آج کا کالم

یوگی کا مرجھاتا کمل!

ڈاکٹر سلیم خان

یوگی ادیتیہ ناتھ گیروا لباس پہننے والے ہندوستان کے پہلےسادھو وزیراعلیٰ ہیں لیکن انہوں نے سرحد پر  اپنی جان عزیز کا نذرانہ پیش کرنے والےپریم ساگر کے گھرکا دورہ کرکے ازخود اپنا بسنتی چولہ تار تار کر دیا ۔ بدقسمتی سے آج کل ہمارے ملک میں فوجیوں کی قومی شہادت پر بھی سیاست ہونے لگی ہے۔ پونچھ میں ہونے والے دو فوجیوں کےقتل  پر پہلے تو  اکھلیش  یادو نے ایک حماقت خیز بیان  دے کر اپنی رسوائی کا سامان کیا۔ انہوں نے سوال کیا سرحد پر گجرات کےفوجی کیوں نہیں مارے جاتے؟اس  کے جواب میں  زعفرانی خون کھول گیا  اور اکھلیش کے خلاف  56 سالوں میں 86 گجراتیوں کے دشمن سے لڑتے ہوئے اپنی جان قربان کا انکشاف سامنے آیا ۔ ویسے یہ کوئی بہت قابل تعریف تعداد نہیں ہے مگر اکھلیش کا دعویٰ کو جھٹلانے کے لیے کافی ہے۔ اس معاملے کو ذرائع ابلاغ میں بھنوانے کے بعد یوگی جی نے   کسمپرسی کی زندگی گزارنے والے پریم ساگرکے اہل خانہ سے ملاقات کرنےکے لیے دیوریہ ضلع میں ٹیکم پور جانے کا ارادہ ظاہر کیا حالانکہ تب  تک 11 دن گذرچکے تھے اور وہ لوگ تیرہویں کی تیاری کررہے تھے۔

وزیراعلیٰ  کے اعلان کے ساتھ ہی  ٹیکم پور کے ستارے روشن ہوگئے ۔ راتوں رات  سڑک بننے لگی تاکہ وزیرموصوف کی گاڑی کو جھٹکا نہ لگے ۔ ندی نالے صاف کردیئے گئے تاکہ نیتا جی کوبد بو نہ آئے۔ پریم ساگرکے گھر کی رنگائی پتائی بھی ہوگئی کیونکہ  ٹیلیویژن پر تصویر کا پس منظر خوشنما ہونا لازمی ہے۔ زمین پر غالیچہ بچھا دیا گیا کیونکہ یوگی  کے چرنوں کو دھول نہ لگے۔ صوفہ لگایا گیا کہ سادھو کوزمین پر بیٹھنے کی زحمت نہ گوارہ کرنی پڑے۔ ائیر کنڈیشن بھی نصب ہوگیا کیونکہ کلیگ کے بھوگی  گرمی برداشت نہیں کرسکتے ۔ان انتظامات کے بعد کیمروں کی چھاوں میں چائے والے  وزیر اعظم کا من پسند ترشول والاوزیر اعلیٰ فوجی کے گھر ملاقات کے لیے پہنچا اور 4 لاکھ کا چیک نیز 2 لاکھ فکسڈ ڈپازٹ کے کاغذات دے کر لوٹ آیا لیکن پھر اس کے بعد جو کچھ ہوا اسےجان  کر ہر محبِ وطن کا سر شرم سے جھک گیا ۔

یوگی کی پاکھنڈی یاترا کے بعد  سرکاری  افسران فوجی کے گھر پہنچے اے سی اتارا، قالین لپیٹا صوفہ اٹھا یا اور نکل گئے۔ اس رویہ کو  دیکھ کر پریم ساگر کے اہل خانہ نے ضرور سوچا ہوگا  کہ کاش وہ ملاقات کا ڈھونگ  ہی نہ رچایا جاتا  اور انہیں تشہیر کی بلی کا بکرا نہیں بنایا جاتا۔ ان کے ذہن میں چیک کی اعتباریت پر بھی  شکوک و شبہات پیدا ہوے ہوں گے کہ کہیں وہ بھی صوفے اور قالین کی طرح بے رنگ نہ لوٹ آئے۔ کون جانے وہ ایف ڈی آئی بھنجوانے کے لیے وہ جائیں تو جیٹلی اس پر کوئی نیا ٹیکس نہ لگا دیں ۔ یہ ہے  سنگھ پریوار کی جعلی  دیش بھکتی  کا ایک نمونہ  جس پر وہ دن رات پروچن سناتے ہیں اور اپنے علاوہ  ہر کسی کو دیش دروہی ٹھہراتے ہیں ۔ مودی جی کو تو خیر ایک سابق فوجی کی اہلیہ  سمن سنگھ نے  56 انچ کی چولی  بھیجی مگر  اس واقعہ کے بعد اگر کوئی فوجی وزیراعلیٰ کوجوتابھی بھیج دیتا تو کم تھا۔ مودی جی اور یوگی جی میں ایک فرق یہ ہے کہ اول الذکر کی ہوا 9 ماہ  بعد کیجریوال نے دہلی انتخاب میں نکالی لیکن  یوگی بیچارے  تو دوماہ کے اندر ہی بے نقاب ہو گئے ۔

یوگی جی ایک زمانے بہت دلیر نظر آتے تھے۔انہوں  نے2013 کے اندر انڈیا ٹی وی کے مشہور پروگرام ’ آپ کی عدالت‘  میں بڑے فخر کے ساتھ اعتراف کیا  تھا کہ گورکھپور فساد کے متعلق   جو الزامات ان پر لگائےجاتے ہیں ان  پر وہ  نادم وشرمندہ  نہیں ہیں ۔ اس وقت ان کے پاس گنوانے کے لیے کچھ نہیں تھا ۔ اب وزارت اعلیٰ کی کرسی یوگی جی کے پیروں کی زنجیر بن گئی ہے۔ ان  میں ہمت  نہیں ہے کہ پہلے کی طرح   ڈٹ کر اپنے موقف کو حق بجانب ٹھہرائیں ۔ یہی وجہ ہے کہ  اتر پردیش کے ہوم سکریٹری نے وزیراعلیٰ کےخلاف فرد جرم داخل کرنے کی  اجازت دینے سے انکار کردیا ۔

صوبے کاہوم سکریٹری تو بیچارہ وزیرداخلہ کا بندۂ بے دام  ہوتا ہے  اور فی الحال چونکہ اترپردیش کے وزارتِ داخلہ کا قلمدان  خود یوگی  جی کےپاس ہےوہ اپنے آقا کے خلاف مقدمہ کی اجازت دے کر ملازمت کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا ۔یوگی جی کے اندر اگر پہلے جیسی جرأت  ہوتی تو وہ عدالت میں جاکر اپنے آپ کو بے قصور ثابت کردیتے اور ضابطے کی آڑ میں نہیں  چھپتے ۔یوگی کے خلاف شکایت درج کرانے والے  پرواز اور حیات کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش بھی نہیں کی جاتی ۔ یہ سعی کس قدر اوچھی ہے اس کا اندازہ لگانے کے لیے  قضیہ کے   ایک ملزم وائی ڈی سنگھ کی شکایت ملاحطہ فرمائیں ۔ اس سال وائی ڈی سنگھ  نے  پرواز کے خلاف ایکبے بنیاد شکایت درج کرائی جس میں الزام لگایا گیا کہ  پرواز نے  صدام حسین کی تصویر لگا کرایک مجمع  کو بھڑکایا گیا اور اس کےبعدہندووں کی دوکانیں تباہ کی گئیں ۔ صدام حسین کی پھانسی کے 11 سا ل بعد ان کی تصویر لگاکر فساد بھڑکانا کیا معنیٰ ؟ لیکن تمام تر دباو کے باوجود شیر دل پرواز کے حوصلے بلند ہیں اوروہ ظالم حکمراں کے خلاف حق گوئی پر ڈٹے ہوئے ہیں بقول اقبال؎

آئینِ جونمرداں ، حق گوئی و بے باکی

اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

یوگی جی اقتدار میں آنےپہلے تو دنگا فساد کے مقدمہ میں الجھے ہوئے تھے جس کی بابت ہوم سکریٹری کا دعویٰ ہے کہ عدالت  میں ثبوت کے طور پر  پیش ہونے والی سی ڈی  خرد برد شدہ ہے۔ سوال یہ ہے اس کا علم ہوم سکریٹری کو کیسے ہوا؟  دلچسپ بات یہ ہے کہ یوگی کی اصلی تقریر اور انڈیا ٹی وی کا انٹرویو دونوں یوٹیوب پر خاصہ مقبول ہے۔ اگر وہ ویڈیو غلط ہے تو یوگی نے اسے ہٹانے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ ویسے اگر وہ سی ڈی فی زمانہ جانچ  کے لیے بھیج دی جائے  تو قوی امکان ہے کہ رپورٹ  میں یہی لکھا ہوگا کہ اس میں ہیرا پھیری کی گئی ہے اس لیے کہ جہاں دادری سے ملے ہوئے  گوشت کی رپورٹ بدل سکتی ہے وہاں سی ڈی کی کیا حیثیت؟  لیکن اب یوگی کے خلاف ایک  ایسا  مقدمہ قائم ہوا کہ اس کا انکار کوئی فردِ بشر نہیں کرسکتا۔

 سنجے شرما  نامی ایک سماجی کارکن نے الہ باد ہائی سے رجوع کرکے مفاد عامہ کے تحت یہ شکایت کی ہے  چونکہ یوگی ادیتیہ ناتھ اوران کے نائب وزیراعلیٰ  کیشو پرشاد موریہ رکن پارلیمان کی حیثیت سے تنخواہ وصول کررہے ہیں اور دیگر سہولیات سے مستفید ہورہے ہیں اس لیے وہ صوبائی حکومت میں عہدے سنبھالنے کا حق نہیں رکھتے۔ دستور کی دفعات کا حوالہ دے عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ  ان کا تقرر رد کردیا  جائے۔  سنجے شرما کے مطابق جسٹس سدھیر اگروال اور جسٹس ویریندر کمار نے اترپردیش ایڈوکیٹ جنرل کا موقف سننے کے بعد اٹارنی جنرل آف انڈیا کو نوٹس بھیجا تاکہ  اس پر اپنی رائے دیں اس لیے کہ ایسی کوئی تمثیل پہلے نہیں ملتی ۔ اس میں کیا شک ہے کہ دونوں  ا رکان پارلیمان دہلی میں  سرکاری مکان اور دیگر  سہولیات سےلطف اندوز ہوتے ہیں اورلکھنو میں  وزیراعلیٰ   کی کوٹھی بھی استعمال کرتے ہیں ۔ جس پریوار کے سادھو سنتوں  میں دنیا کی ایسی موہ مایا ہو اس کے دنیا دار کیسے ہوں گے؟  ممبئی کی ایک عدالت نے حال میں بی جے پی کے رکن اسمبلی لودھا کو 220 کروڈ بقیہ انکم ٹیکس ادا کرنے کی ہدایت کی ۔ یہہے بدعنوانی؟

بی جے پی نے قحط الرجال کے چلتے ان دو ارکانِ پارلیمان کو نہ صرف وزیراعلٰی اور نائب وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز  توکردیا لیکن وہ نہیں چاہتی کہ یہ حضرات صدارتی انتخاب سے قبل  پارلیمانی رکنیت کو چھوڑیں ۔ ان تین سالوں میں تمام تر بلند بانگ دعووں کے باوجود مودی جی  اور شاہ جی  اپنی پارٹی کو اتنا طاقتور نہیں کرسکے کہ بہ آسانی اپنے صدارتی امیدوار کو کامیاب کرسکیں ۔ انہیں  خوف ہے کہ حزب اختلاف کا مشترکہ امیدوار بی جے پی کے نامزد کردہ امیدوار کو دھول نہ چٹادے۔ اگر اس ندامت سے بچنے  کا اتنا ہی خیال تھا تو یوگی اور پریکر کو وزیراعلیٰ نیز کیشو پرشاد موریہ کو نائب وزیراعلیٰ  بنا نے کے بجائے یہ ذمہ داری ارکان اسمبلی میں سے کسی سونپ دی جاتی لیکن وقت کے ساتھ وزیراعظم کااعتماد ڈگمگا گیا ہے اور پھونک پھونک کر قدم رکھنے لگے ہیں ۔ اب اگر عدالت کا کوڑا لگنے کے بعد ان لوگوں کو اپنی رکنیت چھوڑنی پڑی تو یہ حکومت کے ماتھے پر ایک بدنما داغ ہوگا۔ ویسے سنگھ پریوار کی کھال اتنی موٹی ہے کہ اس کو  فرق نہیں پڑتا اور پھرتین طلاق جیسا کوئی غیر اہم مسئلہ اچھال کر عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ذرائع ابلاغ تو موجود ہی ہے۔

صوبائی انتخاب سے قبل فروری 2017 میں اتر پردیش کےایک  جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے مودی جی نے کہا تھا جمہوریت میں چنی گئی حکومت غریبوں ، دلتوں ، مظلوموں ، نوجوانوں ، مزدوروں ، ماں بہنوں کی حفاظت کے لیے ہونی چاہیے لیکن اکھلیش حکومت نے انہیں لوگوں کا سب سے زیادہ استحصال کیا ہے۔وزیراعظم نے دعوی کیا تھا کہ ملک میں دلتوں پر سب سے زیادہ ظلم اترپردیش میں ہوتاہے۔صوبے میں عدالتوں کے ذریعے دلت ظلم و ستم کے مقدمے درج کرانے کی نوبت آچکی ہے اس لئے کہ اکھلیش جی نے تھانے کو ایس پی کا دفتر بنا دیا ہے۔ جب تک سماج وادی پارٹی کا صوبیدار ہاں نہ کہے، ایس ایچ او کاغذ پر ایک لفظ بھی لکھنے کی ہمت نہیں کرتا۔ اگر کسی داروغہ نے ایمانداری سے لکھ بھی دیا تو اس کی تو چھٹی طے سمجھیں ۔ متھرا میں پولس داروغہ کو جس طرح ہندووادیوں نے زدوکوب کیا ، سہارنپور میں داروغہ تو دور لو سنگھ نامی ایس پی کے ساتھ جو سلوک ہوااور وزیراعلیٰ کے اپنے حلقۂ انتخاب گورکھپور میں جس طرح ایک  خاتون پولس افسرکوبی جے پی رکن اسمبلی نے رسوا کیا اس نے وزیراعظم کے سارے دعووں کی پول کھول دی  اور ظاہر کردیا کہ   غنڈہ گردی کے معاملے میں یوگی کےآگے اکھلیش تو بس طفل مکتب ہے۔

2002 میں یوگی  ادیتیہ ناتھ نےہندو یوا واہنی نامی  ایک نجی مافیا تشکیل دی ۔ پندہ سال  اس کے بل بوتے پر وہ اپنی سیاست چمکاتے رہے اور مسلسل اسمبلی اور پارلیمانی کامیابیاں درج کراتے رہے لیکن کون جانتا تھا کہ وزیراعلیٰ بن جانے کے بعد انہیں خود واہنی کے دانت نکال کر  اسےسرکس کا شیر بنانا پڑے گا۔ یوگی جی کے اقتدار میں آتے ہی اترپردیش کے ٹھاکروں نے یہ سمجھ لیا کہ اب ان کی سرکار آگئی ہے اور وہ جو مرضی ہو کرسکتے ہیں ۔ پہلے تو ان کا غم و غصہ مسلمانوں کے خلاف تھا لیکن پھر وہ دلتوں کی جانب مڑگیا اور20 دنوں کے اندر سہارنپور کے قرب و جوار  میں یکے بعد دیگرے تین فسادات ہوئے۔ یوگی جی نے اس سے پریشان ہوکر  ہندو یوا واہنی کی کارکن سازی کو بند کروادی لیکن یہ حربہ بھی  کارگرثابت  نہیں ہوا۔

9 مئی 2017 کو چلکانہ روڈ، بہٹ روڈ، دہرادون روڈ، امبالہ روڈ، پلکھنی ، رام نگر ہلال پور، ملہی پور اور مانک مؤ کے علاقوں میں دلت اور پولیس کے درمیان جو تصادم ہوا اسے دلت سماج کبھی بھول نہیں سکتا  حکومت حسب روایت حملہ آوروں کو گرفتار کرنے کے بجائے انہیں بچانے میں لگی رہی ۔ دودھلی گاوں اور بڑ گاوں کے فسادات پر نظر ڈالی جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی والوں کا دماغی توازن بگڑ گیا ہے۔ پہلے تو انہوں نے ڈاکٹر امبیڈکر جینتی کے بہانے جلوس نکال کر دلتوں کو مسلمانوں سے لڑانے کی مذموم کوشش کی لیکن اس میں ناکام رہے۔ اس کے بعد ان لوگوں  بڑگاؤں میں دلتوں کو سبق سکھانے کے لیےرانا پرتاپ جینتی کا جلوس  نکال کربابا صاحب امبیڈکر کے مجسمے کو توڑ پھوڑ دیا ۔ اس کے بعددلت  بستی  پر حملہ کرکےدرجن بھر گھرجلادئیےاوران کے مندر پر بھی پتھراؤ کیا۔ اس فساد میں ایک شخص ہلاک اور اور لاکھوں کی املاک نذرِ آتش ہوئی۔ اس تیسری واردات کے بعد حزب اختلاف کی سبھی جماعتوں نے ضلع مجسٹریٹ اور پولیس کپتان سے ملکر اصل ملزمین کی  گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ اس ہنگامے کا نتیجہ یہ نکلا کہ دلتوں کو سنگھ پریوار سے جوڑنے کا خواب چکنا چورہوگیا اوردلت مسلم اتحاد مزید طاقتور ہوگیا ۔

مذکورہ سیاسی اتھل پتھل کے تناظر میں  اتر پردیش کے مراد آباد کے اندر دلت سماج کے50  افراد نے علی الاعلان  ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کرلیا۔مشرف بہ اسلام ہونے والوں کا  الزام ہے کہ سہارنپور اور سنبھل میں بی جے پی کارکنوں نے دلتوں پر ظلم کیا ہے،جس کےسبب انہیں  بی جے پی  کے علاوہ  ہندو مذہب سے بھی نفرت ہو گئی ہے۔دلتوں نے اعتراف کیا  کہ انہیں مرکز کی مودی اور یوپی کی یوگی حکومت سے بڑی توقعات  تھیں ،لیکن یہ دونوں سرکاریں دلت مخالف سرگرمیوں میں ملوث  ہیں ۔اس اعلان سے گھبرا کربجرنگ دل کے کارکنان دلتوں کو منانے سمجھانے کے لیے پہنچے مگر وہ  جھانسے میں  نہیں آئے۔دلتوں  نے ٹیلویژن کیمرے کے سامنے اپنے گھر میں رکھے ساری مورتیوں اور تصویریں دریا برد کردیں ۔ ان کے رہنما نے یہاں تک کہ اعلان کیا کہ اگر بی جے پی والے رام مندر بنانے کا اعلان کرتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ بابری مسجد بنائیں گے۔

یوگی جی جو ببانگ دہل گھر واپسی کی حمایت کرتے تھے ان کے دورِ اقتدار میں یہ چمتکار رونما ہوگا ایسا تو کسی نے نہیں سوچا تھا۔ یوگی جو ایک ماہ قبل یہ اعلان کرچکے تھے کہ ہم نے نظم و ضبط کو سدھار دیا ہے کہہ رہے ہیں کہ جلد ہی نظم و ضبط کی صورتحال سدھار دیں گے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ  اتر پردیش میں امن و سلامتی بہتری کی جانب گامزن  ہے یا  بگاڑکی طرف مائل ہے۔ اس دوران الہ ٰ باد ہائی کورٹ یوگی سرکار کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ آپ کسی چور دروازے سے عوام کے کھانے پینے کی عادات پرقدغن  نہیں لگاسکتے۔ عدالت نے حکم دیا کہ جن لوگوں نے تمام شرائط پوری کردی ہیں  ان کے مذبح خانوں   کےاجازت نامہ فوراً بحال کیا جائے ۔جب سے مودی جی اقتدار میں  آئے ہیں  آئے دن عدالت کو اس کے کان اینٹھنے پڑتے ہیں اب یوگی جی کی ذلت و رسوائی کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ کہاں جاکر رکتا ہے؟ سمئے کے چکرویوہ میں پھنستے یوگی پر یہ اشعار صادق آتے ہیں ؎

جنوں فروغ ہے یارو عدو کی سنگ زنی

ہزار شکر کہ معیارِ عشق پست نہیں

مناؤ جشن کہ روشن ہیں مشعلیں اپنی

دریدہ سر ہیں تو کیا غم شکستہ دست نہیں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close