آج کا کالم

ہندو کون؟ امیت شاہ یا سدھا رمیہ ّ

ڈاکٹر سلیم خان

کرناٹک میں اسٹیج سج گیا ہے۔ پردہ اٹھ گیا ہے اور انتخابی تماشہ شروع ہوچکا ہے۔ جنوبی  ہندوستان کے اس صوبے میں وکالیگا اور لنگایت سماج ہمیشہ  بلواسطہ یا بلاواسطہ  اقتدار پر قابض رہا ہے۔ فی الحال وکا لیگا کانگریس کے ساتھ ہیں  لنگایت بی جے پی کے حامی ہیں۔ بی جے پی نے بی ایس یدورپاّ کو وزیراعلیٰ کا امیدوار بنا کر  لنگایت ووٹ پر اپنی پکڑ مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے مگر ان کے  ہندووں سے الگ اقلیتی  مذہب کے دعویٰ کو تسلیم کرکے کانگریس نے ایک زبردست چال چلی  ہے۔ اس تیر  سے زخمی یدورپاّ نے  تلملا کر کانگریس کے اسے  ہندووں کو تقسیم کرنے کی سازش  قرار دے دیا۔ اس کے سرُ میں سرُ ملاتے ہوئے   امیت شاہ نے یہی بات دوہرائی بلکہ  وزیراعلیٰ سیدھا رمیاّ کو غیر ہندو قرار دے دیا حالانکہ سدھا رمیہ کہہ چکے ہیں وہ  ہندو ہیں  ان کے تو نام میں رام ہے  اور انہیں  غیر ہندو قرار دینے والے امیت شاہ خود جین ہیں  جو اپنے آپ کو ہندووں سے علٰحیدہ ایک اقلیتی فرقہ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ لنگایت سماج کو ہندو بنانے کے بجائے امیت شاہ اگر اپنے جین سماج کو ہندو بناکر اکثریت میں شامل کرنے کی  سعی  کریں تو خود ان کا حقہ پانی بند ہوجائیگا۔

پروفیسر طاہر محمود نے  لنگایت سماج کے ہندو مذہب سے کنارہ کشی پر لکھا تھا کہ یہ ممکن نہیں ہے اس لیے کہ  ہندو مذہب میں تکفیر نہیں ہوتی۔ پروفیسر صاحب کو چاہیے کہ امیت شاہ کا بیان دیکھ لیں اور ممکن ہوتو انہیں سمجھائیں کہ بھائی  کافر کافر تو ہم کھیلتے ہیں۔ تمہارے مذہب میں کوئی کافر نہیں ہوتا سب مومن ہوتے ہیں۔  پرفیسر صاحبان چونکہ  حقیقت کے بجائے کتابوں کی دنیا میں کھوئے رہتے ہیں اس لیے نہیں جانتے کہ ہندو مذہب کی تاریخ مرتدین کو سزائے موت دینے سے بھری پڑی ہے۔ یہ صرف گزرے زمانے  کا قصہ ٔ پارینہ نہیں ہے بلکہ پروفیسر کالبرگی کو اسی کرناٹک میں ان کے دروازے پرسفاکی کے ساتھ  موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ گوری لنکیش کو صوبے کی راجدھانی میں قتل کردیا گیا اور پروفیسر بھگوان کو مارنے کی سازش جاری ہے۔ جس مذہب کے ماننے والے اپنے مرتدین  کی جان کے پیچھے پڑے رہتے ہیں ان کے لیے کسی  کو کافر قرار دینا کون سی بڑی بات ہے نیز لنگایت کو کوئی بیرونی قوت کافر نہیں قرار دے رہی ہے بلکہ وہ خود انکار کررہے ہیں  اس لیے پروفیسر صاحب کی منطق ان پر چسپاں ہی نہیں ہوتی۔

 امیت شاہ  جی چونکہ دن رات سیاست اور انتخابات میں غرق رہتے ہیں اس لیے ساون کے گدھے کی طرح انہیں سب کچھ ہرا ہرا نظر آتا ہے  یہی وجہ ہے  کہ انہوں نے اپنی مہم کے آغاز میں دعویٰ کردیا لنگایت سماج ہندو مت سے الگ ہونا ایک  انتخابی  بلبلہ ہے جو اپنے آپ پھوٹ جائیگا۔ اس بلبلے کو اپنے ہاتھوں سے پھوڑنے کے لیے انہوں نے  لنگایت سماج کے سب بڑی عبادتگاہ موروگا مٹھ جانے کا ارادہ کیا لیکن وہاں موجود بیدار مغزمذہبی  رہنماوں نے امیت شاہ کو حیرت کا ایسا  جھٹکا دیا کہ ان کے ہوش اڑ گئے۔ امیت شاہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ سب کو بیوقوف بنا سکتے ہیں اسی چکر میں وہ موروگا مٹھ میں گئے تھے مگر وہا ں سوامی شیو مورتی موروگا راجندر نے امیت شاہ کو ایک میمورینڈم پکڑا دیا جس میں مطالبہ کیا گیا لنگایت سماج کو کرناٹک حکومت کی جانب دیئے گئے اقلیتی درجے کی مرکزی حکومت توثیق کرے۔

اس محضر نامہ کو دیکھ کر شاہ جی کے طوطے اڑ گئے۔ ان کو اپنی دیگر مصروفیات یاد آگئیں  اور وہ ناراض ہوکر  مٹھ سے الٹے پاوں بھاگ کھڑے ہوئے۔ میمورنڈم میں بی جے پی کی جانب سے لگائے جانے والے  اس ا لزام کو مسترد کیا گیا ہے کہ اقلیتی درجہ حاصل کرنے سے سماج میں پھوٹ پڑجائے گی۔ اس تجویز سے عارضی  طور پر ویرشیوا اور لنگایت میں اختلاف  توپیدا ہوا ہے لیکن بالآخر یہ لنگایت سماج کے سارے فرقوں کہ متحد کردے گا۔  اس میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نے اپنی ذمہ داری ادا کردی ہے اب مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ  اپنا کام کرے۔ لنگایت سماج کے سب سے بڑے مٹھ کے اس موقف کے ساتھ ہی کرناٹک میں بی جے پی پر برے دنوں کے بادل چھا گئے۔ لگتا ہے اس بار مہورت غلط نکل گیا۔

کرناٹک انتخاب میں ابھی تقریباً ۴۰ دن کا وقت ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان چالیس دنوں میں امیت شاہ اور مودی جی  کی جگل جوڑی کیا گل کھلاتی ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے امیت جی اپنے ماضی کی غلطی کو دوہراتے ہوئے یوگی ادیتیہ ناتھ کو کرناٹک میں  مہم جوئی کے لیے اتاریں۔ یوگی  کا تجربہ وہ تین ماہ قبل کرچکے ہیں جبکہ انہوں  نے دو عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کرناٹک کے لوگوں کو یاد دلایا  تھاکہ یہ ہنومان کی سرزمین ہے جس  کےمعنیٰ یہ ہوتے ہیں کہ وہ ہنومان کی اولاد ہیں۔ گجرات میں ادیتیہ ناتھ کا بھرپور استعمال کرنے کی کوشش کی گئی یوگی جی نے ۳۵ جلسوں کو خطاب کیا  لیکن جب  ان سےدال نہیں گلی تو مودی جی کو خود دنگل میں آنا پڑا۔ وہاں تو خیر کسی طرح مرتے پڑتے عزت بچ گئی لیکن کرناٹک میں امکان کم ہے۔

بی جے پی کو یاد رکھنا چاہیے کہ ؁۲۰۱۳ کے اندر بی جے پی کی صوبائی حکومت کو بچانے کے لیے مودی جی کو میدان میں اتارا گیا تھا۔ اس وقت وہ گجرات کے وزیراعلیٰ تھے اورجن جن شہروں میں  خطاب کیا تھا ان تمام مقامات پر بی جے پی ہار گئی۔ مودی جی اور یوگی جی میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ وزیراعظم   اپنی تقریر سڑک، بجلی، پانی اور روزگار کی باتیں  بھی کرتے ہیں لیکن یہ یوگی جی کے بس کی بات نہیں  ہے۔ ویسے گورکھپور اور پھولپور کی شکست کے بعد یوگی ادیتیہ ناتھ کا جادو ماند پڑگیا ہے۔ جو شخص خود اپنی اور اپنے نائب وزیراعلیٰ کی نشست نہیں بچا سکا اس سے یہ توقع کرنا کہ وہ ایک اجنبی صوبے میں جاکر کامیابی دلائے گا محض  خام خیالی ہے۔ گجرات  کی عوام اور تریپورہ میں رہنے والے ناتھ سماج کے لوگ تو کم از کم ہندی سمجھتے ہیں جبکہ کرناٹک  کے دیہات میں ہندی سمجھی بھی نہیں جاتی اور جو ترجمہ ہوتا ہے اس کے دلچسپ نمونے ذرائع ابلاغ کی زینت بن چکے ہیں۔

یوگی جی سے قطع نظر امیت جی کسانوں کی بات تو کرتے ہیں مگر اس کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔ انہوں نے حال میں کہہ دیا کہ ہماری حکومت والے صوبوں میں کسان نجی مسائل سے تنگ آکر سب سے کم خودکشی کرتے ہیں جبکہ حکومتی اعدادو شمار کے مطابق  سرفہرست پانچ صوبوں میں سے تین مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور آندھرا پردیش میں  بی جے پی اور اس کی حامی سرکار ہے صرف کرناٹک اور کیرالہ ایسے صوبے ہیں جہاں کانگریس اور کمیونسٹ  پارٹی کی حکومت ہے۔ امیت شاہ تو خیر غیر ذمہ دار آدمی ہے لیکن وزیر خزانہ ارون جیٹلی  نے آندھرا پردیش کے بارے میں کہہ دیا کہ وہاں مرکزی حکومت کی امداد کا استعمال صرف ۱۲ فیصد ہوا حالانکہ حقیقت میں ۹۰ فیصد سے زیادہ خرچ ہوچکا ہے۔ اب کوئی جھوٹ ہی  بولنے پر تل جائے تو اس کی زبان کو کیسے پکڑا جائے؟

مسلمانوں کے اعتبار سے دیکھا جائے تو گجرات کے اندر ان کی آبادی کا تناسب ۶۷ء۹ فیصد ہے مگر کرناٹک میں وہ ۹۲ء۱۲ فیصد ہیں۔ کرناٹک کے ماحول میں فرقہ واریت کا زہر گجرات کے مقابلے میں بہت کم ہے۔جملہ ۲۲۵ میں سے ۳۵ حلقۂ انتخاب ایسے ہیں جہاں  مسلمانوں کی آبادی ۲۰ فیصد یا اس سے زیادہ ہےایسے میں مسلم ووٹ کو پوری طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ جنتادل ایس  مسلمانوں کو اپنی جانب راغب کرنے کوشش میں مصروف ہے  اور بے قصور گرفتار شدہ مسلم نوجوانوں کی رہائی کا یقین دلا رہی ہے۔ اسی کے ساتھ ان کی کوشش ہے کہ بہوجن سماج اور این سی پی کی طرح اتحاد المسلمین کے ساتھ بھی الحاق کرلیا جائے۔ اس معاملے انہیں کتنی کامیابی ہوتی ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے اس لیے کہ کانگریس والے جنتا دل ایس کو بی جے پی کی بی ٹیم کہہ چکے ہیں۔

کرناٹک میں مسلمانوں کے ایک متحدہ محاذ میں تبلیغی جما عت، جماعت اسلامی ہند، جمیعت اہلحدیث  اور اہل تشیع تنظیمیں شامل ہیں۔ اس محاذ نے فرقہ پرستوں کے خلاف بیداری مہم شروع کردی ہے۔ متحدہ محاذ سارے حلقۂ انتخاب میں ایسے امیدواروں کی شناخت کا کام کررہا ہے جو فرقہ پرستوں کے مقابلے  امن پسند ہوں۔  اس  کی انتظامیہ کے رکن اور کرناٹک مسلم نامی ہفت روزہ کے مدیر  تنویر احمد کا کہنا ہے کہ  بی جے پی کے لیے مسلم نواز جماعتوں  کی سرپرستی فائدہ بخش ہوتی ہے۔ محاذ نہیں چاہتا کہ اتر پردیش کی طرح  کرناٹک میں بھی مسلم ووٹ تقسیم ہو۔ ویسے سبرامنیم سوامی جیسے احمقوں کا خیال ہے کہ طلاق ثلاثہ بل  کے سبب بڑی تعداد میں مسلم خواتین بی جے پی کو ووٹ دیں گی۔ ایسا لگتا ہے کہ ڈاکٹر سوامی کو ہندوستان بھر میں ہونے مسلم خواتین کے جلوس نظر نہیں آتے؟ ورنہ وہ ایسا احمقانہ  دعویٰ کبھی نہیں کرتے۔

بی جے پی کے اندر پائی جانے والی حالیہ بوکھلاہٹ  کی وجہ سی فور  نامی ادارے کا حالیہ کا  جائزہ ہوسکتا ہے جسے امبانی کے ٹی وی ۱۸  چینل نے نشر کردیا۔ اس  جائزے کے مطابق کانگریس کو ۱۲۶ نشستوں پر کامیابی ملے گی۔ اس میں شک نہیں کہ یدورپاّ کی واپسی سے بی جے پی کا فائدہ ہوگا اور اس کو ؁۲۰۱۳ کے ۴۰ نشستوں کے مقابلے ۷۰ انتخابی حلقوں میں  فتح حاصل ہوگی۔ دیوے گوڑا کی جنتا دل (ایس) جس نے پاسباں بھی خوش رہے راضی رہے صیاد بھی والی حکمت عملی اپنا رکھی ہے ۴۰ سے ۲۷ پر اترجائے گی۔ ان نتائج کا تعلق لنگایت مسئلے سے نہیں ہے اس لیے کہ پچھلے سال اگست میں  جب  سی فور والوں نے سروے  کیا تھا تو ان کا اندازہ تھا کانگریس کو ۱۲۰ تا ۱۳۲ کے درمیان اور بی جے پی کو ۶۰ تا ۷۲ کے درمیان سیٹیں ملیں گی۔ جنتا دل کے لیے ۲۴ سے ۳۰ کی پیشن گوئی تھی۔ ان اندازوں کا  موازنہ   سےمحسوس ہوتا کہ عوام کی رائے مستحکم ہے اور اس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔

سی فور کا دعویٰ ہے کہ ؁۲۰۱۳ کے انتخابات میں اس نے اندازہ لگایا تھا کانگریس کو ۱۱۹ تا ۱۲۰ نشستوں پر کامیابی ملے گی جبکہ کانگریس کے ۱۲۲ ارکان اسمبلی کامیاب ہوئے۔ اس بار وہ کہہ رہے ہیں کہ کانگریس کے ووٹ کا تناسب ۳۷ فیصد سے بڑھ کر ۴۶ تک پہنچ جانے کا امکان ہے جو قابل لحاظ اضافہ ہے۔ اس جائزے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کرناٹک کی ۴۸ فیصد خواتین کانگریس کے ساتھ ہیں اور بی جے پی کو ووٹ دینے کا ارادہ صرف ۲۹ فیصد خواتین کا ہے۔ یہ تو فطری بات ہے کیونکہ مودی جی کو اپنی ہندو بہنوں کا سرے سے کوئی خیال ہی نہیں ہے۔ وہ تو دن رات مسلمان خواتین اور ان میں سے بھی یکلخت تین طلاق پانے والی مٹھی بھر خواتین کے غم میں دبلے ہوئے جارہے ہیں۔ ایوان بالا میں بڑے دنوں بعد حاضری دینے کے بعد انہوں کہا سبکدوش ہونے والے ارکان کو افسوس ہوگا کہ جس وقت طلاق ثلاثہ کا قانون پاس ہوگا تو وہ موجود نہیں ہوں گے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستانی پارلیمان کے پاس سے اس کے سوا کوئی کام ہی نہیں ہے۔ ہزاروں کروڈ کا بجٹ بغیر کسی بحث و مباحثے کے پاس ہوگیا۔ ۱۶ دنوں تک لوک سبھا میں شورو غل سے سواکوئی کام نہ ہوسکا اس کا وزیراعظم کو کوئی افسوس نہیں ہے لیکن اگر دکھ ہے تو طلاق ثلاثہ کے قانون کو نافذ نہیں کرنے کا۔ مودی جی کے اس حماقت خیز موقف کی سزا ان کو نہ صرف مسلمان خواتین بلکہ ہندو خواتین بھی دیں گی۔

ٹی وی ۹۔ سی ووٹر کی جانب سے کیے گئے جائزے کے مطابق  بھی کانگریس ہی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی اور اسے ۱۰۲ حلقہ ہائے انتخاب میں کامیابی ملے گی جبکہ بی جے پی ۹۶ اور جنتادل ایس کو ۲۵ مقامات پر کامیاب ہو سکے گی۔ اس طرح جنتادل ایس کو کنگ میکر کی ذمہ داری ادا کرنے کا موقع مل جائے گا اور وہ جس کے ساتھ چاہے گی  حکومت میں شامل ہوجائیگی۔ فائنانشیل ایکسپریس کا جائزہ ان دونوں سے خاصہ مختلف ہے۔ اس میں جنتا دل ایس کو ۶۴ سے ۶۶ مقامات پر کامیابی کی نوید سنائی گئی ہے۔ جبکہ کانگریس ۷۷ سے ۸۱ اور بی جے پی ۷۳ سے ۷۶ پر ہیں۔ جنتا دل ایس نے اس بار بہوجن سماج پارٹی اور این سی پی کے ساتھ الحاق کیا ہوا ہے۔

 کانگریس کے لیے  یہ اتحاد مشکلات پیدا کرسکتا ہے اس لیے کہ این سی پی اور بہوجن سماج پارٹی کی وجہ سے گجرات میں کانگریس کو ۱۲ نشستوں پر شکست ہوئی۔ کانگریس والے اگر ان جماعتوں کو ساتھ لینے میں کامیاب ہوجاتے تو بعید نہیں کہ گجرات میں کانگریس کی حکومت ہوتی اس لیے کہ فرق صرف ۲۲ نشستوں کا تھا۔ اگر بی جے پی ۱۲ کم ہوجاتی تو وہ ۸۸ پر آجاتی اور کانگریس  ۸۹ پر پہنچ سکتی تھی۔ ان تینوں جائزوں  میں کانگریس سب سے اوپرتو ہے لیکن اگر وہ پنجاب کی طرح واضح اکثریت لانے میں ناکام ہو جاتی ہے توامیت جی  دولت کے بل بوتے پر  کم نشستوں  کے باوجود چور دروازے  سے حکومت بنانے کی کوشش ضرور کریں گے اور اپنے وسیع و عریض تجربے کی روشنی میں کامیاب  بھی ہوسکتے ہیں۔ انتخابات  کے بارے میں ابھی سے یہ کہنا مشکل ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے اس لیے کہ’’ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے‘‘ لیکن ایک بات یقینی ہے کہ یہ دہلی کے اصلی بادشاہ کی یہ  خوبصورت پارٹی   بہت دلچسپ ہوگی۔ کرناٹک کے اس ناٹک میں  کون ڈانس کرے گا اور کون بھینس چرائے گا اس کا فیصلہ ۴۰ دن بعد ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close