آج کا کالم

کیا ہر کمیونٹی کا الگ پرسنل لاء ہو؟

رویش کمار

يونپفارم سول کوڈ کو لے کر کوئی ٹھوس تجویز تو سامنے ہے نہیں، یہ کیا ہے، کیسا ہوگا، کسی کو نہیں پتہ، جو بھی ہے لاء کمیشن کے سولہ سوالات ہیں- کیا تین طلاق یا ایک سے زیادہ شادی کو ختم کر دینا ہی يونپفارم سول کوڈہے- کیا یونیفارم سول کوڈ کا یہ بھی مطلب ہے کہ دیگر سماج کے رسم رواج کو لے کر بھی بحث ہوگی-

 کیا اس وقت جو ہندو کوڈ بل ہے وہ صنفی جسٹس کی كسوٹيوں پر کھرا اترتا ہے یا اس میں بھی کسی قسم کی ترمیم کی بات ہوگی یا ہو رہی ہے- کیا ہندو کوڈ بل ہی یونیفارم سول کوڈ ہوگا یا ایک یونیفارم سول کوڈ کے تحت مختلف مذاہب کے رسم رواج کا کوڈ بنے گا. کاش کوئی ڈرافٹ ہوتا تو بات ہوتی- بہر حال وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے فیس بک پر پوسٹ کیا ہے کہ تین طلاق کی آئینی قانونی حیثیت کا جو مسئلہ ہے وہ یونیفارم سول کوڈ سے مختلف ہے. آئین سازوں نے امید ظاہر کی تھی کہ ڈائریکٹو پالیسی  کےاصولوں کے تحت ریاست یونیفارم سول لاء بنانے کی کوشش کرے گا- کئی مواقع پر سپریم کورٹ نے حکومت سے اس پر رائے مانگی ہے-

 حکومت نے بار بار عدالتوں اور پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ پرسنل لاء میں عموما کوئی بھی تبدیلی تمام فریقوں کے ساتھ بات چیت کے بعد ہی ہوتی رہی ہے- یونیفارم سول کوڈ کے معاملے پر لاء کمیشن نے غور  و فکردوبارہ شروع کی ہے- یونیفارم سول کوڈ آج ممکن ہے یا نہیں، اسے رہنے دیں تو بھی یہ سوال اٹھتا ہی ہے کہ مختلف کمیونٹیز کے پرسنل لاء کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے. یکسانیت نہ بھی ہو تو بھی پرسنل لاء کو بہتر بنانے کا ایک مسلسل لاءحہ عمل ہو. وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی تجویزات پرانی اور بیکار ہو جاتی ہیں. حکومت، قانون ساز اور کمیونٹیز کو وقت کی مانگ کا جواب دینا پڑتا ہے-

 وزیر خزانہ جیٹلی کے اس جواب کو کئی طریقوں سے پڑھا جا سکتا ہے- کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ بہت سے فرقوں کے پرسنل لاء میں اصلاحات کے عمل پر تبادلہ خیال چل رہا ہے. تو کیا مسلم پرسنل لاء کے علاوہ بھی دیگر پرسنل لاء کو لے کر بہتری پر بحث ہونے جا رہی ہے- قانون کے معاملے میں ان کی قابلیت کافی مشہور ہے، اگر وہ بھی لاء کمیشن کے کچھ سوالوں کو دیکھیں گے تو ان کے جیسا شخص شاید ہی پسند کرے. پھر بھی وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ لاء کمیشن نے غور و فکر شروع کی ہے- لاء کمیشن کے سوالوں کو آپ خود دیکھئے اور فیصلہ کریں کہ کیا ان سوالوں سے وہ جھلک ملتی ہے جس کی بات وزیر خزانہ کر رہے ہیں. کیا صرف مسلم پرسنل لاء کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے یا دیگر پرسنل لاء میں بھی اصلاح کی صرورت ہے-

 لاء کمیشن میں ایک دو ہی سوال ہیں جو دوسرے فرقوں کی بات کرتے ہیں. جیٹلی نے فیس بک پر آگے یہ بھی لکھا ہے کہ مذہبی رویے، رسم رواج اور شہری حقوق میں بنیادی فرق ہوتے ہیں. پیدائش، گود لینے، وراثت، شادی اور موت سے متعلقہ مذہبی دستور کو رسم و رواج کے ذریعہ بھی پورا کیا جاتا ہے- کیا پیدائش، گود لینے یا وراثت یا شادی، طلاق وغیرہ کو لے کر جو حق کی بات ہوتی ہے ان کی ضمانت مذہب سے ہونی چاہئے یا آئین سے. کیا ان امور میں غیر برابری ہو سکتی ہے، انسانی احترام سے کوئی سمجھوتہ ہو سکتا ہے- کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ پرسنل لاء کو آئین کے مطابق نہیں ہونا چاہئے- حکومت کا موقف واضح ہے. پرسنل لاء کو آئین کے مطابق ہی ہونا چاہئے. تین طلاق کومساوات اور احترام کے ساتھ رہنے کی بنیاد کے ترازو پر تولا جائے گا. یہی پیمانہ دیگر دوسرے پرسنل لاء پر بھی لاگو ہوگا-

 اگر وزیر خزانہ جیٹلی اپنے فیس بک پوسٹ میں یہ بھی واضح کر دیتے کہ دیگر پرسنل لاء کیا ہیں جہاں وہ تین طلاق کو پرکھنے کے پیمانوں کو نافذ کرنا چاہتے ہیں. انہوں نے ضرور دیگر پرسنل لاء کو بہتر بنانے کی بات کی ہے لیکن مثال صرف تین طلاق کا ہی دیا ہے- اگر وہ دوسرے فرقوں کے بھی مثال دیتے تو بہتر ہوتا. ان کے اس پوسٹ کو غور سے دیکھا جانا چاہئے کہ وہ تین طلاق کے ختم ہونے کی بات کر رہے ہیں یا یونیفارم سول کوڈ کی وکالت کر رہے ہیں- جیٹلی کا لکھنا ہے- تھوڑی محنت تو کرنی پڑے گی. آخر میں ان کی اس لائن کو بھی غور سے سمجھنے کی ضرورت ہے-

 یونیفارم سول کوڈ کے سلسلے میں تعلیمی بحث لاء کمیشن کے سامنے چلتی رہے گی- جواب اس سوال کا تلاش کیا جانا ہے کہ اگر ہر کمیونٹی کا الگ پرسنل لاء ہو تو کیا یہ تمام پرسنل لاء آئین کے مطابق نہیں ہونے چاہئے-

 ہم نے جمعہ کو نلسر یونیورسٹی آف لاء، حیدرآباد کے وائس چانسلر فیضان مصطفی صاحب سے سوال جواب کے انداز میں اس پر بات کی تھی. کچھ سوالات اور رہ گئے تھے. اس بیچ اس موضوع پر نویدتا مینن نے ہندو میں ایک مضمون لکھا ہے نویدتا مینن کے مضامین سے بھی کچھ سوالات نکل رہے ہیں- جیسے انہوں نے کہا ہے کہ کیا ہندو کوڈ بل میں صنفی جسٹس ہے؟ کیا وہی ماڈل ہے یا اس میں بھی بہتری آئے گی؟ کیا تمام پرسنل لاء کی صنفی جسٹس کےطریقوں کو ایک جگہ جمع کیا جائے گا؟ کیا يوسي سي کے تحت ہندوundivided فیملی کی  تجویز کو ختم کرنا ہوگا؟ کیا ہندوستان کے تمام شہری ایک ہی قانون کے تابع ہوں گے؟

 وزیر خزانہ جیٹلی اور نویدتا نے بار بار صنفی جسٹس لفظ استعمال کیا ہے- مطلب یہی ہوا کہ قانون ایسا ہو کہ عورتوں کو برابری کا حق ملے- دوسری بات ہے ہندو مشترکہ خاندان کی تجویز کو ختم کر ایک قانون لانے کی بات کو بھی الگ سے سمجھنے کی ضرورت ہے- نویدتا کے مضامین سے ایک اور سوال ابھرتا ہے کہ صنفی جسٹس کے مطابق شادی کا بہتر طریقہ کیا ہو- نکاح میں مسلم عورتوں کے لئے مہر کی رقم طے ہوتی ہے. نویدتا مینن نے پوچھا ہے کہ ایسا نظام ہندوؤں میں نہیں ہے تو کیا یونیفارم سول لاء کے تحت یہ دیگر کمیونٹیز میں بھی لاگو ہوگا- وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ لاء کمیشن کے سامنے جا کر بحث کریں لیکن لاء کمیشن نے جو سوالات ویب سائٹ پر رکھےہیں وہ انتہائی بنیادی ہیں اور اس بحث کا وسیع نظریہ پیش نہیں کرتے ہیں- یہ میری اپنی رائے ہے- تمام مضامین میں آپ گوا کے یونیفارم سول کوڈ کا ذکر سنیں گے. ہم اس کے بارے میں بھی الگ سے بحث کرنا چاہتے ہیں- ہندو اخبار میں نویدتا مینن نے لکھا ہے کہ گوا میں 1939 میں Portuguese Civil Procedure Code (1939) of Goa نافذ ہوا تھا. یہ نہ تو یونیفارم یعنی یکساں ہے، نہ ہی اس سے صنفی جسٹس ہوتا ہے- مختلف مذہبی کمیونٹیز کے لئے شادی کے قانونی دفعات مختلف ہیں- نویدتا مینن کے مطابق گوا میں ہندوؤں کے رسم رواج اور چلن کو تسلیم کیا گیا ہے- جس میں  محدود طریقے سے ہندوؤں کو ایک سے زیادہ شادی  کی اجازت بھی ہے-

 کیا واقعی ایسا ہے. گوا کا سول کوڈ تمام کمیونٹیز کی بیویوں کو تمام قسم کی ملکیت میں پچاس فیصد کی حصہ داری کو یقینی بناتا ہے. رویے میں ہوتا ہے یا نہیں معلوم نہیں- حکومت ہند نے بھی ایسے قانون بنائے ہیں. جو بیٹیاں، بیویاں اور سہیلیاں ٹوئٹر -فیس بک پر ہیں، اگر وہیں پوسٹ کریں کہ ان کے والد کی جائیداد میں کچھ ملا ہے یا نہیں تو بیداری بھی پھیلے گی- مسلم خواتین کو ایسے حق ہندو خواتین سے پہلے حاصل ہیں. ذرا وہ بھی پوسٹ کریں کہ عملی طور پر انہیں کچھ ملتا بھی ہے یا نہیں-

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close