آج کا کالم

احتیاط کے درمیان عام ہوتی زندگی…..

رویش کمار

جمعہ کا دن واقعی جمعہ کی طرح لگا. ایسا لگا کہ پوری کائنات ہفتہ اور اتوار کی طرف روانگی کر رہی ہے- مهاليا کی موسیقی کے ساتھ اور دھوپ کی خوشبو کے انتظار میں ملک کے کئی علاقوں میں درگا پوجا کی آہٹ اکتوبر کے استقبال میں اوس کے قطرے کی طرح ٹپک رہی ہے. بھارت آف سیزن سے تہوار کے سیزن کی طرف بڑھنے لگا ہے، جہاں بڑی تعداد میں خریداروں کے گھر سے نکلنے کی امید ہے. اخبارات میں اشتہارات آنے لگے ہیں. لیکن ان سب سے دور کوئی فوج میں گئے بغیر جنگ کی سی تیاری کے حالات میں کام کر رہا ہے تووہ نیوز چینلز کے رپورٹر اینکرز ہیں- چینلوں نے حکومت کے تحمل کو بھی نظر انداز کر دیا ہے. حکومت کی طرف سے کوئی جارحانہ بیان آ ہی نہیں رہا ہے. کہیں آ نہ جائے اس کی امید میں نگاہیں ہرمیٹنگ کی طرف دوڑ پڑتی ہے-  کچھ کرنے کے بعد خاموش ہو جانے کی عادت میڈیا کے لئے نئی ہے- ضروری نہیں کہ یہ بات کہی ہی جائے کہ ہم ساتھ ساتھ ہیں- جو میڈیا سے ناراض ہیں وہ بھی اسی میڈیا کے آغوش میں ہیں. اگر سرحد پر ٹینک ہیں تو ٹینک چینلز کے سٹڈيو میں بھی ہیں-

 فوج کی کارروائی سے ماحول خوشنما ہوا ہے، کشیدگی اگر کہیں ہے تو میڈیا کی دنیا میں. ہاں ہاں کہنے کے مقابلے نہ کہنے کی تنہائی سے کم تکلیف دہ نہیں ہوتی ہے.  سرحد کے اندر اندر غریبی کے خلاف جب جنگ ہوگی تو آپ دیکھیں گے کہ یہی میڈیا اپنے بیس بیس رپورٹر کی تصاویر لگا کر بھارت کے غریب اضلاع میں تعینات کرے گا اور مفلسی سے آزاد کروائے گا- ایسی خوبصورت جنگ کا انتظار ہمیشہ رہے گا- کچھ ہونا چاہئے صرف سرحد پر نہیں ہو رہا بلکہ کچھ سرحد کے اندر اندر بھی ہوا ہے جس کی تعریف ہو رہی ہے-

 وزراء کے ٹائم لائن پر جا کر دیکھیں گے تو لگے گا نہیں کہ ایک دن پہلےہندوستان نے اتنی بڑی اسٹریٹجک کامیابی حاصل کی ہے. سب ایسے سب ایسے عام ہیں جیسے گیتا کے جوہر مناسب طریقے سے سمجھ لئے ہوں- مرکزی وزیر ایم وینكيا نائیڈو نے اپنی ٹائم لائن پر مرکزی اسکول، دہرادون کو ملک کے سب سے صاف اسکول کیمپس منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے. وزیر صحت جے پی نڈڈا نے پي جي آئی چندی گڑھ کو ملک کے سب سے زیادہ صاف استپتال منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہےٓ انسانی وسائل کے وزیر پرکاش جاوڈیکر نے 600 غیر ملکی اساتذہ کے ہندوستان میں پڑھانے کی خبر ٹویٹ کی ہے- وزیر خزانہ جیٹلی بھی جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ میں مصروف رہے-

 مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے تو مهاليا کا کلپ ٹویٹ کیا ہے- معمولی فلموں کے ریلیز ہونے کے قصے سے جمعہ کی ہلچل دیکھنی بنتی تھی لیکن اتنی بڑی کارروائی کے اگلے دن کی خاموشی بھی دیکھنے کے قابل ہے. ہمارے ساتھی اکھلیش شرما کی رپورٹ ہے کہ بی جے پی نے بھی اپنے لیڈروں سے کہا ہے کہ زیادہ جوش سے بچیں. رد عمل ظاہر کرتے وقت تحمل دکھائیں اور فوج کے جوانوں کی بہادری کا تذکرہ کریں- سرحد کے اس پار شاید اس کا انتظار ہوگا کہ سرحد کے اس پار سے وزیر اعظم کچھ بول دیں تاکہ اس کے جواب میں اس پار سے کچھ بول دیا جائے- سرحد کے اس پار والوں کو وزیر اعظم مسلسل مایوس کر رہے ہیں- وہ وگیان بھون سے کیمروں کے سامنے مخاطب بھی ہوئے لیکن ایسی بات کہہ گئے جس کی شکایت وہ کریں بھی تو کس سے کریں. چین سے یا  اقوام متحدہ سے-

 جمعہ عام ہونے کی ضد لئے تھا- مختصر بچت اسکیموں پر شرح سود میں معمولی کمی کی خبریں آ کر چلی جاتی ہیں- کسان ترقی خط پر سود کی شرح 7.7 فیصد ہو گی جو 110 مہینوں کی جگہ 112 مہینوں میں پوری ہوگی- سكنيا خوشحالی منصوبہ بندی پر سود کی شرح 8.6 فیصد کی جگہ 8.5 فیصد ملے گی. ملک عام رفتار سے چل رہا ہے- گاؤں کنکشن اخبار نے لکھا ہے کہ 2 اکتوبر کے دن دیہی بینک کے ملازم اپنے مطالبات کو لے کر 625 ضلع کوارٹر پر گاندھی کے مجسمہ کے سامنے خاندان سمیت روزہ رکھیں گے- دیہی بینکوں کا قیام 2 اکتوبر کو ہی ہوا تھا. تمل ناڈو میں 45 جگہوں پر سرسوں ستیہ گرہ ہونے والا ہے. کہنے کا مطلب ہے کہ ہندوستان عام رفتار سے چل رہا ہے- جمعہ کے دن سری لنکا نے بھی اعلان کر دیا کہ وہ اسلام اباد سارک کانفرنس میں نہیں جائے گا-

  سرحد کے اس پار کی تنہائی اس پار کی خاموشی اور نرمی سے اور بھی بڑھ گئی ہوگی- پاکستان تمام بیرونی خطرات کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہے. نواز شریف نے کابینہ کے اجلاس کے بعد بول دیا ہے. ہندوستان کی وزارت داخلہ نے اگلے تیس دنوں تک تمام بڑے شہروں کو الرٹ پر رہنے کے لئے کہا ہے. پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر ہندوستان پھر سے ایسا کرے گا تو ہم مکمل طاقت سے جواب دیں گے. اس بیان پر غور کیا جانا چاہئےٓ اگر ہندوستان پھر سے ایسا کرے گا تو جواب دیں گے-  ہندوستان نے کہہ دیا ہے کہ اس کا آپریشن ختم. آگے ایسا ارادہ نہیں ہے- اقوام متحدہ نے دونوں ملکوں سے تحمل برقرار رکھنے کے لئے کہا ہے- امریکہ سے ہلیری کلنٹن کا بیان آیا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار جہادیوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں- انہوں نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ جہادی حکومت پر ہی قبضہ کر لیں اور آپ کے سامنے خودکش نیوکلیئر بامبر آجائے- اس سے خطرناک  کیا ہو سکتا ہے-

 اس درمیان یہ خبر آئی ہے کہ پاکستان نے ایک ہندوستانی جوان کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے- پاکستانی میڈیا میں بھی اس طرح کی خبریں چلنے لگیں کہ آٹھ ہندوستانی فوجی مارے گئے ہیں. جمعرات کو تو پاکستان نے ایسا کچھ دعوی بھی نہیں کیا تھا بلکہ اپنے جوانوں کے ہی مارے جانے کی بات کر رہا تھا. ہندوستانی فوج نے آٹھ جوانوں کے مارے جانے کی خبروں کی تردید کی ہے. جہاں تک ایک فوجی چندو بابو لال چوہان کے پکڑے جانے کی بات ہے، فوج نے کہا ہے کہ چندو بابو اس آپریشن کے دوران نہیں پکڑا گیا ہے. فوج نے کہا کہ دونوں جانب سے جوان کنٹرول لائن پار کر جاتے ہیں. یہ عام بات ہے- ان جوانوں کی واپسی ایک طے عمل کے تحت ہو بھی جاتی ہے- چندو بابو تو  اسٹراك کا حصہ بھی نہیں تھے-

 وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے مطابق ہندوستان کی جانب سے چندو بابولال کی واپسی کی پوری کوشش کی جا رہی ہے. اڑی حملے میں شہید ہوئےہندوستانی فوجیوں کی تعداد 20 ہو گئی ہے. ہسپتال میں علاج کرا رہے زخمی نائیک راجكشور سنگھ کا جمعہ کو انتقال ہو گیا. ان کا دہلی کے آر آر ہسپتال میں علاج چل رہا تھا. شہید راجكشور سنگھ بہار کے بھوجپور ضلع کے پپراپٹي گاؤں کے رہائشی ہیں- ہمارے ساتھی سشیل بہوگنا کو ذرائع سے پتہ چلا کہ بدھ کی رات ہوئی سرجیکل اسٹرائک میں مارے گئے دہشت گردوں کی تعداد 50 تک جا سکتی ہے- اس آپریشن میں 10 ڈوگرا اور 6 بہار ریجمنٹ کی مہلک پلاٹونس نے بھی حصہ لیا تھا جس کے بارے میں سشیل نے معلومات دی ہے-

 سشیل بہوگنا نے اعلی سطحی ذرائع کے حوالے سے یہ بھی معلومات دی ہے کہ حکومت مانتی ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی بہت ہی متوازن ہو گئی تھی. لوگوں کا خیال تھا کہ ہندوستان کچھ نہیں کرے گا. اسے توڑنا ضروری تھا- جب بھی ایسی کوئی حماقت کرے گا، اب جواب دیا جائے گا. ہمیں پاکستان کی جانب سے کارروائی کا خدشہ ہے اور ہم تیار بھی ہیں. سب کچھ ہائی الرٹ پر ہے. جو لوگ ہماری حفاظت اور خارجہ پالیسی پر سوال اٹھاتے تھے، انہیں ہمارے کام سے جواب مل گیا ہے- پاکستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں انہیں خدشات سے گھبراہٹ ہے- وادی سے لے کر جموں کے پاس کے علاقوں تک. پنجاب کے باس بین الاقوامی سرحد پر بھی جنگ کی آہٹ سے لوگ دیہات سے جا رہے ہیں- کچھ لوگ گاؤں میں ٹھہرے ہوئے بھی ہیں-

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close