آج کا کالم

یوپی انتخابات: ریتا بہوگنا جوشی کے بی جے پی میں شامل ہونے کا مطلب …

سدھیر جین

میڈیا میں چار چھ گھنٹے ریتا بہوگنا جوشی ایپیسوڈ میں نکل گئے۔ اس کے بعد 24 گھنٹے کا تجزیہ بتا رہا ہے کہ سیاسی رجحان واقعی لمحاتی ہو چلا ہے یعنی سیاست میں کوئی بھی بات ایک دو دن سے زیادہ ٹک ہی نہیں پا رہی۔ پھر بھی ایسی باتیں عام لوگوں کےذہن میں ضرور چلی جاتی ہیں۔ اسی لئے صحافت خبر کےلائق ہر واقعہ کا ظاہر اور باطن ضرور دیکھتی اوردکھاتی ہے۔

 اس معاملے میں نیا کیا دکھا

عام طور پر جب کوئی لیڈر ایک پارٹی چھوڑ کر دوسری میں جاتا ہے تو اپنے فیصلے کے جواز کی تشہیر کرنے کے لئے کچھ پہلے سے پیش بندی کرنے لگتا ہے۔ یہاں جوشی کی جانب سے یہ پہل نہیں دکھائی دی۔ تاہم میڈیا میں اس پر بحث ضرور کروائی گئی۔ لیکن اس سے زیادہ ہلچل مچ نہیں رہی تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ جوشی جس پارٹی میں تھیں اس میں بھاری تبدیلی کی وجہ سے وہاں ان کی کوئی حیثیت بچی نہیں تھی۔ اس بات کی عکس بی جے پی جوائن کرنے کے موقع پر پریس کانفرنس میں ان کی باتوں میں بھی صاف نظر آیا۔

دو باتیں انہوں نے کہیں

پہلی کہ کانگریس میں اس کے الیکشن مینیجر پرشانت کشور کا رویہ مینیجر سے زیادہ ڈائریکٹر جیسا ہے اور پرشانت کشور کی حیثیت رہنماؤں سے بڑی ہو گئی ہے۔ دوسری بات میں انہوں نے براہ راست ہی کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کو نشانہ بنایا۔ پہلی بات کا تجزیہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ پرشانت کشور کولایا ہی اس لئے گیا ہے کیونکہ یوپی میں گزشتہ 27 سال سے ریاست کا کوئی لیڈر کانگریس کو واپس اقتدار میں لا نہیں پا رہا تھا- ان لیڈروں میں خود ریتا بہوگنا جوشی کو بھی کانگریس نے طویل وقت تک اعلی سطح کے عہدوں پر رکھا تھا۔

رہی دوسری بات کے تجزیہ کی تو گزشتہ ایک ماہ میں راہل گاندھی کے کسان رتھ نے ریاست میں کانگریس کی ہلچل مچا رکھی تھی. کانگریس کو بڑھنے سے روکنے یعنی راہل گاندھی کو روکنے کے لئےجوشی کے منہ سے ایسا کہلانے سے زیادہ کارگر طریقہ اور کیا ہو سکتا تھا۔ یہ طریقہ کتنا چھوٹا بڑا ہے؟ اس وقت یہ بات کرنا ٹھیک نہیں ہے. کم سے کم سیاسی کھیل میں بچی کھچی اخلاقیات کے لحاظ سے تو بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے۔

 اخلاقیات کی باتوں کی گنجائش

 بات صحیح ہو یا نہ ہو، لیکن جنگ اور محبت میں سب جائز کا محاورہ خوب چلایا جاتا ہے. اور جب سے سیاست کو جنگ بتایا جانے لگا تب سے ہم یہ بھولنے لگے کہ سیاست میں ایک اخلاقی اصول بھی ہے. لہذا ان باتوں کو اب سننے مٰیں زیادہ کشش نہیں بچی. پھر بھی اگر یہ مان کر چلیں کہ اچھی یا بری عادت  ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم نہیں ہوتیں. زمیں پر رہ رہے لوگوں کے پاس کم از کم ڈھائی ہزار سال کی منظم سیاسی تاریخ کا تجربہ ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پہلے بھی جب کبھی ‘سو واٹ’ کلچر یعنی ‘تو کیا’ تہذہب لائی گئی، وہ دیر تک نہیں چلی۔ اس مصیبت دور میں نہ سہی، آگے کبھی نہ کبھی سیاسی اخلاقیات یا مثالی اقدار کی باتیں ہمیں کرنی ہی پڑیں گی۔

کچھ دلچسپ حالات کی پیشن گوئی

معاشرے کےدلچسپ طبقے کے لوگ ہمیشہ ہی دلچسپ واقعات کے انتظار میں رہتے ہیں. انسانی معاشرے کا بہت بڑا یہ طبقہ اسی لئے اخبارات اور ٹی وی پروگراموں کا بے صبری سے انتظار کرتا ہے. اندازہ ہے کہ آنے والے دنوں میں جب ریتا بہوگنا جوشی کانگریس کے خلاف پرچار کر رہی ہوں تب لوگ ان کے منہ سے اس کی موجودہ پارٹی کے خلاف کہی باتوں کو یاد کرکے دلچسپ صورت حال کا مزہ لے رہے ہوں گے۔ تاہم ان کا جواب دینے کی ضرورت پڑے گی نہیں۔ جواب مانگنے والا کوئی اڑ ہی گیا تو جواب کے لئے یہ لسانی ٹولز دستیاب ہیں ہی ‘سو واٹ’ یعنی ‘تو کیا ہوا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سدھیر جین

سدھیر جین معروف سینیئر صحافی ہیں اور انڈین ایکسپریس گروپ- جن ستا کے چیف سب ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

متعلقہ

Close