آج کا کالمخصوصینقطہ نظر

میں پچاس دنوں بعد کسی کو جوتا مارنے کی سوچ کے خلاف ہوں

 بھائیوں  اور بہنوں،  میں  نے دیش سے صرف 50 دن مانگیں  ہیں،  50 دن۔ 30 دسمبر تک مجھے موقع دیجیے بھائیوں  اور بہنوں۔ اگر 30 دسمبر کی رات میری کوئی کمی رہ جائے، کوئی میری غلطی نکل جائے، کوئی میرا غلط ارادہ نکل جائے، آپ جس چوراہے پر مجھے کھڑا کریں  گے میں  کھڑا ہو کر کے ملک جو سزا کرے گا وہ سزا بھگتنے کے لئے تیار ہوں۔ ‘‘

وزیر اعظم کی تقریر کا یہ حصہ اس لئے لفظ بہ لفظ لکھ رہا ہوں  کیوں کہ سوشل میڈیا سے لے کر سیاسی لوگوں  کی زبان پر کہیں سے جوتا آگیا ہے۔ کئی لوگوں  کے تبصرہ میں  دیکھا کہ وہ 50 دن کے بعد کسی چوراہے کی سزا کے لئے جوتے مقرر کرنا چاہتے ہیں۔ جوتے رسید کرنا چاہتے ہیں۔ جوتے مارنا چاہتے ہیں۔ اس بیان میں  چوراہے کا ذکر تو ہے مگر جوتے کا نہیں  ہے۔ پھر ناقدین اور مخالفین نے سزا کے طور پر جوتا ہی کیوں  منتخب کیا؟ کیا چوراہے پر دی جانے والی مکمل سزا جوتے سے ہی پوری ہوتی ہے؟

 اوّل تو وزیر اعظم کا چوراہے والا بیان ہی نہایت غیر جمہوری اور سڑک چھاپ ہے۔ وہ خود چوراہے پر سزا کی بات کر کے بھیڑکی ذہنیت کو آئینی منظوری دیتے نظر آرہے ہیں۔  ممکن ہے ان کے ذہن میں  مخالفین کے لئے ایسی ہی کسی سزا کا خیال آتاہو اس لئے اپنے لئے بھی ایسی بات نکل گئی ہو۔ہماری ذہن میں  کئی بار ایسی سزائوں  کے ڈھانچے اور الفاظ پوشیدہ ہوتے ہیں  جن کو سماج کے جاگیردارانہ طور طریقوں  سے بڑھاوا ملتا رہتا ہے۔جوتا مارنے کا خیال ہی نسل پرستانہ خیال ہے اور یہ بنیادی طور پر دلت مخالف ہے۔طاقتور ہی جوتے مارنے کی بات کرتا ہے۔ آپ جوتا مارنے کے مہاورے اور قصوں  کا جائزہ لیں  گے تو پائیں  گے کہ جوتا مارنے کا استعمال صرف اعلی النصب کرتا ہے۔کسی دلت یا کمزور کے خلاف کرتا ہے۔ جوتے مارنا نفرت کی زبان ہے۔ میں  نفرت کی سیاست اور نفرت کی زبان سے نفرت کرتا ہوں۔ میں  نے بھی ایک بار مذاق میں  کہہ دیا کہ جوتے پڑیں  گے یا جوتے ماروں  گا، بعد میں  باقاعدہ منتظم سے درخواست کی کہ اسے ریکارڈنگ سے ہٹا دیں۔  لیکن کوئی شعوری طور پر بار بار جوتا مارنے کی بات لکھ رہا ہو تو خبردار کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

وزیر اعظم کو چوراہے پر سزا دینے کی بات نہیں  کرنی چاہیے تھی۔ ہندوستان جیسی منظم جمہوریت کا آئینی سربراہ چوراہے پر کیسے کسی بھیڑ کو اپنی مرضی سے سزا دینے کی وکالت کر سکتا ہے۔سزا کے لئے قانون اور عدالت ہے۔ سزا کا ایک موقع الیکشن ہو سکتاہے لیکن پچاس دنوں  کے بعد کہیں  انتخاب نہیں  ہو رہا ہے اور کسی فیصلہ کے صحیح غلط ہونے کا واحد پیمانہ الیکشن ہی کیوں  ہو۔وزیر اعظم کی غلطی طے کرنے کا کوئی مقررہ طریقہ کار نہیں  ہے۔ وزیر اعظم کی غلطیوں  کی طرف خوب اشارے کئے گئے مگر وہ ان سب کو کالے دھن کے ساتھ ملا ہوا بتانے لگتے ہیں۔  جیسے سارے تنقید کرنے والے چور ہیں اور کالے دھن والے سے ملے ہوئے ہیں۔  جیسے ان کی طرف کے لوگوں  نے کبھی کالے دھن کو دیکھا ہی نہیں  ہے۔کیا وزیر اعظم نے ایک بھی غلطی تسلیم کی؟اپنی ریلیوں  میں  نوٹ بندی سے متعلق کسی سوال کا سیدھا جواب نہیں  دیا۔طرح طرح کے بناوٹی اور سیاسی مہاوروں  میں  ہی باتیں  کرتے رہے۔بیشک وزیر اعظم غلطی کر سکتے ہیں  لیکن بھیڑ طے نہیں  کرے گی کہ انہوں  نے کیا غلطی کی ہے۔

جس طرح وزیر اعظم کے بیان کا یہ حصہ غیر جمہوری اور جاگیردارانہ ہے اسی طرح اس بیان کے تناظر میں سوشل میڈیاپر ان کے مخالفین کی زبان جاگیردارانہ ذہنیت والی اور غیر جمہوری ہوتی چلی جا رہی ہے۔ جب جوتا کا ذکر نہیں  تھا تو جوتے کا خیال کیسے آیا۔کیا وہ بھی وزیر اعظم کی طرح لاشعوری طور پر اپنے مخالفین کے لئے ایسے الفاظ والی سوچ رکھتے ہیں ؟فیس بک سے لے کر ٹویٹر پر جوتے کی تصویریں  شیئر کی جارہی ہیں۔  لکھا جا رہا ہے کہ پچاس دن پورے ہونے کو ہیں۔  بتایے جوتے سے کہا ں استقبال کیا جائے۔ کیا مخالفین بھی بھیڑ بننے کی کوئی خفیہ خواہش رکھتے ہیں ؟کیا کسی کے پاس جمہوری زبان نہیں  ہے؟ کیا ناقدین ہوش گنوا بیٹھے ہیں  کہ وزیر اعظم نے بھیڑ بننے کی ذرا سا دعوت کیا دے دی کہ سب دوڑ پڑے اسی طرف جس کی وہ مخالفت کرتے رہے ہیں ؟

حکومت اقتدار کی زبان بولتی ہی ہے۔ مخالفین یا ناقدین بھی مخالفت میں  اقتدار والوں  کی جابرانہ زبان بولیں  تو سماج کو فکر مند ہونا چاہئے۔جب ناقدین جمہوری دائرے میں  وزیرا عظم کی مخالفت کا حق مانگتے ہیں  یا استعمال کرتے ہیں  تو پھر ان کے تئیں  اتنے غیر تحمل مزاج کیوں  ہیں۔ کیا ہماری سیاسی زبان ٹوٹر پر ناشائستہ اور جارحانہ زبان استعمال کرنے والے ٹرول کی ہوتی جا رہی ہے؟کیا ٹرولیکرن سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں  بچا ہے؟جوتے سے مارنے والوں  کو اپنی خون جانچ کرا لینی چاہیے کہ کہیں  وہ بھی فرقہ وارانہ اور مردوادی ٹرول کی طرح تو نہیں  ہوتے جا رہے ہیں۔ ضرور وزیر اعظم کا مزاق اڑایے، سخت تنقید کیجیے، چٹکی بھی لیجیے لیکن کسی کو جوتا مارنے کی سوچ سے دور رہیے۔

 یہ بات میں  وزارت عظمی کے عہدہ سے احترام کی خاطر نہیں  بول رہا ہوں۔  میں  کسی بھی شخص کو چوراہے پر جوتے سے مارنے کی تحکمانہ اور مغرور ذہنیت کے خلاف ہوں۔  ہماری جمہوریت کی زبان ایسی ہونی چاہیے جس میں  کمزور سے کمزور شخص محفوظ محسوس کرے۔ناقدین کا ایک کام متبادل ماڈل بھی وضع کرنا ہوتا ہے۔ انہیں  اقتدار کی بگڑی ہوئی زبان بولنے کے رجحان سے بچنا چاہیے۔ اقتدار انکم ٹیکس نوٹس، جیل، دھمکی، فون ریکارڈنگ وغیرہ سے جوتے سے مارنے کی اپنی خواہش پوری کرتا رہتا ہے۔ مگر ان باتوں  کی مخالفت کرنے والے مخالفت میں  ان ہی سب طریقوں  کا کیسے استعمال کر سکتے ہیں۔

اپنی ہی کسی تقریر میں  وزیر اعظم نے کہا تھا کہ کالا دھن کو مٹانے کے لئے ایک لاکھ لوگوں  کو لگانا ہوگا تو لگائونگا۔ آخر مخالفین اس بیان پر بحث کیوں نہیں  کرتے۔ اگر وزیر اعظم اپنے اس بیان پر قائم رہے تو ایک لاکھ نوجوانوں  کو روزگار مل سکتا ہے۔ جو وزیر اعظم ڈھائی سال میں  ایک لوک پال نہیں  منتخب کر سکے، وہ کالا دھن سے لڑنے کے لئے ایک لاکھ لوگوں  کو لگانے کی بات کر رہے ہیں  تو یہ بات ہر دیوار پر لکھی ہونی چاہیے۔ سچ کی طرح بھی اور جھوٹ کی طرح بھی۔ انکم ٹیکس محکمہ کو ویسے ہی قریب بیس ہزار افسران اور ملازمین کی ضرورت ہے۔ میں  حیران ہوں  کہ لالو یادو جیسے سیاست داں  اس جاگیر دارانہ علامتوں  کا استعمال کر رہے ہیں۔ جبکہ ان کے مہاورے اور علامتیں  سب سے زیادہ جدت آمیز اور جمہوری ہوتے تھے۔ کیا ہمارے نیتا بھی سوشل میڈیا کی زبان بولنے لگے ہیں۔ ؟کیا کوئی نہیں  ہے جو کہہ سکے کہ ہم وزیر اعظم کی زبان نہیں  بولنا چاہتے ہیں،  بھلے ہی اس زبان سے وہ پچاس انتخاب جیت جائیں۔  چوراہے سے لے کر جوتا مارنے کی بات پر بولنے والے سے لے کر لکھنے والوں  کو ایک بار ایمانداری سے سوچنا چاہیے۔

ویسے جوتا مارنے کا خیال وزیر اعظم کے ناقدین اور مخالفین کو ہی نہیں  آرہا ہے۔ خود ان کے وزیر بھی جوتا مارنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ کچھ دن قبل انڈین ایکسپریس میں  اروناچل پردیش سے ایک خبر شائع ہوئی کہ ریاستی وزیر داخلہ کرن رجیجو نے کسی کی بقایہ ادائیگی کی سفارش کی تھی جس پر گھوٹالہ کا الزام تھا۔وزارت داخلہ کے باہر صحافی ان سے سوال پوچھنے لگے۔ ایک وزیر کا بیان خطرناک غیر جمہوری اور جاگیر دارانہ تھا۔مجھے اس کی خبر نہیں  ہے کہ انہوں  نے اپنے بیان پر افسوس ظاہر کیا یا نہیں۔  وزیر اعظم کے بیان سے یہ تحریر شروع کی تھی۔ان کے ہی وزیر کرن رجیجو کے بیان کو لفظ بہ لفظ لکھتے ہوئے یہ تحریر ختم کر رہا ہوں۔

 "جو نیوز پلانٹ کر رہے ہیں  وہ ہمارے یہاں  آئیں  گے تو جوتا کھائیں  گے”۔

مترجم: سید صفوان غنی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close