آج کا کالم

یہ سال کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

ڈاکٹر سلیم خان

سال ۲۰۱۸  جاتے جاتے پردھان سیوک کی حالت  غیر کرگیا۔  فی الحال ساری خفیہ ایجنسیاں غالب کے’اس برہمن ‘ کو تلاش کررہی ہیں کہ جس نے ابتدا میں   ’کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے‘۔  ممکن ہے وہ برہمن ہاتھ آجائے لیکن ۲۰۱۹ ؁ کو اچھا ہے کہنے والا پنڈت تو مشکل ہی سے ملے گا۔ اس لیے کہ پردھان سیوک کے ستارے فی الحال بری طرح گردش میں چل رہے ہیں۔ ان کی کیفیت آئی سی یو میں داخل مریض کی سی ہوگئی ہے کہ ایک مرض کے لیے دوا دی جائے توردعمل میں  دوسرا عارضہ ابھر آتا ہے۔  وہ بیچارے  ویسے بھی بولنے کے علاوہ تو کچھ کرتے نہیں مگرجب بھی کچھ بولنے کے لیے منہ کھولتے ہیں  الفاظلوٹ کر  ان کی طرف آجاتے ہیں ۔  مثلاً ابھی حال میں انہوں نے کمل ناتھ کو نشانہ بناتے ہوئے  کہہ دیا کہ کانگریس پارٹی فساد کے ملزمین کو وزیراعلیٰ کے عہدے   سے نوازتی  ہے۔ ان کا یہ جملہ سنتے ہی ساری دنیا کے سامنے گجرات کا قتل عام آ گیا۔ اٹل جی کی راج دھرم والی نصیحت لوگوں کو یاد آگئی اور پھر وزیرداخلہ گوردھن جھڑپیا کی برخواستگی، ہرین پنڈیا کا قتل، مایا کندنانی کی وزارت وسزا، امیت شاہ کا تڑی پار ہونا،امریکہ میں داخلہ پر پابندی اور گاڑی کے نیچے کتے کے پلے ّوالا مکالمہ اور نہ جانے کون کون سے  مناظر یکلخت آنکھوں میں گھوم  کریہ  سوال چھوڑ گئے  کہ یہ سب کے باوجود  بھی  کمل چھاپ پارٹی اگر مودی جی کو وزیراعظم کی کرسی سے نوازہ سکتی ہے  تو بیچارہ کمل ناتھ کس کھیت کی مولی ہے۔

مودی جی نے یہ بھی کہا کہ  کانگریس نے قرض معافی کے نام پر کسانوں کو دھوکہ دیا ہے اور کرناٹک کی مثال دی جہاں صرف ۸۰۰ کسانوں کا قرض معاف ہوا۔ مودی جییہ تقریر اترپردیش کے غازی پور میں کررہے تھے۔  وزیراعظم بھول گئے کہ  خود انہوں نے بھی  یوپی کے کسانوں سے قرض معافی کا  وعدہ کیا تھا۔  یوگی جی نے اقتدار سنبھالتے  قرض معافی اعلان بھی کردیا  لیکن اس سے مستفیدہونے  والے ۸۰۰ نہ سہی تو ۸ لوگوں کا نام  بھی اگر وہ بتادیتے تو چمتکار ہوجاتا۔  یہ حسن اتفاق ہے کہ فی زمانہ  ہر سیاستداں دھوکہ دھڑی کرتا ہے لیکن جب ان کا ایک دوسرے سے موازنہ کیا جاتا ہے تو  مودی جی بازی مارلیتے ہیں ۔   پردھان سیوک نے اپنے بھاشن میں انکشاف کیا کہ کانگریس پارٹی نے پہلے غریبی ہٹاو کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا تھا  اب کسانوں کے نام پر دے رہی تھی۔ نئی نسل یہ بھول چکی ہے کہ اندرا گاندھی نے غریبی ہٹاو کا نعرہ لگا کر کیا کیا تھا لیکن اسے  اترپردیش حکومت کے ترجمان اور توانائی کے وزیر سری کانت شرما  کا پچھلے سال  والا بیان  یاد ہے جس میں انہوں نے کہا تھا  وزیر اعظم نریندر مودی کہتے ہیں کہ غریبی ہٹاو اور اپوزیشن کہتی ہے مودی ہٹاو۔ پہلے تو صرف حزب اختلاف مودی ہٹاو کا نعرہ لگاتا  تھا اب  توسارا دیش  اس کا ساتھ دے رہا ہے۔

مودی جی جب  اندرا جی کے غریبی ہٹاو کی یاد دلاتے ہیں تو بے ساختہ اچھے دن یاد آجاتے ہیں۔  خوابوں میں  پندرہ لاکھ اور حقیقت میں نوٹ بندی نظر آنے لگتی ہے۔ ہر سال دوکروڈ نوجوانوں کو ملازمت دلا کربیروزگاری کا خاتمہ یاد آجاتا ہے۔  بیٹی بچاو اور بیٹی پڑھاو کے پس منظرمیں  خواتین پر ہونے والے مظالم کے روز افزوں نظارے آنکھوں میں گھومنے لگتے ہیں۔  ان سے توجہ ہٹانے کے لیے پردھان جی تین طلاق کی بات کرتے ہیں توتصور خیال میں  سب سے پہلے ان کی اپنی غیر طلاق شدہ بے یارو مددگار بیوی سامنے آجاتی ہے جس کی جانب انہوں نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود سبریمالا مندر میں داخل ہونے کی خواہشمند لاکھوں خواتین کی دیوار دکھائی دیتی۔ اول تو ان پر حملے اور داخلے میں کامیابی کے بعد مندر کو پوتر کرنے کی کارروائی  دکھائی دیتی ہے۔ کیا یہی ’سب کا ساتھ اور سب کا وکاس‘ ہے۔  مودی جی کے اقتدار میں آنےپر اندیشہ تھا کہ  وہ ہندو مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑا دیں گے لیکن انہوں نے اپنے مفاد کی خاطر ہندوسماج کے  اندرمہا بھارت چھیڑ دی۔    کیرالہ کے ہندو آپس میں  برسرِ پیکار ہیں  مگر مودی جی خوش ہیں کہ وہاں کمل  کا پھول کھل رہا ہے۔  اترپردیش میں ہونے والےخسارے  کی بھرپائی کیرالہ میں  ہوجائے گی۔

اترپردیش کے حالات بے حد سنگین ہے۔ وہاں پر نشاد سماج کی سہیل دیو  بھارتی سماج پارٹی این ڈی اے میں شامل ہے۔  اس کے سربراہ اوم پرکاش راج بھر یوگی سرکار میں  وزیر ہونے کے باوجود یوگی جی کے ہر فیصلے کی مخالفت اور کھلے عام دھمکی دیتے ہیں۔ بی جے پی نے راج بھر کے علی الرغم  نشاد سماج کو ساتھ لینے کے لیے غازی پور میں خطاب عام رکھا اوراس ذات کے مہاراجہ سہیل دیو کے نام پر ٹکٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کوجاری کرنے کی تقریب کا  دعوتنامہ اوم پرکاش کو نہیں دیا گیا اس لیے انہوں نے بائیکاٹ کردیا۔  نشاد سماج نے اس بات پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا کہ ڈاک ٹکٹ پر راجہ  سہیل دیو کا پورا نام نہیں لکھا گیا اور جان بوجھ کر اس میں سے راج بھر ہذف کردیا گیا۔  اس کے علاوہ نشاد سماج کے لوگ ریزرویشن کو لے کر مظاہرہ  کرتے ہوئے سرکار کے خلاف نعرے لگانے لگے۔  پولس نے انہیں روکا تو بی جے پی والے ان سے الجھ گئے۔  ان دونوں کی لڑائی میں بیچ بچاو  کرنے والے سریش وتس نامی حوالدار کوبھیڑ نے سنگسار کردیا۔   وتس مودی جی کے جلسے کا بندوبست کرکے لوٹ رہے تھے اس کے باوجود وزیراعظم  کے منہ سے اس کے خاندان کی  ہمدردی کے دو بول نہیں پھوٹ جس سے انتظامیہ ناراض ہوگیا۔ اب وتس کے قتل کا الزام  نشاد رہنما ارجن کشیپ  کے سر منڈھ دیا گیا جو بی جے پی پر الٹا الزام لگا رہا ہے۔اس   طرح نشاد سماج تو قریب نہیں آیا مگرپولس  محکمہ ضرور دور ہوگیا۔

مودی جی سب سے بڑی مشکل رافیل سودہ ہے۔  اس سے جان چھڑانے کے لیے جب    بی جے پی والے بوفورس کی یاد دلاتے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے۔  اٹل جی کی سرکار نے اور خود مودی جی  نے رافیل بدعنوانی کے منظرعام پر آنے   سے قبل اس پر کارروائی کیوں نہیں کی؟آگسٹ  ویسٹ لینڈہیلی کاپٹر کی بابت بھی یہی کہا جاتا ہے کہ مودی جی کمبھ کرن کی نیند کیوں سورہے تھے؟  ترنمل  کانگریس کے سوگت رائے نے رافیل معاملے میں مودی جی کو راون کے بیٹے میگھ ناد سے مماثل ٹھہرا یا ہے۔ مودی جیسے رام بھکت کے لیے میگھ ناد سے بڑی گالی کوئی اور نہیں ہوسکتی۔  ویسے یہ سچ ہے رافیل پر جب بحث ہوتی ہے وزیراعظم ایوان زیریں سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔  ان کے دفاع کی خاطر ایوان بالا سے وزیرخزانہ ارون جیٹلی کو آنا پڑتا ہے۔

 سنگھ پریوار کے لیے یہ شرم کی بات ہے کہ بی جے پی کے ۲۶۹ لو ک سبھا ارکان میں  سےایک  کےاندر بھی رافیل پر گفتگو کی صلاحیت نہیں ہے۔ راجیہ سبھا سے بھی وزیردفاع نرملا  سیتا رامن کے بجائے وزیر خزانہ  کا مستعار لایا جانا  قحط الرجال کی بہت بڑی مثال ہے۔ نرملا ٹی وی چینلس  پر بی جے پی ترجمانی کرتے کرتے وزیر تو بن گئیں لیکن رافیل نے ان سٹیّ گم کردی ہے۔ میگھ ناد والی مثال میں ارون جیٹلی راون اور ان کے مقابلے میں راہل رام نظر آتے ہیں۔  مودی جی تو خیر چائے بیچتے تھے لیکن   ارون جیٹلی جیسے ماہر وکیل   کے ہوتے بی جے پی پر سپریم کورٹ  کو گمراہ کرنے کا الزام شرمناک ہے۔  سچ تو یہ ہے کہ  جب کسی کے ستارے گردش میں آجائیں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ  ۲۰۱۸ بی جے پی کے لیے منحوس ثابت ہوا۔  ۲۰۱۹  کے بارے میں یہی کہنا پڑے گا؎

معصوم سی صورت ہے، ہم جس کے ہیں دیوانے 

آغاز تو اچھا ہے، انجام خُدا جانے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close