آج کا کالم

ہندوستان کی بلوچستان پالیسی میں بڑا بدلاؤ

رویش کمار

 بات ہو رہی تھی کہ کشمیر سے بات نہیں ہو رہی ہے تو پارلیمنٹ میں کشمیر پر بات ہوئی، طے ہوا کہ کشمیر سے بات کریں گے لیکن کشمیر پر کسی سے بات نہیں کریں گے، اب جب بھی بات کریں گے پاک مقبوضہ کشمیر پر بات کریں گے. راجیہ سبھا میں سماج وادی پارٹی کے لیڈر رام گوپال یادو نے کہا تھا کہ ہندوستان پاک مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ کیوں نہیں اٹھاتا ہے. وزیر اعظم نے کل جماعتی اجلاس میں بلوچستان اور پاک مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اٹھایا. سب نے منظوری دے دی لیکن کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ وزیر اعظم لال قلعہ سے بھی یہ بات کہہ دیں گے.

وزیر اعظم نے کہا تھا، ‘جن لوگوں کے معاملے میں میری کبھی ملاقات نہیں ہوئی ہے، لیکن ایسے دور دور بیٹھے ہوئے لوگ ہندوستان کے وزیر اعظم کو سراہتے ہیں، تو وہ میرے سوا سو کروڑ ملک کے شہریوں کا احترام ہے اور اس وجہ سے یہ احترام کا جذبہ ، یہ اظہار تشکر کرنے والے بلوچستان کے لوگوں کا، گلگت کے لوگوں کا، پاک کے قبضے والے کشمیر کے لوگوں کا میں آج دل و جان سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں.’

کیا اس  تشکر کو ہندوستان کی فعال حمایت سمجھا جا سکتا ہے. 12 اگست کے کل جماعتی اجلاس کے بعد امریکن بیس گلگت بلتستان نیشنل کانگریس نام کی ایک تنظیم ہے جس نے حقوق انسانی کی خلاف ورزی کا معاملہ اٹھانے پر ہندوستانی وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور بلوچ رہنما براہمدگھ بگوتی نے بھی وزیر اعظم کا خیر مقدم کیا ہے. کیا ہندوستان کے لئے ان تنظیموں کی اتنی اہمیت ہے کہ وزیر اعظم نے لال قلعہ سے کل جماعتی اجلاس کی جگہ ان کے تشکر کے تئیں اظہار تشکر کیا.

جسے ہم پاک مقبوضہ کشمیر کہتے ہیں اسے پاکستان میں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے. آزاد کشمیر اور دوسرا گلگت بلتستان. ہندوستان کی 106 کلومیٹر سرحد افغانستان میں پڑتی ہے جو پاک مقبوضہ کشمیر میں پڑتی ہے. مئی کے مہینے میں ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے بی ایس ایف کے افسروں سے کہا تھا کہ ہمیں اس 106 کلومیٹر کی حد کو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا جو افغانستان سے لگتی ہے. گلگت بلتستان کا ایک حصہ چین سے لگتا ہے. یہ انتہائی خوبصورت علاقہ ہے. دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے -2 یہیں ہے.

22 فروری 1994 میں نرسمہا راؤ حکومت کے وقت پارلیمنٹ نے ایک قرارداد پاس کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ بڑھتے ہوئے دہشت گردانہ تشدد اور کشمیر تنازع کو اٹھانے کی پاکستان کی کوششوں کے مد نظر ہندوستانی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے  اتفاق رائے سے 22 فروری 1994 کو ایک تجویز پاس کی جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے اور پاکستان کو اپنے قبضے والے کشمیر کے علاقوں کو خالی کر دینا چاہئے.

اکتوبر 2015 میں اقوام متحدہ میں وزیر خارجہ سشما سوراج کا بیان ہے کہ کہ اگر پی او کے غیر ملکی طاقتوں کے قبضے میں ہے تو وہ غیر ملکی طاقت پاکستان ہے. اسی سال دو بار یعنی جنوری اور جون کے مہینے میں وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے بھی کہا تھا کہ جموں کشمیر کی مکمل ریاست جس میں گلگت بلتستان کا علاقہ بھی آتا ہے، وہ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے. بلوچستان کو لے کر خاصا ہنگامہ ہے. بلوچستان پاکستان کے چار انتظامی صوبوں میں سے ایک ہے. اس کے علاوہ تین دیگر صوبے ہیں، پنجاب، خیبر پختون خواہ اور سندھ. بلوچستان کا علاقہ افغانستان اور ایران سے لگا ہے. پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے مگر آبادی بہت کم ہے. بلوچستان معدنیات سے لیس ہو کر بھی غریب ہے. یہاں پر بلوچ قومیت کو لے کر مختلف جماعتوں کی تحریکیں چل رہی ہیں. اس علاقے کی سیاست جاننے والے کہتے ہیں کہ بلوچ لوگوں پر پاکستان نے بے انتہا مظالم ڈھائے ہیں. پاکستان ان کی تحریک کو انتہا پسندی سمجھتا ہے. کئی بلوچ رہنما مختلف ممالک میں رہ رہے ہیں. گوادر بندرگاہ بلوچستان میں ہی ہے جسے چین بنا رہا ہے. اسی کے جواب میں ہندوستان نے ایران میں چابہار بندرگاہ بنانے کا کام اپنے ذمہ لیا ہے.

2009 کے سال میں بھی بلوچستان کو لے کر ہندوستان کی سیاست میں گھمسان ہو چکا ہے. اس سال 16 جولائی کے روز مصر کے شرم الشیخ سے ہندوستان اور پاکستان نے ایک مشترکہ بیان جاری کرکے کہا تھا کہ دونوں ملک متفق ہیں کہ دہشت گردی سے دونوں کو خطرہ ہے. دونوں رہنما اس بات پر راضی ہوئے ہیں کہ کسی بھی ممکنہ دہشت گردانہ حملے کو لے کر ریئل ٹائم ڈیٹا کا اشتراک کیا جائے گا. وزیر اعظم گیلانی نے اس بات کا ذکر کیا کہ بلوچستان اور دیگر علاقوں میں خطرات کو لے کر پاکستان کے پاس کچھ اطلاعات ہیں. ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ ممبئی حملوں کے گناہ گاروں کو سزا دینے کی ضرورت ہے.

لوک سبھا میں بی جے پی لیڈر جشوت سنہا نے کہا تھا کہ میں وزیر اعظم جی سے کہنا چاہتا ہوں کہ جو شرم الشیخ میں ہوا ہے، ساتوں سمندر کا پانی اكٹھا کرکے اگر اس شرم کو دھونے  کی کوشش ہم لوگ کریں گے تو وہ شرم نہیں دھلنے والی ہے. بی جے پی اس وقت کافی جارحانہ تھی کہ مشترکہ بیان میں بلوچستان کا ذکر قبول کرکے ہندوستان نے پاکستان کے الزام کو قبول کر لیا ہے کہ وہاں انتہا پسندی بھڑکانے میں ہندوستان کا کردار ہے. ہندوستان کی خارجہ پالیسی اعلانیہ طور پر یہی رہی ہے کہ ہندوستان کسی ملک کے  داخلی معاملات میں دخل نہیں دیتا ہے. قومی سلامتی کے مشیر بننے سے پہلے 2014 کے اپنے ایک خطاب میں اجیت ڈوبھال نے کہا تھا، ‘دفاعی رخ اپنانے کے دوران اگر آپ پر 100 پتھر پھینکے جاتے ہیں اور آپ  90 روک لیتے ہیں تو بھی 10 پتھر آپ کو نقصان پہنچاتے ہیں. ایسے میں آپ کبھی جیت نہیں سکتے. کیونکہ یا تو آپ ہار جاتے ہیں یا پھر جمود بنا رہتا ہے. اگر آپ دفاعی حکمت عملی کو تبدیل کرکے دفاعی جارحانہ رخ اپنا لیتے ہیں تو انہیں پتہ لگے گا کہ وہ اسے طویل وقت تک نہیں جھیل سکتے. آپ ایک اور ممبئی کریں گے تو آپ بلوچستان کھو دیں گے.’

کیا ہندوستانی حکومت اجیت ڈوبھال صاحب کی سوچ یا پالیسی پر آگے بڑھ رہی ہے. بنگلہ دیش اور سری لنکا کے معاملے میں ہندوستانی فوج مداخلت کر چکی ہے اب سوال اٹھ رہے ہیں کہ اس بیان کے بعد ہندوستان عوامی طور پر کیا کرے گا. کیا وزیر اعظم مودی دنیا کے فورم پر کہیں گے کہ بلوچستان میں ہندوستان کا کردار تھا یا اب ہوگا؟ کیا بلوچستان میں حقوق انسانی کے تحفظ کے لئے ہندوستان سری لنکا کی طرح فوجی مداخلت کرے گا؟ کیا ہندوستان بلوچستان کو لے کر اقوام متحدہ کے کسی فورم پر اٹھائے گا؟ کیا ہندوستان جی -20 جیسے فورم پر کسی قسم کی اقتصادی پابندی کی بات کرے گا؟

کیا حقوق انسانی کو لے کر ہندوستان کی حکمت عملی صرف پاکستان تک ہی محدود ہے یا تبتی لوگ بھی ہندوستان سے چین کے خلاف کچھ توقع کر سکتے ہیں، نیپال میں رہنے والے ہندوستانی نژاد لوگ بھی نیا آئین نافذ ہونے کے بعد ہندوستان سے کچھ توقع کر سکتے ہیں.  ہند وپاک کے درمیان پالیسی، خارجہ پالیسی سے کم گھریلو پالیسی سے زیادہ چلتی ہے.

لیکن جو تعلق حلف برداری میں نواز شریف کے آنے سے مضبوط ہو رہے تھے، نواز شریف نے وزیر اعظم مودی کی ماں کو ساڑی ہدیہ کی، مودی جی نے بھی نواز شریف کی ماں کو شال اور واجپئی کی شاعری گفٹ کر دی، نواز شریف کی سالگرہ پر لاہور جا کر وزیر اعظم مودی نے سب کو چونکا دیا، ہمیں بتایا گیا کہ ایک نئی تاریخ بن رہی ہے جو لیک سے ہٹ کر ہے. اس خوش فہمی میں پٹھان کوٹ ایئر بیس پر ہوئے حملے پر بھی صبر کر گئے. جہاں سے دہشت گرد آئے وہیں سے تفتیشی ٹیم کو بھی آنے دیا گیا تاکہ ایئر بیس کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر سکیں. کیا یہ سب تصویریں بلیک اینڈ وہايٹ کے زمانے والے البم میں سما جائیں گی. کیا ہندوستان نے اس تاریخ کو اب کوڑے دان میں ڈالنے کا فیصلہ کر لیا ہے.

جو لوگ تاریخ کے طالب علم نہیں ہیں انہیں میں طالب علم ہونے کی وجہ سے ایک بات بتا سکتا ہوں. تاریخ کو لے کر صبر کی ضرورت ہوتی ہے. تاریخ بنانے میں بھی، تاریخ لکھنے میں بھی اور تاریخ پڑھنے میں بھی. پرانی تاریخ سے موہ چھڑا کر نیا لکھنا آسان نہیں ہوتا ہے. اس لئے ہندوستان اور پاکستان اب ان صفحات پر دوبارہ واپس پہنچ گئے ہیں جہاں وہ دونوں خوش نظر آتے ہیں. دونوں اپنے اپنے پچ پر پہنچ گئے ہیں. خود ہی گیند پھینک رہے ہیں خود ہی چھکا مار رہے ہیں.

دہلی میں پاکستانی سفارت خانہ میں سفیر عبدالباسط نے اپنے ملک کی آزادی کو کشمیر کی آزادی کے نام کرکے ہندوستان کو چیلنج دے دیا. اسلام آباد میں سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا اٹوٹ انگ ہیں. مودی کے بیان نے پاکستان کی بات کو صحیح ثابت کر دیا ہے کہ ہندوستان اپنے انٹیلی جنس تنظیم را کے ذریعہ وہاں دہشت گردی پیدا کر رہا ہے. وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دنیا کو اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ معصوم کشمیریوں پر کس طرح کی ذيادتياں ہو رہی ہیں. اپنی آزادی کے حق کے لئے کشمیری قربانی دے رہے ہیں. گزشتہ سال نومبر میں پاکستان نے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کے کسی بھی انٹرويو یا بیان کو چینلوں پر دکھائے جانے پر روک لگا دی تھی. منگل کو یہ روک ہٹا لی گئی ہے. انڈین ایکسپریس نے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے.

وزیر اعظم چاہتے تو اسی آٹھ اگست کو بلوچستان کے کوئٹہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کا ذکر کر سکتے تھے جس میں 70 افراد ہلاک ہو گئے، 120 لوگ زخمی ہوئے لیکن لال قلعہ سے انہوں نے 2014 میں پشاور کے فوجی اسکول میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کا ذکر کیا. اس حملے میں 140 بچے اور ٹیچر مارے گئے تھے جن کے تئیں ہندوستانی اسکولوں میں غم منایا گیا تھا. وزیر اعظم نے یہ بھی تو کہا کہ دونوں ملکوں کو مل کر لڑنا ہوگا. ایک طرف الگ الگ محاذ کی بات ہو رہی ہے، دوسری طرف ایک ساتھ مل کر لڑنے کی بات ہو رہی ہے. رہی بات حقوق انسانی کی تو کیا اقوام متحدہ کا قانون اس بنیاد پر کسی ملک کو کسی ملک میں گھسنے کی اجازت دیتا ہے. ویسے جو ملک چاہتا ہے وہ گھسا ہی ہوا ہے، یوکرین، یمن، شام، عراق. کیا اب بات چیت کی جگہ باتوں کی بات ہوگی یا کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم کسی حملہ یعنی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close