آج کا کالم

کیا گھٹتی ملازمتوں کا جواب بیسک انکم ہے؟

رویش کمار

کیا آپ یونیورسل بیسک انکم کے بارے میں جانتے ہیں؟ کیا حکومت تمام لوگوں کو بیسک انکم دے سکتی ہے؟ بیسک انکم کیا ہے؟ کیا یہ بے روزگاری الاؤنس ہے؟ کیا یہ بڑھاپے کی پنشن ہے؟ کیا کوئی حکومت کروڑوں لوگوں کوبیسک انکم دے سکتی ہے؟

 دنیا بھر میں اس پر بات ہونے لگی ہے۔ ابھی کہیں دی نہیں جا رہی ہے۔ تمام منصوبوں کو دیکھیں گے تو حکومت شہریوں کے ایک طبقے کو مدد کی رقم دیتی ہے۔ لیکن یونیورسل بیسک انکم کچھ مختلف جان پڑتی ہے۔ چند مضامین پڑھ کر لگا کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ حکومت سب کو یعنی غریبی کی سطح سے نیچے کے لوگوں سے لے کر ہم آپ جیسے لوگوں کو بیسک انکم دے۔ مہینے کے حساب سے ایک طے شدہ رقم۔

 اسی سال جون میں اس بات کو لے کر ریفرنڈم ہوا کہ سب کو غیر مشروط بیسک انکم دینے کے لئے آئین میں تبدیلی کرنی چاہئے۔ وہاں خوب بحث ہوئی، مہم چلی. حکومت اور پارلیمنٹ نے مخالفت کی کہ اس سے تو لوگ کام نہیں کریں گے اور ایک دن کام کے قابل لوگ نہیں ملیں گے۔ سوئيٹرزلینڈ یورپ ہی نہیں دنیا کا بہتر معیار زندگی والا ملک ہے۔ 80 فیصد آبادی کے پاس کام ہے، ایسے ملک میں یونیورسل بیسک انکم کو لے کر بحث ہوئی کہ تمام شہریوں کو ہر ماہ حکومت 2524 ڈالر دے۔ ریفرینڈم میں یہ تجویز نہیں مانی گئی۔ 77 فیصد ووٹ سے یہ تجویز مسترد ہو گئ۔ یورپ کے کئی ممالک میں اس موضوع پر بحث ہو چکی ہے۔ کئی سیاسی پارٹیاں ہیں جو اب اسے اپنے الیکشن مینیفیسٹو میں جگہ دینے لگی ہیں. کینیڈا، فن لینڈ اور ہالینڈ بھی اس پر ریفرنڈم کرانے کا غور کر رہے ہیں۔

 ابھی اپنے ماحول میں آپ یہی سنتے ہوں گے کہ حکومت کو عوامی فلاحی ریاست کے تصور سے نجات پا لینی چاہئے۔ حکومت کا کام ہے بزنس یا روزگار کا ماحول پیدا کرنا۔ حکومت کے اکاؤنٹ میں سبسڈی کا حصہ کم سے کم ہونا چاہئے لیکن اگر حکومتیں کبھی اس پالیسی پر پہنچتی ہیں کہ تمام اہل نااہل شہریوں کو بیسک سیلری جیسی کوئی رقم دی جائے گی تو پھر سبسڈی کم کرنے والی دلیلوں کا کیا ہوگا۔ وہ دفعہ اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ اب جب کوئی یونیورسل بیسک انکم کی بات کرے گا تو یہی لگے گا کہ کوئی خيالي پلاو پکا رہا ہے. کوئی پرانے زمانے کا کمیونسٹ ہوگا، یا پھر سوشلسٹ. سرمایہ داری پر چل چکی دنیا میں یہ موضوع کتناعجیب ہے۔ مگر یہ خیال پیدا ہوا ہی ہے امیر ممالک میں جہاں کمیونسٹ پارٹی کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

 امریکہ کے سلیکون ویلی کی ایک کمپنی ہے وائی كامبینٹر۔ یہ فنڈنگ کمپنی ہے۔ اس نے کیلی فورنیا میں بیسک انکم کو لے کر پائلٹ پروجیکٹ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کا مطالعہ کرنا چاہتی ہے کہ بیسک انکم کس طرح اداکرے گی، اس کا ڈیٹا کس طرح جمع ہوگا۔ کمپنی کے صدر کا کہنا ہے کہ جس طرح سے ٹیکنالوجی کی وجہ سے ملازمتیں جا رہی ہیں، ایک دن بیسک انکم نافذ کرنی ہی پڑ ےگی۔ اس پر ایک تنقید یہ ہے کہ اس سے تو حکومت غریبوں کو چھوڑ مڈل کلاس کو پیسہ دینے لگے گی. جس کے نتیجہ میں ہو سکتا ہے کہ غریبی ہی بڑھ جائے۔ خیر وائی كامبینٹر کیلی فورنیا کے سو خاندانوں کومنتخب کرے گی. چاہے وہ نوکریوں  میں ہوں یا نہ ہوں۔ انہیں ہر ماہ 1000 سے 2000 ڈالر دے گی۔ دیکھنے کے لئے کہ ان کی زندگی کس طرح بدلتی ہے۔

 آپ بھی میری طرح سوچ رہے ہوں گے کہ اگر حکومت سب کو بیسک انکم دینے لگے تو کوئی کام ہی نہیں کرے گا۔ لوگ سست ہو جائیں گے۔ اکنامک ٹائمز میں کچھ دن پہلے سواميناتھن اكلیشور ایئر نے بھی اس پر لکھا ہے۔ بی جے پی کے ایم پی ورون گاندھی نے اس مسئلے پر لکھا ہے. National Institue Of Public Finance and Policy کے ایمریٹس پروفیسر سودپتو منڈل نے بھی دی وائر نیوز پورٹل پر لکھا ہے کہ کیا یونیورسل بیسک انکم پر غور کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

 امریکہ کا ایک conservative تھنک ٹینک ادارہ ہے Cato Institute، وہاں کے دانشور Michael Tanner and Matt Zwolinski  کی دلیل ہے کہ امریکہ کا جو موجودہ سوشل سیکورٹی سسٹم ہے وہ خوفناک ہے۔ وہاں کے مرکز اور ریاست ہر سال 1 ارب ڈالر اس پر خرچ کرتے ہیں اس کے باوجود امریکہ کی 16 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہتا ہے. اس لیے موجودہ تمام منصوبوں کو بند کر ہر امریکی شہری کو سال میں 10000 ڈالر ملنا چاہئے۔ بشرطیکہ اس کی عمر 21 سال کی ہو۔

 بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ اس اسکیم میں جھنجھٹ کم ہے کیونکہ آپ اہلیت کی شرائط نہیں لگاتے کہ اسے ملے گا یا اسے نہیں ملے گا۔ ہم اکثر یہ نہیں سوچتے کہ جنہیں کام نہیں مل رہا ہے ان کی حالت کیا ہوتی ہے۔ ہندوستان میں منریگا جیسی اسکیم ہے جو کم سے کم 100 سے 150 دنوں کے لئے روزگار دینے کی بات کرتی ہے۔ حقیقت میں بھلے ہی پوری طرح سے لوگوں کو روزگار نہ ملتا ہو لیکن کیا یہ اسکیم یونیورسل بیسک انکم جیسی منصوبہ بندی کا چھوٹی شکل نہیں ہے۔ دنیا کی ہر حکومت سب کو کام دینے کے مسئلے سے دوچار رہی ہے۔ حال ہی میں ہم نے پرائم ٹائم میں اس پر بحث کی تھی کہ ہندوستان میں 2015 میں صرف 1 لاکھ 35 ہزار ملازمتیں ہی آئی ہیں۔ 2013 سے 2015 کے درمیان بھاری کمی آئی ہے۔ ہر دن 550 ملازمتیں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ اس سال انجینئرنگ کیمپس میں ملازمتوں میں 20 فیصد کی کمی آ سکتی ہے۔ کام کر سکنے والی آبادی کا ایک تہائی بیکار ہے۔ 68 فیصد کارکن کے خاندانوں کی ماہانہ آمدنی 10000 سے زیادہ نہیں ہے۔

 یہ سارے اعداد و شمار مختلف اخبارات کی رپورٹ میں شائع ہوئے تھے۔ عالمی بینک نے بھی ایک رپورٹ جاری کی ہے کہ ہندوستان میں آنے والی دہائیوں میں 69 فیصد مالزمتیں روبوٹ کی وجہ سے ختم ہو جائیں گی۔ پرنب بردھن اور فتح جوشی جیسے ماہرین اقتصادیات نے بھی اس کی وکالت کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ہندوستان میں اس منصوبے کو آزمایا جانا چاہئے۔ اس کے ماڈل کیا ہوں گے؟ اس کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا؟ یہ سب سوال تو ہیں لیکن ہمارے دماغ میں موجودہ ڈھانچہ اس قدر گھس گیا ہے کہ یہ خیال یا تو بیکار لگتا ہے یا پھر سمجھ سے باہر۔

 ٹیکنالوجی کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ آپ آئے دن اخبارات کے رنگین صفحات میں پڑھتے ہوں گے کہ بغیر ڈرائیور کی گاڑی اور بس چلانے کی ٹیکنالوجی تیار کی جا رہی ہیں۔ یہ ٹرائل اپنے آخری مرحلے میں ہے۔ ایک طرف ہندوستان میں ہی اولا اور اوبر نے لاکھوں نئے ڈرائیور پیدا کر دئےہیں، دوسری طرف ہم ان ٹرائل  پر کتنا یقین کریں کہ یہ جلد ہی لاکھوں ڈرائیور کی برادری کو ہی ختم کر دیں گے۔ ویسے ہم بغیر گیئر اور کلچ والی آٹومیٹك کار چلانے بھی لگے ہیں.۔ایک اور تكنيك ہے مصنوعی ذہانت کی۔ اس سے مشین آدمی کو شطرنج کے کھیل میں ہرا دیتی ہے. امریکہ کے وال اسٹریٹ میں دو ایکسچینج آپریٹر نے اعلان کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت ٹول لانچ کرنے جا رہے ہیں۔ جس کا کام مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ پر نظر رکھنا ہوگا. تو کیا ڈرائیور کے ساتھ ساتھ اسٹاک مارکیٹ کے استاد بھی غائب ہو جائیں گے۔ مصنوعی ذہانت اسٹاک مارکیٹ کے باریک دھوكھادھڑي کو آسانی سے پکڑ لیتا ہے جسے پکڑنے میں وہاں کےماہرین سے بھی چوک ہو جاتی ہے۔ جب یہ وال اسٹریٹ میں آ جائے گا تو سوچیں وہاں سے ہندوستان آتے کتنی دیر لگے گی۔

 ٹیکنالوجی کی رفتار تیز ہو گئی ہے اور لوگ بھی۔ یوپی میں سماج وادی پارٹی حکومت نے اسمارٹ فون کا وعدہ کیا تو لاکھوں لوگوں نے ویب سائٹ پر جا کر رجسٹریشن کرا دیا۔ آئے دن مرکز سے لے کر تمام حکومتیں ایپلیکیشن جاری کر رہی ہیں۔ بہت سے لوگ اس ٹیکنالوجی کی دنیا سے اب بھی باہر ہیں لیکن بہت سے لوگ جن میں عام لوگ بھی شامل ہیں اس کے دائرے میں آتے بھی جا رہے ہیں۔

 اگر آپ اولا یا اوبر کار سے چلتے ہوں گے تو آپ  کےہی شہر کا وہ پرانا ڈرائیور اب راستوں کو نہیں جانتا ہے۔ اسمارٹ فون پر گوگل میپ جیسے جیسے راستہ بتاتا ہے ویسے ویسے وہ چلتا ہے۔ جیسے وہ دہلی کا ہو کر دہلی میں نہیں بلکہ جاپان میں گاڑی چلا رہا ہو۔ آج ہی میں نے محسوس کیا کہ ڈرائیور نے اب راستوں کو یاد کرنے کے ذہنی عمل کو چھوڑ دیا ہے۔ ایک طرح سے مشین پر انحصار ہوتے ہوتے آدمی بھی مشین ہو رہا ہے۔ اگر گوگل میپ نہ ہو اور اسمارٹ فون نہ ہو تو ممکن ہے کہ بہت سے لوگ شام کو اپنے گھر ہی نہ پہنچ پائیں۔ دھنتیرس کی بھیڑ میں گھومتے گھامتے دہلی سے سونی پت پہنچ جائیں اور وہاں اپنے گھر کا پتہ ڈھونڈ رہے ہوں۔

 بہر حال یونیورسل بیسک اسکیم پر بات کریں گے۔ ملازمت نہیں ہوگی یہ چیلنج تو ہر دور کا رہا ہے لیکن یونیورسل بیسک انکم دینے کاآئیڈیا ہی اپنے آپ میں کسی چیلنج سے کم نہیں۔

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close