آج کا کالم

امریکی صدارتی انتخاب کی سرگرمی بڑھی

رویش کمار

جب بھی امریکہ کے صدارتی انتخابات میں دو امیدواروں کے درمیان بحث ہوتی ہے، تو ہندوستان میں بہت سے لوگ صبح صبح الارم لگا کر اٹھتے ہیں اور بحث سنتے ہیں- سننے سے پہلے ٹویٹ ضرور کرتے ہیں تاکہ کچھ لوگوں کو پتہ چلے کہ وہ لوکل الیکشن میں بھلے ووٹ نہ دیتے ہوں لیکن امریکی الیکشن کا ڈبیٹ سنتے ہیں. پھر ان کا رونا شروع ہوتا ہے کہ ہندوستان میں ایسا ڈبیٹ نہیں ہوتا ہے. وین ول انڈیا ہیو دس كائنڈ آف یو نو … آئی مین- امریکہ میں جو ڈبیٹ آپ دیکھتے ہیں وہ پوری اور واحد تصویر نہیں ہے- صدارتی بحث سے پہلے سال بھر تک ریپبلکن پارٹی کے اندر ٹرمپ کا سولہ امیدواروں کے ساتھ مقابلہ ہوا- آخری بحث جان کیسچ کے ساتھ ہوئی، تب جاکر ٹرمپ صدارتی امیدوار کے لئے منتخب ہوئے- اسی طرح ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ہلیری کلنٹن نے پانچ امیدواروں سے بحث کی- ان سب کو هراتے ہوئے ان کا آخری مقابلہ برنی سینڈرز کے ساتھ ہوا اور آخر میں وہ امیدوار بنیں-

قانونی طور پر  ہندوستان میں بھی سیاسی جماعتوں میں صدر کے انتخاب کا بندوبست ہے. لیکن کیا آپ نے کسی بھی پارٹی کے بارے میں سنا ہے کہ آرا سے کسی بی جے پی کے لیڈر نے صدر کے انتخابات میں دعویداری کی ہو اور اپنی قابلیت سے متاثر کرتے ہوئے قومی سطح پر پہچان بنائی ہو. اسی طرح راجپيپلا سے کوئی بلاک سطح کا کانگریسی صدر کے عہدے کے انتخاب میں اتر گیا ہو- عام سے لے کر بائیں بائیں بازو تک میں کیا ایسا ہوتا ہے، نہیں ہوتا ہے- اب اگر آپ صدارتی بحث چاہتے ہیں تو کیا آپ اس بات کے لئے تیار ہیں کہ وزیر اعظم مودی کی امیدواری طے ہونے سے پہلے ان کی بی جے پی کے اندر اندر سشما سوراج، ارون جیٹلی، یشونت سنہا، وجیندر گپتا، ادت راج، ستیش اپادھیائے، سشیل مودی، راج ناتھ سنگھ، شیو راج سنگھ چوہان کے ساتھ بحث ہو- آخری دو امیدواروں میں جو جیتے اسے بی جے پی کا امیدوار بنایا جائے. اسی طرح کانگریس میں راہل کے ساتھ سچن پائلٹ، جیوتی سندھیا، جتن پرساد، ملند دیوڑا، پریا دت، ریتا بہوگنا، اجے ماکن، جے رام رمیش کے درمیان بحث ہو اور ان میں سے دو کے درمیان آخری مقابلے کے بعد کانگریس پارٹی کی طرف سے وزیر اعظم کا امیدوار طے –

ہم نے امریکی انتخابی نظام سے مارکیٹنگ، کوریج اور انتظام کا طریقہ مکمل طور پر درآمد کر لیا ہے- وہیں کی طرح یہاں بھی دن رات سروے ہوتے ہیں اور ٹی وی پر شو چلتا ہے کہ کون بنے گا وزیر اعلی اور کون بنے گا وزیر اعظم. وزیر اعظم یا وزیر اعلی کے نام پر باقی ممبر اسمبلی یا پارلیمنٹ بغیر اپنی قابلیت اور کارکردگی کے جیت جاتے ہیں- امریکہ میں تو ٹرمپ کے نام پر ریپبلکن کا کوئی بھی امیدوار سینیٹ یا کانگریس کے لئے نہیں جیت سکتا- سب کو پارٹی اور علاقے میں اپنی قابلیت ثابت کرنی ہوتی ہے-

وزیر اعظم مودی اور راہل گاندھی کے ٹاؤن ہال کا آپ نے ذکر سنا ہوگا- یہ سب امریکی انتخابی رابطہ عامہ اور کارپوریٹ ماڈل ہی تو ہیں. اب تو ہندوستان میں بھی اسٹیڈیم میں ریلیاں ہونے لگی ہیں. ڈبیٹ کے بعد امریکی چینلز پر بھی بحث سن رہا تھا کہ فلاں لیڈر نے کیا پہنا، کیسا بولا، کتنی بار پانی پیا، بحث پر کنٹرول رکھ پایا یا نہیں- امریکہ میں تو سال بھر امیدواروں کو پالیسیوں پر صفائی دینی پڑتی ہے- لیکن اگر یہ نظام اتنا ہی صاف ستھرا ہے تو اسی الیکشن میں صدر کے عہدے کے لئے دو اور امیدوار ہیں، کیا ان کا کوئی کوریج ہوا- ہم لیڈر منتخب کر رہے ہیں، دولہا نہیں. وہاں بھی ہندوستان کی طرح میڈیا پر بھٹکنے اور فروخت ہونے کے الزامات لگ رہے ہیں- ہر الیکشن کی طرح اس الیکشن میں بھی  اعتبار کھونے کی باتیں ہو رہی ہیں- پیسے کے ذریعہ اشتہارات کے لئے  خالی جگہوں کو خرید کر  مخالف امیدوار کو بحث سے باہر کرنے کی ترکیب خوب چلتی ہے-

آپ نے ٹی وی پر دیکھا ہوگا کہ ڈونالڈ ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن کے درمیان بحث ہو رہی ہے- وہ بحث  یونیورسٹی میں ہو رہی ہے. ہمارے لیڈر بھی انٹرویو دیتے ہیں مگر پہلے سے سوال لکھوا لیتے ہیں، طالب علموں کے درمیان جاتے ہیں تو سوالات کی چٹ پہلے منگا لیتے ہیں- ٹرمپ اور کلنٹن کی بحث کو جو اینکر دکھا رہا تھا وہ پہلے واضح کرتا ہے کہ سوال میرے ہیں اور کسی سے بتائے نہیں گئے ہیں-

 جس وقت ہلیری اور ٹرمپ بحث کر رہے تھے اسی وقت امریکہ کی تمام یونیورسٹیوں کے آڈیٹوریم میں اس ڈبیٹ کو لائیو دکھایا جا رہا تھا. ڈبیٹ سے پہلے پینل کی بحث بھی ہوئی اور ڈبیٹ کے بعد بھی بحث ہوئی- اس طرح کی بحث کا انعقاد وہاں کے دونوں جماعتوں کے طلبہ کی شاخائیں کرتی ہیں- یہیں سے مستقبل کے لئے لیڈر بھی پیدا ہوتے ہیں. اس بات پر بھی بحث ہوئی کہ جس اینکر نے ٹرمپ اور ہیلری کی بحث کو چلایا وہ کتنا غیر جانبدار تھا- آپ نے تو دو اہم امیدواروں کے درمیان کی بحث کو ہی ہندوستان میں دیکھا ہے لیکن وہاں کی یونیورسٹیوں میں بحث پر بحث ہوتی ہے- ہندوستان میں اس کی مانگ کریں گے تو کچھ لوگ کہنے لگیں گے کہ ٹیکس کے پیسے سے پڑھنے آئے ہیں یا سیاست کرنے- امریکہ میں اس وقت سینیٹ اور کانگریس کا بھی انتخاب ہو رہا ہے- وہاں بھی ہر سطح پر امیدواروں کے درمیان بحث ہوتی ہے-

 امریکہ کا جمہوریت جتنا بھی اچھا ہو لیکن یہاں الیکشن میں کسی غریب کا چہرہ نہیں دکھتا ہے­- ہندوستان میں وزیر اعظم یا وزیر اعلی کو منچ سے نظر توآ جاتا ہے کہ ان کی ریلی میں ڈھائی سو سے پانچ سو روپے دے کر جمع کئے گئے لوگوں کی مالی حالت کیسی ہے- امریکہ کے لیڈر کسی غریب کو لے کر آپ کوبتاتے ہیں کہ میرے دادا ڈرائیور تھے- اسے سن کر وہاں لوگ جذباتی ہو جاتے ہیں- فیملی ٹچ آ جاتا ہے اور بھول جاتے ہیں کہ جو لیڈر اپنے دادا کی ڈرايوري کا قصہ سنا رہا ہے اس  کے انتخابی مہم کا بجٹ ایک ہزار کروڑ سے لے کر تین ہزار کروڑ تک کا ہے. آپ اوپن سيكریٹ ڈاٹ او آر جی پر جا کر دیکھ سکتے ہیں کہ کتنا پیسہ آیا ہے کتنا خرچ ہوا ہے- جو پیسہ بچ جاتا ہے وہ ڈونر کو لوٹا دیا جاتا ہے- اس بار دونوں مل کر 6000 کروڑ خرچ کرنے والے ہیں، 6000 کروڑ-

یہ پہلی بحث ہے جس میں ٹرمپ صدر اوباما پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ اوباما نے دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس قائم  کی ہے اور ہیلری کلنٹن اس کی معاون بانی ہیں- ہندوستان میں ایسے الزام لگ جائیں تو پارٹی سے منسلک بے روزگار وکیل ہتک عزت کا کیس کر دیں- ٹرمپ نے یہ معاملہ پھر اٹھا دیا- ہلیری کلنٹن بولتی رہیں کہ میرے پاس آئی ایس آئی ایس کے خلاف جنگ کی منصوبہ بندی ہے- ٹرمپ نے کہا کہ آپ دشمن کو بتا رہی ہیں کہ آپ کیا کر رہی ہیں- وہ طنز کر رہے ہیں کہ آپ نے ISIS سے لڑنے کے نام پر حمایت کی- ہلیری نے بتایا کہ آئی ایس آئی ایس سے لڑنے کے لئے ٹیک کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا- فضائی حملے بھی کرنے ہوں گے- ٹرمپ نے کہا کہ عراق سے فوج ہٹانے کے فیصلے کی وجہ سے ہی آئی ایس آئی ایس جیسی تنظیمیں کو پنپنے کا موقع ملا- ٹرمپ نے کہا کہ کلنٹن تو کئی سال سے آئی ایس آئی ایس سے نمٹنے کا دعوی کر رہی ہیں لیکن یہ چھوٹی سے تنظیم اب کئی ممالک میں پھیل چکی –

 اس طرح ٹیکس سے لے کر تمام مسائل پر نوے منٹ تک دونوں کے درمیان بحث ہوئی- میڈیا نے دونوں کی باتوں کی سچائی کا جائزہ لیا اور بتایا کہ کس نے کس طرح جواب دیتے وقت حقائق کو صحیح بتایا یا غلط بتایا- بحث 2016 میں ہو رہی ہے لیکن ہلیری کلنٹن نے ٹرمپ سے سوال کر دیا کہ 1970 کی دہائی میں ٹرمپ نے سیاہ فام کو کرایہ پر مکان دینے سے انکار کر دیا تھا. اس لیے وہ نسل پرست ہیں اور اوباما کی پیدائش کے خلاف جھوٹ پھیلا رہے ہیں. کلنٹن نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ یہ نہیں بتا رہے ہیں کہ وہ ٹیکس دیتے تھے یا نہیں. تمام امیدواروں نے اپنا ٹیکس ریٹرن عوام کے سامنے ہیش کیا ہے- ٹرمپ کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ ہلیری کا الزام ہے کہ ٹرمپ ٹیکس نہیں دیتے ہیں- ٹرمپ کا جواب تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ وہ ہوشیار ہیں- تو ہلیری نے کہا کہ آپ نے فوج کے لئے کچھ نہیں دیا، صحت یا اسکول کے لئے کچھ نہیں دیا. ٹرمپ نے ہلیری کی بیماری کو ایشو بنا دیا کہ وہ کمزور ہو گئی ہیں- توانائی نہیں ہے. یہ سب سن کر آپ راحت کی سانس لے سکتے ہیں کہ ہم اس سے بھی نیچے گرتے رہے ہیں- تقریروں میں گرنے  کی داڑ میں ہمیں سی این این اور فاکس نیوز دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے- ہم گرنا جانتے ہیں-

 ٹرمپ کا ابھرنا پوری دنیا میں بحث کا موضوع ہے- کہا جا رہا ہے کہ امریکہ شمال کی طرف جا رہا ہے- جہاں باہر سے آئے لوگوں یا دوسرے مذاہب کے تئیں کم رواداری ہے- ٹرمپ کی باتیں اور کرنسیاں عجیب ہیں- ہلیری کلنٹن اس بحث کے بعد آگے بتائی جا رہی ہیں لیکن کیا بحث سے ہی وہاں نتائج طے ہوتے ہیں- امریکہ ٹرمپ کی وجہ سےتبدیل ہو رہا ہے یا اپنی غریبی کی وجہ سے بے چین ہے-

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close