آج کا کالم

جنگ کے خلاف: یقین  مانئے حب الوطنی اس سے بھی پہچانی جائے گی!

راکیش کمار مالویہ

كورڈ کیمپس والی کالونی میں کچھ دنوں سے ایک سبزی والا آنے لگا. لوگوں کو صبح سے سبز تازہ سبزیاں ملنے لگیں. کالونی کے وهاٹس ایپ گروپ پر یہ پیغام چل پڑا کہ ‘سبزی والا اندر کس طرح داخل ہو رہا ہے؟ اس سے سیکورٹی کا نظام خطرے میں پڑ رہاہے. ‘ کسی نے دلیل دی کہ ‘ہمیں ہی تو سہولت مل رہی ہے.’ پھر کسی نے کہا ‘آج ایک سبزی والا آ رہا ہے، کل کئ اور آئیں گے. اور ہاں اتوار کو کباڑی والا بھی تو آتا ہے. ایک بار اندر داخل ہونے کے بعد وہ کس مکان میں جا رہا ہے، اور کیا کر رہا ہے، اس کا پتہ بھی نہیں چلتا. کورئیر والے بھی بغیر انٹری کے گھس آتے ہیں. ‘ سیکورٹی کا نظام درست رکھنے کیلئے کئی مشورے بھی گروپ پر پیش کئے گئے.

ملک میں پاکستان کو روند دینے کا ماحول ہے اور یہاں کالونی والے سبزی والوں، کباڑی والوں، کورئیر والوں سے اس قدر ڈرے بیٹھے ہیں کہ وہ سارے کے سارے عادتاً مجرم ہوں، جیسے ہی وہ کالونی میں داخل ہوں گے تو یقینا کوئی نہ کوئی جرم کر ہی دیں گے !!

تو کیوں نہ ان چھوٹے چھوٹے کام کرنے والوں کو شہر سے ہی باہر کر دیا جائے !!! جیسے سبزی والے، گھروں میں جھاڑو-پونچھا کرنے والی عورتیں، گھروں سے ردی کی ٹوکری سمیٹ کر لے جانے والے کباڑی ، رات کو خالی کی گئی دارو کی بوتلیں اور اخبار کی ردی خریدنے والے، بچوں کو اسکول سے لانے لے جانے والی وین، صاحب لوگوں کو دفتر تک پہنچانے والے شہر کے سارے ڈرائیور، گھروں میں کھانا بنانے والی بائياں، پلمبر، اے سی ٹھیک کرنے والے، کپڑوں کو صاف اور استری کر آفس جانے کے قابل بنانے والے، شہر کے سارے بازار کو صبح سے جھاڑ پونچھ کر دن بھر کے لئے خوبصورت بنانے والے، پھیری لگا کر پھل فروخت کرنے والے، صبح سے دودھ کا انتظام کرنے والے اور ایسے تمام غریب نچلے طبقے کےلوگوں کوشہر سے باہر نہیں کر دینا چاہئے؟ جب ایک کالونی میں ان کے لئے یہ ذہنیت ہے کہ یہ لوگ کوئی جرم کریں گے ہی تو کیوں صرف کالونی سے، سارے شہر سے ہی ان کو دور کر دیا جائے؟

کیا شہر چل پائے گا …؟ ذرا تصور کریں، صرف ایک دن ان سارےلوگوں کو شہر کی زندگی سے باہر کرکے دیکھئے، دیکھئے کہ کیا کیا ہو گا، گھر میں صبح دودھ آئے گا، سبزی آئے گی، بچے اسکول جائیں گے، ناشتا اور کھانا بن پائے گا، سر اور میڈم میں روٹی بنانے کو لے کر جھگڑا نہیں ہو گا، کیا مارکیٹ کھل پائیں گے، صبح کالونی کے نل کون کھولے گا، گھروں میں ردی جمع ہونے سے کیا دیوالی منا پائیں گے! اگر یہ سب کام آپ کر پائیں تو ضرور ایسے لوگوں کو یہ ایلیٹ معاشرہ اپنے شہر سے باہر کر دے، جنہیں وہ صرف نفرت کا حقدارر سمجھتے ہوئے مجرم قرار دے دیتا ہے.

یہ صحیح ہے کہ جرم ہوتے ہیں، لیکن کیا مجرم صرف غریب، بے بس اور لاچار لوگ ہوتے ہیں. غور کیجئے کہ اس ملک میں پیسے والے لوگ جرم کرکے جیل کاٹتے ہوئے بھی پیرول پر ماہ باہر ہو آئے، اورسماج ان کو ہیرو کی طرح مانتا ہے. کوئی پیسے اور شہرت والا ہیرو سڑک پر شراب کے نشے میں لوگوں کو روند کر چلاجاتا ہے اور ہم پھر بھی اسے مجرم نہیں مانتے، سماج، سسٹم، سیاست، عدالت، تمام اسے بچانے میں لگ جاتے ہیں! اس ملک سے کروڑوں روپے کا گھپلا کرنے والے بیرون ملک مزے کرنے چلے جاتے ہیں، نہ تو حکومت اسے روک پاتی ہے، نہ واپس لا پاتی ہے اور باقی سب لوگ اس پر اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہیں. اس ملک میں مجرموں کو ووٹ دے کر پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں پہنچا دیا جاتا ہے. ان کے جرم اس سماج کو دکھائی نہیں دیتے، لیکن کوئی ایک کباڑی، کوئی ایک سبزی والا، کوئی ایک دودھ فروخت کرنے والے کا جرم اس طرح کا کام کرنے والے تمام لوگوں کا جرم کیسے بن جاتا ہے؟

یہ صحیح ہے کہ لاچار قانون وانتظامیہ اور اس سماجی تانےبانے نے ایسا سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آج کوئی شخص اپنی ہی چہار دیواری کے اندر خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتا. دکھائی بھی دے رہا ہے کہ ایک چھوٹا موٹا کام کرکے زندگی بسر کرنے والے لوگوں کے لئے دو جون کی روٹی کا انتظام کر پانا اتنا ہی مشکل ہے جتنا آسان بڑے سرمایہ کو اور بڑا کر پانا. اس لئے ملک کے ان دو جانب-سرے پر کھڑے لوگوں کے لئے اپنی زندگی کے سوال بالکل مختلف ہیں. ان کے درمیان کا ایک تیسرا طبقہ بھی ہے جو دونوں کے درمیان کڑی کا کام کرتا ہے، لیکن یہ تیسرا طبقہ معاون کے بجائے مشکل بن کر جب کھڑا ہوتا ہے توپریشانیاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔ ملک میں کھیتی فصل اور گاؤں کی مشکل زندگی میں حالات سے مجبور کسان لاکھوں کی تعداد میں نقل مکانی کرکے شہر آ رہے ہیں. ظاہر ہے وہ شہر آکر ایسے ہی تعمیر اور شہر کی ضروریات کو پورا کرنے والے کاموں میں لگتے ہیں. دیہی نظام میں روزگار اور دوسری بنیادی ضروریات کو پورا کئے بغیر اس نقل مکانی کو  جادو کی چھڑی سے روکا بھی نہیں جا سکتا.

کھایا-اگھايا سماج زندگی  اور موت کے ان روز روز کے سوالوں کو سمجھنا بھی نہیں چاہتا. اسے اپنے ہی لوگوں سے خوف ہوتا ہے. وہ پاکستان کو روند دینے کے نعرے سوشل میڈیا پر لگانے لگتا ہے کیونکہ وہ انتہائی آسان ہوتا ہے. ڈر تو سرحد پر آباد ان لوگوں کا خیال ہے جو روز روز کی فائرنگ سے پریشان ہوتے ہیں، شمال مشرقی میں بندوقیں جنہیں خوفزدہ کرتی ہیں، یا جو خوف کے دوہرے سائے میں بستر، جھارکھنڈ، آندھرا کے جنگلوں میں رہتے ہیں. سوچئے وہ ڈر کیا ہوتا ہے!

جی ہاں،  محتاط رہیے، محفوظ رہیے. سیکورٹی کے ہر ممکن انتظامات کیجئے. لیکن حقیقی دشمنوں کو بھی پهچانئے. پهچانئے کہ بیوروکریسی کی کون سی کرسی ملک کے لئے خطرناک کام کر رہی ہے. پهچانئے کہ کس کا حق کون چھین رہا ہے، دیکھئے کہ کہاں بدعنوانی پنپ رہی ہے! دوڑیئے کہ کوئی بہن کسی گھنونی حرکت سے چیخ تو نہیں رہی، سنبھالئے کہ کوئی بچہ کیونکر بھیک مانگ رہا ہے، اٹھائیے کہ کون بزرگ چلتے چلتے زمین پر گر گئے ہیں، پیٹھ تھپتھپائیے کہ کس نوجوان نے ملک کے لئے کمال کر دیا ہے! اس بات کا یقین مانئے کہ آپ کی حب الوطنی اس سے بھی پہچانی جائے گی.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

راکیش کمار مالویہ

مضمون نگار این ایف آئی کے فیلو اور معروف سماجی تجزیہ نگار ہیں۔

متعلقہ

Close