آج کا کالم

کہانی اپنے ہندوستان کی:قسط(19) وفادار یا غدار

رمیض احمد تقی
دوسری جنگِ عظیم کے دوران یورپی دائیں بازوکی جماعتوں سے متأثر ہوکر ڈاکٹر کیشَوبلیرام ہیڈگیوار نے 1925 میں ایک ہندو تنظیم’آر ایس ایس ‘کی بنیاد رکھی۔ بظاہر اس کا مقصد ہندؤں کی مذہبی تربیت اور ان کی صفوں میں اتحادپیدا کرناتھا، مگر کیا یہی اس کا ہدفِ اصلی تھا؟یادرپردہ کسی زمین دوز سازش کو انجام دینا تھا؟ اس کاآغازایک معمہ تھا،مگر1948میں جب گاندھی جی کے قتل کا معاملہ سامنے آیا، جن کو رکن آرایس ایس ناتھو رام گوڈسے نے گولی مار کر قتل کردیاتھا، تواس وقت آر ایس ایس کا موقف ملک وملت کے سامنے بالکل واضح ہوگیا۔اسی طرح( 77–1975)کے دوران جب ملک میں ہنگامی حالت نافذکردی گئی تھی اور 1992 میں جب شہادتِ بابری مسجدکا وہ دل دوز سانحہ رونما ہوا،تو اس کا بھگوائی رنگ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا۔امریکہ سمیت کئی ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں نے اس کو دہشت گردتنظیم کے زمرہ میں شامل کیا،چنانچہ مہاراشٹرا کے سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس ایس ایم مشرف نے اپنی کتاب  ” RSS – Country’s Greatest Terror Organisation“ کی تقریبِ رسمِ اجراکولکاتا میں کہاتھا:’ آر ایس ایس‘ ملک کی نمبر ایک دہشت گرد جماعت ہے۔ملک بھر میں اس کے خلاف دہشت گردی کے تقریباً 17 مقدمات میں فرد جرم عائد کی گئی ہے اورافسوس کی بات یہ ہے کہ صرف آرا یس ایس نے آرڈی ایکس کاجس قدراستعمال کیا ہے ، اس قدر کسی بھی دہشت گرد تنظیم نے نہیں کیا ہے، چنانچہ 2007 میں حیدرآباد کی مکہ مسجد اور سمجھوتہ ایکسپریس بم بلاسٹ ، 2006اور 2008 میں مہاراشٹرکے مالیگاؤں بم بلاسٹ ،2002 میں گجرات کا دل دوز فسا د اور 2014 میں مظفر نگر میں انسانیت کا قتلِ عام جیسے تمام حادثات انہی کی طلسماتی تصور کا شاخسانہ ہے‘۔
آرایس ایس کی زمین دوز سازشوں کا تانہ بانہ بلکہ ملک کے تقریباً تمام تحصیل اور 55,000 گاؤں تک دراز ہے۔اس کی حالیہ شاخاؤں کی تعداد تقریباً56,859 ہے،چنانچہ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق16-2015 تک ملک میں 36,867 مقامات پرآر ایس ایس کی کل 56,859 شاخائیں تھیں،جبکہ 16-2015 سے پہلے 33,223 مقامات پر 51,332 شاخائیں تھیں،لیکن صرف بارہ مہنیوں میں اس کی تعداد میں ایک حیرت انگیز اضافہ ہوا اور پانچ ہزار اضافے کے ساتھ اب اس کی تعداد 56,859 تک پہنچ چکی ہے،بلکہ ملک کی راجدھانی صرف دہلی میں اس کی 1,898 شاخائیں ہیں۔جہاں تک دوسرے ممالک میں اس کی شاخاؤں کی بات ہے، تویوکے اوریوایس سمیت 39 ممالک میں بھی اس کی شاخائیں ہیں جن میں پانچ شاخائیں تو مڈل ایسٹ میں ہیں، جبکہ ہندوستان سے باہر اس کی پہلی شاخہ کینیا کے ساحلی شہر مومباسہ میں 1947قائم کی گئی تھی اور آج اس کی پانچ شاخائیں کینیا کے مختلف شہر؛ مومباسا،ناکوروکِسوما، اِلڈوریٹ اور میرو میں انتہائی دیدہ وری سے اپنے مشن کی طرف رواں دواں ہیں،البتہ ہندوستان کے علاوہ دیگر ممالک میں اس کو Rashtriya Swayamsevak Sangh (RSS) کی بجائے Hindu Swayamsevak Sangh (HSS) کے نام سے پکارا جاتاہے۔اس کے علاوہ سوشل سائٹس پر سب سے زیادہ متحرک اور فعال جماعت آر ایس ایس ہی ہے ،چنانچہ فیس بک پر اس کو لائک کرنے والے پندرہ لاکھ سے زیادہ لوگ ہیں، ٹوئٹر پر اس کے 1.5 لاکھ فالورس ہیں، وہاٹس ایپ اور دیگر سوشل نیٹ ورکس پر بھی اس کی اچھی گرفت ہے،جہاں یہ فوٹوشاپ کی مدد سے جھوٹی تصویریں، ڈاکٹر ویڈیوز، پیڈ ٹوئٹس اور پیڈ نیوز کے ذریعہ بڑی آسانی سے اپنے پروپیگنڈے کو فروغ دینے میں مسلسل منہمک رہتے ہیں۔
آر ایس ایس دراصل برہمن واد کی طلسماتی تصور کا نام ہے اور برہمن وادکا تعلق کسی ذات اور مذہب سے نہیں ہے،بلکہ وہ خود ایک مذہب اور اپنے کو سب سے فائق اور برتر سمجھنے والی خودسر قوم ہے۔ برہمنوں کی عیاری اورمسلم و دلت دشمنی کی تاریخ بہت قدیم ہے،شودر اور دلت ہندو صدیوں سے ان برہمنوں کے ظلم کی چکیوں میں پستے چلے آرہے ہیں،بلکہ انہوں نے ان شودروں کو تو کبھی ہندو جانا ہی نہیں، ان کے اوتار نے تو بس ان کو غلامی ہی کے لیے پیدا کیا تھا۔ تاریخ شاہد ہے کہ انہوں نے کبھی بھی شودر ہندؤں کو اپنے مندروں میں نہیں آنے دیا؟یہ وہی قوم ہے جس نے انسانوں میں تفریق کی ، چنانچہ اگر کوئی برہمن کسی شودرسے ہاتھ ملا لیتا تھا،تو وہ ملیچھ ہوجاتا تھا، اگر اس کا پاؤں ان برہمنوں کے گھر میں پڑجاتا تھا،تو وہ گھر اچھوت ہوجاتا تھا، جس برتن میں ان کا ہاتھ لگ جاتا تھا، اس کو کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا تھا، صرف یہی نہیں اگرکسی شودرکا کوئی کم سن بچہ دھوکہ سے ان کے مندروں میں چلاجاتاتھا، تواس بچہ کے ساتھ اس کے والدین کو بھی ان برہمنوں کے خود ساختہ بھگوان کے پرکوپ کے عتاب کا شکار ہونا پڑتا تھا، مگر یہ بات بھی کتنی عجیب ہے کہ جب کوئی برہمن کوئی گناہ کرتا تھا ، تو جن انسانوں کو یہ اچھوت سمجھتے تھے ان کا بھگوان انہی کی کم سن عورتوں کی بلی کو قبول کرتا تھا! لیکن جب ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد آمد ہوئی اور انہوں نے ذات پات کے اس ناپاک بندھن سے انسانیت کو آزاد کرایااور عدل ومساوات کا درس دیا ، تو یہ بے چارے مسلمان بھی ان کا اجلی دشمن قرار پا ئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ جب تک یہ مسلمان ہندوستان میں رہیں گے ان غریب دلت ہندوں کو کبھی غلام نہیں سمجھ پائیں گے، اس لیے انہوں نے سب سے پہلے ہندوستان کو مسلم مکت بنانے کا خواب سجایا، جس کو انہوں نے ہندوراشٹر کا انوکھا نام دیااور یہی مقصد انگریزوں کا بھی تھا؛ ہندوستان کو غلام بنانا اور ہندوستان سے مسلمانوں کا خاتمہ، کیونکہ یہاں مسلم ہی ایک ایسی قوم تھی جس میں حکومت کرنے کی صلاحیت اور روایت تھی،بلکہ ہزاروں سالوں کا تجربہ بھی تھا۔ انگریز تو1947 میں ملک چھوڑ کر بھاگ نکلے ،مگر ان کا مسلم مکت بھارت اور ہندو راشٹرکا خواب آج بھی ان کے دلوں میں زندہ ہے اور ’یہ منھ میاں مٹھو ‘صرف یہی ملک کے سب سے بڑے وفادار اور قوم پرست ہیں،مگران کی قوم پرستی اور حب الوطنی بھی کیاہی خوب دل فریب ہے،کیونکہ قوم کسی خاص حد اور علاقہ کا نام نہیں ہے، وہ تومکان ومکین کے مجموعہ کا نام ہے، پھر ان میں سے جو کوئی اس کی تعمیروترقی کا خواہاں ہو اور وہاں کے انسانوں کی بھلائی چاہے وہی دراصل قوم پرست ہے اور جو بھی کوئی اس خاص مکان کے کسی فرد یا جماعت کے ساتھ تشدد کا رویہ اختیار کرے،اس سرزمین کی مٹی کوپلید کرے ، درحقیقت وہی قوم مخالف اور ملک وملت کا دشمن ہے اور آرایس ایس بالکل یہی کام کررہا ہے۔ آپ خودہی غور کرلیجیے کہ جو کوئی اپنی سرزمین کے جھنڈا اور اس کی نشانی سے نفرت کرے ، اس کو اپنے مکان کی زینت بنانا ناپسند کرے ،توکیا وہ قوم پرست ہوسکتاہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ ملک کی آزادی سے تقریباً بائیس سال پہلے 1925میں آر ایس آیس کا وجودہوا، مگر طرفہ کی بات یہ کہ اس نے کبھی بھی ملکی مفاد میں کوئی خدمات انجام نہیں دی، آزادی کی کسی تحریک میں اس کا کوئی وجود نہیں ملتا،بلکہ آزادی کے تقریباً 52 سال تک کبھی بھی آر ایس ایس کے کسی دفتر پر ترنگا نہیں لہرایا گیا، مگر جب ملکی سطح پر آواز اٹھنے لگی تو2001 میں اس کے صدر دفتر ’اسمرتی بھون‘ پرپہلی مرتبہ ترنگا لہرایاگیااور اُسی سال جب ناگپور میں کچھ سماجی کارکنوں نے آر ایس ایس کے ایک احاط میں ترنگا لہرانے کی کوشش کی تو ان کے خلاف کیس بھی درج کیا گیا۔ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ جو لوگ ترنگا سے اس قدر نفرت کرتے ہوں، ان کے دلوں میں اچانک ترنگا اور ملک کی اتنی محبت کہاں سے امنڈ آتی ہے؟
درحقیقت براہمنوں کی عیاری لومڑی کی مکاری اوران کے آنسومگرمچھ کے آنسوسے تعبیر ہے۔ انہوں نے اپنے کالے کارناموں کی پردہ پوشی کے لیے دوسیاسی پارٹی بی جے پی اور شیوسینا کو تشکیل دیااور پھر رفتہ رفتہ ملک کے تمام بڑے عہدوں پر اپنے ہم مزاج لوگوں کو بحال کرنا شروع کیا،حتی کہ اب ہماری پولیس، فوج اورخفیہ ایجنسیاں بھی ان کی آلۂ کار بن کر رہ گئی ہیں، چنانچہ جنرل مشرف نے مذکورہ تقریب میں کہاتھاکہ’ ملک کی سیکورٹی ایجنسیاں انٹلیجنس بیوروبھی آرایس ایس کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے اور یہ انٹلیجنس بیورو ایسی ایجنسیاں ہیں جو اپنے کام کے لیے حکومت اور کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہوتیں،جس کا فائدہ اٹھاکر آج اس کا غلط طریقے سے استعمال ہورہاہے، حکومتیں آتی اور چلی جاتی ہیں، لیکن آئی بی مسلسل اپنے کام میں منہمک رہتا ہے ، پھر اس کے ہر بیان کو سچ مان کر فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘ نتیجۃآج ضمامِ مملکت ان کے ہاتھوں میں ہے، ہندوستان کی ہر شام خون آشام اور ہر صبح جرم وبربریت کی ایک الگ کہانی بیان کرتی ہے۔ ملک میں اقلیت بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ جس انسانیت سوزی کا رویہ اپنا جارہاہے،درحقیقت اس کے پیچھے یہی سازشی ذہنیت کارفرماہے۔ سیکڑوں مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام میں پکڑ کر پابہ زنجیر سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیاہے ، تاکہ اس قوم میں اٹھنے کی جرأت نہ ہو، جگہ جگہ ملک میں فسادات برپا کرائے گئے تاکہ مسلمانوں کو جسمانی، ذہنی اورسماجی سطح پر کمزور کردیا جا ئے اور یہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کے بھی قابل نہیں رہیں۔آج جو یہ پوری دنیا بالخصوص ملک میں اسلامی دہشت گردی کا ڈھنڈوراپیٹاجارہاہے، یہ دراصل براہمنوادوں کی براہمنوادی دہشت گردی ہے، نہ کہ مسلمانوں کی اسلامی دہشت گردی۔غضب کی بات یہ ہے کہ پورے ملک میں اب اس کی جڑیں اس قدر مضبوط ہوچکی ہیں کہ اگر کوئی اس کے خلاف جانے کی ہمت کرتاہے، توانہیں صفحۂ ہستی سے ہی مٹا دیاجاتاہے، خواہ وہ حکومت میں کتنے ہی بڑے عہدہ پر کیوں نہ فائزہو۔مہاراشٹرا اے ٹی ایس کے سربراہ ہیمنت کرکرے کا آخر جرم کیا تھا، صرف یہی ناکہ انہوں نے ان زمین دوز کاروائیوں کاپردہ فاش کرنے کی ہمت کی تھی اور آخر کار ہمت اور حق کے تیئیں اپنی وابستگی کی قیمت انہیں اپنی جان دے کر چکانی پڑی۔
حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کبھی ہمارا ملک نامساعد حالات سے دوچار ہوا ہے ا ور آج یہ جس ڈگر پر جارہا ہے، اس میں ان کی ہی فتنہ گر ذہنیت کا کمال ہے اورطرفہ کی بات یہ ہے کہ ملک کی پوری آبادی میں وہ اپنی صرف پانچ فیصدی شراکت کے ساتھ ملک کو کٹھ پتلی کی طرح جیسے چاہتا نچاتا ہے اور ہم تماشہ دیکھنے کے بھی قابل نہیں رہتے! حالانکہ ملک کی آزادی سے لے کراس کی تعمیر وترقی تک تمام امورمیں ان کو چھوڑ کر تمام مذہب وملت اور مکتبۂ فکر کے لوگوں نے بے انتہا قربانیاں پیش کی ہیں،سو بار نہیں ہر بار اپنا لہو دے کر انہی لوگوں نے اس کو سینچا اور سجایا ہے،البتہ ان کا تعاون رہاہے، تو وہ صرف ایک کو دوسرے سے لڑانے میں،تاکہ’ ایک تیر دوشکار‘غریب ہندو اور مسلمان آپس میں لڑکر ہلاک ہوجائیں اور ہندوراشٹربنانے کا ان خواب پورا ہوجائے۔ آپ اگر آج تک ملک میں برپاکیے گئے تمام فسادات کا جائزہ لیں، تو ان میں انہی کی سلگائی ہوئی چنگاری کاعنصر ملے گاجن میں کچھ پیسے اور دو بوتل شراب کی بنا پر بے چارے دلت اور دوسرے غریب ہندو مسلمانوں پر قہر بن کر ٹوٹے ہیں،نتیجۃکچھ ان کے بچے بھی یتیم ہوئے اوران کا خانما بھی ویران ہوااور مسلمان توبرباد ہوئے ہی اورجب معاملہ تھوڑا سرد ہواتو کرسیِ عدالت پر وہی قزاق اجل کا طلسماتی لباس میں جلوہ افروز معلوم ہوئے۔ افسوس توصرف اسی بات کا ہے کہ جن لوگوں نے اپنے خون سے ہندوستان کی تاریخ رقم کی آج ان کوہی کو ملک مخالف تصورکیا جارہا ہے اور جو غدار اور ملک کو لوٹنے والے تھے پیمانۂ قوم پرستی اور حب الوطنی اب ان کے ہاتھوں میں ہے! کیا کبھی ہم نے سوچاکہ کبھی حاشیہ پررہنے والی تنظیم آرایس ایس آج بامِ ثریاپر بڑی تیزی سے کمندیں کیوں ڈال رہی ہے، ملک میں کیااچھااورکیا برااب یہ بھی وہی طے کرتی ہے،ہم تو صرف دعویٰ کرتے رہ جاتے ہیں، ہمارے جلسے جلوس حکومت پر طعنوں سے خالی نہیں ہوتے،لیکن یہ اپنی زمین دوزسازشوں کے ذریعہ ملک میں اپنی شیطانی خلافت قائم کرنے کے سارے انتظامات کرچکی ہے!!!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رمیض احمد تقی

رمیض احمد تقی معروف نوجوان کالم نگار ہیں۔ rameeztaquee@mazameen.com

متعلقہ

Close