کامن ویلتھ گیمس کا گھوٹالہ اور دنگل کا جلوہ …

دنگل سے پہلے گوگل کیجیے. اکتوبر 2010 کا ذکر ملے گا، جب دہلی میں کامن ویلتھ گیمس کا انعقاد ہوا تھا. اس کے پہلے کے مہینوں میں اس کھیل کے انعقاد میں شدید بدعنوانی کی خبریں چھائی ہوئی تھیں. آرگنائزنگ کمیٹی کے سریش کلماڈی مبینہ طور پر سو کروڑ سے زیادہ کے گھوٹالے میں جیل جاتے ہیں. ان گھوٹالوں کو لے کر ٹی وی کے اینکر پہلی بار حملہ آور ہو رہے تھے. انا تحریک کا وقت تھا. الزام کا انجام کیا ہوا پتہ نہیں. شاید ہندوستان نے ہندوستان پر شرم کرنے کے کئی اور مسئلے ڈھونڈ لیے. لوک پال کا کیا ہوا، سپریم کورٹ تلاش کرنے میں لگا ہے. بھارت نے بدعنوانی دور کرنے کے دوسرے منتروں کا جاپ شروع کر دیا. ایونٹ کے دو ہفتہ پہلے جواہر لال نہرو اسٹیڈیم کے سامنے پیدل پار کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا پل گر جاتا ہے.

 ان سب کے درمیان 2 سے 12 اکتوبر کے درمیان کامن ویلتھ گیمس کا انعقاد ہوتا ہے. برطانیہ کا گارجین اخبار هیڈلاین لگاتا ہے India has arrived. ہندوستان ٹائمز میں شوانی سنگھ دس دنوں کے انعقاد کے دوران دلی والو کی تعریف کرتی ہیں. کس طرح دلی والو نے کھلاڑیوں کے لیے بنایے لین میں گاڑی نہیں چلائی. سڑک پر مکمل نظم و ضبط برتا اورکچرا نہیں پھیلایا. بھارت کے عوام ہمیشہ اجتماعی نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتی ہے. آڈ ایون کے وقت جان سے پیاری کار کو لوگوں نے پندرہ دنوں کے لیے چھوڑ دیا. نوٹ بندي میں بینکوں کے آگے یہی عوام اسی صبر سے قطار میں لگ گئی. اس لیے نہیں کہ نظام پر اس کا بھروسہ بڑھا ہے، بلکہ اسے خود پر انحصار رہتا ہے. نظام نہ بھی ہو تو دیکھ لیں گے. اس قربانی سے نظام بنتا ہو تو کرکے دیکھ لیں گے. عوام کو کوئی ناکام کرتا ہے تو وہ کہانی بنانے والے نیتا.

 اب گوگل سے نکل کر آپ دنگل پر آ جائیے. یہ فلم بدنام کامن ویلتھ گیمز کی ایک کامیاب کہانی پر بنی ہے. جب فلم کی کہانی کامن ویلتھ گیمس کھیلوں تک پہنچتی ہے، میں 2010 کے ميڈيايی بحثوں اور تصاویر کے سہارے دیکھنے لگتا ہوں. ایک بدنام تنظیم خاموشی  سے عظیم کہانی میں بدل جاتی ہے. گیتا کی کامیابی کی کہانی کے ذریعہ ہمارے ذہن میں 2016 کاکامن ویلتھ گیمس ویسا نہیں لگتا ہے، جیسا 2010 کے سال میں لگا تھا. یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ 2010 کے سال میں گیتا کی کہانی کو میڈیا میں کیسی جگہ ملی تھی. جمناسٹ دیپا جتنی تو نہیں ہی ملی ہوگی. شاید ان چھ سالوں میں ہم، کیونکہ ہائپر پروموشنل اور قوم پرستی کے دور کے شہری میں بدل چکے ہیں. دنگل کے ذریعہ کامن ویلتھ گیمس ہماری قومیت میں نئے سرے سے داخل ہوتا ہے. فلم سے پہلے چلنے والے سرکاری اشتہارات کا شکریہ. یہ سرکاری اشتہارات کسی فقیر کی تعویذ لگتے ہیں. ان میں ہر مسئلہ کا تیس سیکنڈ میں حل حاضر ہے. ان سے غریبی ایسے دور ہوتی ہے کہ پوچھیے مت. صرف دو سو کا ٹکٹ كٹاكر کوئی غریب نہیں دیکھ پاتا ہے.افسوس!

دنگل کی بحث چک دے انڈیا کے بغیر نہیں ہو سکتی ہے. چک دے کے کبیر خان اور دنگل کے مہاویر پھوگاٹ کا کردار حقیقی زندگی سے آتا ہے. کبیر خان اپنی شکست کا بدلہ ایک ٹیم بنا کر لیتا ہے. اس ٹیم کو ملک میں تبدیل کر دیتا ہے. مہاویر پھوگاٹ اپنی کسک اپنی بیٹیوں کے ذریعہ پوری کرتے ہیں. گیتا اور ببیتا کو ملک کی علامت بنا دیتے ہیں. کبیر خان کا کردار اپنی قومیت کا امتحان بھی دیتا ہے. تیجا تیرا رنگ تھا میں تو … یہ گانا اس فلم کے عظیم ترین لمحات میں سے ایک ہے. دنگل میں شمیم ​​بھائی گیتا کا میچ دیکھنے آتے ہیں اور ان کی بیٹی گیتا دیدی کے لیے پرساد لاتی ہے. یہ عام سا منظر دنگل کا سکون دینے والا پل ہے. کوئی بھی کھلاڑی بغیر سماجی ہم آہنگی کے کھلاڑی نہیں بن سکتا.

 ایک ایسے وقت میں جب سبزی قومی فخر اور پرشارتھ کی علامت بن رہا ہو، ہلاکتیں ہوئی ہوں، تشدد تنازعہ ہوئے ہوں، گیتا کی کامیابی میں شمیم ​​بھائی کے چکن کا بھی قومی رول کم نہیں ہے! دونوں ہی شاندار فلمیں ہیں پھر بھی چک دے بڑی فلم ہے.

دنگل میں متعدد دنگل ہیں. فلم گیتا کی کہانی کو شاندار کیمروں سے عظیم کہانی میں بدلتی ہے، لیکن ایسا کرنے کے لیے کیمرے کوئی نئی زبان نہیں گڑھ پاتے ہیں. سب کچھ اچھا اور منظم ہے. لوکیشن سیٹ کی طرح لگتا ہے بلکہ سیٹ ہی ہے. ہر شاٹ بہترین ہے مگر لگتا ہے کسی اور فلم میں بھی دیکھا ہے. جیسے چھت کا سین. کیمرے کے شفٹ توجہ کا استعمال کیا گیا ہے۔ مگر اتنا اثر نہیں چھوڑتا ہے، جب گیتا رکشے سے جاتی ہے اور عامر خان چھت پر کھڑے ہو کر دیکھتے ہیں.

 عامر کی فلم ہے. محنت اور لگن سے بنتی ہے. اس لیے ان کی فلم مقبولیت بھی پاتی ہے. ناظرین بھی مایوس نہیں کرتے ہیں. مہاویر کا کردار ایک باپ کے طور پر کتنا مختلف ہوتا ہے، اس کے آخر تک واضح نہیں ہوتا ہے. بلکہ وہ کوچ بن کر بھی اپنے والد کے طور پر باہر نہیں آ پاتے ہیں. دنگل دماغ سے نہیں دل سے دیکھی جانے والی فلم ہے. فلم آپ کو جذباتی کیے رہتی ہے. ایک تماشائی کے طور پر اچھا بھی لگتا ہے. اندرونی دھلایی ہوتی رہنی چاہئے. خیر، مہاویر کا کردار کوچ کا نہیں ہے، باپ کا ہے. لیکن وہ ان کے سخت کردار سے بہت باپو کو تبدیل کر دیتے ہیں. ہریانہ کے معاشرے میں اس فلم کا اچھا اثر ہونا چاہیے. وہاں کی لڑکیوں کے لیے دنگل ایک نیا دوست ہے. ہریانہ کے گبرو نوجوانوں کو تھوڑا کمپلیکس ہونا چاہئے!

دنگل کی کہانی یہی کہتی ہے کہ مرد نہیں بدلیں گے. کوئی ایک مرد بدلے گا. باقی ویسے ہی رہیں گے. ہندوستان کے مرد سب سے اچھے فرقہ وارانہ ہوتے ہیں. اس سے بھی اچھے نسل پرست ہوتے ہیں. آپ لڑکیاں منتخب کر لیں کہ ان میں سے کون سا مرد اچھا ہے. گیتا جیت رہی تھی تو اس کی ماں اسٹیڈیم میں کیوں نہیں تھی؟ بیٹیوں نے ماں کو کیوں نہیں تلاش کیا؟ مجھے یہ بات چبھتی رہی. فلم کے آخری سین میں ساکشی تور نہیں تھی، اس لیے بھی کہ یہی اصلیت ہے. جو باپ ایک باپ کے طور پر تبدیل نہیں کر پایا، وہی بیٹیوں کی تبدیلی کا آخری علامت بنتا ہے. یہی المیہ ہے. شاطرانہ ہے .

اب آپ کو دو قصے یاد دلانا چاہتا ہوں. نئے سال کے موقع پر بنگلور میں لڑکیوں کی مردوں کی ٹولی ٹوٹ پڑتی ہے. گدھ کی طرح ان کے جسم کو نوچتي ہے. اسی سال کی تصویر ہے، آپ نے ٹی وی پر دیکھی ہی ہوگی. دنگل میں گیتا جب روہتک جاتی ہے تو اسی منصوبے سے اسے موقع ملتا ہے کہ سارا شہر آئے گا. شہر مطلب مرد. انگوٹی کے باہر مردوں کی جو کوالٹی ہے وہ وہی ہے جو بنگلور میں تھی. روہتک کے لڑکے بھی اسی طرح آہیں بھرتے ہیں .. جیسے بنگلور کے لڑکے بھر رہے ہوں گے. ہریانہ ہو یا کرناٹک یا بہار ان تماشہ بین مردوں کی کوالٹی ایک سی ہے. گھر میں بھی یہ وہی ہیں اور باہر بھی. تعلقات میں بھی وہی ہیں اور انجان جگہوں پر بھی.

 ہندوستان کی لڑکیوں آپ کو دنگل مبارک ہو. دنگل دیکھ سکتے ہیں اور خود کو تبدیل لو. باقی جس معاشرے میں آپ بدلیں گی، وہ نہیں بدلے گا. مردوں کے پاس طاقت کے اور بھی اکھاڑے ہیں. ان کا آخری گڑھ میدان نہیں ہے، سیاست ہے. آپ نے دنگل جیت لیا ہے، سیاست نہیں. اس محاذ پر بھی گیتا اور ببیتا کی سخت ضرورت ہے. اس سنہرے دن کا انتظار کروں گا.

ایک اور اچھی فلم کے لیے عامر خان کو مبارک ہو. نتیش کمار نے سب سے اچھا کام کرایا ہے. ایک بھی کمزور شاٹ نہیں دیا ہے. دلیر مہدی نے کمال کا گایا ہے. دنگل-دنگل میں ان کی آواز پاکیزہ لگتی ہے. گیتا کے کردار میں فاطمہ شیخ نے شاندار کام کیا ہے. گیتا کے بچپن کا کردار زارا وسیم اور ببیتا کو سانیا ملہوترا نے نبھایا ہے. انتہائی حیرت انگیز اداکاری ہے ان. کہانی ختم ہوتی ہے.

 مترجم: محمد اسعد فلاحی


⋆ رویش کمار

رویش کمار
مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

تبصرہ کیجیے