آج کا کالم

یکساں سول کوڈ سے جڑے سوالات

رویش کمار

جمعرات کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے پریس کانفرنس کر کہا کہ وہ لاء کمیشن کے سوالنامے کا بائیکاٹ کرتے ہیں- آپ جانتے ہیں کہ لاء کمیشن نے پرسنل لاء میں اصلاحات کو لے کر اپنی ویب سائٹ پر 16 سوالات پر 45 دن کے اندر عوام سے رائے مانگی ہے- آپ اپنی رائے ای میل یا ڈاک سے لاء کمیشن کو بھیج سکتے ہیں- پرسنل لاء بورڈ اس سوالنامے سے متفق نہیں ہے- اس کے جواب میں جمعہ کو مرکزی شہری ترقی کے وزیر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ پرسنل لاء بورڈ اپنا فیصلہ کسی دوسرے پر نہ تھوپے اور اسے سیاسی نہ بنائے- اگر آپ کو لاء کمیشن کا بائیکاٹ کرنا ہے تو آپ کی مرضی ہے- تین طلاق کو یکساں ضابطہ اخلاق سے منسلک کیا جا رہا ہے لیکن اہم مسئلہ صنفی جسٹس کا ہے. عورتوں کے اعزاز کا ہے- ہم اس پر صحت مند بحث کا مطالبہ کرتے ہیں. کسی پر کچھ نہیں مسلط جائے گا-

 جمعرات کو لاء کمیشن کے سربراہ ریٹائرڈ جسٹس ڈاکٹر بی ایس چوہان نے بھی کہا کہ کسی پر کچھ مسلط نہیں کیا جائے گا- وینکیا نائیڈو نے بھی کہا کہ کسی پر کچھ نہیں مسلط کیا جائے گا- وینکیا نائیڈو نے اس بیان کے ذریعہ جو کہا ہے وہ یہ کہ اگر مسلم پرسنل لاء بورڈ کو لاء کمیشن کا بائیکاٹ کرنا ہے تو اس کی مرضی-

 لکھنؤ میں اسی سوال کو ملائم سنگھ یادو سے بھی پوچھا گیا. ایس پی لیڈر نے کہا کہ وہ اس معاملے پر زیادہ کچھ نہیں کہیں گے لیکن اس پر اختلاف نہیں ہونا چاہئے- اس مسئلے کو مذہبی رہنماؤں پر چھوڑ دینا چاہئے. ملک اور انسانیت کے معاملے پر سب کو ایک ہونا چاہئے. اس سوال کا جواب ہاں یا نہ میں کوئی دیتا نہیں ہے- وینکیا جی نے صحت مند بحث کی بات کہی ہے- ڈبیٹ تو اس مسئلے پر آئین ساز اسمبلی کے وقت سے ہو رہی ہے- آپ خود سے بھی گوگل کریں گے تو پائیں گے کہ دو چار سپریم کورٹ کے فیصلوں کے علاوہ کچھ بھی نیا نہیں کہا جا رہا ہے- پرانی باتوں کو نکال کر پھر سے وہی کہا جا رہا ہے. حکومت کس طرح کا یکساں سول کوڈ چاہتی ہے، اس کا ڈرافٹ کیا ہے، آج تک کسی نے سامنے نہیں رکھا، تو پھر صحت مند بحث کس چیز کو لے کر ہوگی. جیسے پہلا سوال ہے کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 44 میں یہ کہا گیا ہے کہ ریاست، ہندوستان کے تمام صوبوں میں شہریوں کے لئے ایک ہی سول نظام حاصل کرنے کی کوشش کرے گا؟ اس کا ہاں یا نہ میں جواب دینا ہے- اس طرح کے سوال تو سروے میں پوچھے جاتے ہیں- 16 میں سے 11 سوال ایسے پوچھے گئے ہیں جن کا جواب ہاں یا نا میں دینا ہے- باقی کے پانچ سوال ہاں یا نہ کے طرز میں پوچھے گئے ہیں لیکن ان کے نیچے جگہ دی گئی ہے تاکہ آپ تفصیل سے اپنا موقف رکھ سکیں. ہاں یا نا کے طرز میں پوچھے گئے یہ سوال کیا صحیح سوال ہیں، کافی سوال ہیں، کیا ان سوالات سے اتنے سنجیدہ موضوع کو گہرائی سے سمجھنے کا موقع ملتا ہے- کچھ سوال اس طرح سے پوچھے گئے ہیں –

 – کیا یکساں سول کوڈ سے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا؟

– کیا یکساں سول کوڈ کی ضرورت ہے؟

– کیا اس سے صنفی جسٹس آئے گا؟

– کیا یہ اختیاری ہونا چاہئے؟

 سوال ہے کہ کیا لوگوں کو فائدہ پہنچے گا، پھر پوچھتے ہیں کہ صنفی جسٹس آئے گا، کیا فائدہ اور صنفی جسٹس دو مختلف چیزیں ہیں. اب آپ کے ذہن میں سوال آ رہا ہو گا کہ لاء کمیشن نے جو سوال پوچھے ہیں کیا وہ صرف مسلم پرسنل لاء سے متعلق پوچھے ہیں- ایک آدھ ہی سوال ہیں جو ہندو اور عیسائی برادری سے متعلق ہیں، باقی کے کچھ سوالات میں مذہب کا ذکر نہیں ہے لیکن ان کا تعلق مسلم پرسنل لاء سےلگتا ہے- پھر بھی اس پر بات ہونی چاہئے کہ لاء کمیشن کے سوال کیا واقعی اتنے انقلابی ہیں جن سے یہ لگتا ہو کہ کمیشن تمام مذہبی اور نسلی معاشروں کے رسم و رواج کو ختم کر سب کو ایک قانون کی چھت کے نیچے لانے کی کوشش کرنا چاہتا ہے- سوال نمبر دو میں پوچھا گیا ہے کہ مختلف مذہبی فرقے خاندانی طریقہ کار کے موضوعات پر ہندوستان میں پرسنل لاء اور قدامت پسند رواجوں کی طرف سے نافذ کئے جاتے ہیں، کیا یکساں سول کوڈ میں ان تمام موضوعات یا ان میں سے کچھ موضوعات کو شامل کیا جانا چاہئے، جیسے شادی، طلاق، ولایت ،متبنہ،جانشینی، ورثہ-

 ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ متبنہ ، جانشینی کو لے کر تمام مذاہب میں ایک قانون نہیں ہے، تمام ریاستوں میں ایک قانون نہیں ہے، کیا یکساں سول کوڈ  کا یہ بھی مطلب ہو گا کہ تمام ریاستوں میں اب ایک ہی قانون لاگو ہو گا، کیا اس وقت تمام ریاستوں میں ایک ہی قانون لاگو ہے- ہمارا مقصد سوال کو مناسب طریقے سے سمجھنا اور جواب جاننا ہے تاکہ اس پر صحت مند بحث ہو سکے جیسا کہ وینکیا جی نے کہا ہے- جب سوال نمبر دو میں طلاق کا سوال پوچھ ہی لیا گیا ہے تو پھر سوال نمبر سات میں الگ سے تین طلاق کے بارے میں پوچھنے کی کیا ضرورت تھی- کیا تین طلاق کے علاوہ دوسرے معاشروں میں بھی طلاق کو لے کر مسائل ہیں- کیا ان پر ہندو کوڈ بل یا پارلیمنٹ کے نئے قانون نافذ نہیں ہوتے ہیں- خیر سوال نمبر سات یہ ہے کہ کیا تین طلاق کی رسم کو

 – مکمل طور پر ختم کر دینا چاہئے؟

–   پرانے قوانین کو بنے رہنے دینا چاہئے؟

– مناسب ترامیم کے ساتھ بنے رہنے دینا چاہئے؟

 ویسے پرسنل لاء بورڈ کے لئے تو یہ سوال آسان ہی ہے. ان کی مرضی کے بھی اس میں اختیار دیے گئے ہیں- پھر بائیکاٹ کیوں کیا- سوال نمبر 6 میں کثرت ازدواج ختم کرنے کے اختیارات پوچھے گئے ہیں. تین طلاق سے تو صاف ہو جاتا ہے کہ مسلم سماج سے تعلق ہے لیکن کثرت ازدواج والے سوال میں کسی مذہب کا ذکر نہیں ہے- کیا ہندو کوڈ بل کے بعد بھی یہ کسی غیر مسلم معاشرے میں رائج ہے- اول تو سپریم کورٹ ہی کہہ چکا ہے کہ زمینی حقیقت ہے کہ پابندی کے بعد یہ آج بھی ہندوؤں میں مقبول ہے. سوال نمبر 6 میں دوستی قرار یعنی فرینڈشپ ڈیڈ کی بات کی گئی ہے وہ کیا ہے. یہ کس مذہب، برادری یا علاقے سے تعلق رکھتا ہے- سوال سے صاف نہیں ہوتا ہے-

 سوال 8 میں پوچھا گیا ہے کہ ہندو عورت جائیداد کے حقوق کو بہتر طریقے سے استعمال کر سکے اس کے لئے کیا قدم اٹھائے جانے چاہئے، اکثر بیٹے کے نام ہی وصیت کر دی جاتی ہے- اس سوال کا یکساں سول کوڈ سے کیا تعلق ہے- کیا لاء کمیشن قوانین کو نافذ کرانے کو لے کر بھی کوئی یونیفارم سول کوڈ بنا رہا ہے- بات یکساں قانون بنانے کی ہو رہی ہے یا نافذ کرانے کی بھی ہو رہی ہے- تو یہ بھی پوچھا جانا چاہئے تھا کہ یکساں سول کوڈ کا مطالبہ کرنے والے بھی باپ کی جائیداد میں بیٹی اور بہنوں کو حصہ کیوں نہیں دیتے ہیں- بہت کم ایسے ہوں گے جو حصہ دیتے ہیں- کیا حکومت اس کا بندوبست کرنے جا رہی ہے کہ تمام خاندانوں کو حکومت کے یہاں رپورٹ کرنا ہوگا کہ باپ کی جائیداد تقسیم کرتے وقت بیٹیوں اور بہنوں کو کتنا دیا گیا، بلکہ حکومت اسے بیٹی بچاؤ اور بیٹی پڑھاؤ مہم کا حصہ بنا سکتی ہے- معاشرے میں انقلابی تبدیلی آئے گی- سوال نمبر دس میں پوچھا گیا ہے کہ کیا آپ اتفاق کرتے ہیں کہ تمام پرسنل لاء اور رواجوں کے لئے شادی کی ایک یکساں عمر ہونی چاہئے؟

 ہندو میریج ایکٹ اور اسپیشل میریج ایکٹ میں لڑکیوں کے لئے شادی کی عمر 18 ہے اور لڑکوں کے لئے 21- جامع طور پر تو یہ قانون لاگو ہوتا ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ کم عمر میں شادیاں ہو رہی ہیں- ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ مسلمانوں میں شادی کی عمر کیا ہے اور اس پر عمل کس حد تک ہوتا ہے- کیا سوال نمبر دس کا تعلق مسلم پرسنل لاء سے ہی ہے یا دیگر کمیونٹیز سے بھی ہے-

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close