آج کا کالم

ہندوستان میں فتنہ تاتاری کا اعادہ اور مسلمان

محمد آصف ریاض

منگول شاہان کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ وہ مذاہب کے معاملہ میں غیرجانبدارانہ روش اختیارکرتے تھے لیکن ان میں کچھ ایسے بھی تھے جومذہب اسلام کے بارے میں نہ صرف یہ کہ بہتررائے نہیں رکھتے تھے بلکہ مسلمانوں کے معاملہ میں پرتشدد رویہ اختیار کرتے تھے۔ ان میں چنگیزخان، قبلائی خان اورہلاکوخان کے نام سرفہرست ہیں۔

تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ چنگیزخان نے یہ فرمان جاری کیا تھا کہ جولوگ بھی اسلامی طریقہ سے جانوروں کوذبح کریں انھیں قتل کردیا جائے۔ بعد میں اس کا پوتا قبلائی خان جب 1260 میں تخت نشیں ہوا تو اس نے اس قانون کی ازسرنوتجدید کی اورسات سالوں تک اس قانون کے تحت وہ مسلمانوں پرظلم ڈھاتا رہا۔ وہ مسلمانوں کے گھروں میں ذبیحہ سے متعلق اطلاعات فراہم کرانے والوں کوانعام سے نوازتا تھا۔ اس کے اس فیصلہ سے ترغیب پاکربد معاش لوگ مسلمانوں کو لوٹ لیا کر تے تھے۔

معروف مورخ پروفیسرآرنالڈ نے اپنی کتاب ”دی اسپریڈ آف اسلام ان دی ورلڈ ” میں اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:

Among the Mongol rulers usually so tolerant towards all religions there were some who exhibited varying degrees of hatred towards the Muslims faith.

Chingiz Khan ordered all those who killed animals in the Muhammadan fashion to be put to death and this ordinance was revived by Qubilay, who by offering rewards to informers set of foot a sharp persecution that lasted for seven years, as many poor persons took advantage of this ready means of gaining wealth and slaves accused their masters in order to gain their freedom.

(The spread of Islam in the world: page 225)

تاتاری ظلم کا اعادہ

ذبیحہ کے نام پرتیرہویں صدی میں منگول سرداروں کے ہاتھوں سنٹرل ایشیا کے مسلمانوں کوجس قسم کی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔ آج ہندی مسلمانوں کوبھی گوکشی کے نام پرکم و بیش اسی قسم کی زیادتی کا سامنا ہے۔ ہرچند کہ بی جے پی سرکارنے چنگیزخان کی طرح مسلمانوں کے قتل کا باضابطہ کوئی فرمان جاری نہیں کیا ہے۔ تاہم گوکشی کے نام پرجس قسم کے قوانین بنائے جارہے ہیں اورجس اندازسے گائے کی عظمت بیان کی جا رہی ہے اس سے عملاً یہی ہورہا ہے کہ گائے کے نام پرمسلمانوں کو سڑکوں ، گھروں، ٹرین اوربسوں میں قتل کیا جا رہا ہے۔

 ستمبر 2015 کو اترپردیش کے دادری میں 52 سالہ محمد اخلاق کوعین عید الضحیٰ کے دن وحشی بھیڑنے گھرمیں گھس کر قتل کردیا۔ کہا یہ گیا کہ اس نے عید کے دن گائے کی قربانی کی تھی۔ پہلوخان کواپریل 2017 میں راجستھان کے الورمیں کارسے نکال کرجانوروں کی تسکری کے نام پرقتل کردیا گیا۔ اسی طرح جھارکھنڈ کے رام گڑھ میں علیم الدین انصاری عرف اصغرعلی کواس وقت قتل کردیا گیا جبکہ وہ اپنی کارسے کہیں جا رہے تھے۔ اس معاملہ میں سب سے زیادہ ہلا دینے والا واقعہ اس وقت پیش آیا جب حافظ جنید نامی ایک پندرہ سالہ بچے کوجون 2017 میں عین عید الفطر سے قبل ہریانہ کے بلبھ گڑھ میں ٹرین کے اندرچاقوئوں سے وارکرکے قتل کردیا گیا۔ الزام یہ لگا یا گیا کہ بچے نے گائے کا گوشت کھا رکھا تھا۔

تاتاری فتنہ

سوال پیدا ہوتا ہے کہ گائے کے نام پرقتل کرنے والوں نے تیرہویں صدی کے منگولوں کا طریقہ ستم کیوں ایجاد کیا ؟ کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ تاتاریوں کا حملہ اسلام اور مسلمانوں پربڑا زبردست تھا۔ انھوں نے بخارا، سمر قند، ہمدان، زنجان، نیشاپور، خوارزم، حلب، دمشق اورسب سے بڑھ کردارالخلافہ بغداد کو پوری طرح تباہ و برباد کر دیا تھا۔روایات میں آتا ہے کہ تاتاریوں نے عباسی خلیفہ مستعصم بااللہ کو بغداد میں اس طرح ہلاک کیا کہ خلیفہ کا خون زمین پرنہیں گرا۔ کہا جا تا ہے کہ ہلا کو خان کو کسی نے بتا یا تھا کہ اگرخلیفہ کا خون زمین پرگرجائے تو زمین کانپ اٹھتی ہے اورکوئی سلامت نہیں بچتا۔ چنانچہ اس نے خلیفہ کے قتل کی یہ تدبیرنکالی کہ پہلے خلیفہ کو پکڑ کرروئی کے غالے میں لپیٹ دیا اورروئی کے غالہ پراپنے گھوڑوں کو دوڑا دیا۔ اس طرح خلیفہ  المستعسم با للہ کو قتل کردیا گیا کہ اس کے خون کا ایک قطرہ بھی زمین پرنہیں گرا۔

It is reckoned that the Mongols did not want to shed "royal blood”, so they wrapped him in a rug and trampled him to death with their horses.Wikipedia:Al-Musta’sim: Link

https://en.wikipedia.org/wiki/Al-Musta%27sim

منگول تاتاریوں کی سفاکی کے بارے میں لکھتے ہوئے معروف مورخ عز الدین بن الاثیر الجزری (وفات  1233) نے یہ الفاظ استعمال کئے ہیں :

’’آہ ! اسلام اورمسلمانوں کی تباہی کا واقعہ سنانا کسے پسند ہے؟ کاش میری ماں نے مجھے جنم نہیں دیا ہوتا۔ کاش اس واقعہ کے پیش آنے سے پہلے ہی میں مرچکا ہوتا۔ کاش اس واقعہ سے پہلے میں دنیا میں ایک بھولی بسری شئے بن چکا ہوتا۔‘‘

For who would deem it a light thing to sing the death song of Islam and of the Muslims, or find it easy to tell this tale? O, that my mother had not given me birth! Oh, would that i had died ere this, and been a thing forgotten and forgotten quite!(The spread of Islam in the world- Page 219)

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

تیرہویں صدی میں منگولوں کا تاتاری سیلاب اتنابلا خیز تھا کہ اسے روک پانا کسی کے بس میں نہیں تھا۔ اس سیلاب بلا نے زیادہ تراسلامی سلطنت کو تباہ وبرباد کر دیا۔ لیکن یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ منگولوں کی تباہی کے محض پچاس سال کے اندراسلام نے اپنا اثردکھا یا اورپھرایک کے بعد ایک منگول شاہان اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے۔ نہ صرف یہ کہ انھوں نے خود اسلام قبول کیا بلکہ اپنی رعایا کوبھی اسلام میں داخل ہونے کا حکم دیا۔ یہی وہ منگول تھے جنھوں ترکستان کومسلمان بنایا۔ یہی وہ منگول تھے جنھوں نے تاجکستان اورقزاقستان کو مسلمان بنا یا۔ انھیں تاتاریوں نے کرغستان کو مسلمان بنا یا۔ انھیں تاتاریوں نے ترکی کے بڑے حصہ کو اسلام میں داخل کیا۔ انھیں تاتاریوں نے اسلام کو چین کے اندر تک پہنچا یا۔ انھیں تاتاریوں نے اسلام کو روس کے اندرداخل کیا۔ یہ تاتاری- منگول سینکڑوں سال تک اسلام کے سپاہی بنے رہے۔

تاتاریوں کے مسلمان ہونے کا واقعہ اتنا حیران کن تھا کہ معروف مورخ فلپ کے ہٹی (Philip K Hitti) نے اپنی کتاب ہسٹری آف دی عربس میں لکھا ہے کہ ’’ مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کر لی جہاں ان کے ہتھیار ناکام ہو چکے تھے۔ــ‘‘

(The religion of the Moslems had conquered where their arms had failed :(1970, p 488)

معروف اسلامی اسکالرعلامہ اقبال نے  اپنے ایک شعر میں اس واقعہ کا ذکر اس انداز میں کیا ہے:

ہے عیاں فتنہ تاتار کے افسانے سے

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

ہمارے ملک میں جو لوگ فتنہ تاتاری کوازسرنوبرپا کررہے ہیں۔ انھیں جاننا چاہئے کہ یہ فتنہ ہمارے لئے رحمت بھی بن جا تا ہے۔ آپ فتنہ تاتاری کے پہلے حصہ کو جانتے ہیں ہم کہیں گے کہ آپ اس کہانی کے دوسرے حصہ کو بھی پڑھ لیں۔ ہم پر امید ہیں اور آپ کی بے چینی صاف ظاہر ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد آصف ریاض

محمد آصف ریاض ملک کے معروف اسلامی اسکالرہیں۔ ان کی پیدائش 14 جولائی 1977 کو پٹنہ کےایک گائوں حضرت سائیں میں ہوئی۔ انھوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے ایم اے کیا اوراس کے بعد صحافت کے پیشہ سے وابستہ ہوگئے۔ انھوں نے بہار کے موقر روزنامہ پندارسے اپنی صحافت کی ابتدا کی۔ پھردہلی سے نکلنے والی میگزین سنڈے انڈین میں ورکنگ ایڈ یرکے عہدے پر فائز ہوئے۔ اب تک موصوف کے سینکڑوں مضامین ملکی اورغیر ملکی رسالے میں شائع ہوچکے ہیں۔ موصوف "امکانات کی دنیا"، "مظفر نگر کیمپ میں"، " موت کے اس پار" نامی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. آصف صاحب اللہ آپ کے علم میں مزید اضافہ کرے اور قوم و ملت کا کام لے !!

متعلقہ

Close