سیاست میں جوتوں کا کیا کام۔۔۔!

پنجاب کے وزیر اعلی پرکاش سنگھ بادل 90 سال کے ہیں  اور ملک کے سینئر سیاستدانوں  میں  سے ہیں. موجودہ وقت میں  وہ اکیلے ایسے سیاستدان ہوں  گے جو آزادی کے وقت بھی 28-30 سال کے نوجوان رہے ہوں  گے. ہر سیاستدان سے عوام مختلف وجوہات سے ناراض رہتی ہے. خوب مخالفت کرتی ہے مگر ان سب طور طریقوں  کی ایک روایت ہے. آج جس شخص نے ان کی طرف جوتے چلائے ہیں  وہ اپنے غصے کو تو جانتا ہے مگر یہ نہیں  جانتا کہ ایک غلط کے جواب میں  وہ ایک انتہائی غلط روایت کی بنیاد ڈال رہا ہے.

پنجاب کا یہ واقعہ شرمناک ہے. ایسے واقعات سے نہ تو بھڑکنے کی ضرورت ہے نہ ہی رس لینے کی. ہمیں  سوچنا چاہئے سیاسی باتوں  کو لے کر کس طرح کی ثقافت بنتی جا رہی ہے. اس واقعہ کے بعد مرکزی وزیر ہرسمرت کور کا بیان تو اور بھی محرک ہے کہ اگر پرکاش سنگھ بادل اکالی کارکنوں  سے تشدد کے لیے کہہ دیں  تو عام آدمی زندہ نہیں  بچے گی. انہیں  ایسا نہیں  کہنا چاہئے تھا. بہو کے ناطے ان کی روح سمجھ میں  آتی ہے. ایک بزرگ باپ اور رہنما کے ساتھ اس طرح کا واقعہ پر کوئی بھی فالتوپن بھرا بیان دے سکتا ہے. اس طول دینے کی ضرورت نہیں  ہے.

اچھا ہوتا کہ سارے دل کے لیڈر اور ان کے حا می دو منٹ کے لیے سوچیں  کہ اس سیاست سے اسكارپيو اور بولیرو کے علاوہ ایسا کیا مل رہا ہے جس کے لیے وہ اتنا ماركاٹ کر رہے ہیں . الیکشن جیت کر رکن اسمبلی ہی تو بنیں  گے. زیادہ تر کی گنتی حکومت بنانے کی تعداد کے لیے ہی ہوتی رہتی ہے. اس سے زیادہ ان کا کام کیا ہے. اسمبلی کی ملاقاتیں  تو مسلسل کم ہوتی جا رہی ہیں . وزیر اعلی کے سامنے بول نہیں  سکتے. رہنما کا بھی وہی حال ہے. قومی مجلس عاملہ سے نکل کر ڈاک بم کی طرح ایک بات کو دہراتے رہنا ہے.

گوگل بتاتا ہے کہ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی اور وزیر اعلی کیجریوال پر دو دو بار جوتے پھینکے گئے ہیں . اخباروں  نے ان واقعات کے تناظر میں  ٹوئٹر کی پرتی كرياوں سے بھی خبر بنائی ہے. زیادہ تر لوگ مزے لے رہے ہیں . لطیفے بناتے بناتے ایک قسم کی غیر ضروری سیاسی ثقافت کو تسلیم دے رہے ہیں . 2009 میں  صحافی جرنیل سنگھ نے پی چدمبرم پر نو نمبر کا رباک جوتا پھینک دیا تھا. کانگریس ہیڈ کوارٹر کے اندر یہ واقعہ ہوا تھا اس وقت بھی ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں  ہوا اور نہ ہی گرفتاری ہوئی اور نہ ہی چد مبرم نے انہیں  دیکھ لینے کی دھمکی دی. جرنیل نے ایک انٹرویو میں  افسوس ظاہر کیا تھا کہ جوتا نہیں  پھینکنا چاہیے تھا. کم از کم ایک صحافی کو اس طرح کی حرکت سے بچنا چاہئے تھا. جرنیل آگے چل کر عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ سے الیکشن لڑے اور ممبر اسمبلی بنے. جب بحث ہو ہی گئی ہے تو جرنیل کی کتاب کب كٹےگي 84 ضرور پڑھيےگا. 84 کے سکھ قتل عام پر ہے. مرکزی وزیر كرے رجيجو نے حال ہی میں  ایک خبر کی طرف سے چڑھ کر کہا تھا کہ نیوز پلانٹ کرنے والے ان کے علاقے میں  جائیں  گے تو جوتے پڑیں  گے.

کولکتہ سے ایک اور خبر چل رہی ہے. ایک امام نے وزیر اعظم کے خلاف فتوی دیا ہے کہ جو ان کے بال اتار لائے گا اسے 25 لاکھ روپیہ دیں  گے. میں  نے ان کا نام نہیں  لکھا کیونکہ یہ کسی قابل نہیں  ہیں. وزیر اعظم کا احترام کرتے ہوئے بھی ان پچاسوں  طریقے سے تنقید کی جا سکتی ہے. مخالفت کی جا سکتا ہے. اگر امام صاحب مجھے دو لاکھ کے بھی نئے نوٹ دے دیں  تو میں  انہیں  بیس نئے طریقے بتا سکتا ہوں . جو بھی شخص 25 لاکھ کے لالچ میں  کمانڈو دستے سے گھرے وزیر اعظم کے قریب جانے کی ہمت کرے گا اس کا كچمور ہی نکلے گا. جتنا ثواب پائے گا، اس سے زیادہ علاج پر خرچ ہو جائے گا. بی جے پی کے لوگوں  کو ایک خیال دیتا ہوں. وہ اس امام کے خلاف ایف آئی آر کی ضد چھوڑیں . گھوم گھوم کر تبلیغ کریں  کہ اس مسجد میں  کوئی عطیہ د كشا یا زکوٰۃ نہ دیں . اگلے کی مسجد میں  دیں . امام صاحب کے پاس بہت پیسے جمع ہو گئے ہیں . انہیں  کچھ سمجھ نہیں  آ رہا تو فتوے کے نام پر لٹا رہے ہیں . مجھے یقین ہے امام اپنا بیان واپس لے لیں  گے.

امام جی کو اپنی حرکت سے باز آنا چاہئے. ان کا یہ بیان عام شہریوں  کو ناراض تو کرتا ہی ہے، اکثریت فرقہ واریت کے لیے بھی خوراک کا کام کرتا ہے. ویسے تو مشتعل طبقہ تب خاموش رہتا ہے جب اس کے مخالف پر کوئی جوتا پھینک دیتا ہے. لیکن ان کے رہنما کے ساتھ کوئی کر دے تو کس طرح چپ رہ جائے. کیا اسی کے لیے بھکت بنا ہے. جیسے ہی اسے کسی امام کا چہرہ دکھا، فعال ہو گیا ہے. مذہبی تنظیموں  کو بھی ایسے امام پر روک لگانا چاہیے. گزارش کرنی چاہیے کہ آپ کو کسی کا بال اتارنے کا اتنا ہی شوق ہے تو آپ سلون کھول لیں ، مسجد چھوڑ دیجیے. امام صاحب ناراض میرے خلاف فتوی دینا چاہتے ہیں  تو میں  یہی گزارش کروں  گا کہ وہ مجھے صرف 25 لاکھ دے دیں . فتوی اپنے پاس رکھ لیں . میں  اس پیسے سے کوئی اچھی سی مسجد بنوا دوں  گا.

 آپ سوچ رہے ہوں  گے کہ ساکشی مہاراج کے بیان پر کیوں  نہیں  بولا. کیا ہر فالتو چیزوں  پر بولنا ضروری ہے. پھر ساکشی مہاراج کے بیان کو فری میں  کیوں  جھیلیں. وہ بھی تو امام صاحب کی طرح کچھ ثواب رکھیں . مجھے یقین ہے امام کے بیان پر حوصلہ افزائی طبقہ ساکشی مہاراج کے بیانات پر بھی ہنگامہ کاٹ رہا ہوگا. جی جان سے مذہب کی بنیاد پر نفرت کی سیاست کے خلاف جدوجہد کر رہا ہو گا. میں  نے دیکھا ہے کہ اس طبقے نے کیجریوال اور راہل گاندھی پر جوتا پھینکنے کے وقت کتنا تحریک کیا تھا کہ ایسی ثقافت ہم کبھی برداشت نہیں  کر سکتے. آپ نے نہیں  دیکھا؟ لگتا ہے کہ آپ لوگ ٹریفک جام میں  پھنس گئے تھے.


⋆ رویش کمار

رویش کمار
مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

تبصرہ کیجیے