آج کا کالم

یوگی سرکار: ایک برس تو بیت گیا، کب تک خاک اڑانی ہے

 ڈاکٹر سلیم خان

اتر پردیش میں نے ادیتیہ ناتھ سرکار نے اپنا ایک سال مکمل کرلیا۔ اس موقع پر بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے کہا بی جے پی کی تمام صوبائی حکومتوں میں بہترین کارکردگی یوگی  جی کی ہے۔  ویسے تو ہر باپ اپنے بیٹے کو بہترین کہتا ہے لیکن اگر وہ اپنے بیٹوں کے درمیان موازنہ کرکے کسی ایک کو سب سے افضل قرار دے تو مناسب معلوم ہوتا ہے اس  کے امتحانی نتائج (اسکور کارڈ) کو دیکھ لیا جائے۔ اس لیے بھی کہ اگر وہ بہترین ہے تو باقی لوگوں  کارکردگی اس سے کم تر ہی ہوگی۔ امیت جی کے اس سپاس نامہ کی روشنی میں  ضروری معلوم ہوتا ہے گزشتہ  ایک سال  اندر یوپی حکومت کی کامیابیوں کا خود ان کے ایک سال قبل بیان کردہ  عزائم و ارادوں کے آئینے میں جائزہ لیا جائے۔

حکومت کی زمامِ کر سنبھالنے کے بعد اپنے اولین کابینی اجلاس میں  یوگی جی نے اعلان کیا  تھاکہ صوبے کے ۷۸ لاکھ کسانوں کو راحت پہنچانے کی خاطر ۳۶ ہزار ۳۵۹ کروڈ روپئے مختص کیے جارہے ہیں ۔ اس اعلان پر یوگی جی کی  بہت جئے جئے کار ہوئی کیونکہ  انتخابی مہم کے دوران وزیراعظم  نے کسانوں کا پورا قرض معاف کرنے نیز انہیں بغیر سود کے قرض دینے کا وعدہ کیا تھا۔ ایک سال بعد کی صورتحال یہ ہے وزیر اعظم کے حلقۂ انتخاب وارانسی، وزیراعلیٰ کا ضلع گورکھپور، مرلی منوہر جوشی کا دیوریہ اور راجیش پانڈے کے کشی نگر کو چھوڑ کر کسی ضلع میں بھی قرض معافی کے سرٹیفکٹ تقسیم کرنے کے کام شروع ہی  نہیں ہوا۔ جہاں تک استفادہ کرنے والوں کی تعداد کا تعلق ہے وہ ۱۷ لاکھ ۳۰ ہزار ہے  یعنی اعلان شدہ ہدف کا صرف ۲۲ فیصد۔ یہ ایک علٰحیدہ بحث  ہے کہ  لوگوں کا کتنا فیصدی قرض معاف ہوا اور کتنا مختلف بہانوں سے روک لیا گیا۔

حزب اختلاف کے رہنما رام گووند چودھری کا الزام ہے کہ  قرض معافی کی آڑ میں یوگی حکومت نے کسانوں کے  فلاح وبہبود کا بجٹ ۱۳ء ۷۰ فیصد کم  کرکے انہیں فریب دیا ہے۔ اتر پردیش میں کسانوں کی حالت زار گورکھپور کے سنجھوانہ گاوں میں  پھولچند سینی نے اس طرح بیان کی کہ آوارہ مویشی ہمارے لیے بہت بڑا مسئلہ بن گئے ہیں اور بڑا نقصان پہنچا رہے ہیں ۔  یہ گئوماتا کے حوالے سے ظاہر ہونے والا عوام احتجاج ہے۔ ایک اور کسان نے بتایا بیلوں کی خریدو فروخت بند ہوجانے کے سبب انہیں لاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے۔ شدید جاڑے کے دوران ہمیں اپنے فصلوں کی حفاظت کے لیے کھیتوں میں رات گزارنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ ریت کا بھاو ۲۲ سو روپئے فی ٹرولی سے بڑھ کر ۶۰۰۰ روپئے ہوچکا ہے ہم نہ کھیت کی باڑھ بنا سکتے ہیں اور نہ گھر تعمیر کرسکتے ہیں ۔ ایک لاکھ سے کم قرضہ جات  کی معافی  میں رکاوٹیں بیزاری پیدا کررہی  ہیں ۔ سنجھوانہ میں ایک کسان بھی مستفید نہیں ہوسکا  ہے۔

طلباء سے وعدہ کیا گیا تھا اول تا ششم کے بچوں کو سویٹر، موزے اور جوتے مفت دیئے جائیں گے۔ اس اسکیم کا فائدہ ڈیڑھ کروڈ بچوں کو ہونا تھا لیکن سردی گزر جانے پر بھی  صرف ۴۵ فیصدطلباء کو اس کا فائدہ ملا۔ سماجوادی پارٹی کے ترجمان راجندر چودھری نے اس معاملے میں  بہت  بڑی بدعنوانی کا الزام لگایا ہے۔  دوسرا وعدہ گریجویشن کے طالب علموں اور ۱۲ ویں تک کی طالبات کو لیپ ٹاپ فراہم کیے جانے کاتھا۔  اس سلسلے دسمبر تک ٹینڈر ہی نہیں نکالے جاسکے۔ اس کے بعد یہ ذمہ داری کلکٹر کو سونپی گئی مگر ۲۲ لاکھ طلباء میں سے کوئی بھی لیپ ٹاپ نہیں حاصل کرسکا۔ یعنی نتیجہ زیرو بٹا زیرو نکلا۔ یوگی جی اگر ہندوستان بھر میں گھوم کر انتخابی مہم چلانے کے بجائے حکومت  چلانے کی جانب بھی توجہ فرماتے تو ایسا نہ ہوتا لیکن وزیراعظم کو دنیا بھر کی سیر فرمانے سے فرصت نہیں اور وزیراعلیٰ سارا ملک گھومتے رہتے ہیں اپنی  بنیادی ذمہ داری کوئی ادا نہیں کرتا۔

بجلی فراہمی کے متعلق اعلان کیا گیا تھا ؁۲۰۱۹ تک ہر گھر میں بجلی پہنچ جائے گی  اور ؁۲۰۲۵ تک اترپردیش میں ۲۴ گھنٹے بجلی مہیا رہے گی۔ اس کی حقیقت یہ ہے سماجوادی  سرکار میں ۱۴ گھنٹے بجلی ملتی تھی اب ۱۶ تا ۱۸ گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے  لیکن اسی کے ساتھ نجکاری کے سبب بجلی کے نرخ میں ۵۰ فیصد سے لے کر ۱۵۰ فیصد تک کا اضافہ ہوگیا  ہے۔ مہنگائی کی مار سہنے والے صارفین  کو گرمی کی آمد لے ساتھ ہی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ صحت عامہ کے شعبے کی حالت  نازک ہے۔ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ  صوبے میں ۶ عدد ایمس اور ۲۵ سوپر اسپیشلسٹ اسپتال تعمیر کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے ۴۳۲۴ کروڈ روپئے بجٹ میں رکھے گئے  ابھی تک کسی نئے ایمس یا سوپر اسپیشلسٹ دواخانے کی جگہ تک متعین نہیں ہوئی۔ وزیراعلیٰ کے شہر گرکھپور میں اکھلیش یادو نے اپنے دور اقتدار میں ایک ایمس کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ مقامی لوگوں کو امید تھی کہ یوگی جی  کےوزیراعلیٰ بن جانے پر کم ازکم اس اسپتال کی تعمیر شروع ہوجائیگی لیکن افسوس کے  وہ بھی نہیں ہوسکا ۔ گورکھپور کے لوگوں کو ایمس کے بجائے بی آرڈی اسپتال کے اندر بچوں کی اموات میں اضافہ اور اس پر کی جانے والی سیاست ہاتھ لگی۔ اس معاملے میں ڈاکٹر کفیل ہنوز سرکاری عتاب کا شکار ہیں۔

بجلی کے ساتھ ساتھ آج کل سڑک بھی زیربحث آجاتی ہے۔ اس بابت چونکہ اکھلیش سرکار نے خاصی ترقی کی تھی اس لیے بی جے پی کو بڑا ہدف رکھنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس نے اعلان کیا کہ ۱۷ جون ؁۲۰۱۸ تک صوبے کی تمام سڑکوں کو گڑھوں سے پاک کردیا جائے گا۔ اس معاملے میں سرکاری کامیابی کا تناسب صرف ۵۰ فیصد ہے جبکہ مدت کار کے خاتمے میں ۳ ماہ سے کم وقفہ باقی ہے۔ یہ کام نائب وزیراعلیٰ کیشو پرشاد موریہ کے زیر نگرانی ہورہا ہے اور ان کا جواز بجٹ کی کمی ہے۔ یہ بجٹ اکھلیش نے تو بناکر نہیں دیا تھا ؟تو یوگی سرکار نے کم بجٹ کیوں بنایا؟  کانگریس کے ترجمان سریندر راجپوت کے مطابق  چند مخصوص ضلعوں میں کام ہورہا ہے مگر معیار اس قدر خرا ب ہے کہ مرمت کے  سال کے اندر پھرسے سڑک ٹوٹنے پھوٹنے لگی۔

 گورکھپور کے تاجر توفیق احمد نے انڈین ایکسپریس سے درست ہی کہا کہ ’’ عوام بیوقوف نہیں ہے۔ اس علاقہ میں کارپوریٹر سے لے کر ایم ایل اے، وزیراعلیٰ اور وزیراعظم تک سب بی جے پی کے ہیں ۔ اس کے باوجوگورکھناتھ د مندر کی طرف جانے والی سڑک اور میڈیکل کالج  روڈ کی مرمت نہیں ہوسکی۔  راجیش کمار  کو شکایت ہے کہ بی جے پی کے اندر اپنے کارکنان کی ہی بات نہیں سنی جاتی۔ سرکار کی سالگرہ کے موقع پر یوگی جی نے حسب عادت اوٹ پٹانگ انداز میں  کہا کہ جلد ہی ۴ وہ  لاکھ نئی نوکریاں دیں گے اور آئندہ ۳ سال میں ۲۰ لاکھ نوجوانوں کو روزگار دیا جائیگا۔ اس طرح کا وعدہ تو وزیراعظم بھی کرتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ملازمت کے مواقع بڑھنے کے بجائے گھٹ رہے ہیں۔ گورکھپور میں واقع پپرائچ کے شاکر علی کا بیان ہے کہ کئی لڑکے جی ایس ٹی کی بدولت  صنعتوں کے بند ہوجانے سے لوٹ آئے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کیا کیا جائے؟  گورکھپور دیہات میں نوسارڈ کے ٹھاکر رادھا کرشن سنگھ کا  کہنا ہے کہ   لوگ تبدیلی لانے چاہتے   تھے(ضمنی انتخاب میں ) انہیں ایک موقع مل گیا۔  عوام نے موقع کا بھر پور استعمال کیا۔ اس کے باوجوداگر سرکاری سالگرہ کے موقع پر  وزیراعلیٰ نےایک ثقافتی پروگرام میں فخر سے اعلان فرمائیں کہ ’’ایک سال، نئی مثال ‘‘ اور ’’ہوا وکاس، بڑھا وشواس‘‘ تو اسے ان کی ہٹ دھرمی  ہی  ماناجائیگا۔ وکاس کتنا ہوا اور وشواس کتنا بڑھا اس کا مظاہرہ تو ضمنی انتخاب میں ہوگیالیکن  امیت شاہ  اگراس کو استصواب نہ مانیں تو یہ  ان کی خوش فہمی کہلائے گی۔ بقول ظفر کلیم ؎

وائے خوش فہمی کہ پرواز یقیں سے بھی گئے

 آسماں چھونے کی خواہش میں زمیں سے بھی گئے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close