آج کا کالم

کنٹرول لائن کے اس پار ہندوستان کا سرجیکل اسٹرائک

رویش کمار

اڑی حملے کے دس دن بعد تمام پہلوؤں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ہندوستان نے اپنا جواب دے دیا ہے. بدھ کی رات پاک مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں فوج کے جوان گھسے اور 38 دہشت گردوں کو مار گرایا . فوج کو کارروائی کی چھوٹ پہلے ہی دن دے دی گئی تھی اور 19 ستمبر کو ہی ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشن لیفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ نے کہہ دیا تھا ہم اپنے جواب دینے کے لئے وقت اور جگہ کا انتخاب خود کریں گے. ہمارے پاس کسی بھی حملہ یا تشدد کا جواب دینے کی صلاحیت ہے. 24 ستمبر کو وزیر اعظم نے کیرالہ کے كوجھيكوڈ میں کہا تھا کہ غربت اور غذائی قلت کے خلاف دونوں ملک مل کر جنگ لڑیں. تمام  لوگوں کو لگا کہ جنگ کا دباؤ ٹل گیا ہے. وزیر اعظم نے جنگ کا خیال ترک کر دیا ہے. لیکن اسی كوجھيكوڈ کی ریلی میں وزیر اعظم نے ایک اور بات کہی تھی کہ 18 جوانوں کا قربانی بیکار نہیں جائے گا. وہ بات کہتے وقت صرف بول نہیں رہے تھے، تال بھی ٹھوک رہے تھے.

 کیرالہ سے دہلی آکر وزیر اعظم دوبارہ مختلف قسم کی ملاقاتوں میں مصروف ہو گئے. کبھی سب سے زیادہ پسندیدہ ملک کو لے کر بحث تو کبھی دریائے سندھ پانی کے معاہدے کو لے کر بحث. سارک اجلاس میں ہندوستان کے نہ جانے کے فیصلے کے ساتھ بنگلہ دیش، بھوٹان اور افغانستان کا اس کی حمایت کرنا . تمام لوگوں کو یقین ہونے لگے کہ ہندوستان پاکستان کو علیٰحدہ کرنے کی پالیسی پر ہی کام کر رہا ہے اور اپنے پڑوس میں کامیاب بھی ہو رہا ہے. اسی درمیان امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر کا فون ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال کو آتا ہے کہ اقوام متحدہ نے جنہیں دہشت گرد مانا ہے، ان کے خلاف پاکستان سخت قدم اٹھائے گا. امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج کو دو بار فون کرتے ہیں کہ کشیدگی بہت نہ بڑھائیں. جمعرات کو گیارہ بجے کے آس پاس میڈیا سے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشن لیفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ مخاطب ہوتے ہیں جنہوں نے 19 ستمبر کو کہا تھا کہ جواب دینے کے لئے جگہ اور وقت کا انتخاب ہم کریں گے.

 جتنا کرنا تھا اتنا کر دیا اور پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشن کو فون کر بتا بھی دیا گیا کہ ان کا آپریشن کو آگے جاری رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے. فوج کے بیان کا اپنا طور طریقہ ہوتا ہے. ان کے بیان میں واقعہ  کہاں ہواہے، کتنے مارے گئےہیں ضروری نہیں کہ سب ہو ہی. ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ 38 دہشت گرد مارے گئے ہیں. اس کے بعد ہندوستان نے 25 ممالک کے سفیروں اور اقوام متحدہ کے پانچ مستقل رکن ممالک کے سفیروں کو بلا کر ساری باتیں بتائی. وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ریاستوں کے وزرائے اعلی کو معلومات دی اور دہلی میں وزارت داخلہ نے ایک کل جماعتی میٹنگ بلائی. اس اجلاس میں دہلی میں موجود کئی رہنما شامل ہوئے. بی جے پی صدر امت شاہ، کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد، جے ڈی یو کی جانب سے موسم یادو، بی ایس پی کی جانب سے ستیش مشرا، این سی پی کے شرد پوار آئے. وزیر دفاع بھی شامل ہوئے، جہاں ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشن نے آپریشن کی معلومات دی. اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے حکومت کے اقدامات کی حمایت کی ہے اور فوج کو مبارک باد دی ہے. سشما سوراج نے سونیا گاندھی سے مل کر پورے معاملے کی اطلاع دی. سونیا گاندھی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہندوستان کی طرف سے یہ سخت پیغام گیا ہے کہ ہمارے ملک نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب وہ دراندازی اور سیکورٹی فورسز پر حملہ نہیں ہونے دے گا. بی جے پی صدر امت شاہ نے بھی فوج کو مبارک باد دی ہے اور مضبوط فیصلے کرنے کے لئے وزیر اعظم کی ستائش کی ہے. امت شاہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ہندوستان خود کومحفوظ محسوس کر رہا ہے.

 پاکستان نے یہ تو تسلیم کیا ہے کہ بھارتی فوج نے کنٹرول لائن پار کر اس کے دو فوجیوں کو مارا ہے. بعد میں یہ بھی مانا کہ 9 فوجی زخمی ہوئے ہیں. انٹر سروسز پبلک ریلیشنز نے اس کی تصدیق تو کی ہے لیکن سنسنی خیز حملہ  کے  سلسلے میں ہندوستان کے دعوے کو مسترد کیا ہے. پاکستانی فوج کے پریس ونگ نے کہا ہے کہ ہندوستان کی طرف سے میڈیا میں یہ پھیلانے کی کوشش ہو رہی ہے کہ سرحد پار فائر سنسنی خیز حملہ تھا۔. یہ مکمل طور پر سچ کو توڑنا مروڑنا ہے. پاکستان نے پہلے بھی صاف کیا ہے کہ اگر پاکستان کی زمین پر کوئی حملہ  ہوتا ہے تو اسے اسی طریقے سے جواب دیا جائے گا.

 پاکستان سرحد پار فائرنگ اور سنسنی خیز حملہ میں فرق کرنا چاہتا ہے. لیکن اپنے فوجیوں کے مارے جانے کے بارے میں کہتا ہے کہ ہندوستانی  فوج نے کنٹرول لائن پار کرکے مارا ہے. پاکستان کی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم اس حملے کی مذمت کرتے ہیں. ہماری امن کی چاہت کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے.

 نواز شریف کو بتانا چاہئے کہ ہندوستان نے سنسنی خیز حملہ نہیں کیا ہے، کنٹرول لائن پار نہیں کی ہے تو وہ مذمت کس حملے کی کر رہے ہیں. کیا وہ سرحد پر ہونے والی فائرنگ کے ہر واقعہ کی مذمت کرتے ہیں؟ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف دو دو بار کہہ چکے ہیں کہ اگر ہمارے امن کو خطرہ ہوا تو ہم ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کریں گے اور ہندوستان کو نیست و نابود  کر دیں گے. یہ امن کی چاہت رکھنے والے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی کابینہ کے رکن کا بیان ہے. پاکستان کے وزیر اعظم نے جمعہ کو کشمیر پر کابینہ کی میٹنگ بلائی ہے. 5 اکتوبر کو نواز شریف نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب  کیا ہے. الرٹ کی صورت حال تو پاکستان میں بھی ہے لیکن اس کے بعد بھی ہندوستانی فوج نے کارروائی کو انجام دے دیا. فوج کو مبارک باد دینے والوں  کا تانتا لگا ہوا ہے.

 ایک خاص بات یہ ہے کہ جو بھی تفصیل  سامنے آئی ہے اس سے یہی پتہ چلتا ہے کہ پوری کارروائی میں فوج کو کچھ بھی نقصان نہیں ہوا ہے، نہ ہی پاکستان نے ایسا کوئی دعوی کیا ہے. پاکستان نے یہی کہا ہے کہ ان کی فوج نے بھی منہ توڑ جواب دیا ہے لیکن اس کے دو فوجی مارے گئے ہیں. فوج کے رسمی بیان میں آپریشن کی باریک معلومات نہیں ہیں لیکن ذرائع کے حوالے  سے جو باتیں نامہ نگاروں تک پہنچ رہی ہیں اس کے حساب سے کنٹرول لائن کے اس پار سنسنی خیز حملہ  کی منصوبہ بندی اڑی حملے کے فوراً بعد بنا لی گئی تھی. وزیر اعظم کو اس کی اطلاع تھی لیکن منظوری بدھ  کے دن دوپہر کو ہی دی گئی. ایک ہفتے سے کنٹرول لائن کے اس پار دہشت گردوں کے لانچ پیڈ س پر نگاہ رکھی جا رہی تھی. کنٹرول لائن کے اس پار 250 کلومیٹر کے دائرے میں سات جگہوں پر اس آپریشن کو انجام دیا گیا. کور کے طور پر رات کے وقت پہلے مارٹر فائر کیا گیا تاکہ اسپیشل فورسز اندر جا سکیں. پونچھ، مینڈھر، ماچل اور نوگاو سے اسپیشل فورس کی ٹیمیں کنٹرول لائن میں دو کلومیٹر تک اندر گھسي. ہیلی کاپٹر کے ذریعہ اسپیشل فورس کی ٹیموں کو کنٹرول لائن کے اس پار پہنچایا گیا. بھيمبیر، کیل، تاتاپاني اورلیپا کے علاقوں میں دہشت گردوں کے لانچ پیڈ کو نشانہ بنایا گیا. فوج کی 4 اور 9 پیرا کی اسپیشل فورسز کے کمانڈوز نے اس کارروائی کو انجام دیا. ذرائع کے حوالے سے کارروائی کے دوران 36 دہشت گردوں کو ڈھیر کرنے کا دعوی کیا گیا اور دو پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے. آپریشن میں شامل جوانوں کو یہ واضح ہدایات دی گئی تھی کہ وہ کسی بھی نوجوان کی لاش یا اپنے کسی ساتھی کو پیچھے چھوڑ کر نہ آئیں. اسپیشل پیراگراف کے قریب ڈیڑھ سو کمانڈوز نے رات ساڑھے بارہ سے صبح ساڑھے چار بجے کے درمیان اس آپریشن کو انجام دیا. سنسنی خیز حملہ کو انجام دینے کے لئے انہیں ایک خاص وقت کی مدت دی گئی تھی.

 اڑي کے واقعہ کے دس دن بعد ہندوستان نے كارروائی  کی ہے. ہندوستان نے فوری طور پر کچھ نہیں کیا مگر کارروائی کرنے میں بہت تاخیر بھی نہیں کی. کیرالہ سے دئے گئے وزیر اعظم کی تقریر سے لوگ سمجھنے لگے تھے کہ جنگ ہمارے مفاد میں نہیں ہے لیکن کچھ کرنا ہی نہیں چاہئے وہ یہ ہضم نہیں  کر پا رہے تھے. کیا سرحد پار سے دراندازی کی ہر کوشش پر یہ بحث ہوتی رہے گی. ہندوستان ثبوت دیتا ہے لیکن ان ثبوتوں کا کیا مطلب جب دوسرا واقعہ ہو جاتا ہے اور گزشتہ واقعہ پر کوئی کارروائی ہی نہیں ہوتی. وزیر اعظم نے مل کر غربت دور کرنے کی بات کہی تھی، اب لگ رہا ہے کہ غریبی اس کارروائی کا کوڈ لفظ تو نہیں تھا. تمام اسٹریٹجی  کوڈ لفظ میں ہی تو عوام کو بتائی جاتی ہے.

 ایک بار پھر بتا دیں کہ ہندوستان نے اپنی طرف سے بتا دیا ہے کہ اس کی طرف سے کارروائی پوری ہوتی ہے. بار بار زور دیا جا رہا ہے کہ یہ جنگ نہیں ہے. جواب ہے. اب سوال جنگ کے اندیشے کو  کو لے کر گہرا ہو رہا ہے. لیکن دس دنوں کے بعد کارروائی کے دوران ان خدشات کو بھی حکومت نے پوری طرح پرکھ  ہی لیا ہوگا. کئی جگہوں سے خبریں آ رہی ہیں کہ سرحد سے متصل  دیہات میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے. بہت  سے گاؤں کو خالی کرایا گیا ہے. فوج کے جوانوں کی چھٹیاں منسوخ ہونے کی بھی خبریں آ رہی ہیں.

 ہندوستانی فوج پر اس سے بڑا حملہ کبھی نہیں ہوا جو اڑی میں ہوا. پٹھان کوٹ ائیر بیس حملے سے بھی زیادہ نقصان اس حملے میں ہوا. حکومت ہند نے نہ صرف سرحد پر جواب دیا ہے بلکہ سرحد کے اندر سیاسی یکجہتی کو بھی برقرار رکھا تاکہ سب کی آواز ایک ہو. شام ہوتے ہوتے پاکستان سے جواب دینے کی خبریں آنے لگی ہیں. پاک فوج کے سربراہ راحیل شریف نے وہاں کے ممبران پارلیمنٹ کو بریف کیا. اسلام آباد واقع ہندوستان  کے سفیر کو بلا کر کہا گیا ہے. جو ہونا تھا وہ ہو گیا یا جو ہونا ہے وہ ابھی ہوا نہیں. ہندوستان اور پاکستان کے حصص بازار ایک ہی نکلے. جنگ کےاندیشہ سے دونوں  ہی جگہوں  پرگراوٹ نظر آئی.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close