آج کا کالم

کہانی اپنے ہندوستان کی:قسط-(18) دورَنگ مسیحا

رمیض احمد تقی
راہ چلتے اگر کوئی کسی کے مال واسباب لوٹ لے، اس کی عفت وعصمت کا سودا کردے اوراس کی امیدوں کا گلا دبادے،تو ایسے شخص کو آپ کیا کہیں گے؟ راہ زن،  ڈاکواور لٹیرا ہی نا! پھر وہ شخص جو اپنے ہنر کو لوگوں پر اس لیے آزماتا ہے ، تاکہ اس سے اپنے لیے سامانِ عیش مہیا کرسکے، انسانی رگوں میں دوا پہنچانے کے بجائے خون نکا لے، جسم کے فاسد ذرات کو باہر کرنے والے نشتر سے لوگوں کے دل اور کڈنیوں کا سوداکرے ، زمین کی نیلامی کروانے کے بعد آپریشن کے آلات تیز کرے، تو ان بے روح افسردہ لوگوں کوآپ کیاالقاب دیں گے ؟ کیا یہ حیرت کن بات نہیں کہ جن کو لوگ اپنا مسیحا سمجھتے ہوں، جن کے ہاتھوں میں شفا اور جن کی ذات کوکرشمہ ساز بتاتے ہوں،وہ دو رنگ مسیحا، کشتیِ حیات کے ناخدا اور عزتِ نفس کی گوہار لگانے والے مریضوں کے خون اور ان کے تیمارداروں کے پسینوں سے اپنی امیدوں کے شمع روشن کریں! یہ بہت پہلے کی بات تھی جب لوگ اس پیشہ کو انسانی خدمت کے لیے وقف سمجھتے تھے اورنانِ شبینہ کے لیے کوئی اور ذریعۂ معاش تلاش کرلیتے تھے؛ آج تو زمانہ ترقی کرگیا ہے، اس لیے سب کچھ الٹا پلٹا ہوگیا ہے! چوروں کو بھی دن کے اجالے میں نقب زنی کی جرأت نہیں ہوتی، مگریہ صاحب تو دن دہاڑے شوق سے مجبور کے ارمانوں پر چھُری پھیردیتے ہیں!
یقیناًآج ہمارے معاشرہ کا یہ ایک عجیب المیہ ہے جس پرہم نے شرافت کا خول چڑھا رکھا ہے،حالانکہ اس کی آڑ میں جرم کی ایک کائنات بستی ہے؛ انسانی اعضا کی بڑی مقدار میں سپلائی ،ایم آر آئی، سی اے ٹی اسکین اور مختلف چیک اپ کے نام پر غبن،مجبور لوگوں کا استحصال اور سیکڑوں معصوم لڑکیوں اور خاتون مریضوں کی عفت وعصمت کی نیلامی یہ سب اس رنگ برنگ کائنات کے روز مرہ کے معمولات میں شامل ہیں؛گذشتہ مہینہ بیس جولائی 2016 کی بات ہے کہ ممبئی کے ممبرا علاقہ میں ا یک38 سالہ ڈاکٹر نے کلنک کے اندر اپنی خاتون مریضہ کی عصمت دری کردی اور جب اس خاتون نے پولیس میں شکایت درج کرانے کی بات کی تو اس شریف زادے نے اس کی ننگی ویڈیو نیٹ پر اپلوڈ کردینے تک کی دھمکی دے ڈالی،تاہم آپریشن اور دیگر ٹیسٹ کے دوران خاتون مریضہ کی عصمت دری کی سیکڑوں مثالیں نیٹ پر موجود ہیں، جو ہمارے ان پیشہ وروں کے کالے کرتوت کی پولی کھولتی ہیں، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ آج ہمارے ملک کے شفا خانوں کی بنیاد ہی مکروفریب اور دروغ گوئی پر ہے ،تو شاید جھوٹ نہیں ہوگا، ان کے غیر انسانی رویے اور پیسہ پوجن کی روایات تو زبان زد عام وخاص ہے،چنانچہ سالِ گذشتہ ایک آسٹریلیائی ڈاکٹر’’ڈیوڈ برجر‘‘ کورضاکارڈاکٹر کی حیثیت سے ہندوستان کے بعض اسپتالوں میں چھہ مہینے گذارنے کا موقع ملا،تو انہوں نے ہندوستان کے شعبۂ میڈیکل میں ہونے والی بدعنوانیوں کو ایک مضمون میں قلم بند کیا، جس کو’ بی ایم جے‘ نامی میگزین نے اپنے اداریہ میں جگہ دیا تھاکہ ہندوستانی ہیلتھ کیئر مشینریز کے ہر شعبہ میں رشوت وبدعنوانی دبدبہ ہے،یہاں بلاضرورت ایکس رے، ایم آر آئی اور سی اے ٹی اسکین کے مشورے دیے جاتے ہیں تاکہ مریضوں سے ناجائز پیسے وصول کیے جائیں۔ اس کی تصدیق ’ساتھی‘ (Sathi)( Support for Advocacy and Training in Health Initiatives ) کی رپورٹ سے بھی ہوتی ہے، کہ ممبئی میں واقع’ اینجلس میڈیکل سینٹر‘ کے ڈاکٹروں نے 12,500مریضوں میں سے 44 فیصد یعنی ساڑھے پانچ ہزار مریضوں کو سٹینٹ، گھٹنے کی تبدیلی، کینسر اور بانجھپن جیسے امراض بتاکر انہیں سرجری کرانے کا مشورہ دیاتھا،مگر جب ان لوگوں نے دوسرے ڈاکٹروں سے مشورہ لیا، تو انہوں نے ان کی رائیوں کی تردید کی۔ خودمیرے کئی ایسے دوست ہیں جو ہندوستان کے کئی بڑے اسپتالوں میں مترجم کی خدمات انجام دے چکے ہیں، انہوں بتایا کہ ڈاکٹر بلکہ ہاسپیٹل کا پورا عملہ انتہائی کرپٹ اور بھرسٹ ہیں، دوا سے لے کر معمولی چیز میں وہ مریضوں سے ٹیکس وصول کرتے ہیں، بلکہ بسا اوقات مرے ہوئے انسانوں کو آئی سی میں داخلہ دے کر ان کے ورثہ سے آئی سی یو کا چارج وصول کرتے ہیں اور یہ تو سب پر عیاں ہے کہ جب تک ڈاکٹر صاحب کی جیب میں ان کی من مانی فیس نہیں جاتی ، وہ مریض کی طرف رخ بھی نہیں کرتے، خواہ وہ اپنی زندگی کی آخری سانس ہی کیوں نہ گن رہا ہو!
ہم اس سلسلہ میں پورے طور پر ڈاکٹروں کو بھی موردِ الزام نہیں ٹھہراسکتے اور علی العموم یہ حکم تمام ڈاکٹروں پر لاگو بھی نہیں کیا جاسکتا ہے، کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ جب ایک انسان اس ڈگری کو حاصل کرنے میں دو کروڑ روپیے صرف کریگا، تو یقیناًوہ کڈنی گردہ اور دل بیچ کر ہی تو اپنا پیسہ وصول کرے گا۔ ڈاکٹر’ ابھے شکلہ‘ نے ٹھیک ہی کہاہے کہ ان ساری کوتاہیوں کی بنیادنظامِ صحت کی کمزوری ہے اور اسی کمزوری کی وجہ سے ہمارے ڈاکٹر بھی زیادہ دیر تک رداءِ انسانیت کو نہیں تھام پاتے اور جرم کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں ، ورنہ تو اس گئے گذرے دور میں بھی کچھ ڈاکٹر ایسے بھی ہیں جوکبھی اپنا وقار مجروح نہیں ہونے دیتے، لیکن تالاب کی ایک گندی مچھلی پورے تالاب کی مچھلیوں کو متعفن کردیتی ہے اور یہی حال ہمارے اس نظام کا ہے۔ جب ایک ڈاکٹر غلطی کرتا ہے، تو کوئی بھی اس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا، کیونکہ ہمارا نظام ہی اپنی کوتاہیوں کا چھپانا چاہتا ہے ،جس کی وجہ سے ڈاکٹروں کی عدمِ توجہی بڑھتی چلی جاتی ہے، بلکہ میڈیکل کے ہر شعبہ میں سیکڑوں خود ساختہ ڈاکٹر پیدا ہوجاتے ہیں ۔انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے کئی بڑے اسپتالوں میں تقریباًسات لاکھ نااہل اور غیرتربیت یافتہ ڈاکٹرموجود ہیں،جوبے دھڑک امراض کی تشخیص کرتے ہیں، دوائیں بھی خود سے تجویز کرتے ہیں ،بلکہ بسا اوقات قینچی بلیڈ لے کر آپریشن تھیٹر میں بھی پہنچ جاتے ہیں اور مریض کو ریسرچ مشین سمجھ کر اس پر جم کر اپنے ہنرکی مشق کرتے ہیں، نتیجتاً’Sorry, I tried a lot, but he is no more‘ کہتے ہوئے ’ایں منھ میاں مٹھو‘ آپریشن تھیٹر سے باہر تشریف لے آتے ہیں۔
2011 میں جب بلونت روئے ارو راکو گرفتار کیا گیا، تو اس نے اپنے ایک انٹر ویو میں بتایا کہ اب تک وہ تقریباً50,000لوگوں کو ڈاکٹریت کے فرضی اسنادفراہم کرچکا ہے اورپورے ملک میں بلونت کوئی ایک تھوڑی ہے! اس پر مزید’ کریلا نیم چڑھا‘ہمارے ملک میں ڈاکٹروں کی تعدادبھی انتہائی کم ہے ، چنانچہ میڈیکل کو نسل آف انڈیا کے 2014سے 2016 تک کے اعدادوشمار کے مطابق 11,000لوگوں کے مقابلے میں یہاں صرف ایک ڈاکٹر ہے ، حالانکہ عالمی ادارۂ صحت کی مطلوبہ تعداد :10,00لوگوں کے مقابلے میں ایک ڈاکٹرہے ، مگر ہمارے ملک ہندوستان کا اس حوالہ سے دنیا کے133 ترقی یافتہ ممالک میں 67واں مقام ہے، جبکہ نرسوں کی تعداد میں اس کو 75 واں مقام حاصل ہے۔ جہاں تک ملک میں مجموعی طور پر ڈاکٹروں کی تعداد کی بات ہے، تو عالمی ادارۂ صحت کی تحقیق کے مطابق ہندوستان میں تقریباً 840,000 ڈاکٹرس ہیں اور مرکزی وزارت برائے امور صحت کی رپورٹ کے مطابق ملک کے سرکاری اور پرائیویٹ 387 میڈیکل کالج؛ 181 سرکاری اور 206 پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں سے ہر سال 300,000 ڈاکٹر،18,000ہزار مختلف امراض کے ماہرین،ان کے علاوہ 30,000 یونانی ڈاکٹر، 54,000 نرسیں، مزید 15,000 اے این ایم اور 36,000 فارمسسٹ طلبا فارغ ہوتے ہیں۔اس کے باوجودعالمی ادارۂ صحت کی مطلوبہ تعداد تک پہنچنے میں ہمیں سترہ سال کی ایک لمبی مدت درکار ہے۔ ظاہر ہے اس کی ذمہ داربھی حکومت ہی ہے، بلکہ جن مہلک بیماریوں میں کثرت سے اموات ہوتی ہیں، اس کی وجہ بھی ڈاکٹروں کی کمی اور حکومت کی عدمِ توجہی ہے، اگر بروقت لوگوں کو ایمبولنس فراہم کیے جائیں، ڈاکٹروں کی تعداد میں اضافہ کیاجائے، تو بہت ممکن ہے کہ ہلاکت کی شرح میں کمی ہو۔ آج جب ہم ملک کے بعض ہاسپیٹلوں کا جائزہ لیتے ہیں اور فوٹ پاتھ پر پڑے مریضوں کی بے بسی کا تصور کرتے ہیں،پھر دیگر ممالک سے اس کا موازنہ کرتے ہیں، تو واقعی اس وقت ہمیں اپنی کم تری اور حکومت کی بے حسی کا اندازہ ہوتا ہے! کیا کبھی ہم نے غور کیا کہ ملک میں صرف دانا مانجھی ہی کو دس کلومیٹر تک اپنی بیوی کی لاش کو اٹھاکر چلنا پڑاہے،کیا اب تک صرف کانپور کا آنشوہی اپنے باپ کے کاندھے پر موت کو گلے لگا یاہے ،نہیں،یہ کوئی ایک دو واقعہ نہیں جن کی وجہ سے ہندوستان کی جگ ہنسائی ہوئی، بلکہ ہر روز ملک کے کسی نہ کسی خطہ میں ایسے واقعات رونماہوتے ہی رہتے ہیں، جب انسانیت شرم شار ہوتی ہے اورلوگ حقارت بھری نگاہوں سے ہندوستان کو تکتے رہ جاتے ہیں!!!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رمیض احمد تقی

رمیض احمد تقی معروف نوجوان کالم نگار ہیں۔ rameeztaquee@mazameen.com

متعلقہ

Close