آج کا کالم

اقوام متحدہ میں ہندوستان کا پاکستان کو جواب

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 71 واں سیشن چل رہا ہے. نیویارک میں واقع اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں 20 ستمبر سے شروع ہوئے اس اجلاس میں روز 30 سے زائد ممالک کے نمائندوں اور سربراہوں کی تقریریں ہوتی ہیں. یہ سیشن بلایا گیا ہے "The Sustainable Development Goals: a universal push to transform our world.” مطلب دنیا کو تبدیل کرنے کی سمت میں کس طرح سب مل کر پائیدار ترقی کے مقاصد کو حاصل کریں گے. پیر کو بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کی تقریر کا سب کو انتظار تھا. اڑی میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی تقریر میں کشمیر کا تفصیل سے ذکر آیا ہے کہ اس کے پاس کشمیر میں بھارت کے مظالم کے ثبوت ہیں اور برہان وانی نوجوان لیڈر ہے، اسے لے کر کافی رد عمل ہوا. تبھی سے سب کو انتظار تھا کہ سشما سوراج کیا جواب دیتی ہیں.

 وزیر خارجہ نے ایک انتہائی اہم بات کی ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں پرانے  نظریات ختم کرنے  ہوں گے. لالچ ترک کرنا ہو گا اور احسانوں کو بھلانا ہوگا . کیا ان کا یہ پیغام امریکہ کے لئے تھا؟ پاکستان سے  کس کو لالچ ہو سکتا ہے، پاکستان کا احسان کون ڈھو رہا ہے؟ ہم نے افغانستان، نیپال، سری لنکا، بنگلہ دیش، امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی تقاریر کو بھی دوبارہ کھنگالا،یہ دیکھنے کے لئے کہ انہوں نے دہشت گردی پر کیا بولا ہے. کیا ان باتوں میں بھارت پاکستان کو لے کر کوئی فکر ہے؟

 بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے کہا کہ دہشت گرد ہر جگہ لوگوں کو مار رہے ہیں. ہمیں دہشت گردی کی جڑوں تک پہنچنا ہوگا. ہمیں پتہ لگانا ہوگا کہ ان کے رہنما  کون ہیں، کون پیسہ دیتا ہے، کون ہتھیار دیتا ہے. ہم نے اپنے یہاں بنیاد پرستی کے خلاف زور شور سے مہم چلائی ہے اور معاشرے کے تمام طبقات کوخیال رکھا ہے.

سری لنکا کے صدر کی تقریر میں دنیا میں تشدد اور نفرت کے پھیلنے کی بات ہے. سری لنکا اور نیپال نے بدھ کی تعلیمات کی بنیاد پر امن قائم کرنے میں مدد کی بات کی ہے. بنگلہ دیش اور نیپال نے دہشت گردی کے لئے کسی ملک کا نام نہیں لیا. نیپال کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا خطہ بھی دہشت گردی سے متاثر ہے. دنیا کو متحد ہو کر دہشت گردی سے لڑنے کی سیاسی قوت ارادی دکھانی ہوگی.

 نیپال نے کہا ہے کہ دہشت گردی روکنے میں بین الاقوامی برادری ناکام رہی ہے. نیپال نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ شام، افغانستان، عراق، لیبیا میں تصادم کا جلد سے جلد حل ہو. ممالک کی خود مختاری اور آزادی کا احترام کیا جائے. نیپال نے فلسطین کے لوگوں کے آزاد ملک کے مطالبہ کی حمایت کی ہے. فلسطین کے عوام کے مطالبہ کی حمایت کرنے کی نیپال کی پالیسی نے مجھے متاثر بھی کیا اور حیران بھی. پاکستان نے بھی فلسطین کا ذکر کیا ہے.

 18 ستمبر کو اڑی فوج کیمپ پر دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا. لیکن دو دن بعد جب اقوام متحدہ کا اجلاس شروع ہوتا ہے، تو ہندوستان کے پڑوسی ممالک میں افغانستان کو چھوڑ کوئی بھی ملک دہشت گردی کو لے کر پر زور طریقے سے نہیں بولتا ہے. بڑے ملک بھی نظر انداز کر دیتے ہیں. جبکہ ہندوستان میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ دنیا کے کئی ملک دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کے ساتھ ہیں. امریکہ کے صدر براک اوباما نے اپنے نیویارک میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کا ذکر نہیں کیا، 11 /9 کا ذکر نہیں کیا جبکہ سشما سوراج نے ان دونوں واقعات کا ذکر کیا.

 امریکہ کے صدر براک اوباما کی تقریر میں دہشت گردی کا بہت ہی کم ذکر ہے. انہوں نے تو نیویارک کے واقعہ کا ذکر تک نہیں کیا جبکہ سشما سوراج نے وہاں ہوئی دہشت گردی سے متعلق واقعہ کا ذکر کیا. براک اوباما نے اتنا بھر کہا کہ دہشت گرد  نیٹ ورک سوشل میڈیا کے ذریعہ  نوجوانوں کو بہلا رہے ہیں. مسلمانوں اور معصوم تارکین وطن کے خلاف لوگوں کو بھڑکا رہے ہیں. تین چار لائن میں ہی براک اوباما نے دہشت گردی پر اپنی بات سمیٹ دی. انہوں نے ضرور کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بہت سی حکومتیں صحافیوں کا منہ بند کر رہی ہیں. اختلاف کو کچل رہی ہیں.

میں انتہائی عاجزی سے کہنا چاہتا ہوں کہ سات آٹھ ممالک کے سربراہان کی تقریر پڑھنے کے بعد یہی لگا کہ اقوام متحدہ کا یہ منچ سطحی تقریر کرنے  کے علاوہ کچھ نہیں ہے. آپ اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر جا کر ان تقریروں کو پڑھ کر اپنا فیصلہ کر سکتے ہیں. سادہ اور سطحی تقاریر کا ایسا شاندار مجموعہ آپ کو کہیں نہیں ملے گا. اگر ہندوستان کی وزیر خارجہ کی تقریر نہیں ہوتی تو اس پر بات ہو سکتی تھی کہ اقوام متحدہ میں دی گئ سینکڑوں تقریر کا مطلب کیا ہے. بنگلہ دیش تک نے ہندوستان کا نام نہیں لیا جبکہ ہندوستان کی وزیر خارجہ نے ڈھاکہ اور کابل میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کا نام لیا. کیا سارے ملک دہشت گردی کو لے کر اس طرح حساس نہیں ہو سکتے تھے.

 فرانس کے صدر نے کہا کہ کئی ممالک پر دہشت گردوں کا کنٹرول ہوتا جا رہا ہے جسے روکنا بہت ضروری ہے. بوکو حرم اور القاعدہ کی وجہ سے پورا علاقہ غیر مستحکم ہو گیا ہے. صاف صاف کہنا چاہتا ہوں کہ افریقی لوگوں کی حفاظت افریقہ کو ہی کرنی ہوگی. فوج کو آلات سے لیس کرنا ہوگا تاکہ وہ ان کا مقابلہ کر سکیں. فرانس اقوام متحدہ سے درخواست کرتا ہے کہ کب تک ہم دوست ملک کے خلاف دہشت گرد حملہ ہونے پر مذمت اور ہمدردی کی ہی بات کرتے رہیں گے.

 اگر فرانس حملے کی مذمت کے لیے خانہ پری نہیںکرنا  چاہتا تھا تو کم از کم اڑی میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کا ذکر کر سکتا تھا. ہندوستان میں بڑی کامیابی کے ساتھ یہ پیش کیا جا رہا تھا کہ فرانس نے بھی سخت مذمت کر دی ہے. صاف ہے دہشت گردی پر ہندوستان  اکیلے کی لڑائی لڑ رہا ہے، باقی ملک خانہ پری کر رہے ہیں. ان کے لئے دہشت گردی سے لڑنے کا مطلب سی سی ٹی وی لگانا بھر رہ گیا ہے. برطانیہ کی وزیر اعظم نے صومالیہ سے دہشت گردی بھگانے میں اپنے ملک کے کردار کی طویل ستائش کی اور کہا کہ آج دہشت گردی کے جس خطرے کا ہم سامنا کر رہے ہیں وہ کسی ایک ملک سے نہیں آتا ہے. بلکہ مختلف جگہوں پر موجود ہے. جس طرح کے گلوبل نیٹ ورک کا وہاستعمال  کرتے ہیں، اس کے لئے مختلف طریقوں کے عالمی جواب کی ضرورت ہے. دہشت گرد بینکاری نیٹ ورک کا استعمال کر رہے ہیں. ایئر لائن کو نشانہ بنا رہے ہیں. برطانیہ  نے تشدد پر مبنی کئی طرح کے انتہا پسندی کا ذکر کیا ہے. نو نفسطائیت کا بھی ذکر کیا ہے.

وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان کا نام نہیں لیا لیکن ایک جگہ وہ نام لیتی ہیں، جب وہ کہتی ہیں کہ ہم نے دو سال میں دوستی کا وہ پیمانہ طے کیا ہے جو پہلے کبھی نہیں تھا لیکن بدلے میں ہمیں کیا ملا. پٹھان کوٹ، بہادر علی اور اڑی. بہادر علی ہمارے قبضے میں ایک دہشت گرد ہے جس کااقرار نامہ ایک زندہ ثبوت ہے کہ پاکستان سرحد پار دہشت گردی میں ملوث ہے. آخر میں وزیر خارجہ نے چلتے چلتے کہا کہ 1996 سے ہندوستان دہشت گردی پر تفصیل سے بحث اور پیشکش کا مطالبہ کر رہا ہے، مجلس  اقوام متحدہ  نے آج تک اسےنتیجے پر نہیں پہنچایا ہے. وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم آج تک کوئی بین الاقوامی معیار نہیں بنا سکے، جس کے تحت دہشت گردوں کو سزا دی جا سکے یا ان کو گرفتار کیا جا سکے . خلاصہ کلام یہ کہ  جتنے سربراہان کی تقریر میں نے پڑھیں، دہشت گردی پر سشما سوراج نے ہی صاف صاف بات کی. بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے وزیر خارجہ سشما سوراج کو ٹیگ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا ہے کہ  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وسیع عالمی مسائل پر ٹھوس، موثر اور واضح طور سے اپنی بات رکھنے کے لئے. ‘وزیر خارجہ کو مبارکباد،’

ٹویٹ انگریزی میں تھا، میں نے ترجمہ کر بتایا ہے. کانگریس کو وزیر خارجہ کی تقریر مؤثر نہیں لگی ہے. کانگریس کے ترجمان رنديپ سرجےوالا کا ٹویٹس ہے کہ سشما سوراج کی تقریر سے مایوسی ہوئی ہے. پاکستان کو دہشت گرد قوم کہنے سے کیوں ہچکچاتی کرتی رہیں گزشتہ سال بھی سشما سوراج نے اسی اسمبلی میں نواز شریف کی جانب سے امن کے چار پوائنٹس کی تجویز کا جواب دیا تھا. کہا تھا کہ ہمیں چار نقطہ کی ضرورت ہی نہیں ہے. صرف دہشت گردی چھوڑ دیجئے اور بیٹھ کر بات کر لیجئے. کیرالہ میں وزیر اعظم نے پاکستان سے جنگ کی جگہ مل کر غریبی، بے روزگاری اور غذائی قلت کے خلاف جنگ کی بات کہی ہے لیکن پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کی بات بھی کہی ہے. کیا سشما سوراج کی تقریر اس سمت میں جارحانہ قدم ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close