آج کا کالم

 فسطائیت کیا ہے؟ اور کیا ہمیں اس کا انتظار کرنا چاہیئے؟

پروفیسر اپوروانند جھا

تاناشاہی اور فسطائیت کے درمیان کیا رشتہ ہے، یہ بحث گزشتہ کچھ وقت سے چل رہی ہے- پرکاش کرات کا خیال ہے کہ ہندوستان کے آج کے دور میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فسطائی پارٹی کہنا مناسب نہیں- سی پی ایم انتخابات کانگریس پارٹی کے ساتھ مل کر لڑے یا نہیں، اسے لے کر سی پی ایم کے اندر جو بحث چل رہی ہے، کرات اس میں مداخلت کر رہے ہیں، اور وہ ایسے کسی اتحاد کے خلاف ہیں-

 کچھ نے اسے خالص پن کا نام دیا  ہے- اس رائے کے مطابق سی پی ایم کا زوال اسی خالص پن کی وجہ سے ہوا ہے. یہ بحث الگ ہے- ابھی ہم صرف فسطائیت کے بارے میں غور کریں گے. کرات جیسے لوگوں کے مطابق فسطائیت کی کلاسک تعریف حتمی ہے جس میں فسطائیت کو سرمایہ دارانہ نظام کے اس دور سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے، جسے مالی سرمایہ کا دور کہتے ہیں. اس وقت سرمایہ دارانہ نظام اپنے سخت بحران سے عام طریقوں کے ذریعہ قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا اور اسے ایسی حکومت چاہئے جو کھلے طور پر دہشت گرد ہو اور بے لگام طریقے سے حکومت کرے- ایسے وقت میں عام جمہوری سرگرمیاں ناممکن ہو جاتی ہیں، دوسری سیاسی پارٹیاں اور تنظیمیں کام نہیں کر سکتی-

 ہندوستان میں تو ابھی انتخابات ہو رہے ہیں، مخالف سیاسی پارٹی ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہی ہیں، پارلیمنٹ عام طریقے سے چل رہی ہے، اس لیے اس دور کو فسطائی دور کہنا جلد بازی ہے- لیکن اسی منطق سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو جابر کہنا بھی مناسب نہ ہوگا- اس میں باقاعدہ اندرونی انتخابات ہوتے ہیں، کسی ایک شخص کا قبضہ پورے پارٹی نظام پر ہو گیا ہے، یہ کہنے کی بنیاد ہمارے پاس نہیں ہے-

سوچنے کا یہ طریقہ ہی غلط ہے- ہم اپنی سمجھ یورپ کے ایک خاص دور سے حاصل کر رہے ہیں، ہمارے سوچنے کا طریقہ یورو مرکوز ہے- اس سے الگ ہم فسطائیت جیسے نظریے کے مرکزی مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کریں، تو بہتر ہو گا-

 بنیامین زکریا نے ہندوستانی فسطائیت کے اپنے مطالعہ میں کہا ہے کہ فسطائیت کو ایک وضاحتی لفظ کی طرح دیکھنا مناسب ہوگا- اکثر اسے مذمت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے- زکریا کی طرح جیرس باناجي بھی کہتے ہیں کہیہ صحیح ہے کہ اس کی پیدائش یورپ کی ہے، لیکن اس کی وسعت ہمہ گیر ہے. ہاں یہ مختلف شکل میں ظاہر ہو سکتی ہے۔

 فسطائی لفظ کے ساتھ ہٹلر کا ہی خیال آتا ہے- لیکن اس کابانی وہ نہیں تھا، اس کا کریڈٹ مسولینی کو ملنا چاہئے- کیا ہٹلرمسولینی سے بھی زیادہ مستند فاشسٹ تھا ؟ اصل بات ہے اس فسطائیت کی شناخت، آخر وہ کون سے بنیادی عناصر ہیں جو کسی سیاسی سرگرمی کوفسطائی بناتی ہے-

 جابر رجحانات عوام کو ایک خاص زندگی اور خیالات کے طریقہ کار میں نظم و ضبط کرنے کی غالب رجحان کے ساتھ جب ملے اور سارے مسائل کا تدارک کرنے کے لئے جب ایک مسیحا کی یقین دہانی لازمی لگنے لگے، اس کے ساتھ ہی اقتصادی اور سماجی مسائل کے لئے جب ایک سماجی یا مذہبی گروپ کو نشان زد کر لیا جائے تو فسطائیت کے عروج کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں-

 فسطائیت کا مطالعہ کرنے والے دانشوران  نے با خبر کیا ہے کہ اگر آپ اس کے سارے عناصر کے ایک ساتھ جمع ہونے کا انتظار کریں گے تو شاید بہت دیر ہو چکی ہو گی اور اس کا مقابلہ کرنے کے اسباب تباہ کئے جا چکے ہوں گے-

 فسطائیت صرف ایک اقتصادی بحران کے چلتے پیدا نہیں ہوتا، نہ یہ خود بخود پیدا ہو جاتا ہے. اقتصادی سے کہیں زیادہ یہ ایک ثقافتی نظریہ ہے- اسے باقاعدہ منظم کیا جاتا ہے، اس نظریہ کی تشہیر منصوبہ بند، منظم طریقے سے کی جاتی ہے، تبھی یہ معاشرے میں جڑ پکڑتا ہے-

 بنیامین زکریا نے بتایا ہے کہ ہندوستان میں فسطائیت کے تئیں رجحان کافی پہلے سے موجود رہا ہے- ونايك دامودر ساورکر، گرو گولوالکر، ہیڈگیوار کے علاوہ سبھاش چندر بوس میں بھی اس کی منظوری پائی جاتی ہے- ان کا خیال تھا کہ ہندوستان میں فسطائیت اور کمیونسٹ مل کمیونزم کے نام سے ایک سیاسی نظام کی تشکیل کر سکتے ہیں- مسولینی کے تئیں احترام گاندھی تک میں تھا- وہ اسے اپنےلئے پہیلی کہتے ہوئے کسانوں کے تئیں اس کے موقف کی تعریف کرتے ہی-

 دلچسپ بات یہ ہے کہ مسولینی کے تشدد کو گاندھی یورپی تہذیب میں تشدد کی ضرورت سے جوڑ کر دیکھتے ہیں- یہ کہتے ہوئے چوکنا رہنا ضروری ہے کہ گاندھی نے کبھی فسطائیت کو قابل قبول نہیں مانا- ان کے شاگرد جواہر لال نہرو پکے اور مسلسل فسطائی نظریہ کے مخالف تھے اور اس کے ساتھ کسی بھی قسم کے کے سمجھوتے کے لئے وہ تیار نہ تھے-

 فسطائیت کے دو بنیادی عناصر اگر تلاش کرنے ہوں تو وہ ہوں گے کسی ایک کمیونٹی کے تئیں  نفرت اور تشدد- ایسا نہیں کہ یہ رجحان ہر مذہبی یا ثقافتی کمیونٹی میں ہوگی، لیکن یہ رجحان صرف اکثریتی کمیونٹی میں ہو سکتی ہے-

 ہندوستان میں یہ نفرت مسلم اور عیسائی سماج کے خلاف ہے- اشیس نندی جیسے دانشور اسے لازمی طور پر جدید مانتے ہیں، لیکن یہ نفرت روایتی تعصبات کے سہارے ہی پلتي بڑھتی ہے- کہا جاتا ہے کہ روایتی معاشروں میں  یا زندگی کے مراحل میں جدیدیت کی مداخلت کی وجہ سے یہ پرتشدد نفرت پیدا ہوتی ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ فسطائیت جدید نظریہ ہے اور اس کے ابتدائی ورژن یورپ میں دکھائی پڑے، لیکن اگر ہم فسطائیت کو صرف نقل کے ڈھانچے میں رکھ کر دیکھیں گے تو پھر کہیں بھی وہ اپنے ‘حقیقی’ شکل میں دہرایا نہیں جائے گا – نہ ہمیں گیس چیمبر دیکھنے کو ملیں گے، نہ ریاستی سطح پر اجتماعی قتل عام، اور نہ آخری خاتمے جیسا کوئی اعلان-

پھر کیا فسطائیت کا انتظار کیا جائے؟ یا کیا ہم تشدد اور طبقاتی نفرت  کے امتزاج کی ابتدائی شکل کے ظاہر ہوتے ہی محتاط ہو جائیں گے؟ پرکاش کرات کے مضمون میں بایاں محاذ کے بارے میں گزشتہ تاثر ہے کہ وہ فسطائیت  کے فطری مخالف ہیں اور رہنما بھی- سچ تو یہ ہے کہ ہندوستان کی آج کی صورت حال میں وہ اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہے ہیں، اس لئے ان کے فسطائیت کی مخالفت کی قیادت کرنے کا تو سوال ہی نہیں اٹھتا- انہیں پہلے خود کو ہندوستانی سیاست میں پورے طور پرثابت کرنا ہے- پھر فسطائیت کے ابھرنے کے پہلے ہی اسے روکنے کی ذمہ داری عام طور پر جمہوری سیاسی جماعتوں کی ہو جاتی ہے- یہ دانشمندی فرانس کے سیاسی جماعتوں نے لے پین کے نیشنل فرنٹ کے ابھرنے کے وقت اپنے اختلافات پس پشت ڈال کر اس فرنٹ کو اقتدار سے دور رکھنے میں دکھائی- اسی طرح امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤثر ہونے پر ڈیموکریٹک پارٹی کے سارے گروپوں نے ساتھ آکر یہ سمجھداری ظاہر کی ہے-

 ہندوستان میں  ابھی اس بات پرسب کا  اتفاق ہونا باقی ہے کہ وہ کون سی سیاست ہے، جو جمہوریت کے لئے ناقابل قبول ہے-بنیادی طور پر مسلمانوں، عیسائیوں کے خلاف نفرت پر مبنی سیاست کے ساتھ جمہوریت کے نام پر تال میل کرنا چاہئے یا نہیں؟ اس سوال پر ہم نے آخری بحث نہیں کی ہے- جو سیاست ایک کمیونٹی کو ملک کے لئے غیر ضروری یا خطرناک بتاتی رہی ہے، وہ جمہوری کیسے ہو سکتی ہے ؟ کیوں مسلمانوں سے کہا جائے کہ وہ ان سے نفرت کرنے والوں کو اپنے حکمران کے طور پر قبول کریں؟

کیا ہندوستان میں مسلمانوں کے آخری صفایے کے ہولناک منظر کے نہ دکھائی پڑنے سے ہمیں یہ ماننا چاہیے کہ ہندوستانی ہٹلر ابھی پیدا نہیں ہوا اور ہمیں بدحواس ہونے کی ضرورت نہیں-

ہم اس بدحواسی کو آسان طریقے سے سمجھیں- وہ کون ہیں جو اب اپنی پسند کا کھانا لے کر ٹرین میں سفر کرتے گھبراتے ہیں؟ وہ کون ہیں، جن کے گھروں میں کوئی بھی گھس کر ان کی باورچی خانے کی تحقیقات کر سکتا ہے ؟ ایسا کرنے والے کس سیاست کی بنیاد پر ایسا کرنے کی ہمت پاتے ہیں ؟

 مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے اس سیاست اور اقتدار میں ایک ایک دن رہنے کا مطلب جینے مرنے کا سوال ہے- ان کی عزت کی زندگی تو دور کی بات ہے- اس سیاست کو فسطائیت کہیں یا نہیں، اس پر تعلیمی تنازعہ ہوتا ہو سکتا ہے، لیکن ہندوستان کے مسلمان اور عیسائی اس تنازعہ کے کہیں پہنچنے کا انتظار نہیں کر سکتے- کیا یہ سوچنے کا بہت تنگ طریقہ ہے؟

مترجم: شاہد جمال

(مضمون نگار دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اور معروف سماجی و سیاسی تجزیہ نگار ہیں)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close