آج کا کالم

یوپی کے کچھ حصے کیوں جل رہے ہیں؟

رويش کمار

ہماری آج کی سیاست، بلا وجہ جارحانہ ہوتی جا رہی ہے. لیڈروں کی زبان میں جو جارحیت ہے وہی اینکرز کی ہو گئی ہے، وہی اب سڑکوں پر لوگوں کی ہوتی جا رہی ہے. آج کل ہر پارٹی میں ایسے بڑے لیڈر مل جائیں گے، جن کی اپنی فضول کی فوج ہے اور ایسی فوجیں مل جائیں گی جنہیں ہر پارٹی کے کئی لیڈر اپنا آشرواد دیتے ہیں . تاریخ کے ہیرو کے نام پر ایسی ریلیاں نکلتی ہیں اور جمہوریت کو سامنت واد کا اڈہ بنایا جا رہا ہے. ان دنوں کہیں سے بھی ایسی شوبھا یاترا کے نکلنے کی خبر آ جاتی ہے، جن کے بارے میں پہلے سنا تک نہیں گیا. ان ریلیوں میں شامل ہوکر رکن پارلیمنٹ یا رکن اسمبلی یا ہونے والا رکن پارلیمنٹ یا رکن اسمبلی اپنی سماجی اور مذہبی شناخت قائم کرتا ہے. کئی بار ہمیں یہ سب اتنا عام لگتا ہے کہ ہم پرواہ ہی نہیں کرتے کہ ذات کے نام پر فوجیں، مذہب کے نام پر فوجیں ، تاریخی ہیرو کے نام پر فوجیں آپ کی سماجی زندگی میں بے جا مداخلت کر رہی ہیں . ٹکراؤ پیدا کر رہی ہیں . تاریخ کا اتنا ہی شوق ہے تو پڑوس کے کسی کالج میں تاریخ موضوع میں ایڈمشن لینا چاہیے، مورتی بنا کر تاریخ کا احترام کرنے کا تصور اپنے ذہن سے نکال دیجیے. لوگوں کو پانچ روپے دوا کے نام پر نہیں ملتے ہیں اور ہم تاریخ کے احترام کے نام پر ہزاروں کروڑ کی مورتیاں بناتے ہیں اور شوبھا یاترا نکالتے ہیں .

تقریریں کرنے  کی ترغیب آج کل کے رہنماؤں کی تقریر سے ہی ملی ہے جو سیاست کی بات کم، اخلاقی تعلیم ٹائپ کی تقریر زیادہ دینے لگے ہیں . اگر تسہیل کرنا ہو تو کہہ سکتے ہیں کہ یوپی بے قابو ہو گیا ہے. نئے وزیر اعلی یوگی سے سنبھل نہیں رہا ہے. میڈیا کے جس حصے میں ان کے دن رات جگ کر آدھی رات کو میٹنگ کر فیصلے لینے کی خبریں آ رہی تھیں وہاں بھی آسان بنانے کا شروع ہو گیا ہوگا. نئی حکومت کے بعد ضرور کچھ واقعات ایسے ہوئے ہیں جس سے سگنل اچھا نہیں جا رہا ہے۔ مگر یوپی کے کئی حصوں میں امن بھی ہے اور ٹھیک ٹھاک ہی چل رہا ہے. ہم نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ پھانسی کی سزا دیں گے تو عصمت دری کے واقعہ کم ہو جائے گی. صاف اور سخت پیغام جائے گا. لیکن نہیں ہوا. اس کے لئے مجرم پھانسی کی سزا نہیں ہے، مجرم حکومت بھی نہیں ہے، اخلاقی ذمہ داری ضرور بنتی ہے اس کی، لیکن کچھ تو ہے، ہم اس مسئلے کی بنیاد پر بات نہیں کرنا چاہتے. گریٹر نوئیڈا میں زیور ایک جگہ ہے يمنا ایکسپریس وے کے قریب. وہاں بدھ کی رات جو واقعہ ہوا ہے وہ حکومت سے سوال تو پوچھتی ہے، معاشرے سے بھی پوچھتی ہے.

سابوتا گاؤں کے قریب جمنا ایکسپریس وے پر مسلح چھ گنڈوں نے ایک کار روک لی. واقعہ رات ڈیڑھ سے ڈھائی کے درمیان کا ہے. اس کار میں آٹھ لوگ تھے جو زیور سے بلند شہر جا رہے تھے. خاندان کے سربراہ شکیل قریشی نے لوٹ مار کی مخالفت کی تو انہیں غندوں نے گولی مار دی. پہلے گنڈے شکیل کے بچوں کو گولی مار رہے تھے لیکن جب شکیل نے منت کی تو بچوں کو چھوڑ دیا اور شکیل کو گولی مار دی. خواتین کے ڈپٹوں سے مردوں کو باندھ کر انہیں الٹا لٹکا دیا. پھر چاروں خواتین کو اتار کر کھیت میں لے گئے اور گینگ ریپ کیا. شکیل اور ان کا خاندان اتنی رات کو سفر اس لیے کر رہا تھا کہ ان کے کسی رشتہ دار کی ڈلیوری ہونی تھی. زچہ اور بچہ دونوں خطرے میں تھے. لہذا پورا خاندان بھاگ کر ان کی مدد کے لئے جا رہا تھا. پولیس واقعہ کے ایک گھنٹے بعد پہنچی. ایک گھنٹے کے اندر مجرموں نے کسی دوسرے  خاندان کی زندگی بچانے نکلے خاندان کو تباہ و برباد کر دیا.

31 جولائی 2016 کے  روز ڈھائی بجے صبح بلند شہر ضلع میں دہلی کانپور ہائی وے پر ایسی ہی واقعہ ہوا تھا. ایک خاندان نوئیڈا سے شاہ جہاں پور کے لئے نکلا کیونکہ اسے ایک جنازہ میں شامل ہونا تھا. اس گاڑی میں شوہر بیوی، دو بیٹیاں اور دو مرد رشتہ دار سوار تھے. پانچ چھ ڈاکو نے کار روک لی. 45 سال کی عورت اور 15 سال کی خاتون کو گاڑی سے اتار کر لے گئے اور ان کے ساتھ عصمت دری کی. اس دوران باقی گھر والوں کو بندوق کی نوک پر یرغمال بنائے رکھا.

اس وقت بہت سے چینلوں نے ”کتنا محفوظ ہے یوپی کا موٹروے” ٹائپ پروگرام کیا. دباؤ بھی بنا اور حفاظت کے انتظام بھی کیے گئے ہوں گے. تب رہنماؤں نے کہا تھا کہ یوپی میں گنڈا راج ہے. راج تو بدل گیا مگر گنڈے نہیں بدلے ہیں . مجرم 24 گھنٹے کے اندر پھنسے تھے مگر جرائم کے رجحان نہیں تھمے ہے. جب ایکسپریس وے اور موٹروے محفوظ نہیں ہوں گے تو رات برات ہنگامی صورت حال میں جانے والے خاندانوں کے ساتھ کیا ہو گا، اس کی ضمانت کون لے گا. یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ شاہراہ پر پولیس کی گاڑی نہیں ہوتی ہے. ہوتی ہے. پھر بھی واقعات ہوتے ہیں. ہائی وے پولیس دیر سے پہنچتی ہے.

جرم کے واقعہ پر سیاست سے جرائم پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے. جس ریاست میں حکومت بنتے ہی پولیس افسران کے پیٹنے کی خبر آنے لگے اس ریاست میں مجرموں کا حوصلہ ٹوٹنے میں تھوڑا تو وقت لگ سکتا ہے. اگرچہ اب حکام کے پیٹنے کے واقعات بند ہو گئے ہیں، لیکن اتر پردیش کا سیاسی اور سماجی کردار راتوں رات تو نہیں بدل سکتا ہے. کس طرح تبدیل کرنا چاہئے اس پر ضرور بات کیجئے. مرادآباد میں بی جے پی کے ممبر شہر صدر ہیں ، انہیں گرفتار کیا گیا ہے. کیوں کیا گیا ہے کیونکہ ضلعی صدر جی کسی کی شکایت لے کر تھانے گئے، شکایت لے لی گئی، مگر جب کارروائی کی یقین دہانی ملی تو بی جے پی لیڈر مطمئن ہو گئے. الزام ہے کہ نیتا جی نے ٹھاكردوارا تھانے میں تعینات داروغہ سے بد تمیزی کی، اس مارپیٹ میں داروغہ جی کو چوٹیں آئیں ہیں جس کا علاج کرا لیا گیا ہے. انسپکٹر کی کرسی کے برابر بیٹھ کر یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ داروغہ کو جوتے ماریں گے، تھانے کے باہر پولیس کی پٹایی ہوگی، اور جب پٹایی ہو گی تو دیکھتے ہیں کون وزیر بچانے آتے ہیں. اتنے ہوشیار ضلعی صدر کے لئے بہت اچھا سکرپٹ نہ لکھنے کے الزام میں نامہ نگار جاوید اختر کو گرفتار کر لینا چاہئے. خیر، پولیس کو بہتر بنانے کے ضلعی صدر کے اس عظیم کام میں مدد کے لئے بی جے پی ضلع صدر بھی آ گئے. جب ہمارے نامہ نگار انور نے سی او یعنی علاقائی سے بات کی تو ان سے سیاسی جماعت کا نام بھی نہیں لیا گیا. کہتے رہے کسی سیاسی پارٹی نے شکایت کی تھی. ہم ان کا ڈر سمجھتے ہیں، ان کے عملی ہونے کا احترام کرتے ہیں ، ایک بیان کے چلتے ٹرانسفر جھیلو اور پتہ نہیں کیا جھیلو، مناسب نہیں لگتا. آپ کو ویڈیو کے ذریعہ کچھ اندازہ کریں کہ وہاں کیا ہوا ہوگا، ایک بیپ کی آواز سنائی دے گی، اس کا مطلب ہے اس جگہ پر ایسی گالیاں دی گئیں ہیں جسے ہم ٹی وی پر نہیں سنا سکتے.

یہ بات تحقیق کا موضوع ہے کہ حکومت بی جے پی کی ہے پھر بھی ضلعی صدر کو اتنے لوگوں کے ساتھ ایف آئی آر کے لئے کیوں جانا پڑا. اگر ان کی یہ حالت ہے تو پھر ملک بھر کے تھانوں کو لے کر بحث کیجیے جہاں ایف آئی آر کرانا بھی ایک جھمیلے سے کم نہیں ہے. فرضی ایف آئی آر تو الگ موضوع ہے. شہر صدر کو مارپیٹ کے الزام میں گرفتار بھی کیا گیا لیکن تھانے ہی سے ضمانت مل گئی. ضلعی صدر جی سے درخواست ہے کہ غصے کو قابو میں رکھیں . داروغہ امت شرما کے ساتھ جو ہوا اس کے لئے افسوس کا اظہار کریں . رہی بات قانون کی تو سب کو پتہ ہے یہ اپنا کام کرتا ہے.

مرادآباد کے آر ٹی او آفس کے باہر 9 مئی کو بی جے پی اور بجرگ دل کی پارٹی کے لوگ آپس میں اس بات کو لے الجھ گئے کہ چیکنگ کے لئے آنے والی ٹرینوں کے لئے میڈیکل کٹ کون بیچےگا. اس کے لئے دونوں اطراف میں تلواربازي کا بھی مظاہرہ ہوا. بھارتی ثقافت کی ان علامات کو صرف تاریخ کو لے کر ڈرانے کے کام میں ہی نہیں، بلکہ میڈیکل کٹ فروخت کے کام میں بھی لایا جا سکتا ہے۔ یہ علم مجھے تاریخ کی کلاس میں نہیں بلکہ اس ویڈیو فوٹیج کو دیکھ کر حاصل ہوا ہے. لاٹھی، ڈنڈے اور پتھر بھی چلے ہیں مگر یہ معلوم نہیں ہوا کہ پتھر چلانے کی ترغیب کشمیر سے ملی ہے یا لوکل ہی کسی سے مل گئی ہے. اور ہاں ، 7 راؤنڈ گولی بھی چلی ہے. اس کا مطلب دونوں طرف روایتی مہارت کے ساتھ ساتھ جدید جنگی مہارت میں بھی ماہر رہے ہوں گے. سوچیں شوریہ کا یہ معاملہ گاڑیوں میں میڈیکل کٹ لگانے کے معاہدوں کو لے کر ہوا ہے. قوم کی تعمیر میں معاہدوں کا رول کتنا اہم ہے آپ سمجھ رہے ہوں گے. اس کے بعد آزاد بھارت کی پولیس پوری قوت کے ساتھ پہنچی، تب تک لڑنے والے بھاگ چکے تھے. اس صورت میں گرفتاری بھی ہوئی ہے. بجرنگ دل اور بی جے پی بھی آپس میں گولی بازی کر سکتے ہیں اس کا تصور اشوک واجپئی اور کیدارناتھ سنگھ جیسے لبرل شاعر نے بھی اپنی شاعری میں نہیں کیا ہے.

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ قانون کی ان خرابیوں کو لے کر میں نے غصہ تیور کے ساتھ لنگر کاری کیوں نہیں کر رہا ہوں . اب اس طرح سے کسی کو گولی چلاتے نظر آئے گا، تھانے میں گھس کر مارتے دیکھیں گے تو پرسکون رہنا ہی بہتر ہوگا. پاکستان کی بات ہوتی تو وہاں کے سارے جرنیلوں ، سےنادھيكشو کو للکار دیتا کیونکہ مجھے اپنی فوج پر اعتماد ہے کہ وہ انہیں سٹڈيو تک پہنچنے ہی نہیں دے گی. پولیس پر بھی بھروسہ ہے مگر اس لیور کا بھروسہ نہیں ہے. اسی لیے ہمارے اینکرز لوگ پاکستان پر زیادہ توجہ دیتے ہیں . ہم یوپی کی بات کر رہے ہیں . فیروز آباد میں وزیر جی مل گئے، وزیر کو ٹرانسپورٹ کے واقعہ کے بارے میں پتہ نہیں مگر کارروائی کیا ہوگی اس کے بارے میں زوردار بیان دیا ہے. اس کے بعد قانون کے وزیر رام شوہر جی بھی بیان سنيےگا جو انہوں نے اناؤ میں دیا ہے.

زمین میں جائیں گے یا مارے جائیں گے. اس طرح کے بیانات سے اچھا ہے کہ انتظامات کو ٹھیک کیا جائے، جہاں پولیس بھی بہتر ہو اور پولیس کو کوئی لیڈر مارے بھی نہ. پورے ملک میں تھانے سیاست کا اڈہ بن گئے ہیں . ایک ایف آئی آر کرانے کے لئے کسی کو سو لوگوں کے ساتھ کیوں جانا پڑتا ہے. اس کے علاوہ اس بات پر بھی سوچیں یوپی میں ایسا کیوں ہو رہا ہے. کیوں کہیں فرقے تو کہیں کمیونٹی آپس میں ہوئے ہیں . کیوں سہارنپور کے تشدد تھم نہیں رہی ہے. کیوں علی گڑھ میں بھانت بھانت کی کشیدگی ہیں . کیا ضروری ہے کہ ہر واقعہ کو سماجی انا کا سوال بنا دیا جائے، نسلی غرور کا سوال بنا دیا جائے. اتنا غصہ کیوں ہے لوگوں میں .

سہارنپور کے تشدد پر وزارت داخلہ نے رپورٹ مانگی ہے. مرکز سے ریپڈ ایکشن فورس کی چار کمپنیاں وہاں بھیجی گئی ہیں . 5 مئی سے وہاں طرح طرح کے جھگڑے ہو رہے ہیں . پہلے امبیڈکر جینتی کی شوبھاياترا کو لے کر کشیدگی ہویی، پھر مہارانا پرتاپ جینتی کی زینت سفر کو لے کر کشیدگی ہویی. بہت سے لوگوں نے کہا کہ یوپی میں مہارانا پرتاپ جینتی کی زینت سفر پہلے نہیں ہویی. اسی طرح کئی طرح کی ریلی وقتا فوقتا نکلنے لگی ہیں . کشیدگی کی وجوہات پر بحث ہو سکتی ہے، لیکن اس تشدد میں ایک سے زیادہ لوگوں کی جان جا چکی ہے، بہت سے لوگ زخمی ہیں اور کئی لوگ جیل میں ہیں . اس کے بعد بھی تشدد نہیں رک رہے ہیں. کیا اس تشدد کے بعد سیاسی حساب ہونا ہے، کس کا ووٹ کسے ملے گا، کیا اتنی سی بات سہارنپور کے عوام نہیں سمجھتی ہے کہ وہ پرسکون رہیں ، کیا ان کے درمیان کوئی نہیں ہے جو اس جنگ کو بند كروايے. کہیں جاٹو بمقابلہ ٹھاکر ہے تو کہیں بالميكی بمقابلہ مسلم ہے.

اس تشدد کی بنیاد کو سمجھنا ہوگا، کیا کوئی ایک کلاس اقتدار ملنے سے زیادہ خوف ناک ہو جاتی ہے، کیا کسی ایک طبقے کو لگ رہا ہے کہ اقتدار اس کا ہے. تو اس کا حل حکومت کے رویے میں بھی ہے اور معاشرے میں بھی ہے. سماج کو بھی تھوڑا سا سدھرنا ہوگا اور اس کو حل  اقتدار سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا. تشدد اور تصادم کی خبروں میں صرف ہندو بمقابلہ مسلم نہیں ہیں ، جاٹو بمقابلہ راجپوت ہیں تو کہیں راجپوت بمقابلہ مسلم ہیں تو کہیں ہندو بمقابلہ ہندو ہیں . جھارکھنڈ میں تو گوتم سے Hum اور گنگیش کو بھی بھیڑ نے مار دیا. ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ فالتو کی یہ سیاسی جارحیت الیکشن جیتنے کا فارمولا ہو سکتی ہے، رہنے کا نہیں . یوپی ہی کیوں ، آپ بنگال دیکھ لیجئے، بات بات میں ٹکراؤ ہے، بات بات میں تشدد ہے. وہاں بھی ریپڈ ایکشن فورس کی کمپنیاں بھیجنے کا مطالبہ ہوا ہے. وزرائے اعلی سے استعفی کا مطالبہ کی سیاست تو ہوتی رہے گی، پہلے اپنے سماجی تعلقات کا خیال کیجیے، انہیں بگڑنے مت دیجئے.

كیشوپور جعفری گاؤں کے ٹھاکر لوگ تھانے پہنچ گئے اور کہا کہ ہم اسلام اپنا لیں گے. ممبر اسمبلی نے بھی انہیں سمجھانے کی کوشش کی. ٹھاکر ذات کے لوگوں کی شکایت تھی کہ ان کے ساتھ ظلم و ستم ہوا ہے اور جاٹو سماج کے لوگ مذہب تبدیل کرنے کی بات کر رہے ہیں . جب انہیں اسلام میں انصاف مل رہا ہے تو ہم بھی تبدیلی مذہب کریں گے. دلت سماج کے لوگوں نے کہا کہ اپنا مذہب تبدیل کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنے دیوی دیوتاؤں کی تصاویر طالاب میں بہا دیں. الزام یہ لگا کہ ٹھاکر معاشرے نے اپنی ایک نالی جاٹوو کے محلے کی طرف کھول دی. اس کی مخالفت میں تصادم ہو گیا. پولیس نے دونوں اطراف کے لوگوں کے خلاف مقدمہ تو درج کر لیا ہے لیکن کیا ضلع مجسٹریٹ کو جاکر نظر نہیں کرنا چاہئے کہ کسی محلے کی طرف نالی کھولی گئی ہے یا نہیں . کھولی گئی ہے تو اسے بند کرنا چاہئے. اس خبر کے اور بھی پہلو ہوں گے جو وقت کی کمی کی وجہ سے ہم نہیں بتا رہے ہیں لیکن دونوں معاشرے کی یہ ضد بتا رہی ہے کہ بات سے جتنی مسئلہ نہیں ہے ، جتنی اپنی اپنی ضد سے ہے. تبھی میں کہہ رہا ہوں کہ اتنا غصہ ایک دوسرے کو لے کر کیوں ہے. 25 مئی کو علی گڑھ کے ایک علاقے میں ڈرون کیمرے سے نگرانی کی گئی. پولیس ڈرون کیمرے سے پتہ لگا رہی ہے کہ کہیں کچھ گڑبڑ تو نہیں ہے. ایک ہفتے کے اندر اندر دو کمیونٹی دو بار آمنے سامنے آگئے. معاملہ کیا تھا، بالميكی کمیونٹی کے بچے کا ایكسڈنٹ مسلم کمیونٹی کے نوجوان کی موٹر سائیکل سے ہو گیا. اس بات کو لے جھگڑا ہوا ، اگر پولیس انہیں ہینڈل نہیں کرتی تو نہ جانے کتنے لوگوں کی جان چلی جاتی.

ابھی سوچیں کہ واقعی لوگوں کے پاس اتنی فرصت ہے کہ بات بات میں اتنی جنگ ہو رہی ہے. آخر ایک ایسے معاشرے کا دوسرے معاشرے پر انحصار اتنا کم کیوں ہو گیا ہے کہ ایک کے ساتھ ہویے المناک واقعہ پورے کمیونٹی کے ناک کا سوال بن جاتی ہے. آپ سوچیں یہ عام صورت حال نہیں ہے. وزیر اعلی یوگی جوابدہ ہو سکتے ہیں مگر حالات تو آپ کے پڑوس میں پیدا ہو رہے ہیں . پولیس بھی سوچ رہی ہے لیکن پولیس کو اور بھی کام ہے. ایسا نہیں ہے کہ جرم اور تصادم کی ان خبروں کے درمیان رومیوں کو اسکول کالج میں حاضری 100 پرسینٹ ہو گیا ہے. معاشرے میں ان کے باہر دیکھے جانے کا امکان اب بھی ہے. لہذا پولیس ان رومیو کو پکڑنے کی تربیت لے رہی ہے.

متھرا میں تاجروں کا قتل ہوا، پانچ کروڑ کی لوٹ ہوئی تھی تو اسی پولیس نے پکڑا بھی، پتہ نہیں ان لوگوں کا کیا ہوا جنہوں نے آگرہ میں پولیس والوں پر حملے کیے تھے. کم از کم یوپی پولیس کو اپنے سپاہیوں اور افسروں کے اوپر ہوئے حملوں پر رپورٹ دینی چاہئے کہ ان معاملات میں وہ ذرا فاسٹ اور کارروائی کر دی گئی ہے. تاکہ لوگوں کو بھروسہ ملے کہ کم از کم پولیس کو مت چھیڑنا. کیا آپ جانتے ہیں کہ سہارنپور میں ایس ایس پی رہے پریم کمار کے گھر پر جو بھیڑ اکٹھا ہوئی تھی، اس میں معاملہ درج ہوا تھا، اس کا کیا ہوا. ان کا تبادلہ کر دیا گیا، پریم کمار کی جگہ نیے ایس ایس پی آئے اب ان کا تبادلہ بھی ہو چکا ہے. ان سب حالات کے درمیان اتر پردیش کے وزیر یوگی آدتیہ ناتھ اسمبلی میں کہہ چکے ہیں کہ ریاست میں مجرموں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close