آج کا کالم

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا، انصاف کی تو پرواہ نہ کر

ڈاکٹر سلیم خان

۲۱ دسمبر ۲۰۱۸ ؁ کو ملک کی  دو عدالتوں نے ایک دوسرے کے متضاد فیصلے سنائے۔ ان دونوں مقدمات کے ظالموں اور مظلومین کے درمیان بلا کی مشابہت تھی۔ جھارکھنڈ کے لاتیہار ضلع سیشن کورٹ نے مظلوم انصاری اور آزاد خان کو بہیمانہ طریقے سے قتل کرکے درخت پر لٹکانےوالے گئوتنکوادیوں ارون پانڈے، ویشال تیواری، متھلیش کمار، منوج ساہو، پرمود ساہو، اودھیش ساہو، منوج کمار کو عمر قید کی سزا سنادی۔ مودی سرکار کے  مدت کار میں یہ فیصلہ طلائی حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔ اس کے برعکس   سہراب الدین کیس میں سی بی آئی کی اسپیشل کورٹ  نے سبھی ۲۲ملزمین کو بری کر  کے عدلیہ کے منہ پر کالک پوت دی۔ اس معاملے میں  عدالت نے اپنی معذوری ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ثبوتوں کی کمی کے سبب ملزمین کو رہا کیا جاتا ہے۔ ۲۰۰۵؁  کے اس معاملے میں امت شاہ، گلاب چند کٹاریا، دنیش ایم این، پانڈین اور ونجارہ وغیرہ   کو مودی سرکار  کے اقتدار  میں آنے کے بعد یکے بعد دیگرے رہائی نصیب ہوتی رہی  اور اب تو عام معافی کا اعلان ہوگیا۔ ان دونوں مقد مات میں   حملہ آوروں کا تعلق سنگھ پریوار ہے اور ظلم کا شکار مسلمان ہوئے۔ قتل وٖغارتگری کے پس پشت کارفرما وجوہات  سیاسی تھیں  اور اس کا فائدہ زعفرانیوں نے  اٹھایا۔ دونوں فیصلے ایسے صوبوں میں ہوئے جہاں بی جے پی برسرِ اقتدار ہے  اس کے باوجود ان  کا متضاد ہونا چونکانے والا ہے۔

جھارکھنڈ کےلاتیہار ضلع ہیرنج گاؤں نوادہ کے مظلوم انصاری اور ۱۲ سالہ محمد امتیاز خان کو۱۸مارچ ۲۰۱۶ ؁  کی صبح  گئو کشی کے الزام میں بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد سے منسلک مبینہ گئورکشکوں نے بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔ وہ دونوں  تجارت کی غرض سے بھینسوں کو مویشیوں کے بازار لے جارہے تھے۔ ان کوایک منظم سازش کے تحت جھابرپہاڑ پر روک کرپہلے تو پٹائی کی گئی  اور بعد ازاں بہیمانہ طریقے سے قتل کر کے درخت پر لٹکا دیا گیا۔ مہلوکین   کے رشتہ داروں اور دیگر مسلمانوں  نے لاشوں کو اتارا اور اس کے ساتھ بالوماتھ تھانہ چوک پر احتجاجاً  جام کر دیا۔ اس معاملے میں۵ افرادکو ۲۴گھنٹے کے اندر گرفتار کیا گیا نیز ۳ مفرور ملزمین نے مقامی عدالت میں خود سپردگی کی۔ جھارکھنڈ میں لاتیہار کے بعدجون ۲۰۱۷ ؁  کو ایک بھیڑ نے رام گڑھ ضلع میں گائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں علیم الدین انصاری  نامی تاجرکو قتل کردیا۔ مقامی عدالت نے اس  معاملے میں ۱۱ لوگوں کو عمر قید کی سزا سنائی۔  انمیں سے ۱۰ملزمین کو جب  ضمانت ملی تو مرکزی وزیر جینت سنہا نے پارٹی کے دفتر میں  ان کی پذیرائی کی ۔  اس طرح ایک طرف سیاستداں اپنے معمولی مفاد کی خاطر ظالموں کی پشت پناہی  کرتے رہے اور دوسری جانب عدلیہ نے انصاف کا پرچم بلند کیا۔ امید ہے اعلیٰ عدالت ان مجرمین کو پھانسی کی سزا سنائے گی۔

اس کے برعکس  ممبئی کے اندر سی بی آئی کورٹ نے ریاست گجرات میں ۱۳ برس قبل سہراب الدین اور ان کی اہلیہ کے فرضی مڈبھیڑ   معاملےمیں تمام ۲۲ملزمین کو بری کر دیا۔ اس مقدمے میں مرکزی تفتیشی ادارہ (سی بی آئی) نے الزام لگایا تھا کہ ان لوگوں  نے نومبر ۲۰۰۵ ؁  میں سہراب الدین اور ان کی بیوی کو اغوا کرنے کے بعد احمدآباد کے نزدیک ایک فرضی پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا اور ایک سال بعدپرجا پتی کا انکاونٹر کردیا۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے جج نے اپنے آخری فیصلے میں  کہا کہ  ‘میں مارے گئے تینوں لوگوں کے رشتے داروں کے لیے برا محسوس کر رہا ہوں، لیکن بےبس ہوں۔ عدالت ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے اور بدقسمتی سے اس کیس میں ثبوت غائب ہیں۔’ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ثبوت غائب ہیں ؟ اور اگر ایسا ہے تو ان کو کس نے غائب کیا؟ اس مقدمے میں سی بی آئی نے ۲۱۰ گواہ پیش کیے جن میں سے ۹۲ اپنے بیان سے منحرف ہو گئے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟  جج صاحب کی یہ بات درست ہے کہ ‘سی بی آئی گواہوں کو منحرف ہونے سے نہیں روک سکتی۔ یہ اس کے بس میں نہیں ہے۔’ لیکن جو لوگ  منحرف کرنے کے لیے سیاسی دباو ڈال رہے ہیں کیا عدالت ان کے آگے بھی بے بس ہے اور انہیں نہیں روک سکتی؟  سجن کمار کی سزا پر بغلیں بجانے والے اس بابت کیوں خاموش ہیں؟

اس فیصلے پر سب سے تیکھا ردعمل سہراب الدین کے بھائی رباب الدین کا تھا جس  نے اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا ارادہ ظاہر کرنے کے بعد کہا ‘امیتابھ بچن کی فلم میں تو صرف قانون اندھا تھا یہاں تو عدالت اور سی بی آئی سبھی اندھے ہیں’۔رباب الدین نے وہ معمہ حل کردیا کہ عدالت کو شواہد کیوں نہیں ملے ؟  اس کا  الزام تھا  سی بی آئی  دراصل ملزم پولیس اہلکاروں سے ملی ہوئی تھی اور انھیں بچانے کے لیے اس نے ثبوت ٹھیک طرح سے پیش نہیں کیے۔ اس مقدمے کی سماعت کرنے والے  سابق جسٹس لویا کی مشکوک موت کے بعد  خصوصی عدالت نے اول تو  امیت شاہ سمیت اعلیٰ پولیس افسران  اور سیاسی رہنماؤں کو بری کیا اور پھر انسپکٹر، سب انسپکٹر اور حوالدار تک کو بے قصور قرار دے دیا۔ ایسے میں راہل گاندھی کا یہ  طنزیہ ٹویٹ مناسب حال معلوم ہوتا ہے کہ  ’’ہرین پانڈیا، تلسی رام پرجاپتی، جسٹس لویا، پرکاش تھامبرے، شری کانت کھانڈیل کر، کوثر بی، سہراب الدین شیخ، انہیں کسی نے نہیں مارا، یہ بس مر گئے‘‘۔

ان دونوں  فیصلوں کے درمیان فرق کا راز ایک ماہ قبل سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں  دی جانے والی گواہی کے اندر پوشیدہ ہے۔ سہراب الدین شیخ- تلسی پرجاپتی فرضی انکاؤنٹر معاملہ میں  ایک اہم تفتیشی افسر اور سی بی آئی کے  سابق ایس پی امیتابھ ٹھاکر نے عدالتی  بیان میں  کہا تھا کہ  یہ  انکاؤنٹر سیاسی اور اقتصادی فائدے کے لئے کیا گیا تھا۔ اس انکاؤنٹر کا فائدہ بی جے پی کے موجودہ قومی صدر اور اس وقت کے صوبائی  وزیر داخلہ امت شاہ، گجرات کے پولس افسر ڈی جی ونجارا، راج کمارپانڈین ابھے چوڑاسما اور دنیش ایم این کو ہوا تھا۔امیتابھ ٹھاکر نے  اس کی تفصیل یوں بیان کی کہ انکاؤنٹر کے فوراً بعد پاپولر بلڈر کے مالک رمن پٹیل اور دشرتھ پٹیل سے ڈی جی ونجارا نے ۶۰ لاکھ اور امت شاہ نے ۷۰ لاکھ روپے لئے تھے۔ امیتابھ کے مطابق  اس معاملہ میں ملزم بنائے گئے ۲۲ لوگوں کے پاس سہراب الدین کا قتل کا کوئی سیاسی و معاشی جواز نہیں تھا۔ اس کے بعد  ٹھاکر نے  نہ جانے کس دباو میں  کہہ دیا  کہ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔

 سوال یہ ہے کہ کیا ونجارہ اور امیت شاہ کے خلاف یہ  اس قدر واضح  الزام بے بنیاد ہے ؟ عدالت اس کو تسلیم کیوں نہیں کرتی یا تفتیش کیوں نہیں کرواتی؟    کیا عدالت کے لیے یہ لازم نہیں ہے کہ رمن پٹیل اور دشرتھ پٹیل کو عدالت میں بلا کر یہ اس کی تصدیق کرائی جائے؟ امیتابھ ٹھاکر کے سنگین الزامات کو نظر انداز کرنے والی عدالت کو دیکھ کر  یہ خیال آتا ہے کہ کاش قانون کے آنکھوں پر پٹی پڑی ہوتی اور لاتیہار و گجرات قاتلوں میں تفریق  و امتیاز نہیں کرتی۔ وہ ان کے سیاسی مقام و مرتبہ کا خیال کیے بغیر دونوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتی۔  اس کے ہاتھوں میں انصاف کا ترازو ہوتا تاکہ وہ سہراب الدین اور پرجاپتی کے قاتلوں کو بھی کیفرِ کردار تک پہنچاتا۔ فسطائیت کا شکار ہوکر قتل غارتگری پر آمادہ ہونے والے ہندو نوجوان خوابِ غفلت سے بیدار ہوجاتے اور یہ جان لیتے کہ کس طرح ان کو جرائم میں ملوث کرکے بلی کا بکرا بنایا جاتا ہے۔ نفرت کا یہ  گھناونا  کھیل کھیلنے والے یہ خاص لوگ   کس اپنے آپ کو بچا کر عام لوگوں کو سولی پر چڑھا دیتے ہیں۔ عدلیہ کے دوغلے پن پر  ساغر صدیقی کا یہ شعر(ترمیم کے بعد) صادق آتا ہے؎

دستور یہاں بھی گونگے ہیں فرمان یہاں بھی اندھے ہیں

مظلوم یہاں پر  بھوکا ہے سلطان یہاں بھی اندھے ہیں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close