آج کا کالم

یہ غصہ نہیں، ہمارے اندر کا قاتل ہے!

رويش کمار

اري سیکٹر میں موبائل فون کو لے کر ایک جوان نے میجر کو جان سے مار دیا. میجر نے سرحد پر تعینات جوان سے فون پر بات کرنے سے منع کیا اور فون ضبط کر لیا. اسے لے کر دونوں میں کچھ بحث ہو گئی اور جوان نے میجر شکھر تھاپا کو AK-47 سے بھون دیا.

دہلی کے دوارکا میں ایک کار والے کے سامنے سے دو لوگ نہیں ہٹے تو کار سے چار لوگ اترے اور دو لوگوں کی پٹائی کرنے لگے. پون اور پردیپ موٹر سائیکل پر سوار تھے. کار والے نے راستہ دینے کو کہا لیکن سامنے گڈھا تھا، اس موٹر سائیکل سوار سے تھوڑی تاخیر ہو گئی. اتنی سی بات کو لے کر گاڑی میں بیٹھے لوگوں کا غصہ آسمان  پر چڑھ گیا اور ان میں سے ایک شخص نے گولی مار کر پون کو قتل کر دیا. آج کے اخبارات میں شائع ہوے ان دو واقعات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے.

شمالی دہلی کے میٹرو اسٹیشن کے باہر دو لڑکے نشے کی حالت میں پیشاب کر رہے تھے. 31 سال کے ای رکشہ ڈرائیور نے منع کیا اور کہا کہ دو روپے لے لو، بیت الخلا میں چلے جائے. لڑكے وہاں سے گئے اور شام کو کچھ اور لڑکوں کے ساتھ واپس آئے. راجیش کی  پٹایی شروع کر دی اور اسے جان سے مار دیا.

دہلی پولیس نے ایک اسٹڈی کی ہے. 2017 کے پہلے تین ماہ میں جو ہلاکتیں ہوئی ہیں ان میں سے 12 فیصد ہلاکتیں اچانک آئے غصے کی وجہ سے ہوئی ہیں . یعنی جب آدمی کا غصہ کھو دیتا ہے. قتل کرنے والوں میں زیادہ تر مرد ہی ہوں گے. یہ ایک ذہنی بیماری ہے جو سماجی و اقتصادی حالات میں پنپتی ہے. غصہ ہم سب کو کھا رہا ہے. کام اور رہنے کے کشیدگی نے آدمی کے آدمی ہونے کے وجود کو معمولی بنا دیا ہے. کسی کا کسی پر بس نہیں ہے. بس غصہ پھوٹا اور کسی کو مار دیا.

اپریل 2016 میں دہلی کے وکاس پوری میں ڈاکٹر پنکج نارنگ کے قتل کو کون بھول سکتا ہے. معمولی کہا سنی پر انہیں اتنا مارا گیا تھا کہ ہڈیاں چور چور ہو گئی تھیں . اس ایک سال پہلے ترکمان گیٹ کے پاس شاہنواز کی موٹر سائیکل ایک گاڑی سے ٹکرا گئی. گاڑی سے والد کے بیٹے کے اترے اور اسے اتنا مارا کہ اس کی موت ہوگئی.

اسے انگریزی Rage کہتے ہیں . یہ ایک مہلک ذہنی بیماری ہے. یہ شہر کب جان لیوا ہو جائے، کسی کو پتہ نہیں . میں اس بیماری کے فی نامعلوم تھا. ایسے واقعات سامنے سے گزرتی تو رہتی تھیں مگر ایک پیٹرن کے طور پر کبھی نہیں دیکھ پایا. بی جے پی کے پروكت ہیں نلن کوہلی، ان کی بہن وندنا کوہلی نے اس پر ایک طویل دستاویزی فلم بنائی ہے. بہن خود اتنی قابل ہیں کہ بھائی کا تعارف  دیتے ہویے مجھے اچھا نہیں لگ رہا، ایسا کرنا وندنا کے ساتھ ناانصافی ہی ہوگی. مگر وندنا کا یہ تعارف صرف اس وجہ دے رہا ہوں تاکہ آپ ان تک پہنچ سکیں اور دستاویزی فلم دیکھنے کی کچھ جگاڑ کر سکیں . آپ دیکھ سکتے ہیں تو ضرور دیکھئے. اسے بنایا بہت مشکل ہے. دنیا کے بہت سے ممالک کے یونیورسٹیوں کے پروفیسروں سے بات چیت ہے. مکمل طور پر عالمی دستاویزی فلم ہے یہ. آپ اسے دیکھتے ہوئے اپنے اندر کے ان نامعلوم کونوں میں جھانک سکیں گے جہاں کسی کا قتل کر دینے والا غصہ پوشیدہ بیٹھا ہے. میں نے وہ دستاویزی فلم دیکھی ہے لہذا جب بھی ایسے واقعات سامنے آتی ہیں ، اس کی یاد آتی ہے. ہمارے ملک میں اس طرح کے ماہرین پتہ نہیں کہاں ہیں جن سے ٹھیک سے بات ہو سکے. ہوں گے اور ہیں بھی لیکن وندنا کی دستاویزی فلم دیکھنے کے بعد لگا کہ پبلک خلائی میں جو بھی آتے ہیں وہ انتہائی سطحی ہیں . ان کے اندرونی اس بیماری کو پکڑنے اور ٹھیک ٹھیک بتانے کی قابلیت ہی نہیں ہے.

اگر ہم پورے بھارت سے ایسے اعداد و شمار جمع کریں تو پتہ چلے گا کہ ہر جگہ کوئی قاتل گھوم رہا ہے. جو قتل کرنے کے پہلے تک ایک اچھا انسان ہے مگر اس کا تعمیر ان رجحانات سے ہویی ہے جو اسے معمولی بات پرایک قاتل میں تبدیل کر دیتے ہیں . بھیڑ کا غصہ مختلف طرح کا ہوتا ہے. صرف فرقہ وارانہ ہی نہیں ہوتا، صرف تعصبات کی بنیاد پر ہی نہیں ہوتا ہے، وہ بے حد فوری ہوتا ہے اور کئی بار طویل اور مستقل بھی ہوتا ہے. ہمارا شہر ہمارے اندر کی معصومیت کو چھین رہا ہے. کام سے لے کر ٹریفک کی کشیدگی، شام تک گھر پہنچتے پہنچتے ٹی وی چینلو کے سیاسی کشیدگی میں گھلتے ہی شہری گروپ کو ایک بھیڑ میں بدل دیتا ہے. جہاں دلائل اور حقائق کے پار جاکر مارو مارو کی آواز آتی ہے.

آپ یقین نہیں کریں گے. ایک مٹھائی کی ایک چھوٹی سی دکان پر گیا. خالی دکان تھی اور گلی میں تھی. ٹی وی چل رہی تھی. ٹی وی پر مذہبی مشاعرہ چل رہا تھا. دکاندار اکیلے میں چلا رہا تھا. مارو ان کو مارو. ان مسلمانوں کو مارو تبھی ٹھیک ہوں گے. میں نے ٹی وی کے اس اثر کو جانتا ہوں مگر آنکھوں سے دیکھ کر حیران رہ گیا. دکاندار کی آنکھیں سرخ ہو گئی تھیں. اسے ٹوکا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں ، اکیلے میں مارو مارو چیخ رہے ہیں، ایک دن کسی بات پر قتل کر بیٹھیں گے. ملک میں ایسا کچھ نہیں ہوا ہے کہ آپ ٹی وی دیکھتے وقت وحشی ہو جائیں. دکاندار تو شرما گیا لیکن اس کے اندر ٹی وی نے جو زہر بھرا ہوا ہے، وہ کیا میرے سمجھا دینے سے کم ہو جائے گا. بالکل نہیں . بھارت میں ایک طرح کا POLITICAL RAGE پیدا کیا جا رہا ہے. ہوشیار ہو جائیں . مسلمان سے شکایت ہے تو اس سے ضرور کہیے، ہنگامہ بھی کیجیے مگر ایسی کسی شاعری یا کہانی کا تصور میں مت اتريے جہاں آپ کسی کو مارنے کا خواب دیکھنے لگ جائیں . اس عمل میں مسلمان نہیں مر رہا ہے، آپ مر رہے ہیں .

مختلف موضوعات پر پڑھنے کا وقت نہیں ہے اور نہ ہی قابلين ہے ورنہ اس RAGE پر طویل بحث کرتا. کیا کیا پڑھیں اور كيا  کیا کریں. کئی بار پیچیدہ موضوعات پر ہندی میں طریقے کے لوگ ملتے بھی نہیں ہیں.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close