بی ایس پی جوان تیج بہادر نے سوال تو میڈیا سے بھی کیا ہے۔۔۔

" ہماری کیا حالت ہے، یہ نہ کوئی میڈیا دکھاتا ہے، نہ کوئی منسٹر سنتا ہے. کوئی بھی حکومتیں آئے ہمارے حالات وہی بدتر ہیں. میں آپ کو اس کے بعد تین ویڈیوز بھیجوں گا، لیکن میں چاہتا ہوں آپ کو پورے ملک کی میڈیا کو لیڈ روں کو دکھائیں کہ ہمارے افسر ہمارے ساتھ کتنا ظلم و ناانصافی کرتے ہیں. اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ پھیلايے تاکہ میڈیا انکوائری کرے کہ کن حالات میں نوجوان کام کرتے ہیں"۔

بی ایس ایف کے جوان تیج بہادر یادو کے ویڈیو لے کر میڈیا ضرور حکومت سے جواب مانگ رہا ہے، مگر اپنے ویڈیو میں تیج بہادر نے میڈیا سے بھی سوال کیا ہے. میڈیا سے بھی جواب مانگا ہے. ان کی یہ لائن تیر کی طرح چبھتی ہے کہ ہم جوانوں کے حالات کو کوئی میڈیا بھی نہیں ظاہر کرتا ہے. میڈیا نے بھی تیج بہادر جیسے جوانوں کا یقین توڑا ہے. فوج، نیم فوجی فورس اور پولیس میں جوانوں کی زبان پر تالے جڑ د یے جاتے ہیں. میڈیا اکثر سربراہان سے بات کر چلا آتا ہے. پریڈ کے وقت کیمرے ان جوانوں کے جوتوں کی تھاپ کو کلوز اپ میں ریکارڈ کر رہے ہوتے ہیں، فخر دکھا رہے ہوتے ہیں، ہوتا بھی ہے، لیکن کاش کیمرے ان جوانوں کے پیٹ بھی دکھا دیتے جو ممکن ہے پریکٹس کے ساتھ ساتھ بھوک سے بھی پچكے ہوئے ہوں.

تیج بہادر یادو کی لوگوں سے یہ اپیل کہ ان کی جان خطرے میں ہے. اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ میڈیا تک بات پہنچے، کسی بھی نیوز روم میں غم پیغامات کی طرح سنی جانے چاہئے. جوانوں کی زند گی کا واحد مقام شہادت نہیں ہے. اس سے پہلے کی شہادت کا بھی حساب نوٹ ہونا چاہئے. مگر افسوس میڈیا صرف شہادت کے وقت جوانوں کی بات کرتا ہے. کبھی کبھار شہیدوں کے خاندانوں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے، مگر جو زندہ ہیں اور جنہیں لڑنا ہے، ان کی بات کہاں آ پاتی ہے. تبھی تو تیج بہادر کو اپیل کرنی پڑتی ہے. ہر شام وزراء اور پارٹی ترجمان کو لے کر بیٹھكيں لگانے والے میڈیا کی یہ حالت ہو گئی ہے اب کوئی جوان اس تک اپنی بات پہنچانے کے لیے عوام کا ہی سہارا لیتا ہے.

میڈ یا میں رپورٹروں کا طریقہ کار کم زور ہوا ہے. اینكروں کی جماعت آئی ہے، جن پر طرح طرح کے میکانزم کی گرفت مضبوط ہوتی جا رہی ہے. میڈیا نظام کو صرف وزیر اور حکومت کے نام سے پہچانتا ہے. اس کے اندر کام کرنے والے لوگوں سے اس ہمدردی کم ہی ہوتی ہے. تبھی تو ٹیچر پٹ رہے ہوتے ہیں، صفائی ملازم دو سال سے بغیر تنخواہ کے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اس سے نہ تو سماج کو فرق پڑتا ہے، نہ میڈیا کو اور نہ حکومت کو. اس میڈیا کو تیج بہادر یادو کے ویڈیو سے یہ سوچنا چاہئے کہ وہ کتنے لوگوں کا اعتماد توڑ رہا ہے. اگر میڈیا اس اعتماد کو حاصل کرنا چاہتا ہے، تو تیج بہا در ویڈیو کو ہی بار بار نہ دکھائے. ایک نوجوان کے حوصلے کی آڑ نہ لے. کیمرے لے کر نکلے اور طرح طرح کے جوانوں کی زندگی میں جھانکنے کی ہمت کرے. فوج، سی آئی ایس ایف، آئی ٹی بی پی، پولیس، ہوم گارڈ. کیا میڈیا ایسا کرے گا یا سردی میں کون باہر جائے، تیج بہادر کے ویڈیو لے کر ہی سوال کر لے گا.

مضمون:  ماہِ ربیع الاول کی آمد اور اس کے تقاضے

تیج بہادر نے اشارہ دے دیا ہے کہ میڈیا نہیں آئے گا تو لوگ خود میڈیا بن جائیں گے. ایک کی آواز کو لاکھوں کی آواز بنا دیں گے. تیج بہادر کی ویڈیو نے ہندوستانی جمہوریت کو مضبوط کیا ہے. ایک سپاہی کا ایسا کھانا نہیں دیکھا گیا. ناشتے میں ایک پراٹھا؟ دال میں نمک نہیں. کبھی کبھار بھوکے سونا پڑتا ہے. ہو سکتا ہے کہ ہوشیار افسر خراب موسم کی وجہ سے راشن نہ پہنچنے کا بہانہ بنا دیں اور دستور العمل اور نظم و ضبط کے پھندے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تجج بہادر جیسے جوانوں کی آواز کو بند کر دیں، مگر یہ ویڈیو بی ایس ایف کو تبدیل کر دے گا.

 ٹریننگ میں بہایا گیا پسینہ جنگ میں خون فراہم کرتا ہے. سال پہلے بی ایس ایف کے کسی مرکز کی دیوار پر یہ لائن دیکھی تھی. کسی فلم کے ڈائیلاگ کی طرح یاد رہ گئی. تیج بہادر کے وائرل ہو رہے ویڈیو نے ملک کا خون بچایا ہے. ان افسروں کے گروہ سے جو جوانوں کا خون چوستے ہیں. باہر سے زیادہ اندر سے بدعنوانی کو اجاگر کرنا مشکل کام ہوتا ہے. سرحد پر لڑنے والے اس نوجوان نے اپنی حدود سے آگے جا کر اپنے قوت اور ملک کی حفاظت کی ہے. قاعدے سے یوم جمہوریہ کی پریڈ میں تیج بہادر کا احترام کیا جانا چاہئے.

تیج بہادر کی ویڈیو کرتب (تماشہ) نہیں ہے. اس ویڈیو کو لے کر ہو رہے ردعمل کرتب لگتے ہے. کیا ہم نہیں جانتے کہ جوانوں کے ساتھ اسی طرح کے برتاؤ ہوتے ہیں. گیارہ گیارہ گھنٹے کی ڈیوٹی، کوئی چھٹی نہیں. کیا یہ کوئی نئی چیز ہے. ہم صرف جوانوں کی قیمت تابوت سے پہچانتے ہیں، وہ بھی چند لمحات کے لیے جب شہید کہہ کر ہم خود کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں کہ ملک کے لیے سوچ رہے ہیں. ہم نے کبھی جاننے کی کوشش ہی نہیں کیا کہ وہ کس تنخواہ اور کس حالات میں کام کرتے ہیں. آپ کے گھر کے سامنے گھوم رہے سپاہی سے پوچھ لیجیے. بتا دے گا کہ کتنے دنوں سے چھٹی نہیں ہوئی. دہلی پولیس کا ہی ایک نوجوان اس کے خلاف فیس بک پر لکھتا رہا ہے. سپاہی ہی نہیں، ایس ایچ او کی بھی وہی حالت ہے.

 وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے فورا سرگرمی دکھائی ہے، اس سے اعتماد رکھنا چاہئے کہ وہ نہ صرف اس معاملے کی تحقیقات کریں گے بلکہ پورے نظام کی پڑتال كروايں گے. ہر شہری کی ایک اور تشویش ہے. تحقیقات اور قوانین کے نام پر تجج بہادر کو پریشان نہ کیا جائے. اس لیے حکومت اس بات پر یقین کرے کہ تیج بہادر کے ساتھ کچھ بھی نہیں ہونے دیا جائے گا. ذہنی تشدد کی وجہ سے سینئر گولی مارنے، خود کشی کرنے کے واقعات سامنے آتی رہتی ہیں. کم سے کم تیج بہادر نے حکومت، میڈیا اور ملک سے بات کرنے کی کوشش کی ہے. ان کی اس بے چینی کی آواز سنیے. ایک نوجوان کی ہمت بول رہا ہے. اپنے لیے نہیں، ملک کے لئے بول رہا ہے.

مضمون:  امت مسلمہ : ذلت ونکبت سے کیسے نکل سکتی ہے؟

مترجم: محمد اسعد فلاحی


⋆ رویش کمار

رویش کمار
مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔