یہ پبلک ہیلتھ ایمرجنسی نہیں تو کیا ہے؟

رويش کمار

وجہ سب کو پتہ ہے مگر حل کرنے میں کسی کو دلچسپی نہیں ہے. سب کو لگتا ہے کہ یہ نومبر کی بات ہے، اس کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا. دہلی کی ہوا آپ کی جیب اور ہیلتھ پر اثر ڈالنے دوبارہ آ گئی ہے. کب تک دہلی بات بات میں اسکول بند کرتی رہے گی، وہ یہ کیوں نہیں کہتی کہ شہر میں ڈیزل، گاڑیوں کی رجسٹریشن بند ہو، کاروں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ بند ہو، پبلک ٹرانسپورٹ کی ثقافت کو بڑھانے کے لئے کاریں بند کرنے کی بات نہیں ہوتی، کب تک بڑوں کے پھیلائے اس آلودگی کا حل ہم بچوں کے اسکول کو بند کر کے کریں گے. ہر عمر کے لوگوں کا پھیپھڑا خراب ہو رہا ہے، ہمارے لیڈر بھیجا خراب کر دینے والے مسلسل پریس کانفرنس کر رہے ہیں مگر ان میں ہوا کو لے کر کوئی فکر نہیں ہے. ایک دن اٹھیں گے اور لوگوں کو اخلاقی تعلیم دے دیں گے کہ آپ باغبانی کریں، پیپل کے درخت لگائیں تو آلودگی رکے گی. دراصل مسئلہ کے تہہ تک کوئی نہیں جانا چاہتا، کیونکہ وہاں سب کے مفاد پھنسے ہیں.

ویسے تو پنجاب کے شہروں کی حالت بھی کم خراب نہیں، مگر چونکہ چینلوں کا گاؤں دلی ہے، لہذا دہلی کی اس ہوا کو قومی ہوا کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے. ٹربیون کی 7 نومبر کی ہی خبر ہے کہ چندی گڑھ شہر کے کئی مقامات میں جہاں مونیٹر لگے ہیں، ہوا میں آلودگی کے عناصر کی مقدار کافی بڑھ گئی ہے. 7 نومبر کو ہندوستان ٹائمز کی ویب سائٹ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق 2002 سے 2014 کے درمیان شمالی ہند بھارت کے تمام بڑے شہر، جن میں لدھیانہ، سورت، کانپور اور گوالیار میں آلودگی کا فیصد دہلی کے مقابلے مزید بڑھا ہے. جن علاقوں میں دھان کی پت جلی ہے وہاں بھی آلودگی کی مار ہے، مگر ہم کھونٹی کے بارے میں اب سب جانتے ہیں، كنبایٔن مشین کا بدل ابھی تک تلاش نہیں پائے ہیں، کھیتوں میں پت جلتی ہے تو ہوا اوپر اٹھ کر ٹھہر جاتی ہے. کھیتوں میں کام کرنے کے لئے ہاتھ نہیں تھے تو كنبایٔن مشین آگئی اور اس مشین کا بدل کیا ہو سکتا ہے، اس پر کوئی ٹھوس فیصلہ لینا ہوگا۔ پر دہلی اور آس پاس کے علاقہ مین جہاں دن رات اینٹ سیمنٹ سے تعمیرات  کا کام چل رہا ہے، صنعت کا چل رہا ہے.

روزانہ ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں رجسٹرڈ ہو رہی ہیں،اس وقت دہلی میں 56 لاکھ گاڑیاں ہو گئی ہیں۔ اس میں نوئیڈا، غازی آباد، فرید آباد اور گڑگاؤں کی گاڑیوں کی تعداد جوڑ لیں تو ان کا اثر خوفناک نظر  آنےلگے گا. یہی وجہ ہے کہ عام دنوں میں بھی دہلی کی ہوا سانس لینے کے قابل نہیں رہی ہے. یہ شہر اسکول بند جانتا ہے، مگر ڈیزل گاڑیوں کو لے کر کیا کرنا ہے اس پر چپ ہو جاتا ہے. ہوا کی لڑائی صرف شہریوں کی لڑائی بن کر رہ گئی ہے. حالیہ دو تین دنوں میں کتنے وزراء نے پریس کانفرنس کی ہے، لیکن کیا آپ نے ہوا کو لے کر بولتے دیکھا ہے.

پی ایم 2.5 کی سطح 400 کے پار

دہلی کے کئی علاقوں میں پی ایم 2.5 کی سطح 400 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ 50 سے 100 کے درمیان ہونا چاہئے. ہوا کے ساتھ یہ دھول آپ کے پھیپھڑے میں جائے گی اور آپ کو اس کے بعد ڈاکٹر کے یہاں. دنیا کے بہت سے ممالک میں ایسی صورت میں ایمرجنسی لاگو ہو جاتی ہے. اسکول بند ہوتے ہیں، صنعتوں کو کچھ وقت کے لئے بند کر دیا جاتا ہے، ٹریفک پر پابندی لگا دی جاتی ہے. بھارت میں بحث ہوتی ہے. دو چار شہری جمع ہوکر کبھی میڈیا تو کبھی وزیر کے چکر لگاتے رہتے ہیں. ایک مختصر وقت کے بعد وہ کسی اور ٹاپک پر انہی لیڈروں کی جے جے کرنے میں لگ جاتے ہیں. انہیں یہی لگتا ہے کہ کچھ ہو نہ ہو، بس ٹی وی پر ڈبیٹ ہو جائے، تاکہ ہم فکر مند اور ذمہ دار لگیں. ڈبیٹ ہی مسئلہ کا حل ہو گیا ہے اور ہماری شہری سرگرمیوں کی آخری منزل.

اخبارات میں شائع ہونے لگے کالم

سب کو پتہ ہے کہ حل ہونا نہیں تو اب اخباروں میں فضائی آلودگی سے بچنے کے تجاویز والے کالم شائع ہونے لگے ہیں. لوگ بتانے لگے ہیں کہ گرم پانی میں نیم کے پتے ڈال کر نهائے، جلد میں چپکی آلودگی کے عناصر نکل جائیں گے. مسلسل پانی پیتے رہیے. ناک میں گھی کے دو بوند ڈالیں اور مسلسل گڑ کھاتے رہیے.

 300 سے زائد پيوری فاير بازار میں موجود

آپ ان پر عمل سے پہلے ڈاکٹر سے پوچھ لیجیے گا، اسی طرح کون سا ایئر پيوري فاير خریدیں یہ بتانے والے ایکسپرٹ بھی آ گئے ہیں. سب کو پتہ ہے ہونا کچھ نہیں ہے تو اس کا فائدہ اٹھاؤ۔ گڑ کھلاؤ اور پيوري فاير بیچو. ہم نے امیزون اور فلپ كارٹ کی ویب سائٹ پر جا کر گنتی کی. درست گنتی تو نہیں کہہ سکتے مگر پتہ چلا کہ ہندوستانی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ امریکہ، فرانس، جاپان، چین کی کمپنیاں بھارت کے بازاروں میں مقابلہ کر رہی ہیں. ہمارے پاس درست اعداد و شمار تو نہیں ہیں، مگر ہم نے کمپنیوں کی گنتی کی تو پتہ چلا کہ 23 سے زائد کمپنیاں مختلف قسم کے پيوري فاير بنا رہی ہیں. 300 سے زائد اقسام کے ایئر پيوری فاير آج بازار میں موجود ہیں. شارپ، یوریکا فوربس، کینٹ، اٹلانٹا، فلپس، ہینی ویل، پیناسونك، سیمسنگ،سب  پيوري فاير بناتے ہیں.

آکسیجن سلنڈر بی فروخت ہونے لگا

ان کمپنیوں کو پتہ تھا کہ دیوالی کے بعد دہلی کی ہوا بڑا بازار دینے والی ہے، تو تمام توقعات سے لبریز تھے. انہیں اتنا تو معلوم ہے کہ ہندوستان میں مسائل کا حل تو ہوتا نہیں، لہذا حل کا سامان فروخت کیا جائے. پی ٹی آئی نے 22 اکتوبر کو پيوري فاير بنانے والی کمپنیوں سے بات کر ایک رپورٹ جاری کی تھی. جن کے پرمکھ دیوالی کے بعد دہلی این سی آر میں 200 فیصد کی فروخت کی توقع کر رہے تھے. ان داموں کو لے کر جب ریسرچ کرنا شروع کیا تو لگا کہ آپ کو کچھ بتاتے ہیں. لوگوں کو اب ایئر پيوري فاير، ڈاکٹر کی فیس، ادویات کا خرچ تمام جوڑ دیکھنا چاہئے کہ ہوا کے اثر سے بچنے کے لئے وہ زیادہ خرچ کر رہے ہیں یا حکومت زیادہ خرچ کر رہی ہے. یہاں تک کہ 600 کا ایک آکسیزن سلنڈر بھی فروخت ہونے لگا ہے.

ایئر پيوري فاير کوئی چارہ نہیں: سنیتا نارائن

1 لاکھ 15 ہزار اور 94، 990، 82، 500 روپے کے پيوريفاير دستیاب ہے. 30 ہزار سے 45 ہزار کے درمیان 9 قسم کے ایئر پيوري فاير ہیں. 18 سے 30 ہزار کے درمیان 21 قسم کے ایئر پيوري فار ہیں. 6 سے 17 ہزار کے درمیان 32 قسم کے ایئر پيوري فاير ہیں. قیمتوں کو لے کر اتنا سخت  مقابلہ ہے کہ ایک پيوري فاير کا دام 21000 ہے تو دوسرے999 20. ایک روپے سے لے کر 300 کے فاصلے پر آپ کو بہت ايرپيوري فاير مل جائیں گے. 300 روپے کے چارکول بیگ بھی ہیں اور 259، 584 اور 699 روپے کے پودے بھی آپ انٹرنیٹ سے آرڈر کر سکتے ہیں. سنیتا نارائن کہتی ہیں کہ ايرپيوري فاير کوئی بدل نہیں ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی



⋆ رویش کمار

رویش کمار
مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے