آج کا کالم

یوروپی یونین کو لے کر برطانیہ میں دو مختلف رائیں

رویش کمار

برطانیہ کو یوروپی یونین میں رہنا چاہئے یا نکل جانا چاہئے اسے لے کر برطانیہ میں پولنگ شروع ہو گئی ہے. 4 کروڑ 65 لاکھ سے زائد ووٹر اس ریفرنڈم میں حصہ لے رہے ہیں. کہیں پولنگ زوروں پر ہے، کہیں سست ہے. 24 جون کو اس ریفرنڈم کے نتائج آنے والے ہیں. یوروپی یونین کے 27 رکن ممالک کے کروڑوں شہریوں کی نگاہیں برطانیہ میں چل رہے پولنگ پر ٹکی ہیں کہ یونین کا 28 واں رکن عظیم برطانیہ کیا فیصلہ کرتا ہے. 2014 کے سال میں بھی ایک ایسا ہی ریفرنڈم ہوا تھا، جب یہ سوال تھا کہ اسکاٹ لینڈ کو برطانیہ سے الگ کر دیا جانا چاہئے یا نہیں. اس کا فیصلہ تو برطانیہ میں رہنے کے حق میں آیا لیکن یوروپی یونین کے بارے میں کیا فیصلہ ہوگا.

برطانیہ کی تاریخ کا یہ تیسرا کل ملکی ریفرنڈم ہے. چار ماہ سے وہاں سیاسی جماعتوں سے لے کر طرح طرح کی سماجی مذہبی تنظیمیں مہم چلا رہی ہیں. کوئی يوروپی یونین سے نکلنے کا حمایتی ہے تو کوئی بنے رہنے کے حق میں. انہیں انگریزی میں لیو کمپین اور ریمین کمپین کہا جا رہا ہے. جمعرات کی صبح تک پولنگ ہوگی اور اس کے بعد نتائج آئیں گے. جسے بھی پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ ملے گا وہی فیصلہ ہوگا. نتیجہ کیا ہوگا اسے لے کر وہاں کا میڈیا بھی بھارتی میڈیا کی طرح كسرت باز ہو گیا ہے.

پوری مہم کے طرح طرح کے سوالات کو صرف ہاں یا ناں میں سمیٹ کر سروے کئے جا رہے ہیں اور دکھائے جا رہے ہیں. جیسے ہندوستان میں انتخابات ہوتے ہیں ہم میڈیا والے اب دیگر مسائل کو چھوڑکر کون بنے گا وزیراعظم یا کون بنے گا وزیر اعلی کرنے لگتے ہیں. اسی میں انتخابات گزر جاتے ہیں۔ بیچ بیچ میں دو چار اسٹنگ آپریشن اور دل بدلو رہنماؤں کی خبریں انتخابی مارکیٹ میں چھا جاتی ہیں.

برطانوی میڈیا کے بھی کئی طور دیکھنے کو مل رہے ہیں. یہ میں اس لیے بتا رہا ہوں تاکہ آپ ایک مشاہد اور جمہوریت کے حصہ دار کے طور پر سمجھ سکیں کہ میڈیا آپ کے جمہوری کردار کو کس طرح تبدیل کر رہا ہے. وہ کیسے اپنے تمام سروے کے ذریعہ آپ کو ہاں یا ناں کے کھانچے میں سمیٹ رہا ہے. جمہوریت میں آپ طے نہیں کر رہے ہیں، میڈیا آپ کو طے کر رہا ہے. آپ کو گڑھ رہا ہے. الیکشن آتے ہی میڈیا آپ کو ایک مصنوعی شہری میں بدل رہا ہے.

مجھے نہیں معلوم کہ آپ کو ان باتوں سے فرق بھی پڑتا ہے یا نہیں. تو حضرات اوپینین پول کا سیلاب آیا ہوا ہے برطانیہ میں. کسی میں یوروپی یونین سے باہر ہونے کی جیت ہے تو کسی میں بنے رہنے والوں کی جیت ہے. دونوں کے درمیان ووٹوں کا فاصلہ بہت کم ہے. وہاں کا بھی دایاں بازو میڈیا بے تکے قوم پرستی کے سوالوں کو اٹھا رہا ہے تو اعتدال پسند میڈیا مسائل کے تنوع کو سامنے نہیں لا پا رہا ہے.

برطانیہ بے چینی سے گزر رہا ہے. اس کی بے چینی اتنی کیوں بڑھ گئی کہ اسے یوروپی یونین سے الگ ہونے کے لئے ریفرنڈم کی طرف بڑھنا پڑا. اگر برطانیہ یوروپی یونین میں رہتا ہے تو کیا چھوڑ کر کے فریقین کے سوالات ختم ہو جائیں گے. سوالات کیا ہیں. اس سے پہلے ایک بات یہ جان لیجئے کہ دنیا میں کساد بازاری چل رہی ہے. برطانیہ میں بھی مندی چل رہی ہے. یہ کساد بازاری بے روزگاری لاتی ہے اور زندگی کی رفتار کو سست کر دیتی ہے. نتیجہ ہم سب کی توجیہ تو ہوتی ہے مگر توجیہ کرنے کے طریقے اتنے مہلک طریقے سے بدل جاتے ہیں کہ کئی بار جمہوریت ہی خطرے میں پڑنے لگتی ہے.

امریکہ میں آپ نے دیکھا ہوگا ڈونلڈ ٹرمپ ان بے چینيوں کے بہانے کس طرح کی جارحانہ باتیں کر رہے ہیں. وہ کبھی کہنے لگتے ہیں کہ مسلمانوں کو امریکہ میں گھسنے نہیں دیں گے تو کبھی کہتے ہیں کہ امریکی ملازمتوں پر بیرونی لوگوں کا حق نہیں ہوگا. لوگ یہ بھی نہیں دیکھ پاتے کہ ٹرمپ جیسے لیڈر مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے لئے ایک ہی بات کہہ رہے ہیں. نیویارک ٹائمز میں خبر ہے کہ ہلیری کلنٹن نے تسلیم کیا ہے کہ امریکی معیشت افراتفری کا شکار ہو گئی ہے. صرف وہ ہی لوگوں کی مایوسی کو اپنی پالیسیوں سے بدل سکتی ہیں. ہلیری کہتی ہیں کہ واشنگٹن کی بیوروکریسی اور کارپوریٹ کو تبدیل کرنا آسان نہیں مگر کوشش کریں گی.

کیا واقعی آج کی دنیا میں کوئی لیڈر ہے جو کارپوریٹ کو بدل دے. کارپوریٹ ہی تو لیڈر پیدا کر رہے ہیں تو انہیں کون پیدا کرے گا. مالی بحران کے وقت بیوروکریسی کھلنایک بن جاتی ہے. اسے زیرعمل لانے کے لئے مضبوط لیڈر کا مطالبہ ہونے لگتا ہے. دنیا میں بہت سے مضبوط لیڈر آئے اور گئے مگر موجودہ اقتصادی پالیسی سے طویل وقت تک کے لئے اقتصادی استحکام نہیں لا سکے. اقتصادی اچھال اب بہت دنوں تک نہیں ٹكتا. ایک ملک میں نہیں ٹكتا ہے. کیا اوباما کمزور لیڈر ہیں. نظام معیشت رہنماؤں کی لیاقت سے نہیں چلتا ہے. ہلیری کلنٹن نے یہ نہیں کہا کہ وہ طالب علموں کے قرض معاف کریں گی لیکن اس بات کی یقین دہانی کریں گی کہ طالب علم جب کالج سے پاس کریں تو ان پر قرض کا بوجھ نہ رہے. کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ آپ  ریاضی میں فیل بھی ہیں تو دماغ لگايے. اگر تعلیم مکمل طور پر بازاری ہو جائے گی تو مہنگی فیس کی مار سے آپ اور ہم کس طرح بچیں گے. جب امریکہ کا امیر معاشرہ نہیں بچ سکا توہندوستان کا غریب معاشرہ کیسے بچ جائے گا. رام دیو کی جڑی بوٹیوں سے یا ہمدرد کی یونانی ادویات سے. ہلیری کلنٹن کہہ رہی ہیں کہ جملےبازی یا چمکدار نعروں سے کہیں زیادہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے. اس کے لئے تجربہ کی ضرورت ہے. احتیاط سے دیکھیں گے تو ان کی یہ باتیں بھی جملے سے کم نہیں ہیں. ہلیری کلنٹن نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ٹیکس قوانین کا استعمال کرکے ان کمپنیوں پر نگاہ رکھیں گی جو اپنا کام بیرونی ممالک میں بھیج دیتے ہیں، جس سے وہاں کے لوگوں کو روزگار ملتا ہے امریکی کو نہیں.

گلوبل دنیا میں ہر دوسرا بڑا ملک ملازمتوں کے سوال سے برسرپیکار ہے. جو بات امریکہ میں ہو رہی ہے وہی بات برطانیہ میں ہو رہی ہے. یوروپی یونین سے نکلنے کے پیچھے برطانیہ کی سست معیشت اور بے روزگاری بھی بڑی وجہ ہے. برطانیہ کے شہریوں کو لگتا ہے کہ یوروپی یونین کے ممالک کے شہری ان کے روزگار کھا جا رہے ہیں، برطانیہ میں رہنے والے بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش سے گئے شہریوں کو لگتا ہے کہ یوروپی یونین کی وجہ سے ان لوگوں کو نوکریاں نہیں مل رہی ہیں. کوئی اقتصادی پالیسی کے کھوٹ کو نہیں سمجھ رہا، کوئی نوکرشاہی میں دوا تلاش کر رہا ہے تو کوئی یوروپی یونین سے نکلنے میں دوا تلاش کر رہا ہے.

16 مئی 2016 کو انڈیپینڈنٹ اخبار نے ایک مضمون شائع کیا تھا. برطانیہ میں 2013 سے 2016 کے درمیان غربت میں اضافہ ہوا ہے. غربت 15.6 فیصد سے بڑھ کر 16.8 فیصد ہو گئی ہے. یوروپی یونین کے ممالک کے مقابلے میں برطانیہ میں غربت بہت زیادہ ہے. برطانیہ میں یونیورسٹی سے پاس ہونے والے طالب علموں پر یوروپی یونین کے ممالک کے طلباء کے مقابلے میں بہت زیادہ قرض کا بوجھ ہے. 2015 میں ہر طالب علم پر اوسط قرض 44,500 یورو ہے. بھارتی روپے میں اس کا حساب کریں گے تو بے ہوش ہی ہو جائیں گے. ایک طالب علم پر چواليس لاکھ روپے کا قرض ہوتا ہے جب وہ یونیورسٹی سے پاس کرتا ہے. نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، امریکہ کے طالب علموں سے بھی زیادہ قرض برطانیہ کے طالب علموں کا ہے. یہ ہے تعلیم کے پرائیویٹائزیشن کا نتیجہ. حکومتیں عوام کے پیسے سے اسلحے کی خریدو فروخت کی تجارت میں لگی ہیں اور اس کا نوجوان قرض کا بوجھ لیے نکل رہا ہے. برطانیہ میں عدم مساوات بڑھ رہی ہے. عدم اطمینان بڑھ رہا ہے. لہذا اس ریفرنڈم کو ایک نظریے یا ایک چشمے سے دیکھنا ٹھیک نہیں رہے گا.

ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ مزدور طبقہ کیا سوچ رہا ہے. نوجوان کیوں ایسا سوچ رہے ہیں. خواتین کیوں یوروپی یونین سے نکلنے کی باتیں کہہ رہی ہیں. کچھ ووٹوں کے فرق سے بھلے برطانیہ یوروپی یونین میں رہ جائے مگر جو سوالات اٹھ رہے ہیں کیا ان کا جواب یہ ریفرنڈم دے رہا ہے. بحران ہے لیکن اس بحران کے بہانے کچھ لیڈر ایسی باتیں کہہ رہے ہیں جن کا حل سے کوئی تعلق نہیں. صرف یوروپی یونین سے نکل جانے کا فیصلہ مایوسی یا فوری طور پر غصے کو ٹھنڈا کر سکتا ہے مگر حل کیا ہوگا اس کا کوئی بلیو پرنٹ کسی کے پاس نہیں ہے.

برطانیہ میں امیرہی امیر ہوتا ہے جیسا ہندوستان میں ہوتا ہے جیسا امریکہ میں ہو رہا ہے. انڈیپینڈنٹ اخبار میں انسٹی ٹیوٹ آف فسکل اسٹڈی کی ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کے مطابق اگر ایک امیر اور ایک عام بیک گراونڈ کے طالب علم، ایک ہی یونیورسٹی سے، ایک ہی کورس سے ڈگری لے کر نکلتے ہیں تب بھی امیر طالب علم زیادہ پیسے کما رہا ہوتا ہے عام طالب علموں کے مقابلے. حالت یہ ہے کہ لڑکیاں اسکول سے لے کر کالج میں بہتر کارکردگی کرتی ہیں وہ بھی لڑکوں کے مقابلے میں کم کما رہی ہوتی ہیں. ہم ریفرنڈم جیسے وقت میں ان وجوہات کی پڑتال کیوں نہیں کرتے ہیں.

دوسری طرف کیا اس مسئلے کے بہانے ہم اس گلوبل دور میں قوم پرستی کے تصور کو لے کر نئے سرے سے سوچ سمجھ سکتے ہیں. یوروپی یونین چاہے جتنا کارگر ہو یہ ایک کارپوریٹ قوم پرستی ہے جو رکن ممالک کے عوام کے تئیں جوابدہ نہیں ہے. رکن ملک اپنے منتخب ہوئے ارکان میں سے کچھ کو یوروپی یونین میں بھیجتے ہیں. یونین کا ایک صدر ہوتا ہے اور کابینہ بھی. ایک قسم کی عالمی حکومت تو ہے ہی کیونکہ اس کے بنائے سینکڑوں قوانین رکن ممالک پر لاگو ہوتے ہیں.

یوروپی یونین اگرچہ تجارت کرنے کی عملی پریشانیوں کو حل کرتا ہو لیکن کیا یہ جمہوری مطالبات کی نمائندگی کرتا ہے. کیا ان سوالات کے مد نظر ریفرنڈم کے پیچھے چھپے اسباب کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے. کیا اس کی وجہ سے ثقافتی اور کمیونٹی شناخت کی دشواریاں کچھ الگ طرح سے ابھر رہی ہیں. یورپ کے اندر علیحدگی پسند تحریک اس ریفرنڈم کو مختلف طریقوں سے دیکھ رہی ہے. جیسے كاٹالونيا اسپین سے الگ ہونا چاہتا ہے. وہاں کے علیحدگی پسند چاہتے ہیں کہ برطانیہ یونین سے نکلنے کا فیصلہ کرے. اسپین دھمکی دے رہا ہے کہ اگر برطانیہ نکلا تو اس کے شہریوں پر منفی اثر پڑے گا جو یوروپی یونین کے مختلف ممالک میں کام کر رہے ہیں.

ایک دلچسپ مشق تو ہے ہی یہ ریفرنڈم. ہندوستان جیسے ملک میں دو چار تنظیموں کے احتجاجی مظاہروں سے قوم پرستی اور خود مختاری کے سوال طے کئے جا رہے ہیں. برطانیہ میں کروڑوں لوگ ووٹنگ کے ذریعہ اس سوال کا سامنا کر رہے ہیں.ہندوستان کے لوگ جو لندن جانے کا خواب دیکھتے ہیں، بسنے اور نوکری کرنے کا بھی، پہلے سے کئی لاکھ لوگ بس بھی چکے ہیں، ان کے لئے ریفرنڈم کیا معنی رکھتا ہے؟ یہ ریفرنڈم یوروپی یونین کو کیا بدل دے گا یا برطانیہ نے بدل دیا ہے، اس پر ہم پرائم ٹائم میں بات کریں گے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close