آج کا کالم

یہ دھوپ زرد زرد سی، یہ چاندنی دھواں دھواں

اس وقت مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک پورے ملک میں ایک عجیب و غریب افراتفری، بے چینی، بے سکونی اور ہنگامی کیفیت برپا ہے، احتجاجات جاری ہیں، مظاہرے ہورہے ہیں،جانیں جارہی ہیں،عوام کومشقتوں، تکلیفوں اورنوع بہ نوع مصیبتوں کا سامناہے۔ مہاراشٹرمیں خشک سالی کی وجہ سے عوام کی زندگیاں دوبھرہوچکی ہیں، کھیتیاں جل رہی ہیں،عوام بھوک پیاس سے تڑپ رہے ہیں، جب کہ مہاراشٹرکی بی جے پی حکومت میں آبی وسائل کی وزیرپنکجامنڈے لاتورمیں حالات کاجائزہ لینے پہنچنے کے بعد’سیلفی ‘لینے میں مگن ہیں، جنوبی ہند کے کیرالاکے ایک مندرمیں آتشزدگی کے حادثے کے دوران سیکڑوں لوگ ہلاک ہوئے اور اس حادثے کے متاثرین کی امدادوراحت رسانی میں حکومت تاحال کامیاب نہیں ہوسکی ہے، اُدھرکشمیرمیں ابھی این آئی ٹی کا معاملہ سرخیوں میں تھاہی کہ اسی دوران ایک نابالغ طالبہ سے فوجی اہلکارکے ذریعے چھیڑچھاڑکے بعد12؍اپریل سے ہی وادی میں مظاہرات کا طوفان برپاہے اور فوج کے ہاتھوں اب تک کم ازکم5؍لوگ مارے جاچکے ہیں، صوبائی و مرکزی حکومت معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنے اور اس سے انصاف پسندی کے ساتھ نمٹنے کی بجائے فوجی قوت کے سہارے عوامی آواز کوکچلنے اور مسلنے کے درپے ہے، ’افسپا‘ قانون نے کشمیر کوپہلے سے ہی جہنم زار بناکر رکھا ہوا ہے، مگرمذکورہ واقعہ کے بعدمرکزی حکومت نے مزید3600؍کی تعداد میں پیراملٹری فورسز بھیج کرصاف اشارہ کردیا ہے کہ کشمیر کواپنے قابومیں رکھنے کے لیے ہندوستانی حکومت صرف طاقت کوذریعہ کے طورپراختیارکرے گی،اس کے علاوہ کشمیری عوام سے نمٹنے کے لیے اورکوئی طریقہ نہیں سوچ رہی، صوبائی عدالت نے نابالغ لڑکی، اس کے والداورایک رشتے دارکی حراست پر سوال کھڑاکرتے ہوئے پولیس سے جواب مانگاہے کہ کس قانون کے تحت انھیں گرفتار کیا گیا، پولیس کی جانب سے لڑکی کے بیان پرمشتمل ایک ویڈیوجاری کیاگیا،جس میں وہ کسی فوجی کی دست درازی سے انکار کررہی ہے، پیرکویہ خبربھی آئی کہ اس لڑکی نے جوڈیشیل مجسٹریٹ کے سامنے بھی کہاکہ اس کے ساتھ دست درازی کسی فوجی اہل کارنے نہیں کی؛ لیکن اس کے گھر والوں کا کہناہے کہ اس سے وہ بیان زبردستی لیاگیا ہے،کشمیرکے مقامی سول سوسائٹی گروپ کا الزام ہے کہ اس نے زیرِحراست لڑکی کی ماں کواپنا موقف واضح کرنے کے لیے ایک پریس کانفرنس کے انعقادکا فیصلہ کیاتھا، جس کی پولیس نے اجازت نہیں دی،حالاں کہ پولیس کاکہنا یہ ہے کہ وہ کانفرنس ایسے علاقے میں منعقد ہونے والی تھی، جہاں کر فیو نافذہے اور اس قسم کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے، حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی16؍اپریل کویہ مطالبہ کیاہے کہ اس لڑکی اوراس کے اہلِ خانہ کوفوری طورپررہاکیاجائے؛ لیکن’کون سنتاہے فغانِ درویش‘!۔
اسی طرح رام نومی کے جلوس کے موقعے پربہارکے سیوان سے فرقہ وارانہ تشددکی خبر آئی اور اس کے فوراً بعد جھارکھنڈ کے ہزاری باغ سے ایسی خبریں آرہی ہیں، آپے سے باہر لوگ دکانیں جلارہے ہیں،مکانوں کونذرِآتش کررہے ہیں اورایک دوسرے پرپتھراؤکررہے ہیں، وزیر اعظم مسٹرمودی کے گجرات کی حالت ایک بار پھر خراب ہورہی ہے اورپٹیل برادری کے لیے ریزرویشن کامطالبہ کرنے کی خاطر تحریک چھیڑنے والے ہاردک پٹیل، جوغداری کیس میں جیل میں بند ہیں، ان کی رہائی کے لیے حامیوں نے گجرات کے مہسانہ میں زبردست ہنگامہ آرائی کی،جس کے بعدانتظامیہ کی جانب سے کرفیونافذکرنے کے ساتھ ساتھ احمدآباد، سورت اور آس پاس کے کئی شہروں میں موبائل وانٹرنیٹ خدمات بھی معطل کردی گئی ہیں،خبرہے کہ وزیر داخلہ نے صورتِ حال کی جانکاری لینے اور مرکزکی جانب سے حالات کوقابوکرنے کے سلسلے میں امدادکے لیے گجرات کی وزیر اعلیٰ آنندی بین پٹیل سے رابطہ کرکے تبادلۂ خیال کیاہے۔
دوسری جانب ایسا لگ رہاہے کہ وطنِ عزیز قدرت کی بھی سخت پکڑمیں ہے،جہاں ایک طرف ملک کے مختلف حصوں میں خشکی و قحط سالی نے عوام کو جکڑرکھاہے، وہیں درجۂ حرارت بھی وقت سے پہلے ہی اپنے نئے ریکارڈ بنارہاہے، جہاں دہلی میں اس وقت چالیس سے اوپر درجۂ حرارت ہے، وہیں جنوبی ہندکے آندھراپردیش و تلنگانہ سے دہشت ناک خبریں آرہی ہیں،صرف ایک دن کے اندرتلنگانہ میں تپش کی شدت اور ہلاکت ناک گرمی کی زدمیں آکر 50؍لوگ جان سے ہاتھ دھوبیٹھے، جب کہ آندھراپردیش میں 29؍لوگ ہلاک ہوگئے۔موسمیات کے ماہرین ابھی سے اندازہ لگارہے ہیں کہ اس سال کی گرمی بہت ہی جان لیواثابت ہوگی،گزشتہ مانسون میں بارش کی کمی کی وجہ سے پورے ملک کے مختلف علاقے پانی کی قلت سے دوچارہیں ہی،اب گرمی کی دھمک بھی تشویش ناک صورتِ حال پیداکررہی ہے۔
فی الوقت پورے ملک کی مجموعی صورتِ حال یہ ہے اوردوسری طرف جب ہم اپنے وزیر اعظم کے بارے میں معلوم کرتے ہیں کہ وہ ان سب حادثات کے دوران کہاں ہیں اور کیاکررہے ہیں، تومعلوم ہوتاہے کہ جناب توبنگال کوفتح کرنے میں مشغول ہیں اور ان کے پاس وقت ہی نہیں کہ ملک بھر میں پھیلی ہوئی بے چینی، ہنگامہ آرائی اور مخدوش صورتِ حالات پرکچھ دھیان دیں،ان کو دھن ہے،توصرف یہ کہ کس طرح مغربی بنگال سے ممتا بنرجی کی چھٹی کی جائے اور کیسے آسام میں بی جے پی برسرِاقتدارآئے۔اگرچہ ہمارے ملک میں وزیر اعظم جیسے سب سے بڑے ذمے دارانسان کی اس درجہ لاپروائی کوئی قابلِ ذکربات نہیں سمجھی جارہی اور سب کچھ ’حسبِ معمول‘چل رہاہے؛ لیکن جن مغربی ملکوں کی ہم ہر شعبۂ حیات میں پیروی و اتباع کرتے ہیں اور اس کواپنے لیے باعثِ افتخار سمجھتے ہیں، کم ازکم وہاں توایسا نہیں ہوتاکہ ایک طرف عوام بھوک سے تڑپ اور بلک رہے ہوں،ملک کے ایک بڑے خطے میں بدامنی پھیلی ہواورقیامت کاسماں ہواور ملک کاوزیراعظم الیکشن کمپیننگ میں بزی ہو،اس کے پاس ملک کی خبر لینے کے لیے وقت نہ ہو، وہ عوام کی پریشانیاں اور ان کے دکھ دردکوسمجھنے اور سننے کے لیے خالی نہ ہو،حالاں کہ اگر سیاسی و انتخابی نقطۂ نظرسے بھی ہم بنگال میں کی گئی مسٹرمودی کی تقریروں کوسنیں اور دیکھیں توان کی چرب زبانی کی قلعی کھل جائے گی،وہ کیسے یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت آنے سے وہاں کے لوگوں کی ساری پریشانیاں اور مصیبتیں یکلخت خوشحالی میں بدل جائیں گی،جب کہ خودان کے گجرات میں ہاہاکارمچاہواہے اور بحیثیت وزیراعظم گزشتہ دوسال کے دوران وہ نہایت ہی ناکام اورعوام کواپنے آپ اور اپنی حکومت سے مطمئن نہ کر سکنے والے حکمراں ثابت ہوئے ہیں، ترقیاتی منصوبوں کے نام پر ان کے ذریعے کیے گئے سارے اقدامات محدودافراد، جماعتوں اور کمپنیوں کی جیبیں بھرنے کے کام آرہے ہیں۔ ان کی حکومت کا ایجنڈہ خودوہ یا ان کی کابینہ طے نہیں کرتی؛ بلکہ آرایس ایس کرتاہے، لوک سبھا سے لے کر اب تک کے انتخابات میں بی جے پی کوجوکامیابی ملی،اس میں خود بی جے پی کاجتنا رول ہوسکتاہے،اس سے کئی گنازیادہ رول آرایس ایس کاہے؛ یہی وجہ ہے کہ مرکزمیں بی جے پی کے حکومت میں آنے کے بعد سے آرایس ایس کا دائرۂ کار،اس کی سرگرمیاں،اس کی حوصلہ مندیاں آسمان کوچھورہی ہیں،اس کاصاف ایجنڈہ ہندوستان کوفرقہ وارانہ خطوط پر منقسم کرناہے اور وہ اسی سمت میں اپنے قدم تیزی سے بڑھارہاہے،ملک کی ترقی، عوام کی خوشحالی وغیرہ یہ سب بی جے پی کے انتخابی نعرے توہوسکتے ہیں؛ لیکن زمینی سطح پر اس کامنصوبہ سراسرمذہبی منافرت، فرقہ وارانہ عدمِ آہنگی کوہوادینا اور ملک کی اقلیت و اکثریت کے درمیان نفرت کی دیوارحائل کیے رکھناہے، ورنہ کیاوجہ ہے کہ جب پوراملک قدرتی آفت کی زد میں ہے اورلوگ بغیر پانی کے تڑپ رہے ہیں، ایسے میں چندبی جے پی کے لیڈران مسلمانوں کونشانہ بنارہے اورزہریلے بیانات دے رہے ہیں،مہاراشٹرکے وزیراعلیٰ کواپنے لوگوں کی پیاس کی فکرنہیں، فکرہے تواس کی کہ ان کے صوبے میں رہنے کے لیے بھارت ماتاکی جے بولناہوگا،آسام میں الیکشن کے دوران بی جے پی کے صدرامیت شاہ نے جس قسم کی تقریریں کی ہیں،اگر انھیں سنیں،توصاف طورپر محسوس ہوتاہے کہ گویاوہ ہندووں کومسلمانوں کے خلاف میدانِ جنگ میں اتاررہے ہیں اورانھیں برانگیختہ کررہے ہیں کہ اگر اپنی جان،مال ، عزت و آبرواور اپنے مذہب کو محفوظ رکھناہے،توبی جے پی کوووٹ دو۔ان کی یہ پالیسی صرف آسام میں نہیں ہے،اس سے پہلے بھی ہر صوبے کے الیکشن میں امیت شاہ نے ایسی ہی تقریریں کی ہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ابھی ملک کی زمام توخود انہی کے ہاتھ میں ہے ، توکوئی ان کاکیا بگاڑسکتاہے۔ بہرکیف دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے اعتبار سے یہ موقع ہمارے لیے قومی شرمندگی و ندامت کاہے کہ ایک طرف ملک کے عوام بھوک، پیاس اور گرمی کی شدت سے جاں کنی سے دوچارہیں،جب کہ دوسری جانب ملک کا سربراہ انتخابی فتوحاتی مہم میں زبانی جمع خرچ میں مصروف ہے،کشمیر،جھارکھنڈ وگجرات میں حالات کنٹرول سے باہرہیں اورحکومت فوج اورپولیس کے بل پرعوام اور عوامی احساسات کوکچل کراپنے آپ کو سرخروثابت کرناچاہتی ہے۔

(بشکریہ یو این این)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close