیابی کی آگ سلگنے لگی تھی لہذا  رفتہ رفتہ ذات برادری کی تحریک نےزور پکڑا اور دیکھتےہی  دیکھتے ذات برادری کی سیاست نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دلتوں کے حقوق کیلئے بہوجن سماج پارٹی ، یادؤں کے حقوق کیلئے سماج وادی پارٹی اور راشٹریہ جنتا دل ،کُرمی برادری کیلئے راشٹریہ لوک دل ( نتیش کمار)جیسی پارٹیوں کا ظہور ہوا ، علاقائی بنیادوں پر بھی مختلف ریاستوں میں مختلف پارٹیوں کی نمود ہوئی ، لیکن مذہب کے نام پر کسی بھی سیاسی پارٹی کاکھلا وجود نہیں تھاآر ایس ایس جو ہندتوا تحریک کی علمبردار ہے وہ سب سے پہلے اس ایجنڈے کو لےکر آگے بڑھی  اور رفتہ رفتہ ہندستان کی سیاست میں اس نے ایک اہم مقام حاصل کرلیا ہے ، وہ ابتدا ہی سے ایک ہندو راشٹر کا خواب دیکھتی رہی ہے .

 ہندتوا کا ایجنڈا ہی درحقیقت سیکولرزم اور ملک کی جمہوریت کیلئے حقیقی خطرہ ہے ،ہندتوا چاہتا ہے کہ ملک کا دستور بدل دیا جائے ، اقلیات کو ان کے دستوری حقوق سے محروم کردیا جائے ، یکساں سول کوڈ کا نفاذ کردیا جائے اور اس ملک کو ایک ہندوراشٹر میں تبدیل کردیا جائے۔روز اول ہی سے اس نظریہ کے حاملین اپنے مقاصد کے حصول کیلئے سرگرم عمل رہے ہیں اور اسکیلئےمختلف سیاسی پارٹیوں کا استعمال کرتے چلے آئے ہیں ۔ یہاں تک کہ کانگریس پارٹی میں بھی اس نظریہ کے ماننے والوں کی تعداد کبھی کم نہیں رہی ہے۔  کانگریس پارٹی کا استعمال آرایس ایس اپنے خاص مقاصد کے تحت وقتا فوقتا کرتی رہی ہے۔ اسکی  ذات پات اور فرقہ واریت پر مبنی طویل مدتی سیاست اس بات کا بیُّن ثبوت ہے۔ کیونکہ بے شمار ہمالیائی فسادات اور بابری مسجد کی شہادت کانگریس ہی کے دور اقتدارکی دین ہے،  آر ایس ایس نے باقاعدہ ‘جن سنگھ ‘پارٹی کی بنیاد رکھی جو آگے چل کر بی جے پی کی شکل میں ایک تناور درخت میں تبدیل ہوگئی ،اور2014 میں پہلی بار ہندتوا کے ایجنڈے کے ساتھ بھاری اکثریت سے برسر اقتدار آئی ، لیکن اس کے برخلاف مسلمانوں نے کبھی اس طرح کی سیاست نہیں کی۔ وہ  نہ کبھی ذات برادری کے چکر میں پڑے اور نہ ہی مذہب کے نام پر سیاست کا جال بنا۔ بلکہ سیکولرزم کے نام پر ہمیشہ سیکولر پارٹیوں کا ووٹ بینک بنتےرہے لیکن کبھی کسی سیاسی جماعت نے ان کے حقوق کی پاسداری  نہیں کی ۔

نام نہاد سیکولر پارٹیاں اب تک  جو مسلم چہرےپیش کرتی رہی ہیں وہ دراصل مسلم ووٹ حاصل کرنے کی پالیسی کا محض ایک حصہ رہا ہے۔ ان کا مقصد مسلمانوں کو حقوق دلانا ہرگز نہیں ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ مسلمانوں کے مسائل کے تعلق سے ان مسلمان لیڈران کو پارٹی لائن سے ہٹ کر بولنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی ہے اور پارٹی کی پالیسیوں کو طے کرنے میں ان کا کوئی خاص رول بھی نہیں ہوتاہے۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ہندستان کی کل آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 14.50 % ہے جو کہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہے لیکن اتنی بڑی اقلیت کی سیاسی اعتبار سے جو حالت  ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے ، مسلمان دن بدن اپنے حقوق سے محروم کئے جارہے ہیں ، ان کا تشخص اور وجود دونوں خطرے میں ہے۔ اقتصادی طور پر فسادات کے ذریعہ ان کی کمر توڑی جارہی ہے ، تعلیمی سطح پر ملک کے تعلیمی اداروں کا کیسریا کرن کیا جارہاہے ، دہشت گردی کے جھوٹے الزامات میں مسلم نوجوانوں کو نذر زنداں کیا جاتا ہے۔ مساجد ومدارس کو آئے دن نشانہ بنایا جاتا ہے ، مسلم پرسنل لاء بورڈ میں مداخلت عام بات ہوگئی ہے ، سرکاری نوکریوں میں بھید بھاؤ کسی شہادت کی محتاج نہیں ،ان کے ووٹ کی طاقت کو کمزور کرنے کیلئے اسمبلی اور پارلیامانی حلقوں کو اس طرح تقسیم کردیا گیا ہے کہ مسلم ووٹ بے اثر ہوجائے، اب حالت یہ ہے کہ مسلمان ملک کے تئیں محبت و وفاداری کےاثبات کیلئے بھگوا شہادت کا محتاج سمجھا جاتاہے۔ یہ ہندستان کی سب سے بڑی اقلیت کی حالت زارہے۔ اسمیں کوئی شک وشبہہ نہیں کہ آزادی کے بعد مسلمانوں کی حالت بہت بدتر تھی اور پچھلے ستر سالوں میں انھوں نے اپنی حالت کو درست کرنے کیلئے کافی جدوجہد کی ہے ، شرح خواندگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور ملی مسائل کے تئیں اب مسلمان پہلے سے زیادہ فکر مند ہوگئےہیں لیکن کسی قوم پر عروج وزوال آناً فاناًنہیں آجاتا بلکہ اسکیلئے صدیاں درکار ہوتی ہیں ۔ اسلئے مایوسی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ طویل مدتی حکمت عملی کے تحت اپنی جدو جہد کو تیز تر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ سیاست صرف جذبات سے نہیں چلتی بلکہ اسکیلئے پختہ لائحہ عمل درکارہے ، ہندستان صرف مسلمانوں کاملک نہیں ہے بلکہ یہ ہرہندستانی باشندے کا ملک ہے اسلئے سیکولرزم کو بچانے کی ذمہ داری بھی ہر ہندستانی شہری کی ہے۔

مسلمانوں کیلئے اب پہلے سے زیادہ ضروری ہوگیا ہے کہ اپنے حقوق کی حفاظت کے ساتھ ساتھ سیکولرزم کی بنیاد پر ایک وسیع اتحاد کا نقشہ تیار کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں اور دوسرے محروم  طبقات کو قومی دھاے میں جوڑنے کا فرض بھی نبھائیں ۔  ،  باوجودیکہ جب بھی کبھی مسلمان اپنے سیاسی حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں یا کسی سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں تو ہندتوا کا علمبردار اور سیاسی مفاد پرست طبقہ ان پر فرقہ پرستی کا لیبل چسپاں کردیتا ہے، لیکن اب ضروری ہوگیا ہےکہ مسلمان دوسروں کا ووٹ بینک بننے کے بجائے اپنے ووٹ بینک کو اپنی قیادت فراہم کریں  کیونکہ سیاست میں دو چارسیٹوں کی بھی بڑی اہمیت ہوتی ہے اوربعض اوقات سیاسی گٹھ جوڑ میں چھوٹی پارٹیوں کا رول بہت اہم ہوجاتا ہے ایسے میں اپنے حقوق دشمن سے بھی منوائے جاسکتے ہیں ۔ 1967 میں یو پی میں جب پہلی گٹھ بندھن سرکار بنی تھی اسوقت لیفٹ پارٹیوں  کے پاس کل چودہ اسمبلی ممبران تھے اور ان چودہ ممبران نے آر ایس ایس کےساتھ اتحاد کرکے چودھری چرن سنگھ کی حکومت بنوائی تھی ، بی جے پی کے ساتھ سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پاٹی، راشٹریہ لوک دل اور بے شمار سیکولر پارٹیاں اتحاد کر چکی ہیں.

حالیہ 2017 کے انتخابات میں گووا میں ایک پارٹی نے بی جے پی کے خلاف الیکشن لڑا اور اسکے تین ممبران جیت کر اسمبلی پہونچے۔ حکومت بنانے کیلئے بی جے پی کو ان کی  ضرورت پڑی اور اس پارٹی کے تینوں ہی ممبران منسٹر بن گئے۔ اسی طرح منی پور کے انتخابات میں ایک پارٹی کا صرف ایک ممبر اسمبلی تک پہونچا اور حکومت بنانے کیلئے بی جے پی کو اسکا بھی سہارا لینا پڑا اور وہ تنہا ہوکر بھی حکومت میں منسٹر بن گیا ۔

حالیہ یو پی کے انتخاب پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کس طرح بی جے پی نے اعداو وشمار کا کھیل کھیلا ہے ۔کانگریس پارٹی جو ذات پات کی سیاست کرتی تھی بی جے پی نے اس فارمولے کو چھوڑکر مذہبی سیاست شروع کردی اور ہندو آبادی کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئی کہ مسلمان دیش کیلئے خطرہ ہیں ، اسی فیصد ہندو آبادی والے ملک میں اب ہندو ہی محفوظ نہیں ہے اور ہندستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک اکثریت اقلیت کے خلاف متحد ہونا شروع ہوگئی۔ اسکے علاوہ بی جے پی نے OBC میں ان طبقات کو بھی اپنے سے جوڑنے میں کامیاب ہوگئی جو سماج وادی پارٹی یا بہوجن سماج پارٹی کا حصہ  نہیں تھے اور ان کو مناسب نمائندگی دے کر نمبر کے کھیل میں ( آنکڑے ) بازی مار گئی۔ساتھ ہی ہندو عوام کو یہ واضح پیغام دیا کہ بہوجن سماج پارٹی دلتوں اور مسلمانوں کی پارٹی ہے اسی طرح سماج وادی پارٹی یادؤں اور مسلمانوں کی پارٹی ہےچنانچہ مسلم امیدواروں کو نہ دلتوں نے ووٹ دیا اور نہ ہی یادؤں نے۔ اور اس طرح اس الیکشن کو بی جے پی نے جیت لیا ۔

ہندستان کی آبادی  اسی فیصد ہندؤں  پر مشتمل ہے اسلئے میں خالص مسلم پارٹی کا حمایتی نہیں ہوں کیونکہ اس سے فرقہ واریت کو مزید بڑھاوا ملے گا اور سیکولرزم کو نقصان پہونچے گا۔ لیکن موجودہ صورتحال میں جینا بھی خودکشی کے مترادف ہے میرے نزدیک اس پریشانی سے نکلنے کیلئے دو راستے ہیں :

1- مسلمانوں کی دینی اور سیاسی قیادت کو کسی ایسے پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو نا ہوگا  جس کا مزاج  (Nature ) سیکولرہو اور پوری مسلم قوم ان کے سیاسی ہدایات پر عمل کرے۔ مسلم عوام کو یہ معلوم ہو کہ فلاں نمائندہ فورم موجود ہے جس کو معتبریت حاصل ہے۔ لہذا وہاں سے جس سیاسی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے مسلمان اسی کے مطابق اپنے حق رائے دہی یعنی ووٹ کا استعمال کریں ۔ بدلے میں سیکولر پارٹیوں کے سامنے اپنے ایجنڈے کو رکھا جائے اور ان سے اپنے ایجنڈے کو منوایا جائے ۔

2- مسلمانوں کی اپنی سیاسی پارٹی ہو لیکن وہ پیس پارٹی ، علماء کونسل یا MIM کی طرح نہ ہو کیونکہ علماء کونسل اور میم جیسی پارٹیوں کی شبیہہ صرف مسلم سیاسی پارٹی کی ہے جبکہ ضرورت ایسی پارٹی کی ہے جس میں مسلمان ، دلت اور دوسرے OBC کو مناسب نمائندگی دی جائے اور سیکولرزم کی بنیاد پر پارٹی کے ساتھ لوگوں کو جوڑنے کا عمل شدت سے شروع کیا جائے۔ جس کےنام اوربناوٹ سے سیکولرزم جھلکے اور دوسری برادریوں کی قیادت  کو مناسب نمائندگی ملے۔ پھر پوری مسلم قوم اس قیادت کے پیچھے کھڑی ہوجائے تبھی جاکر سیاست میں ہمارا وزن قائم ہوسکے گا اور سیکولرزم کی بنیاد مضبوط ہوگی۔ اگر ایسا کرنے میں ہم کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہمارے حقوق کی بازیابی ممکن ہو پائے گی اورناروا ظلم وزیادتی کا مقابلہ بھی پوری قوت کے ساتھ ہم کر پائیں گے. (جاری)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد شاہد خاں

آپ کاروان اردو قطر کے جنرل سیکریٹری ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف اور مترجم بھی ہیں.

متعلقہ

Close