آج کا کالم

یوگی کی خیانت اورکفیل کی ضمانت

یوگی  جی نے کہا تھا کہ  آکسیجن کی کمی کے سبب کسی بچے کی موت نہیں ہوئی وہ سب اپنی فطری موت مرے۔ یہ دعویٰ اگر درست ہے تو ڈاکٹر کفیل اور ان کے ساتھیوں  پر کون سی  لاپرواہی کا الزام لگایا جارہا ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

ساری دنیا پریشان ہے وطن عزیز میں محنتی اور ایماندار لوگوں کا قحط کیوں پڑتا جارہا ہے  ؟ ہر کوئی مادہ پرست اور بدعنوان کیوں بنتا جارہا ہے  ؟؟ اس معمہ کو سلجھانے  کے لیے ڈاکٹر کفیل احمد کے حالات زندگی کو دیکھ  لینا  کافی ہے  جنہیں ۸ماہ کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملی۔ ایڈوکیٹ  نذرالاسلام  جعفری اورصدف الاسلام جعفری نے پیروی کی حکومت کی جانب  سے وملیندو ترپاٹھیتھے مگر جسٹس یشونت ورما نے ضمانت  دے دی۔ اس  پر ان کی بیوی ڈاکٹرشبستاں خان نے خوشی  جتاتے ہوئے عدلیہ پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر۲ ستمبر؁۲۰۱۷ کو انہیں کس جرم میں پابندِ سلاسل کیا گیا ؟  اس سوال کا جواب یہ  ہے کہ  ۸ مہینے پہلے بی آر ڈی اسپتال میں بچوں کی ہلاکت کے بعد یوگی آدتیہ ناتھ  نے ڈاکٹر کفیل سے کیوں کہا تھا کہ ’’تم سوچتے ہو باہر سے سلنڈر لاکر تم نے زندگی بچائی ہے اور تم ہیرو ہو،ہم دیکھ لیں گے،تمہیں سبق سکھائیں گے‘‘۔اس میں شک نہیں کہ یوگی ادیتیہ ناتھ بے قصور ڈاکٹر کفیل کو ستانے میں کوئی کست نہیں اٹھا رکھی مگر اس بیچ  گورکھپور کی عوام نے ضمنی انتخاب میں یوگی کو ایسی پٹخنی دی کہ عقل ٹھکانے آگئی  اور پھول پور والوں نے یوگی کی راہ میں ایسے کانٹے بچھائے جن کو کبھی بھول نہیں سکتے۔

ڈاکٹر کفیل کو اس وقت گرفتار کیا گیا  جب ہر کوئی یوگی ادیتیہ ناتھ  کی نااہلی  پر لعنت ملامت کررہا تھا اور ذرائع ابلاغ  میں  ڈاکٹر کفیل احمد اپنی محنت اورخدمت کے سبب چھائے ہوئے تھے۔ اس غیر معمولی  مقبولیت سے حسد کا شکار ہو کر یوگی جی نے ان پر آئی پی سی کی دفعات ۴۰۹(سرکاری فنڈکے غبن) ،۳۰۸ اور ۱۲۰ بی کے تحت الزامات لگا دیئے  جو اگر ثابت ہوجائیں  توعمر قید  تک ہوسکتی ہے۔تفتیش  کے بعد ثبوت نہ ملنے پر بد عنوانی ،پرائیویٹ پریکٹس ،سیکشن ۶۶ آئی ٹی ایکٹ  اور آئی پی سی ۴۲۰فراڈ کے چارج واپس لے لیےگئے۔ ڈاکٹر کفیل کواگر انعام و اکرام سے نوازہ جاتا تو  دوسروں کو بھی  خدمت خلق کی ترغیب ملتی لیکن اب کون اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر عوام کی بے لوث خدمت کرے گا ۔

ڈاکٹر کفیل کے ضمانت کی عرضی کو نچلی عدالتوں مثلاً  بدعنوانی کی روک تھام کے خصوصی جج اور دیگر ذیلی عدالتوں نے  حکومت کے  دباو میں خارج کردیا اس لیے  مجبوراً عدالت عالیہ سے رجوع کرنا پڑا۔ ان  کو گرفتار کرنے کے لیے یہ افواہ اڑائی گئی کہ وہ ۱۰۰بستروالے اے ای ایس وارڈ کے نوڈل افسرتھے۔استغاثہ نے عدالت  میں بھی یہی بہتان طرازی کی  جبکہ وہ  نیشنل ہیلتھ مشن کے نوڈل آفیسر اورشعبۂ اطفال میں استاد تھے۔جس  وارڈ میں سانحہ رونما اس کا افسر صدر شعبہ تھا جو اس نازک گھڑی میں اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے فرار ہوگیا۔ ڈاکٹر کفیل نے بچوں کا درد محسوس کیا اور تعطیل کے باوجود اسپتال میں حاضر ہوگئے۔ ان کو اندازہ ہوگیا کہ ۵۲ سلنڈر ناکافی ہیں تو انہوں نے اپنی جیب سے خرچ کرکے ۲۵۰ سلنڈرس کا بندو بست کیا لیکن حیرت کی بات یہ ہے بھگوڑا صدر شعبہ  اور اس وقت ڈیوٹی پر موجود انچارج نہ گرفتار ہوئے اور  ان کے خلاف کوئی کیس ہے۔ بے رحمی سے آکسیجن سپلائی روکنے والی کمپنی پشپا سیلس کے مالک منیش بھنڈاری تک   کوعدالت عظمیٰ سے  ضمانت مل گئی لیکن ڈاکٹر کفیل اور ان کے ساتھی ڈاکٹر راجیو مشرا   بلاوجہ جیل میں پڑے رہے۔ ڈاکٹر مشرا جگر اور شکر کے مریض ہیں ان کی اہلیہ پورنیما شکلا کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے اور ڈاکٹر کفیل کو  مارچ مین دل کا دورہ پڑا۔ اس کے باوجود یوگی  سرکار بھنگ پی کر سوئی رہی۔

الہ باد ہوئی کورٹ میں ضمانت کی سماعت سے قبل ڈاکٹر کفیل کی اہلیہ ڈاکٹر شبستان کے دہلی  آ کر ا س ظلم کے خلاف آواز اٹھانے سے اورسماجی رابطے کے ذرائع میں اس پر برپا ہونے والے  شور شرابے سے کمبھ کرن کی نیند سونے والی  یوگی سرکار نیند سے بیدار ہوئی  ورنہ یہ بے قصور لوگ نہ جانے کب تک جیل میں پڑے رہتے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ ڈاکٹر کفیل احمد پر لگائے جانے والے تینوں الزامات درست ثابت ہوجائیں تب بھی ان کی حراست درست نہیں ہے۔ ان پر پہلا الزام یہ ہے کہ وہ سرکاری ملازمت کے باوجود نجی پریکٹس کرتے تھے اگر یہ درست بھی ہو تو  وہ فوجداری کا مقدمہ نہیں بنتا بلکہ ان پر نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے تحت محکماتی کارروائی ہوسکتی ہے۔

ان پر ۳۴ ہزار روپئے بدعنوانی کا الزام ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ لوگ ہزاروں کروڈ کا گھپلا کرکے ملک سے فرار ہورہے ہیں  اس ۳۴ ہزار کی حقیقت یہ ہے کہ دفتری کاموں کے لیے یہ رقم ڈاکٹر کفیل  پیشگی اپنی جیب ادا کرچکے ہیں اور اس کی ادائیگی کی رسیدیں عدالت میں جمع کی جاچکی ہیں ۔ اس کے عوض اگر انہوں نے اپنے نام سے چیک بنوائے تو اس میں جرم کہاں سے ہوا؟ ڈیوٹی سے لاپرواہی کا سوال  اس لیے پیدا نہیں ہوتا کہ ان کی چھٹی کی درخواست دفتر میں موجود تھی۔ اس کے باوجود وہ کام پر آئے تو کیا یہ لاپرواہی ہے ؟ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ خود یوگی  جی نے کہا تھا کہ  آکسیجن کی کمی کے سبب کسی بچے کی موت نہیں ہوئی وہ سب اپنی فطری موت مرے۔ یہ دعویٰ اگر درست ہے تو ڈاکٹر کفیل اور ان کے ساتھیوں  پر کون سی  لاپرواہی کا الزام لگایا جارہا ہے۔

اس صورتحال میں کون چاہے گا کہ ایمانداری سے  ڈاکٹر کفیل احمد کی طرح کام کرے۔ ہر کوئی  سادھوی پراچی اور سنجے بالیان کی طرح اشتعال انگیز بیان دے گا  کیونکہ یوگی  جی ایسے لوگوں کو بچا لیتے ہیں ۔ یوگی  جی خود ۲۶ معاملات میں ماخوذ ہیں مگر وزیراعلیٰ بنے ہوئے ہیں ۔ ۱۵۰ سے زیادہ ارکان پارلیمان کے اوپر  سنگین الزامات ہیں  مگر وہ سرکاری خزانے پر عیش کررہے ہیں ۔ سوشیل میڈیا پر یہ خبر گشت کرتی ہے وزیراعظم مودی  اپنے دوستوں نیرو  مودی، للت مودی، وجئے ملیا  اور  میہول چوکسی سے ملنے لندن گئے تھے  اور عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے بھارت کی بات میں ہندوستانی ڈاکٹروں پر ادویات بنانے والے اداروں کے خرچ پر کانفرنس میں شرکت کرنے کا الزام لگادیا۔ اس  بہتان پر ۲ لاکھ اسیّ ہزار ڈاکٹروں کی انجمن  آئی ایم اے نے  بجا طور احتجاج کیا ہے لیکن اس  ادارے کو ڈاکٹر کفیل جیسے لوگوں کو بدعنوان سیاستدانوں کے چنگل سے نکالنے کے لیے بھی میدان میں اترنا چاہیے ورنہ تو یہ سرکار ساری دنیا کو اپنے جیسا ثابت کرکے خود گنگا نہا لے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close