آج کا کالم

پروچے: جلد آنا چاہئے ایک نیا چینل

رویش کمار

ضرورت ہے ایک پروپیگنڈہ چینل کی- ہندوستان میں میڈيا پروپیگنڈہ کا ہتھیار بن گیا هے- شيئر بازار کے قابل اعتماد ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پروپیگنڈہ کا بہت بڑا بازار هے- بڑي تعداد میں چینلز کو پروپیگنڈہ مشین میں تبدیل کرنے کے بعد بھی بازار کا پیٹ نہیں بھرا ہے- لہذا نوجوانوں کو آگے آکر پروپیگنڈہ کے میدان میں سٹارٹ اپ کرنا چاهیئے بلكہ بہت سے لوگ سٹارٹ اپ کر بھی رہے هیں- فیک آئی ڈی سے لوگوں کو گالی دینا، دھمکانا یہ سب اسی کے تحت آتا ہے- ان سب کو دیکھتے ہوئے ایک اور نئے پروپیگنڈہ چینل کی ضرورت ہے-

پروپیگنڈہ چینل کا جامع اور خوبصورت نام پروچے ہوگا-  پروچے کا ہدف ہوگا حکومت مخالف سوالوں کو ختم کرنا. قوم پرستی اور فوج کے احترام کے نام پر سوال پوچھنے سے ڈرانا. پروچے کا ایڈیٹر فطرت سے گستاخ ہونا چاہئے- اس کا کام گالی دینا ہوگا نہ کہ گالی کھانے سے پریشان ہونا-

پروچے اپوزیشن مخالف صحافت کو نیا رخ دے گا. حکومت مخالف صحافت کو ہی بہترین سمجھنے کا رجحان ختم ہو جائے گا- پلتذر جیسے ایوارڈ اب تک معاشرے اور حکومت کی شریعت سے لڑنے والی خبروں کو دیئے جاتے تھےلیكن پروچے اپوزیشن مخالف صحافت کو نوازے گا – بهت دنوں بعد حکومت کے ساتھ کھل کر کھڑے ہونے کی صحافت نے زور پکڑا هے- دنيا میں ایسا کبھی نہیں ہواہندوستان میں ایسا جم کر ہورہا ہے-

میڈیا اور حکومت اتنے قریب آ چکے ہیں کہ آپ میڈیا پر تنقید کریں گے تو لوگ آپ کو حکومت مخالف سمجھ لیں گے- ہندوستان کی عوام کو بھی اس کا کریڈٹ دینا چاہیئے. ہندوستان کی عوام بھی پہلی بار حکومت حامی صحافت کا ساتھ دے رہی ہے. عوام بھی صحافت کے اس خاتمے پر خاموش ہے. وہ روز یہ تماشا دیکھ رہی ہے لیکن اسے پتہ ہی نہیں کہ وہ اس تماشے کا حصہ بن چکی ہے-

تو نوجوان صحافیوں یہی صحیح وقت ہے! پوری بے شرمی کے ساتھ حکومت کے حامی ہو جائیں. جو ٹیچر صحافت کے اصول بتائیں ان سے کہئے کہ موجودہ مدیروں اور صحافیوں سے مقابلہ کرتے ہوئے ہم نوجوان صحافی کس طرح خوشامدی بن پائیں گے، برائے مہربانی ہمیں یہ پڑھائیے- حکومت حامی ہونے کا فن جلدی سے سیکھ لیں. یہ ایک بہتر وقت ہے صحافت میں سیاہ دولت کو سفید کرنے کا- جلدی فائدہ اٹھائیے- آپ دیکھیں گے کہ آپ کا ایڈیٹر بھی آپ سے ڈرےگا- روز روز کہانی فائل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی- دفتر آنے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی-

حکومت حامی صحافت کا یہ سنہری دور ہے- جب عوام حکومت مخالف صحافت کو غدار بتانے کے کھیل میں شامل ہو جائے تو یہ بات سمجھیں وہ آپ کے لئے شاندار موقع بنا رہی ہے- عوامی صحافت کو آپ حکومتی صحافت سمجھیں- جو ملتا ہے لے لیجئے. جب عوام صحافی کو دغا دے تو صحافی کو بھی عوام کا خیال چھوڑ دینا چاہئے- سوالبندی کے کھیل میں سب شامل ہیں. پروچے کا صحافی کھل کر قلمبندی کرے گا-

پروچے ملک بھر میں اپوزیشن مخالف صحافت کو مشہور كرےگا- اپوزیشن کو لے کر سوال کرنا ہوگا. اپوزیشن نہیں ہوگا تب بھی ادھر ادھر سے اپوزیشن کھڑا کرنا ہوگا تاکہ اسے ادھ مرا کیا جائے اور عظیم حکومت کا جاپ کیا جائے- اپوزیشن مخالف صحافت کا اصل فارمولا یہ ہے کہ ہر وقت ایک ایسے دشمن کو کھڑا کرنا جس کے مقابلے حکومت کو عظیم بتاتے رہنے کا دھوکہ چلتا رہے- روز ایسے دشمن کو گڑھنا ہی ہوگا-

حکومت مخالف صحافت کی ہمت اب صحافی اداروں میں نہیں رہی. بہت کم ہے. جہاں کم ہے وہاں بھی طریقے سے گرینڈ نیریٹو کا ہی پرچار ہو رہا ہے. حکومت کی بڑی خامیوں کو اجاگر کرنے کا کام بند ہو گیا ہے. پورے ہندوستان میں اسی طرح کی صحافت ہو گئی ہے- ریاستوں میں بھی صحافت کا یہی حال ہے- خاص صنعتکار اور خاص لیڈر پر سوال بند ہو گیا ہے-

لہذا کمزور صحافی اپنی زندگی داؤ پر نہ لگائیں مسلسل  گٹکھا کھائیں تاکہ آگے چل کر کینسر سے موت ہو. کینسر سے مرنے پر کسی کو پتہ نہیں چلے گا کہ صحافی کا ضمیر ہی مر چکا تھا. آپ حکومت اور صحافتی اداروں کے اس گٹھ جوڑ سے نہیں لڑ سکیں گے. لڑنا بیکار ہے کیونکہ عوام بھی حکومت کی حامی صحافت کی تعریف کرتی ہے. جب اسی کو ایمان اور غیرت نہیں ہے تو نوجوان صحافیوں تم اپنا ایمان کس کے لئے ببچو گے. اس لیے جم کر دلالی کرو.

اس لئے پروچے میں آئیے- ہندوستان کا اکیلا چینل جو اعلانيہ پروپیگنڈہ کرے گا- طرف داری کے سارے ریکارڈ توڑ دے گا- خوشامد ہی نئی اخلاقیات ہے- پروچے ایک وقت میں صرف ایک ہی حکومت کا پروپیگنڈہ کرے گا- جب وہ بدل جائے گی تبھی دوسری حکومت کا پروپیگنڈہ کرے گا-

دنیا بھر کی صحافت اب ایسی ہی ہوتی جا رہی ہے- پروچے کا اینکر بجلی کا کرنٹ لے کر بیٹھے گا. مخالف پارٹی کے ترجمان کی گردن پہ جھٹکا دے گا- یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ گالی کھا کھا کر لوگ چینلز میں آ رہے ہیں. یقین رکھئے یہ لوگ بجلی کا جھٹکا بھی کھانے آئیں گے- اینکر اب چيخےگا چلائے گا نہیں بلکہ سیٹ پر اس کے ساتھ باڈی بلڈر باؤنسر ہوں گے جو مخالف پارٹی کو وہیں پر لائیو پٹخ پٹخ کر ماریں گے اور لوگ پھر وہاں پٹخانے کے لئے آئیں گے- اینکر صرف اشارہ کرے گا-

پروچے آج کی ضرورت هےپروچے کا ایک ہی موٹو ہے، مخالف پارٹی نہیں بلکہ ایک پارٹی –  سوال نہیں گن گان- پروچے میں ہر ہفتہ صحافت کا شراددھ ہوگا- تاکہ اگلے ہفتے کے لئے پروچے نئی زندگی کے لئے تیار رہے. بڑی تعداد میں ایسے صحافی چاہیئے جو پروچے کے جنگجو بن سكیں- نئے صحافی جو پیسے دے کر پڑھ رہے هیں- اپنے ماں باپ کو الو بنا رہے ہیں، ان احمقوں کو پتہ ہی نہیں کہ وہ خود الو بن چکے هیں- ہا ہا ہا ہا. تم مارے جا چکے ہو نوآموز، تمہاری دھڑکنیں کسی کے پاس ادھار هیں تم پروپیگنڈہ كرو، پروپیگنڈہ  ہی نجات هےنوآموز صحافیوں تمہاری تقدیر طے هے- پروچے ہے تمہاری  تقدیر-پروچے میں وہی ٹكےگا جو دل سے قوم پرست ہوگا- وہ آگے چل کر پروچےوادي کہلائے گا-

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close