آج کا کالم

ہندوستان میں انجینیئرنگ کی حالت زار

رویش کمار

15 ستمبر کو انجینئر ڈے منایا جاتا ہے. ان کی سوچئے جو انجینئر تو بن گئے ہیں لیکن اس کے قابل ہیں ہی نہیں. ہندوستان کے نوجوانوں کا اچھا خاصا تناسب انجینئر بننے کا خواب دیکھتا ہے، وہ بھی نہیں دیکھتا ہے تو اس کے بدلے ماں باپ خواب دیکھتے ہیں. پہلا تناؤ ہوتا ہے کہ انجینئر بننا ہی ہوگا اور دوسرا تناؤ ہوتا ہے کہ نہیں مجھے انجینئر بننا ہی نہیں ہے. جو بن جاتے ہیں وہ کوچنگ اداروں کے پوسٹروں میں ان گنت طلبہ کے ساتھ چھپ جاتے ہیں. اس کامیابی کا جشن سماج وسیع پیمانے پر مناتا ہے.

اس سال آئی آئی ٹی کے داخلاتی امتحان میں 12 لاکھ بچوں نے شرکت کی تھی. مگر سوال ہے کہ ہندوستان میں جس امتحان کے لئے طالب علم اپنی زندگی کا اہم حصہ قربان کر دیتے ہیں وہ جب انجینئر بن کر نکلتے ہیں تو کس قابل ہوتے ہیں؟ کیا وہ واقعی انجینئر بن پاتے ہیں؟ قابلیت کی شناخت اور تحقیق سے متعلق ایک کمپنی Aspiring Mind کی تازہ رپورٹ کے مطابق 8 فیصد سے بھی کم ہندوستانی انجینئر، انجینئرنگ کے ٹھوس رول یعنی کور ایریاج پر تقرری کئے جانے کے لائق ہیں. یعنی 92 فیصد انجینئر کور ایریا کے قابل نہیں ہیں. کور ایریا کا مطلب ہوا میكینكل، سول، الیکٹریکل اور کیمیکل انجینئرنگ.

2011 میں نیسكام نے ایک سروے میں پایا کہ صرف 17.5٪ انجینئرنگ گریجویٹ ہی کام کے قابل تھے. نیشنل ایسوسی ایشن آف سافٹ ویئر اینڈ سروسز کمپنی کا چھوٹا نام ہے نیسكام. اس سروے کے مطابق 82.5 فیصد انجینئر کام کے قابل نہیں ملے. ہندوستان میں تقریبا ساڑھے تین ہزار انجینئرنگ کالج ہیں. اکیلے تمل ناڈو میں ایک ہزار سے زیادہ کالج ہیں. 2015 کے اعداد و شمار کے مطابق ان کالجوں میں 16 لاکھ ستر ہزار سیٹیں ہیں. تو کیا ہندوستان خراب انجینئر کے ساتھ ساتھ ضرورت سے زیادہ انجینئر پیدا کر رہا ہے؟

ملک میں تکنیکی تعلیم کو ریگيولیٹ کرنے والا ادارہ (AICTE) یعنی All India Council of Technical Education ملک میں انڈر گریجویٹ انجینئرنگ سیٹوں کو اگلے چند سال میں 40 فیصد تک کم کرنا چاہتا ہے. اس کے لئے بہت سے کالجوں کو بند کرنا ہوگا اور باقی کالجوں میں طلبہ کی تعداد کم کرنی ہوگی. AICTE کے چیئرمین انل سہستربدھے نے کہا کہ ہم انجینئرنگ سیٹوں کی تعداد 16.7 لاکھ سے کم کرکے دس سے گیارہ لاکھ کے درمیان لانا چاہتے ہیں. انہوں نے یہ بات 2015 میں کہی تھی جو ایک اخبار میں شائع ہوئی تھی. اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ ككرمتے کی طرح اگ آئے انجینئرنگ کالجوں کے طلبہ کے معیار خراب ہیں تو پوری طرح ٹھیک نہیں ہے.

 The National Employability Report نے ملک بھر میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ انجینئروں پر مبنی نمونے کی بنیاد پر تجزیہ کیا ہے. پتہ چلا ہے کہ ان انجینئروں میں مہارت کی کمی ہے. ایک میکینکل ڈیزائن انجینئر کے لئے 5.55 فیصد ہی قابل ہیں. سول انجینئر کے لئے صرف 6.48٪ لوگ ہی قابل ہیں. کیمیکل ڈیزائن انجینئر کے کام کے لئے سب سے کم 1.64٪ انجینئر ہی قابل ثابت ہوتے ہیں. الیکٹرانک انجینئر کے رول کے لئے 7.07٪ انجینئر ہی قابل ثابت ہو پاتے ہیں.

خراب انجینئر اور مزید انجینئر کے علاوہ ایک چیلنج یہ بھی ہے کہ زیادہ تر انجنیئر آئی ٹی سیکٹر میں جانا چاہتے ہیں. بیسک انجینئرنگ کی طرف بہت کم جانے والے ہوتے ہیں. بلکہ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ اس کمی کی وجہ سے مینوفیکچرنگ سیکٹر کی ترقی میں رکاوٹ آ رہی ہے. طلبہ کی بنیادی سمجھ انتہائی کمزور ہے. انجینئرنگ کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انجینئر سماجی علوم کے معاملے میں بھی کافی کمزور ہیں.

گزشتہ 15 سالوں میں انجینئرنگ میں طلبہ کا داخلہ پانچ گنا بڑھا ہے جب کہ روزگار 10٪ کم ہوئے ہیں. آج بہت سے انجینئر چار سال کی تعلیم کے بعد پانچ سے دس ہزار کے درمیان کام کرنے پر مجبور ہیں. گجرات میں جب پٹیل آندولن بھڑکا تھا تب طلبہ کی ایک شکایت یہ بھی تھی کہ زمین بیچ کر انجینئرنگ میں داخلہ لیا مگر نوکری ملی پانچ ہزار کی. چند ہفتے پہلے موہن داس پائی کا ایک بیان پی ٹی آئی کے حوالے سے چھپا تھا کہ آج کا بی ٹیک دسویں پاس کے برابر ہے.

خراب کالجوں سے نکلے زیادہ تر انجنیئر اولا اور اوبر ٹیکسی کے لئے صرف قابل ہیں. میں مذاق نہیں کر رہا ہوں. بنگلور میں بہت سے سافٹ ویئر انجینئر نوکری چھوڑ کر اولا اور اوبر کار چلا رہے ہیں. پیسہ کما رہے ہیں. آئی ٹی کمپنی میں 14 گھنٹے کام کرکے سال کے ساڑھے تین لاکھ کمانے کی کیا ضرورت ہے جب آپ گاڑی چلا کر سال میں چھ سے سات لاکھ کما سکتے ہیں.

خراب انجینئر، زیادہ انجینئر کے علاوہ سوال ہے کہ جو انجینئر بن رہے ہیں کیا وہ انجینئرنگ کا کام کر رہے ہیں یا کچھ اور کر رہے ہیں؟ آئے دن کہیں نہ کہیں آئی ٹی کالج کھولنے کا اعلان ہو جاتا ہے، لیکن اسی کے ساتھ خبر آ جاتی ہے کہ فلانے ریاست کے کئی کالجوں میں سیٹ بھی نہیں بھری. آج انجینئرڈے ہے. سب نے ایم وسویسوريا کی تصویر کو ٹویٹ کیا لیکن اچھا ہوتا ان کی یاد میں ہندوستان انجنيئرنگ کی اپنی نئی کامیابیوں کی تصاویر ٹویٹ کرتا.

انجینئر ڈے انہی کی یاد میں منایا جاتا ہے. میسور کے وسویسوريا نے پونہ سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی. ایم وی كے نام سے مشہور وسویسوريا کی کوششوں سے ہی كرشن راج ساگر باندھ، بھاوتی آئرن اینڈ اسٹیل ورکس، میسور صندل آئل اینڈ سوپ فیکٹری، میسور یونیورسٹی کی تعمیر ہوئی. انہیں ہندوستان رتن سے بھی نوازا جا چکا ہے.

ایک زمانے میں انجینئر بننا بڑی بات تھی، آج کے زمانے میں انجینئر نہ بننا بڑی بات ہے. جو بن گیا وہ انجینئرنگ چھوڑ کر کبھی فائنانس میں کام کرتا ہے تو کبھی فلم میں چلا جاتا ہے تو کبھی اچھا اور برا مصنف بن جاتا ہے. ایک شریف آدمی نے ٹویٹ کیا ہے کہ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں پہلے ہم انجینئر بنتے ہیں پھر اس کے بعد فیصلہ کرتے ہیں کہ اس کے بعد زندگی میں کیا کرنا ہے. سبھی کو انجینئر ڈے  کی مبارکباد.

کیا ہندوستان کے انجینئر واقعی ملازمت پر رکھے جانے کے قابل نہیں ہیں. اگر یہ حالات ہیں تو پھر وہ کون ہے جو وسویسوريا کی سالگرہ منا رہا ہے. انجینئر بنانے کے نام پر ملک میں اربوں روپے کا کوچنگ کاروبار چل رہا ہے، تناؤ میں بچے خود کشی کر رہے ہیں لیکن جب بن جاتے ہیں تو بیشتر انجینئر ہی نہیں رہتے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close