آج کا کالم

ہیروشیما کی کہانی، فتح کی کہانی نہیں ہے

رویش کمار

میری پیدائش امریکہ میں ہوئی اورمیں وہیں پلا بڑھا۔ میری تعلیم امریکہ کے ایک اسکول میں ہوئی اور انگریزی زبان میں مجھے یہ بار بار بتایا گیا کہ جنگ میں جوہری بم کا گرنا ضروری تھا اور مناسب بھی۔ اس وقت مجھے پكادون لفظ نہیں معلوم تھا۔ میں ایٹومك بم یعنی جوہری بم اور نیوکلیئر ویپن یعنی جوہری ہتھیار جیسے الفاظ کا استعمال کرتا تھا۔ کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں جاپان آیا اور جاپانی زبان میں تعلیم حاصل کی۔ چند سال بعد جب میں پہلی بار ہیروشیما گیا، تب امن یادگاری میوزیم میں جوہری بم سے متاثر ہوئے لوگوں کی باتیں سنیں اور وہیں پكادون سے میری ملاقات ہوئی۔

 آرتھر بنارڈ کو ہم کس طرح جانیں گے۔ انہیں کے بیان کا یہ حصہ ہے. نیویارک کا یہ طالب علم جب جاپان گیا تو جاپانی زبان میں ادب تخلیق کرنے لگا. مدھیہ پردیش کے ایكلویہ اشاعت نے ان کی شاعری کے مجموعہ کا ہندی ترجمہ شائع کیا ہے۔ 100 روپے کی اس پتلی سی کتاب کا نام ہے ‘میں ڈھونڈ رہا ہوں۔ www.eklavya.inپر اس کتاب کے بارے میں معلومات مل جائے گی۔ بہر حال، ہم سب نے پكادون لفظ تو سنا ہے مگر پكادون تو ہم بھی نہیں جانتے تھے. آرتھر بنارڈ نے بتایا ہے کہ جاپانی زبان کے اس لفظ کا انگریزی میں کوئی مطلب نہیں ہے۔ جوہری بم کا یہ جاپانی نام ہے. دو الفاظ کے میل سے بنا ہے۔۔’پیکا’ یعنی تیز دھماکہ اور ‘دون’ یعنی دھڑام کی آواز۔

 سوا لاکھ سے بھی زیادہ افراد جوہری دھماکے میں بھاپ بن کر اڑ گئے۔ اتنی تیز گرمی تھی کہ راخ کے بھی نشان نہیں ملے۔ گزشتہ ماہ جب میرے ہاتھ یہ کتاب آئی، اس وقت ٹی وی پر کچھ دانشوران اور اینکر مل کر بول رہے تھے کہ ہندوستان کو جوہری بم کا استعمال کرنا چاہئے۔ آخر یہ کس دن کے لئے ہے۔ ایک دانشور نے یہ کہہ دیا کہ 50 کروڑ ہندوستانی مر جائیں گے تو مر جائیں۔ جو بچیں گے، وہ مضبوط بھارت بنا لیں گے۔ پاکستان کے لیڈر بھی جوہری حملے کی دھمکی دینے لگے۔ کسی ملک کے تئیں طاقت کا استعمال کرنا، اپنی عزت نفس کی لکیرکو گہرا کرنا ایک بات ہے، لیکن اس عمل میں ایٹم بم کے استعمال کی کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ ہونی چاہئے۔

 ٹی وی کے دانشور یہ بھول گئے کہ جو لوگ بچیں گے، ان کا جوہری اثرات سے کیا حال ہوگا. جوہری حملہ بڑی تباہی لاتا ہے، ہار یا جیت نہیں لاتا. جوہری حملے میں فتح بھی شکست ہوتی ہے۔ اتنی سی بات نہیں سمجھ آتی ہو تو آپ یہ کتاب پڑھ سکتے ہیں۔ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں ختم ہو جائے گی اور آپ کے اندر انسانیت بچی ہوگی تو آپ کبھی جوہری حملے کی بات نہیں کریں گے۔

 آرتھر نے وہاں کے عجائب گھروں میں حملے کی تباہی کے بعد بچےسامانوں کو دیکھ کر بے حد دل چھولینے والی شاعری لکھی ہے. آرتھر حملہ وار ملک امریکہ کے شہری ہیں، مگر وہ ادب اسی زبان میں تخلیق کرتے ہیں، جسے بولنے والے لاکھ سے بھی زیادہ افراد جوہری حملے میں راکھ ہو گئے۔ کتاب میں ان سامانوں کی تصویر ہے اور تصویر کے سامنے ایک شاعری. ایسی ہی ایک تصویر ہے چابی فلیکس کی اور اس کے سامنے یہ نظم،

کھٹ سے کھول دیا،

کھٹ سے بند کیا،

کھٹ کھٹ کھٹ کھٹ،

یہ ہی ہمارا روز کا کام تھا

جاپانی فوجی ہمیں اٹھاتے

اور تالے میں داخل کر کھٹ سے گھما دیتے

ایک بھاری بھرکم دروازہ کھلتا

اور امریکی فوجی کو ایک تنگ کمرے میں دھكیل كر

کھٹ سے … دروازے پر پھر تالا جڑ دیا جاتا

امریکی فوجی قید تھے

جاپانی فوجی انہیں قید کر نگرانی میں رکھتے تھے

6 اگست کی صبح ایک امریکی هوائی جہاز نے

ہیروشیما پر یورینیم بم گرایا

تیز بھڑکی آگ میں

امریکی جو قید تھے

اور جاپانی جنہوں نے انہیں قید کیا تھا

تمام فوجی ہلاک

لوگوں کو کیوں قید کیا جاتا ہے؟

یورینیم کو قید کیا جانا چاہئے۔۔۔

اب ہم نئے کام کی تلاش میں ہیں۔

کتاب کے آخر میں کچھ سامان کے ساتھ تفصیلات دی گئی ہیں۔ ایسی ہی ایک تفصیل میں لکھا ہے کہ 6 اگست کی صبح سمی تومو بینک کے ہیروشیما برانچ کی داخلی سیڑھیوں پر کوئی بیٹھا تھا۔ وہ انتہائی گرم ہوا اور تیز شعاؤوں سے اسی لمحہ بھاپ ہو گیا اور اس کے سائے کا نشان ہی سیڑھی پر رہ گیا. ایک اور وضاحت کے مطابق، اس دن ایک طالب علم جھلستی حالت میں گھر کی طرف بھاگا۔ مشکل سے وہ اپنی ٹوپی ہی اتار سکا تھا تب تک اس کے کپڑے اس کی چمڑی سے چپک گئے تھے۔ اس کی ماں نے قینچی سے كاٹ- کاٹ کر بہت مشکل سے انہیں اتارا۔ اس کے زخموں میں کیڑے پڑنے لگے۔ ماں کو بچے کے تن سے ایک ایک کر ان کیڑوں کو نکالنا پڑا۔ آخر میں وہ بچ نہیں سکا۔

غور کریں، وہ اینکر اوردانشور ہمارا کتنا خیال رکھتا ہے. اس نے 50 کروڑ ہندوستانیوں کے لئے ایسی موت کی خواہش کی، کیونکہ وہ ایک دہشت گرد حملے سے ناراض تھا۔ ٹی وی میں بیٹھ کر وہ حکومت کو للکار رہا تھا کہ اس میں مردانگی بچی ہے تو وہ ایسا ہی کرے. ہیروشیما کی کہانی کسی جیت کی کہانی نہیں ہے۔ دنیا اسے جیت کے لئے یاد نہیں کرتی۔ جوہری حملے کی بات کرنے والے لوگ پاگل ہوتے ہیں ۔۔۔ پاگل ہوتے ہیں۔ انہیں بھی ایسی نظمیں پڑھنی چاہئے، تاکہ پتہ چلے جو ان کی طرح پاگل نہیں ہیں، وہ کیوں پاگل نہیں ہیں۔

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close