آج کا کالم

یدورپاّ: بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے

فسطائیت کے غرور و تکبر کو ملیا میٹ کرنے کے لیے مشیت ایزدی کا ایک کوڑ ا کافی ہوگیا۔

ڈاکٹر سلیم خان

فسطائیت کے غرور و تکبر کو ملیا میٹ کرنے کے لیے مشیت ایزدی  کا ایک کوڑ ا کافی ہوگیا۔ اسی کے ساتھ رب کائنات نےراہل گاندھی کی بیدار مغز سیاسی حکمت عملی سے نواز دیا۔ پنجاب کی مانند  کرناٹک میں  بھی اگر کانگریس کو  اکثریت حاصل ہوجاتی تو لوگ کہتے عوام نے مودی  جی کو ہرا دیا۔   کرناٹک میں اگر بی جے پی حکومت سازی کا دعویٰ ہی نہیں کرتی تو لوگ کہتے کمار سوامی نے شاہ جی کو شکست دے دی لیکن بی جے پی نے حکومت بنانے کے لیے اپنا تن من دھن جھونک کر راہل گاندھی کو سیاسی  داوں پیچ دکھانے کا موقع فراہم کر دیا۔ شاہ جی کو  انتظامیہ کی طاقت اوردھن  دولت پر بھروسہ تھا۔ راہل گاندھی نے سیاست اور عدالت کی مدد سے مقابلہ کرکے شاہ جی کو مات دے دی۔

قیادت کی سب سے  اہم صفت قوت فیصلہ ہوتی ہے۔ سیاسی فیصلے جس سرعت سے کیے جاتے ہیں اتنے ہی موثر  ثابت ہوتے ہیں ۔   کرناٹک میں دوسری بڑی پارٹی ہونے کے باوجود  راہل  کو  اقتدار سنبھالنے  کا خیال تک نہیں آیا۔ انہوں نےاپنی حکومت  بنانے کے لیے جوڑ توڑ کرنے کے بجائے بی جے پی کو روکنے کی حکمت عملی بنائی اور بلا جھجک  کمار سوامی کو زیر اعلیٰ کی کرسی پیش کردی۔ راہل نے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا کہ اس کے سبب سدھارمیاّ یا دوسرے کانگریسی بغاوت کرکے بی جے پی سے جاملیں گے۔ کمار سوامی کی جنتا دل (ایس) تیسرے نمبر پر تھی اس لیے کانگریس اگران کو نائب وزیراعلیٰ کے عہدے کی پیشکش کرتی تو وہ بڑے مزے سے یدورپاّ کے نائب بن جانے کو ترجیح دیتے اور کانگریسی ہاتھ ملتے رہ جاتے۔ایسا کون بے وقوف ہوگا جو وزیراعلیٰ کے عہدے پر کسی کا نائب بن جانے کو فوقیت دے۔ یہ پہلی کامیاب چال تھی۔

اس بار کانگریس نےمقامی  رہنماوں کو گفت و شنید کے لیے  دہلی نہیں بلایا    گیابلکہ ایوان بالا اور زیریں  میں  کانگریسی لیڈروں ک مہم کی نگرانی  کے لیے بنگلورو روانہ کردیا گیا۔ میدان عمل میں  کانگریس کے سب سے زیادہ دولتمند ووکا لیگا لیڈر  شیوکمار کی خدمات حاصل کی گئیں ۔ ان کے پاس دولت کی فراوانی ہے اور وہ دیوے گوڑا کے ذات بھائی بھی ہیں اس لیے اعتماد کی بحالی میں مدد ملی۔ کانگریس کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنی بھیڑوں کو مجتمع رکھنے کا تھا۔ یہ کام بھی شیوکمار نے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ کیا اور انہوں نےسب کو پہلے بنگلورومیں  اپنے ریسارٹ  اور پھر حیدرآباد میں رکھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ  نہ صرف کانگریس بلکہ جنتا دل ایس کا بھی کوئی رکن اسمبلی نہیں ٹوٹا۔  جو دو ارکان غائب ہوگئے تھے وہ بھی آخری وقت میں لوٹ آئے۔

دولت کے استعمال میں وقت درکار ہوتا ہے اس کو زائل کرنے کے لیے کانگریس نے عدالت کے دروازے پر دستک دی۔ حزب اختلاف کی  درخواست غالباً پہلی بار رات بارہ بجے بنچ کی تشکیل اور ۲ تا ۵ کے درمیان  سماعت ایک غیر معمولی کامیابی تھی۔ اس بار عدالت عالیہ  نے عدل و قسط  کی لاج رکھتے ہوئے امیت شاہ کی ایک نہیں چلنے دی۔ ۱۵ دن کی مدت کو گھٹا کر ۲ دن کیا اورگورنر کے ذریعہ رکن اسمبلی کی نامزد گی مسترد  کردی نیز خفیہ ووٹنگ کی اجازت بھی نہیں دی۔ گورنر وجو بھائی  نے بدنام ترین  بوپیاّ کو پروٹم اسپیکر بنادیا تاکہ رائے شماری میں گھپلے بازی کی جائے لیکن اس کی نوبت ہی نہیں آئی۔ ایوان میں رونے دھونے کے بعد یدورپاّ نے ازخود استعفیٰ دے دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ شاہ جی  نےاپنی شان بڑھانے کے لیے یدورپاّ کو بلی کا بکرابنا یا۔ وہ آخری وقت تک ہاتھ پیر مارتے رہے اوربالآخر رسوا ہوکر گھر لوٹ گئے۔ شاہ جی اور یدورپاّ کی حالت پر یہ شعر صادق آتا ہے؎

شکست و فتح میاں اتفاق ہے لیکن 

  مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close