آج کا کالم

یوپی پولیس خود کو ختم کر کے بی جے پی سے پارشد بن جائے

داروغہ اتنا لاچار کیوں دکھائی دے رہا ہے؟ پارشَد، داروغہ کا دادا کیوں لگ رہا ہے؟ یہ ویڈیو یوپی پولیس کے ختم ہو جانے کا ثبوت ہے۔ اس کے افسروں میں نہ ضمیر بچا ہے اور نہ شاید ایمان۔

رویش کمار

میرٹھ سے آئے ایک ویڈیو کو دیکھ رہا ہوں۔ بی جے پی پارشَد داروغہ کی گردن دبوچ دیتے ہیں۔ لگاتار پانچ بار زور زور سے مارے جا رہے ہیں۔ ماں بہن کی گالیاں دے رہے ہیں۔ ان کا ساتھی داروغہ کو کالر پکڑ کر گِرا دیتا ہے۔ اس سین میں داروغہ اور پارشد کے بیچ کیا تعلق ہے، یہ اتنا صاف نہیں جتنا یہ دکھائی دے رہا ہے کہ ایک پارشد کی ہمت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ داروغہ کو دائیں بائیں ہر طرف سے مارتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے داروغہ جی شراب کے نشے میں ہنگامہ کر رہے تھے۔ پھر بھی اس کے لیے قانون تو ہے۔

پارشَد اتنا لاچار کیوں دکھائی دے رہا ہے؟ پارشَد داروغہ کا دادا کیوں لگ رہا ہے؟ یہ ویڈیو یوپی پولیس کے ختم ہو جانے کا ثبوت ہے۔ اس کے افسروں میں نہ ضمیر بچا ہے اور نہ شاید ایمان۔ ایک تنظیم کے طور پر پولیس ختم ہو چکی ہے۔ اس کا ایک ہی کام ہے۔ نیتاؤں کے کام آنا اور نیتاؤں سے لات کھانا۔ اس پولیس میں جو اچھے لوگ ہیں وہ اپنی عزت بچا کر نوکری کاٹ رہے ہیں۔

کچھ وقت پہلے بی جے پی کے نیتا  کے حامیوں کی بھیڑ ایک ایس ایس پی کے گھر میں گھس گئی تھی۔ بی وی بچے اکیلے تھے۔ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ 24 گھنٹے سے زیادہ وقت لگ گیا پولیس یونین کو مذمت کرنے میں۔ اس صورت میں بہت دیر بعد مقدمہ درج ہوا لیکن بغیر پتہ کیے کوئی بھی دعوے سے کہہ سکتا ہے کہ اس کیس میں کچھ نہیں ہوا ہوگا۔ یوگی حکومت کے آتے ہی پولیس کو مارنے کے کئی واقعات میڈیا میں آئے تھے۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ اناؤ عصمت دری معاملے میں پولیس ملی رہی۔ وویک تیواری کے قتل کے معاملے میں تو سپاہی لوگ کالی پٹی باندھ کر آگئے تھے۔ اب کیا داروغہ لوگ ایسا کریں گے؟

جب پولیس کا اقبال ختم ہو جائے، وہ اپنی ہی نظر میں گر جائے تو پولیس کو خود کو ہی ختم کر لینا چاہئے۔ یا تو پولیس ایماندار بنے، سوکھی روٹی کھائے اور اپنے اعزاز کی واپسی کرے یا پھر خود کو ختم کر لے۔ داروغہ کا پٹتے چلے جانا ثابت کرتا ہے کہ پولیس بی جے پی سے ڈر گئی ہے۔ وہ بی جے پی نیتاؤں سے لات جوتا کھا لے گی مگر سماج وادی پارٹی کو بدنام کرکے اپنی لاج بچا لیگی۔ شرمناک ہے۔ پولیس بی جے پی نیتاؤں کا کچھ نہیں کر سکتی ہے۔ ایک فون میں سب کی حالت خراب ہو جائے گی۔ اس لیے پولیس کے سارے افسر استعفی دے کر بی جے پی سے پارشَد بن جائیں۔ کم از کم شہر اور معاشرے میں عزت تو رہے گی۔ کوئی ہاتھ تو نہیں اٹھائے گا۔

پارشَد نے صرف داروغہ کو نہیں مارا۔ یہ ویڈیو جب داروغہ کے ساتھی اور خاندان والے دیکھیں گے تو کیا سوچ رہے ہوں گے۔ ان کے خاندان والوں کو کتنی مایوسی ہوئی ہوگی۔ پارشَد آگے چل کر ممبر پارلیمنٹ بنے گا۔ وہ آج کی سیاست کے مطابق صحیح راستے پر ہے۔ بھیڑ کے آگے پولیس بے بس ہے۔ پولیس کن نیتاؤں کو بچاتی رہی ہے اسے پتہ ہے۔ اب پولیس معلوم کر لے کہ اسے بچانے کون سا نیتا آرہا ہے۔ مجھے بھی سو شکایات رہتی ہیں پولیس سے، مگر داروغہ کا اس طرح ماں بہن کی گالیوں کے ساتھ لپڑ تھپڑ کھاتا چلا جانا شرمناک بھی ہے اور خطرناک بھی۔

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close